1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماں کی بددعا جریج کو لے بیٹھی

'سیرت سلف الصالحین رحمہم اللہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالحسیب07, ‏جنوری 11، 2018۔

  1. ‏جنوری 11، 2018 #1
    عبدالحسیب07

    عبدالحسیب07 مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2017
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    9

    حضرت جریح رحمہ اللہ

    بنو اسرائیل میں ایک بہت بڑا راہب یعنی صوفی گزرا ہے ۔اس کا نام جریح تھا۔
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اس کا واقعہ بخاری و مسلم میں آتا ہے۔۔۔
    اس واقعہ کے مطابق بنو اسرائیل کے ایک نیک صوفی نے بستی سے باہر ایک حجرہ بنا رکھا تھا۔ اس میں وہ اللہ کی عبادت میں ہمہ وقت مشغول رہتا۔
    ایک دن اس کی والدہ اس سے ملنے کے لیے آئی اور باہر سے بیٹے کو آواز دی ۔
    بیٹا نماز پڑھ رہا تھا ۔جریح رحمہ اللہ نے دل میں کہا کہ والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں؟
    اور پھر وہ نماز میں مشغول رہے۔۔۔
    دوسرے دن پھر ان کی والدہ ملنے کے لیے آئی تو اب بھی جریح رحمہ اللہ نماز پڑھ رہے تھے
    ماں نے آواز دی اور بیٹا دل میں کہنے لگا کہ اے اللہ وہ میری ماں ہے جو آواز دے رہی ہے اور یہ میری نماز اب کیا کروں ؟
    اور پھر وہ نماز پڑھتا رہا اور ماں انتطار کر کے آخرکار چلی گئی

    تیسرے دن ماں پھر آئی اتفاق سے جریح رحمہ اللہ نماز پڑھ رہا تھا۔۔۔
    اس پر ماں کو غصہ آیا اور بددعا دینے لگی
    اس نے کہا
    اے اللہ اس صوفی کو اس وقت تک موت نہ آئے جب تک یہ بدکار عورت کا چہرہ نہ دیکھ لے
    ماں کی دعا اللہ کے دربار قبول ہوگئی۔۔۔ماں نےغصہ میں آکر بدعا دی ۳ بار ملنے آئی مگر بیٹے نے ملاقات نہیں کی لہذا ماں کے منہ سے بدعا نکل گئی
    اب یہ ہوا کہ
    بنواسرائیل کہ جن کہ اندر جریح رحمہ اللہ کی عبادت،ریاضت، اور ذکر الہی کی شہرت تھی اور ان کے اندر جریح رحمہ اللہ کا ذکر وتذکرہ چلتا رہتا تھا۔۔۔۔۔انہی کے ایک گروہ مین ایک بدکار عورت آئی جو بڑی حسین تھی اور اس کا حسن بھی معروف و مشہور تھا۔
    وہ کہنے لگی تم جریح رحمہ اللہ کی بڑی باتیں کرتے ہو اگر وہ مجھے دیکھ لے تو سب کچھ بھول کر میرا ہوجائے اور اگر تم تجربہ کرنا چاہتے ہو تو میں تم سب کو دکھا سکتی ہو کیسے وہ میرے حسن کا قیدی بنتا ہے۔۔۔۔
    اور وہ بدرکار عورت جریح رحمہ اللہ کے پاس گئی اور اس کے سامنے جاکر ناز نخرے دکھلانے لگی۔۔ اپنے حسن کی کمندیں اس پر ڈالنے لگی مگر جریح رحمہ اللہ نے اس سے انکار کردیا اور اسے فتنے سے محفوظ رہے۔

    جریح رحمہ اللہ فتنے سے تو بچ گئے مگر ماں کی بددعا قبول ہوگئ جو مانگی تھی تو ایک بدکار عورت کا چہرہ دیکھے جو جریح رحمہ اللہ کو دیکھنا پڑ گیا۔

    اس پر بس نہیں
    اس بدکردار عورت کیساتھ جو جریح رحمہ اللہ نے کیا اس نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور اپنی توہیں سمجھی اپنے آپ کو بے عزت ہوتے محسوس کیا لہذا جھّوٹی اور ایک اور شیطانی شازش جریح رحمہ اللہ کے خلاف کرنے لگی
    بکریوں کا ایک چرواہا جو جریح رحمہ اللہ کے پاس آیا کرتا تھا یہ عورت اس چرواہے کے پاس چلی گئی اور وہ بکریاں چرا رہا تھا۔۔ جنگل میں اکیلا تھا اس شیطانی عورت نے اس کو پھنسایا اور اس کو بدرکاری پر مجبور کیا۔۔دنوں پر دن گزرتے تھے ہفتون پر مہینے آخر اس کنواری بدرکارہ ہے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوتی ہے۔۔۔۔
    اس کی قوم نے پوچھا :
    یہ کہاں سے اور کس کا ہے ؟
    اس عورت نے کہا
    یہ جریح رحمہ اللہ کا ہے
    اب اس کی قوم کے لوگ آگے بڑھے ان کا جم غفیر جریح رحمہ اللہ کے گھر کی طرف چل پڑا ان کا گھر اونچی جگہ پر واقع تھا
    لوگوں نے اس پر دھاوا بول دیا
    ان نے گھر کو گرا دیا اور جریح رحمہ اللہ کو مارتے پیٹتے نیچے لے آئے
    اور طرح طرح کی باتیں کرنے لگ گئے
    دیکھو یہ ہے صوفی اور اس کے کام دیکھو
    ان کا غصہ جب تھوڑا ٹھنڈا ہوا جریح رحمہ اللہ نے پوچھا
    مجھے یہ بتلاو کہ میرا جرم کیا ہے؟
    جس کی وجہ سے تم لوگوں نے میرے گھر کو گرا دیا اور مجھے مار مار کر میرا برا حال کردیا ہے۔۔۔۔۔۔
    انھوں نے کہا
    تونے فلاں حیسنہ سے بدرکاری نہیں کی؟
    اس کے ہاں تیرا بچہ بھی پیدا ہوگیا ہے
    جریح رحمہ اللہ نے کہا:
    مجھے اس کے پاس لے چلو
    وہاں پہنچے تو جریح رحمہ اللہ نے کہا
    مجھے تھوڑی مہلت دو میں نماز پڑھ لوں
    انھوں نے مہلت دے دی
    اب سارے لوگ دیکھ رہے ہیں
    جریح رحمہ اللہ نے وضو کیا پھر نماز پڑھی اس کے بعد پلٹ کر بچے کی طرف آئے
    بچہ جو ماں کی گود میں تھا اب پھر جریح جریح رحمہ اللہ کو بدکار عورت کا چہرہ دیکھنا پڑا۔۔۔۔وہ واپس آئے
    بچے کے پیٹ پر کچوکا لگایا اور بچے سے مخاطب ہو کر کہا
    تیرا باپ کون ہے؟
    بچہ بول پڑا اور کہنے لگا
    فلاں چرواہا میرا باپ پے

    بس بچے کا بولنا تھا لوگ جریح رحمہ اللہ پر محبت اور عقیدت سے ٹوٹ پڑے ،،،،اب لوگ جریح رحمہ اللہ سے معافیاں مانگ رہے ہیں اور کہنے لگے ہم کو معاف کردیجئیے ہم سے غلطی ہوگئی ہم آپ کے گھر کو سونے کا بنادیں گے ہم کو معاف کردیں
    جناب جریح رحمہ اللہ نے کہا
    سونے کا نہیں چاہیے مٹی کاہی بنادو جیسا تھا بس ویسا ہی بنادو۔۔۔۔

    سبق آموز پہلو
    سبق یہ ملا کہ جریح رحمہ اللہ بے شک بڑا نیک اور عبادت گزار تھا مگر اس نے بحیثیت ایک بیٹے کا جو حق ادا نہ کیا اللہ نے اسے اس کی سزا دی اور اسے باور کرایا کہ میں تیری عبادت سے تب ہو خوش ہوں گا جب تو حق والوں کا بھی حق ادا کرے گا تجھے نہیں بھولنا چاہیے تو کسی کا بیٹا ہے ۔۔۔مامتا کا جذبہ میں نے ہی پیدا کیا ہے لہذا اس جذبے کو کچل کر چاہے میرا محبوب بن جائے تو یہ مشکل ہے
    تو بےشک میرا پیارا بندہ ہے مگر تیری ماں کی برحق فریاد کو سننا بھی میری ذمہ داری ہے یہ تو جریح رحمہ اللہ کی قسمت اچھی تھی ماں کے منہ سے صرف اتنا ہی تکلا تو بدکار عورت کا چہرہ نا دیکھے تجھے موت نا آئے اگر وہ کچھ اور بول دیتی۔۔۔۔۔تو پھر کیا بنتا لہذا ماں بہت بڑی ولیہ ہے ماں کی
    خدمت ایسے کرنی چائیے کہ اس کی دعائیں لی جائیں نا کہ بدعائیں اور والدین راضی ہو جائیں۔
    ~ماخوذ مومن عورتوں کی کرامات~
     
  2. ‏جولائی 15، 2018 #2
    عبد اللہ رحمانی

    عبد اللہ رحمانی مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2018
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


    شیخ عبدالحسیب صاحب امید کی آپ خیروعافیت سے ہوں گے
    آپ کے مضمون میں جو نام کا زکر کیا گیا ہے وہ نام غلط ہے ان کا نام جریج ہے
    [عن عمران بن حصين:] تذاكَرْنا البِرَّ عندَ رسولِ اللهِ ﷺ فأنشَأ يُحدِّثُنا قال إنَّه كان فيمنَ كان قبْلَكم مِن الأُمَمِ رجُلٌ مُتعبِّدٌ صاحبُ صَومعةٍ يُقالُ له جُرَيجٌ فكانت له امرأةٌ أو أُمٌّ فكانت تأتيه فتُناديه فيُشرِفُ عليها فيُكلِّمُها فأتَتْه يومًا وهو في صلاتِه مُقبِلٌ عليها فنادَتْه فحكاها رسولُ اللهِ ﷺ ووضَع يدَه على جَبهتِه فجعَلَتْ تُناديه رافعةً رأسَها إليه واضِعةً يدَها على جَبْهتِها أيْ جُرَيجُ أيْ جُرَيجُثلاثَ مرَّاتٍ كلُّ مرَّةٍ ثلاثَ مِرارٍ كلُّ ذلكَ يقولُجُرَيجٌ أيْ ربِّ أُمِّي أم صلاتي؟ فغضِبَتْ فقالت اللَّهمَّ لا يموتَنَّ جُرَيجٌ حتَّى ينظُرَ في وجوهِ المُومِساتِ قال وبلَغَتْ بنتُ ملِكِ القَريةِ فحمَلَتْ فولَدَتْ غُلامًا فقالوا لها مَن فعَل هذا بكِ مَن صاحبُكِ قالت هو صاحبُ الصَّومعةِ جُرَيجٌ فما شعَر جُرَيجٌ حتَّى سمِع بالفُؤوسِ في ... المزيد
    الطبراني (٣٦٠ هـ)، المعجم الأوسط ٧/٢٧٩
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں