1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مؤلف فضائل اعمال کا توشئہ آخرت !!!!

'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ کشمیری, ‏اکتوبر 23، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 23، 2012 #1
    عبداللہ کشمیری

    عبداللہ کشمیری مشہور رکن
    جگہ:
    سرینگر کشمیر
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    564
    موصول شکریہ جات:
    1,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    186

    السلام علیکم !!
    قارئین کرام !!!!! شیخ الحدیث محمد زکریا نے فضائل اعمال نامی تبلیغی نصاب کی ایک کتاب جس میں بہت سے جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا ہے جس کی کچھ مختصر سی جھلکیاں اس طرح سے ہے ۔
    نظام الٰہی میں بھول ،
    امام شافعی کا نماز میں ساٹھ قرآن پاک کا پڈھنا ، ایک سید صاحب کا بارہ دن تک ایک ہی وضوع سے نماز پڈھنا ، زین العابدین کا دن میں ہزار رکعات نماز پڈھنا ، تین بزرگوں کا موت سے پہلے ہی اپنی موت کا وقت جان لینا ، ایک شخص کا کشف کے ضریعے دوسرے کے دل کی بات کا جان لینا ، اور نبی ﷺ کی توہین کرتے ہوئے اتنے جذبات میں آئے کہ نبی ﷺ کو خواب میں شراب پینے کا حکم دینے اور غیر محرم کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے جیسے الزامات بھی ایک طرف تحریر کر ڈالے اور دوسری طرف دیوبندی مکتبہ فکر کے اکابر امداد اللہ مہاجر مکی کو مذکورہ الزامات سے بری کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت کے منصب پر فائز کرکے بڈا فخر محسوس کیا ۔ قارئین کرام ! کتنے ستم کی بات ہے کہ دیوبندی مکتبہ فکر کی کتابوں میں جناب محمد مصطفی ، امام الامبیاء ﷺ کو اعلیٰ حضرت تحریر کرنے کے لئے جگہ نہیں ہے جو اس کی غماز ہے کہ اصل میں ان کے دلوں میں جگہ نہیں ہے ۔
    آہ !انبیاء کرام کی توہین کرتے ہوئے محمد الیاس کارکنان کے متعلق فرماتے ہے ، اگر چہ تم کتنے ہی ضعیف ہو ممکن ہے کہ حق تعالیٰ تم سے وہ کام لیں جو بڈے بڈے وعظوں سے نہ ہوسکے اور اگر حق تعالیٰ کسی کام کو لینا نہیں چاہتے تو انبیاء بھی کتنی کوشش کریں تب بھی وہ ذرہ نہیں ھل سکتا اور اگر کرنا چاہے تو تم جیسے ضعیف سے بھی وہ کام لے لیں جو انبیاء سے بھی نہ ہوسکے غرض جب کہ ہمارے پاس تمہارے جیسے ضعیف ہیں تو حق تعالیٰ تم سے سب کام لے لیں گے ( مکاتیب الیاس ص ۲۱)

    نظام الٰہی میں بھول
    ام کلثوم کے خاوند عبدالرحمٰن تھے اور ایک دفعہ ایسی سکتہ کی حالت ہوگئی کہ سب نے انتقال ہونا تجویز کرلیا ام کلثوم اٹھیں اور نماز کی نیت باندھ لی ۔ نماز سے فارغ ہوئیں تو عبدالرحمٰن کو بھی افاقہ ہوا ۔ لوگوں سے پوچھا کہ کیا میری حالت موت کی سی ہوگئی تھی ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ، فرمایا کہ،، دو فرشتے میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا چلو احکم الحاکمین کی بارگاہ میں تمہارا فیصلہ ہونا ہے ۔وہ مجھے لے جانے لگے کہ ایک تیسرے فرشتہ آیا اور ان دونو سے کہا کہ تم چلے جاؤ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی قسمت میں سعادت( نیکی ) اس وقت لکھ دی گئی تھی جب یہ ماں کے پیٹ میں تھے اور ابھی انکی اولاد کوان سے فوائد حاصل کرنے ہیں ۔ اس کے بعد ایک مہینے تک عبدالرحمٰن زندہ رہے پھر انتقال ہوا ( فضائل اعمال باب فضائل نماز صفحہ ۱۰ )
    لیجئے جناب محمد زکریا نے نظام الٰہی میں بھی غلطی تحریر کر ڈالی ( نعوذباللہ من زالک ) قرآن میں فرشتوں کے بارے میں ہے ( و یفعلون ما یو مرون، سورہ تحریم ۶ ) ترجمہ وہ تو وہی کرتے ہے جن کا انہے حکم دیا گیا ہوتا ہے ۔ امام شافعی کا معمول تھا کی رمضان میں ساٹھ قرآن شریف نماز میں پڑھا کرتے تھے ، نماز واحد سیغہ ہے معلوم ہوا کہ ایک نمازمیں ساٹھ قرآن پڑھا تو امام صاحب نہ ہوا کوئی کمپیوٹر ہوا ۔
    ایک سید صاحب کا قصہ لکھا ہے بارہ دن تک ایک ہی وضوع سے ساری نماز یں پڑھیں اور پندرہ برس مسلسل لیٹنے کی نوبت نہ آئی کئی دن ایسے گزر جاتے کہ کوئی چیز چکھنے کی نوبت نہ آتی تھی ( فضائل نماز صفحہ ۶۵) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان آبد و زاہد صحابہ میں سے تھے کی روزانہ ایک قرآن مجید ختم کرتے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے اور دن کو ہمیشہ روزہ دار رہتے ( حکایت صحابہ سفحہ ۱۶۰ )
    قارئین کرام نبی ﷺ نے ہمیشہ پوری پوری رات عبادت کرنے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کو منع فرمایا دیکھئے ( بخاری شریف کتاب رمضان )
    (۱) شیخ ابو ایوب سنوسی۔ (۲) ابوالحسین مالکی ،(۳) ابو اعلی کے متعلق زکریا صاحب نے لکھا ہے کہ ان تینوں بزرگوں نے مرنے سے پہلے ہی مرنے کا وقت بتایا چناچہ ایسا ہی ہوا ۔
    آئے ایک اور جھوٹا قصہ دیکھیں جو مرزائیوں کے دعوے سے بڈھ کر ہے یعنی مرزائیوں سے دو قدم آگے ہے ۔ حسن بن حی کہتے ہے کہ میرے بھائی علی کا جس رات انتقال ہوا ، کہنے لگے جبرائیل ابھی پانی لائے تھے وہ مجھے پلا گئے اور فرما گئے کہ توں اور تیرا بھائی ان لوگوں میں سے ہے جن پر حق تعالیٰ شانہ نے انعام فرما رکھا ہے ( باب فضائل صدقات صفحہ ۴۷۸ تا ۴۸۱ ) مذکورہ واقعہ کے برعکس پڑھے ۔
    حدیث::: قد کان فیما قبلکم من المم محدثون و ان کان فی امتی ھذہ فانه عمر بن الخطاب ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گزرے ہوئے زمانے کی تم سے پہلی عمتوں میں محدث کشف الہام والے ہوا کرتے تھے میری امت میں اگر کوئی ہوتا تو وہ عمر بن الخطاب ہے ( بخاری شریف کتاب مناقب عمر )
    شفیق بلخی فرماتے ہے کی یہ شخص دو مرتبہ میرے دل کی بات متنبہ کر چکا ہے ۔ دریافت کیا کون ہے اس نے بتایا یہ موسیٰ بن جعفر ہیں۔ زکریا صاحب نے بھی ابو سعد خزار کے متعلق مذکورہ قصہ کی طرح ایک قصہ منسوب کیا ہے صفحہ ۴۴۱ پر ۔۔
    آئے قرآن کریم میں دیکھتے ہے کی دلوں کے حالات جاننے کی صفت کس میں ہے ۔ واتقوا اللہ ان اللہ علیم بذات الصدور ( سورہ المائدہ ) ترجمہ : اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے ۔ واعلموا ان اللہ یعلم مافی انفسکم (البقرہ ) اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو اللہ کو علم ہے ۔
    بالا واقع نہ تو خواب ہے اور نہ وحی کے ذریعہ سے ہونے والا تحریر ہے جس سے واضح ہوا کہ یہ صفت دلوں کا حال جاننے کی ان بزرگوں میں موجود تھی گویا کی یہ بزرگ دیوبندیوں کے نزدیق الہٰی منصب پر فائز ہے ۔ زکریا صاحب نے مذکورہ قصہ کی طرح ایک قصہ اور منسوب کیا ہے (باب فضائل درود شریف صفحہ ۱۳۷ پر ) جھوٹا اور گستاخانہ قصہ لکھا ہے ۔
    شیخ علی متقی نقل کرتے تھے کہ ایک فقیر نے فقراء مغرب سے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ اس کو شراب پینے کے لئے فرماتے ہے ۔ مذکورہ قصہ کے برعکس اللہ اور اس کے رسول کا فرمان پڈھئے ۔ وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى (سورہ النجم ) یعنی وہ پیغمبر اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں کرتا ، مگر وہی جو اس کی طرف وحی کی جاتی ہے ::یا مرھم بالمعروف وینھھم انالمنکر ویحل لھم الطیبت ویحرم علیھم الخبثت ویضع عنھم ( سورہ الاعراف ) (نبی) وہ انکو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہے اور بری باتوں سے منع کرتے ہے اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہے اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں ۔ اور حدیث اکتب فوالذی نفسی بیدہ مایخرج منه الاحق ( ابی داؤد ) ،، فرمایا ، (میری حدیث) لکھا کر اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس مہہ سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا ۔ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن عمروؓ کو لکھنے کی تاکید کرتے ۔
    قارئین کرام !! زکریا نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان کے خلاف جھوٹا اور گستاخانہ قصہ نبی ﷺ کی طرف منصوب کرکے تحریر کرنے سے بھی کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کی ( نعوذباللہ من ذالک )

    عمر بھر میں ایک بار درود شریف پڈھنا فرض ہے بوجہ حکم صلوة کے ( باب فضائل درود ص ۸۷ ) ہیں تب تبلیغی جماعت والوں کو چاہئے کہ عمر بھر میں ایک بار روزہ رکھے بوجہ حکم کتب کے ۔

    قبر کے پاس بیٹھ کر دعا کرنا
    ایک شخص کے بارے میں لکھا ۔ جس کے پاس نبی ﷺ کا بال تھا اس کی وفات ہوئی تو صلحاء میں بعض نے حضور اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت کی حضور نے ارشاد فرمایا جس کہ جس کسی کو کوئی ضرورت ہو اس کی قبر پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ شانہ سے دعا کیا کرے ( فضائل درود ص ۱۵۷ ) سونچنے کی بات ہے یہی دیوبندی بریلویوں پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگاتے ہیں ۔

    ایک اور جھوٹا اور گستا خانہ قصہ
    حافظ ابو نعیم سفیان ثوری نے ایک شخص سے پوچھا اس نے کہا ایک آدمی نے ہاتھ میری ماں کے منھ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہوگئی اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا ۔ مینے اس عرض کیا کہ آپ کون ہیں کی میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا انہونے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمدﷺ ہوں ۔ جبکہ آئشہؓ فرماتی ہے کہ اللہ کی قسم نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کسی غیرمحرم عورت کا ہاتھ نہیں چھوا بلکہ اسن کو صرف بات چیٹ سے بیعت فرمایا ( مسلم ج ۲ صفحہ ۱۳۱ )
    قارئین کرام ! میں نے صرف بطور نمونہ یہ مسائل درجہ کئے ہے ۔ روز قیامت کے حساب سے نڑر ہوکر ایسے جھوٹھے قصے نبی ﷺ کی طرف منسوب کئے ہیں اور ان کی عوام اسی کو دین سمجھ بیٹھے ہے اس کے بارے میں بھی قیامت میں سوال ہوگا۔۔۔۔۔
    والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !!!!
     
  2. ‏اکتوبر 24، 2012 #2
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    لاحول ولاقوۃ الا باللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں