1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لمحہ فکر

'ادب' میں موضوعات آغاز کردہ از طارق بن زیاد, ‏اکتوبر 06، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 06، 2012 #1
    طارق بن زیاد

    طارق بن زیاد مشہور رکن
    جگہ:
    saudi arabia
    شمولیت:
    ‏اگست 04، 2011
    پیغامات:
    324
    موصول شکریہ جات:
    1,718
    تمغے کے پوائنٹ:
    139



    لمحہ فکریہ
    السلام علیکم محترمین۔

    امام شعبی ؒ سے کوئی سوال پوچھا گیا۔
    جواب دیا مجھے نہیں معلوم۔
    کہا گیا - آپ عراق کے مفتی و فقیہ ہیں اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں یقینا اس جواب سے آپ کو شرم تو محسوس ہورہی ہوگی -
    جواب دیا فرشتے تو اس وقت نہیں شرمائے تھے جب انھوں نے کہا ۔
    لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ﴿٣٢﴾
    ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم وحکمت والا تو تو ہی ہے (32) البقرۃ


    عتبہ بن مسلم کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ٣٤ ماہ تک رہا اس دوران کتنے ہی لوگوں نے آپ سے سولات کئے جنکا جواب یہ ہوتا - " مجھے معلوم نہیں "

    ابوالحسین ازدی کہا کرتے تھے کہ " لوگ مسئلہ میں بے جھجھک فتوی دیتے ہیں ، اگر یہی مسئلہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھا جاتا تو اس کے جواب کے لئے اہل بدر کو جمع کر لیتے-

    سنہرے اوراق ( عبدالمالک مجاہد )
     
    • شکریہ شکریہ x 15
    • مفید مفید x 2
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 06، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    کاش ہمارے علماء کو یہ بات سمجھ آ جائے اور وہ دین اسلام میں اپنی رائے سے بولنا بند کر دیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 06، 2012 #3
    ہابیل

    ہابیل سینئر رکن
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏ستمبر 17، 2011
    پیغامات:
    961
    موصول شکریہ جات:
    2,890
    تمغے کے پوائنٹ:
    225

    آمین
    جزاک اللہ طارق بھائی
     
  4. ‏اکتوبر 07، 2012 #4
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    اگر علماء بولنا بند کردیں تو پھر عوام الناس شکایت کریں گے کہ ان سے کچھ پوچھو تو جواب نہیں دیتے (یا یہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں)۔ اعتدال کی راہ یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں جب کسی عالم دین کو سائل کے سوال کا جواب ”قرآن و سنت کے حوالہ“ سے معلوم نہ ہو (یا اس وقت یاد نہ آرہا ہو) تو صاف صاف بتلا دینا چاہئے کہ فی الوقت تو مجھے آپ کے سوال کا جواب قرآن و حدیث کے حوالہ سے معلوم نہیں ہے۔ لیکن قرآن و حدیث کے معلومہ علم کی روشنی میں، میری ذاتی رائے کے مطابق آپ کے سوال کا جواب یہ اور یہ ہوسکتا ہے ۔۔۔ اس طرح سائل کو اپنے مسائل اور کنفیوزن کا فوری طور پر ایک ”حل“ تو مل ہی جائے گا، پھراگر وہ چاہے اور اس کی رسائی ہوتو وہ دیگر علماء سے بھی اس رائے کی تصدیق کروا سکتا ہے۔ علمائے کرام کو ”بولنے سے روک دینے“ کا مطلب تو صاف صاف یہی ہے کہ ہمیں علماء پر، ان کے علم پر، ان کی دیانت پر اعتبار ہی نہیں ہے کہ جب تک وہ قرآن کی سورت اور آیت یا احادیث کی کتب اور حدیث نمبر کے حوالہ سے جواب نہ دیں، ہم ان کی رائے پر ”اعتبار“ ہی نہیں کریں گے۔ گویا علماء نہ ہوئے ”کمپیوٹر“ ہوگئے۔ ):
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 07، 2012 #5
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,507
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ خیرا
    طارق بھائی
     
  6. ‏اکتوبر 08، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ کی اور میری بات ایک ہی ہے فرق اتنا ہے میں نے مختصر کر کے لکھا ہے اور آپ نے تفصیل سے۔
     
  7. ‏اکتوبر 08، 2012 #7
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ہا ہا ہا ہا ! بہت خوب ۔ چلو میں اپنے تفصیل کو مختصر کرکے لکھ دیتا ہوں شاید میرا مطلب آپ کی سمجھ میں آجائے :)

    ارسلان: کاش ہمارے علماء کو یہ بات سمجھ آ جائے اور وہ دین اسلام میں اپنی رائے سے بولنا بند کر دیں۔
    یوسف: علمائے کرام دین اسلام میں اگر ”اپنی رائے“ سے کچھ بھی نہ بولتے تو ذخیرہ تفاسیر، احادیث کی شروحات، فقہ، فتاویٰ، اور ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی کتب کبھی ”وجود“ میں نہ آتے۔
     
  8. ‏اکتوبر 08، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155


    یوسف: علمائے کرام دین اسلام میں اگر ”اپنی رائے“ سے کچھ بھی نہ بولتے تو ذخیرہ تفاسیر، احادیث کی شروحات، فقہ، فتاویٰ، اور ہزاروں بلکہ لاکھوں دینی کتب کبھی ”وجود“ میں نہ آتے۔

    ارسلان: علماء اگر کتاب و سنت کو چھوڑ کر اپنی رائے کو ترجیح نہ دیتے تو آج دین اسلام کو نقصان نہ پہنچاتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 05، 2012 #9
    عبیداللہ

    عبیداللہ رکن
    جگہ:
    حیدرآباد
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    117
    موصول شکریہ جات:
    236
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏جون 13، 2014 #10
    ظفر ابن ندوی

    ظفر ابن ندوی مبتدی
    جگہ:
    Belal Nagar, Katihar, IN
    شمولیت:
    ‏ستمبر 11، 2013
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    28

    جزاکم اللہ خیرا۔
    "نہیں معلوم" کہنا بھی راسخ علم کی دلیل ہے ۔ اور ایسا وہی کہتے جو ذمہ دار قسم کے لوگ ہیں۔ حالآں کہ یہ بہت آسان سا جملہ ہے، لیکن بہت کم علما اس کو استعمال کرتے ہیں۔
    اس کی ایک وجہ بھی ہے۔ بر صغیر میں علماء سے عوام کا جو برتاؤ ہے اسے دیکھ کر بعض علماء یہ جملہ بولنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے ہیں۔ کیوں جوابا عوام کے طعن وتشنیع کا شاکار ہونا پڑتا ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں