1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہِ صفر کے اختتام کی بشارت والی حدیث " من بشرني بخروج صفر بشرته بالجنة " تحقیق کے میزان پر

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏اکتوبر 02، 2019۔

  1. ‏اکتوبر 02، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ”مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ ، بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ“
    تحقیق کے میزان پر

    الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ والسلام علی رسولہ الامین ، اما بعد :
    محترم قارئین! صفر کا مہینہ جیسے ہی ختم ہونے والا ہوتا ہے ویسے ہی درج ذیل روایت کو، کوئی نہ کوئی سوشل میڈیا پر ضرور ارسال کر دیتا ہے :
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
    ”مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ ، بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ“
    ”جس نے مجھے ماہِ صفر کے ختم ہونے کی خوشخبری دی تو میں اسے جنت کی خوشخبری دوں گا“۔
    اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ اس روایت کی حقیقت لوگوں کی خدمت میں پیش کر دی جائے تاکہ لوگ اسے سوشل میڈیا پر ارسال نہ کریں اور اگر کوئی ارسال کرتا ہے تو فوری طور پر یہ تحریر اُس کی خدمت میں پیش کر دی جائے اور اُسے اِس روایت کی حقیقت سے آگاہ کر دیا جائے۔
    اللہ کی توفیق سے مذکورہ روایت کی تحقیق پیش خدمت ہے :
    راقم نے سب سے پہلے مذکورہ روایت کی سند تلاش کرنے کی کوشش کی اور خوب کوشش کی لیکن پوری سند تو دور، سند کے کسی ایک راوی کا نام بھی دستیاب نہیں ہو سکا، حتی کہ زیر بحث روایت کو روایت کرنے والے صحابی کا نام بھی نہیں مل سکا ۔
    پھر کئی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد جس نتیجے پر پہنچا ، وہ یہ ہے کہ یہ ایک بے سند ،بے اصل اور موضوع روایت ہے۔
    ائمۂ کرام کے اقوال پیشِ خدمت ہیں :
    (1) امام رضی الدین حسن بن محمد القرشی الصغانی رحمہ اللہ (المتوفی : 650ھ) رقمطراز ہیں:
    ”فَمن الْأَحَادِيث الْمَوْضُوعَة...“ ”موضوع احادیث میں سے ہے...“۔
    پھر اس کے تحت انہوں نے کئی موضوع روایتوں کا ذکر کیا ہے، اُنہیں میں سے ایک زیر بحث روایت بھی ہے۔
    دیکھیں : (الموضوعات بتحقیق نجم عبد الرحمن ، ص:61، رقم :100)
    (2) امام محمد طاہر بن علی الہندی رحمہ اللہ (المتوفی : 986ھ) فرماتے ہیں:
    ”موضوع“ ”یہ روایت موضوع ہے“۔ (تذكرة الموضوعات، ص:115، الناشر: إدارة الطباعة المنيرية)
    (3) علامہ ملا علی قاری الحنفی رحمہ اللہ (المتوفی : 1014ھ) فرماتے ہیں:
    " لا اصل له " ”اس کی کوئی اصل نہیںہے“۔ (الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة بتحقیق محمد الصباغ ، ص:337، رقم :473)
    (4) امام محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ (المتوفی:1250ھ) نے اس روایت کو اپنی کتاب ”الفوائد المجموعۃ في الأحاديث الموضوعة“ میں ذکر کر کے امام صغانی رحمہ اللہ کا حکم نقل کیا ہے۔ دیکھیں : (الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة بتحقیق المعلمی ،ص:438)
    (5) علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ (المتوفی:1420ھ) فرماتے ہیں:
    ”موضوع كما في الفتاوى الهندية (5 / 330) وكتب الموضوعات“
    ”یہ روایت موضوع ہے جیساکہ فتاوی ہندیہ اور موضوعات کی کتابوں میں ہے“۔ (حجة النبي ﷺ كما رواها عنه جابر رضي الله عنه،ص:104)
    [فائدہ] بعض کتابوں میں زیر بحث روایت لفظ ”دخول“کے اضافے کے ساتھ ہے، اس طرح :
    ”مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ، بَشَّرْتُهُ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ“
    ”جس نے مجھے ماہِ صفر کے ختم ہونے کی خوشخبری دی تو میں اسے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دوں گا“۔
    دیکھیں : (الموضوعات للصغانی بتحقیق نجم عبد الرحمن ، ص:61، رقم :100و تذكرة الموضوعات للفتنی ، ص:115، الناشر: إدارة الطباعة المنيرية)
    [خلاصۃ التحقیق] زیر بحث روایت بے اصل اور موضوع ہے۔ واللہ تعالی اعلم.

    وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین .

    حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفی اللہ عنہ
    صدر البلاغ اسلامک سینٹر
    14-محرم -1441ھ
    14-SEP-2019

    Pdf کے لئے کلک کریں
    https://drive.google.com/file/d/1FD3_XZmo_WpLoDZcyvijMqsXeEEr-7Yl/view?usp=drivesdk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں