1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہِ صفر میں آفتوں کا نزول اور ایک من گھڑت روایت (یا باسط ، یا حافظ کا ورد)

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اکتوبر 25، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 25، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ماہِ صفر میں آفتوں کا نزول اور ایک من گھڑت روایت

    الحمد للہ وحدہ ،والصلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ، اما بعد :
    محترم قارئین ! آج (3/اکتوبر/2019) صبح نمازِ فجر کے بعد ایک گروپ میں ایک حدیث دیکھی، جس کے الفاظ یہ تھے :
    ”صفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ صفر کے مہینے میں ساری آفتیں اور مصیبتیں زمین پر اترتی ہے ، اس لئے ان سب سے حفاظت کے لئے ہر نماز کے بعد گیارہ (11) مرتبہ :”یا باسط ، یا حافظ“ کا وِرد کرے“۔
    جس بھائی نے یہ روایت بھیجی تھی، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ روایت آپ کو کہاں سے ملی ؟ لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر میں نے ان کے پرسنل میں بھی یہی سوال کیا لیکن وہاں بھی انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
    پھر میں نے خود اس روایت کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور خوب تلاش کیا لیکن پوری روایت تو دور ، روایت کا کوئی ایک حصہ بھی نہیں مل سکا ۔
    نیز روایت کے یہ الفاظ :” صفر کے مہینے میں ساری آفتیں اور مصیبتیں زمین پر اترتی ہے“ بھی اللہ کے نبی ﷺ کے شایانِ شان نہیں ہیں۔
    اسی وجہ سے راقم بلا تردد یہ بات کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک ” من گھڑت روایت“ ہے ، اللہ کے نبی ﷺ پر جھوٹ بولا گیا ہے۔
    جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں ، میں ان سے با ادب گزارش کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے نبی کریم ﷺ کی جانب کوئی ایسی بات منسوب مت کرو جو آپ نے نہ کہی ہو کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ درج ذیل حدیث کے مصداق ہو گے :
    سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :
    ”مَنْ يَّقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ“
    ”جس نے مجھ پر ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔(صحیح البخاری :109)
    ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    ”وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ“
    ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے“۔ (صحیح البخاری :110)
    اور اگر کوئی کہتا ہے کہ نہیں، مذکورہ بات اللہ کے نبی ﷺ نے کہی ہے تو ایسے شخص سے باادب عرض ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مذکورہ فرمان کی صحیح یا حسن سند دنیا کی کس کتاب میں موجود ہے ؟ حوالہ پیش کردیں، بس ۔
    اور اگر کوئی ضعیف یا موضوع سند ہی موجود ہو تو کم از کم اسی کی طرف رہنمائی کر دیں ۔
    موجودہ دور کے وضاعینِ حدیث :
    موجودہ دور میں جو لوگ حدیثیں گھڑتے ہیں ، ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ :
    (1) وہ صرف حدیث گھڑتے ہیں ، بس!!! اور اس کے ساتھ کوئی حوالہ نہیں لگاتے ۔
    (2) اور کبھی کبھار حدیث بھی گھڑتے ہیں اور ساتھ میں صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ کا حوالہ بھی لگا دیتے ہیں۔
    ایسے لوگوں سے باادب عرض کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈریں اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔
    اب دو (2) باتیں بطور فائدہ پیش خدمت ہیں:
    [پہلی بات] ماہِ صفر میں آفتیں اور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ،یہ بات :
    (1) اللہ تعالی نے نہیں کہی ہے۔
    (2) نا اُس کے آخری نبی محمد ﷺ نے کہی ہےاور نا ہی اس کی تعلیم دی ہے۔
    (3) اور نا ہی کسی صحابی رسول نے کہی ہے۔
    بلکہ یہ بعض لوگوں کی گھڑی ہوئی باتوں میں سے ایک بات ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
    [دوسری بات] اہل جاہلیت ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے تھے اور اُسی وقت اللہ کے نبی ﷺ نے اُن کے اِس عقیدے کی تردید بھی کر دی تھی۔
    آپ ﷺ نے فرمایا تھا : ”وَلَا طِیرَۃَ وَ لَا صَفَرَ“ ”کوئی بد شگونی نہیں ہے اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے “۔ (صحیح البخاری:5757 و سنن ابی داؤد بتحقیق الالبانی:3911 واللفظ لہ)
    محدث محمد بن راشد الدمشقی رحمہ اللہ (المتوفی ، بعد :160ھ) فرماتے ہیں :
    ”أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَفَرَ“
    ”اہل جاہلیت ماہ صفر کو منحوس سمجھتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ماہ صفر منحوس نہیں ہے“۔
    (سنن ابی داود بتحقیق الالبانی :3915، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے)
    لیکن افسوس ! جس عقیدے کی تردید اللہ کے نبی ﷺ نے چودہ سو سال پہلے کی تھی ، آج اسی عقیدے کو بعض جاہل مسلمانوں نے اپنا لیا ہے، اللہ ایسے لوگوں پر رحم فرمائے اور ہدایت دے۔ آمین۔
    اور امام عبد الرحمن بن احمد ، المعروف بابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ (المتوفی:795ھ) نے اپنے زمانے میں ہی کہا تھا :
    ”وكثير من الجهال يتشاءم بصفر وربما ينهى عن السفر فيه والتشاؤم بصفر هو من جنس الطيرة المنهى عنها“
    ”بہت سے جاہل ماہ صفر کو منحوس سمجھتے ہیں اور بسا اوقات وہ اس مہینے میں سفرکرنے سے رکے رہتے ہیں اور ماہ صفر کو مسحوس سمجھنا ، یہ بد شگونی کی جنس سے ہے جس سے منع کیا گیا ہے“۔ (لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف ، ص:74)
    [خلاصۃ التحقیق] زیر بحث روایت بے سند اور من گھڑت ہے اور ماہ صفر کو منحوس سمجھنا، مسلمان کا کام نہیں ہے۔ والعلم عند اللہ تعالی.
    وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین .

    حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفی اللہ عنہ
    صدر البلاغ اسلامک سینٹر
    15-صفر -1441ھ
    15-OCT-2019
     
  2. ‏اکتوبر 25، 2019 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    858
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں