1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مالى حق چھوڑنے كے بعد اس سے رجوع كرنا

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 14، 2020۔

  1. ‏جنوری 14، 2020 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,032
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سوال
    اگر كوئى شخص كسى دوسرے كو اپنا مالى حق معاف كر دے تو كيا بعد ميں وہ دوبارہ اسے وہ كہہ سكتا ہے كہ اس نے اپنا حق معاف نہيں كيا ؟


    جواب کا متن

    الحمد للہ:


    اگر كسى شخص كا كسى دوسرے پر حق ہو ـ چاہے مالى حق ہو يا كوئى اور حق ـ اور وہ اپنا يہ حق معاف كر دے، تو دوسرے شخص اس حق سے برى الذمہ ہو جاتا ہے، اور پہلے شخص كو كوئى حق نہيں كہ وہ دوبارہ اس حق كا مطالبہ كرے، يا يہ كہے كہ وہ معاف نہيں كرتا.

    ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " اور اگر كسى انسان كے ذمہ اس كا قرض ہو، اور وہ اسے ہبہ كردے، يا اس سے برى الذمہ ہو جائے، يا اسے چھوڑ دے، تو يہ صحيح ہے اور مقروض شخص اس سے برى ہو جائيگا.....

    اور اگر وہ يہ كہے كہ: ميں نے تجھ پر يہ صدقہ كيا تو بھى صحيح ہے...

    اور اگر اس نے يہ كہا كہ: ميں نے يہ تجھے معاف كيا، تو بھى صحيح ہے ....

    اور اگر وہ يہ كہے كہ: ميں نے تجھ سے اسے ساقط كر ديا، تو بھى صحيح ہے...

    اور اگر وہ كہے كہ: ميں نے تجھے اس كا مالك بنا ديا، تو بھى صحيح ہے؛ كيونكہ يہ اسے ہبہ كرنے كے مقام ميں ہى ہے " انتہى مختصرا

    ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 8 / 250 ).

    اور " الموسوعۃ الفقھيۃ " ميں آيا ہے:

    " علماء كرام اس پر متفق ہيں كہ برى ہونے اور اسے قبول كرنے كے بعد اس ميں رجوع كرنا جائز نہيں، كيونكہ يہ اسقاط ہے، اور ساقط شدہ حق واپس نہيں آتا، جيسا كہ مشہور قاعدہ بھى يہى بيان كرتا ہے " انتہى كچھ كمى و بيشى كے ساتھ

    ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 1 / 144 ).

    اور الغرر البھيۃ ميں ہے:

    " قرض ہبہ كرنے كے بعد اس كا رجوع نہيں ہو سكتا، كيونكہ يہ اسے ختم كرنا ہى ہے " انتہى بتصرف

    ديكھيں: الغرر البھيۃ ( 3 / 392 ).

    يعنى اس نے مقروض سے اپنا ذمہ ختم كر ديا ہے، اس ليے دوبارہ اس قرض كا مطالبہ نہيں كر سكتا.

    اور " تحفۃ المحتاج " ميں ہے:

    " قرض ہبہ كرنے كے بعد يقينا دوبارہ طلب نہيں كيا جا سكتا " انتہى

    ديكھيں: تحفۃ المحتاج ( 6 / 310 ).

    اور حق ساقط كرنا ہبہ كے مرتبہ ميں آتا ہے، اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو ہبہ كر كے اسے واپس لينا حرام قرار ديتے ہوئے فرمايا ہے:

    " اپنا ہبہ واپس لينے والا اسى طرح ہے جس طرح كتا قيئ كر كے اسے چاٹ لے، ہمارے ليے برى مثال نہيں "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 2589 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1622 ).


    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    قولہ: " ليس لينا مثل السوء " يعنى اے مؤمنوں كى جماعت ہمارے لائق نہيں كہ ہم كسى خسيس صفت كے ساتھ متصف ہوں، اور ہم ميں كوئى خسيس اور گندى صفت پائى جائے، جو خسيس اور گندے ترين جانور سے مشابہ ہو، اور وہ بھى اس كى خسيس اور گندى ترين حالت ميں.

    اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں لاتے ان كے ليے برى مثال ہے، اور اللہ كے ليے اعلى اور اچھى مثال ہے النحل ( 60 ).


    اور لگتا ہے كہ اس سے منع كرنے ميں يہ بہت زيادہ بليغ ہے، اور حرمت سے اس سے زيادہ دلالت كرتا ہے كہ اگر آپ يہ فرماتے: " ہبہ كر كے اسے دوبارہ واپس مت كرو " انتہى.

    ديكھيں: فتح البارى ( 5 / 294 ).

    واللہ اعلم .

    ماخذ: الاسلام سوال و جواب
     
  2. ‏جنوری 14، 2020 #2
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,608
    موصول شکریہ جات:
    734
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    جزاك الله خيرا
     
  3. ‏جنوری 30، 2020 #3
    عمران ناصر

    عمران ناصر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2011
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    150
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    السلام علیکم
    زمین کی وراثت میں سے کچھ بہن بھائی اپنے حصہ سے دیگر بہن بھائیوں کے حق میں دستبردار ہو گئے ۔ مگر اب حالات کی تبدیلی کے بعد وہ دوبارہ اپنے حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
    کیا اس معاملے میں مندرجہ بالا حکم ہی لگے گا یا ان دونوں صورتوں میں فرق ہے؟
    اہل علم سے رہنمائی کی درخواست ہے۔
     
  4. ‏جنوری 31، 2020 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    17,032
    موصول شکریہ جات:
    6,520
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی
     
  5. ‏فروری 08، 2020 #5
    عمران ناصر

    عمران ناصر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2011
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    150
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں