1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہ رمضان میں ہماری معاشرتی ترجیحات

'مسائل رمضان' میں موضوعات آغاز کردہ از عتیق الرحمٰن, ‏مئی 19، 2019۔

  1. ‏مئی 19، 2019 #1
    عتیق الرحمٰن

    عتیق الرحمٰن مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 19، 2019
    پیغامات:
    28
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    ماہِ رمضان میں ہماری معاشرتی ترجیحات


    تحریر: جناب پروفیسر عبدالعظیم جانباز
    ماہ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں اہل اسلام کے لئے رضائے الٰہی کے حصول کا بہترین موقع لئے موجود ہیں۔سحری و افطاری کے اوقات میں خاندان کا ہر فرد عجب طرح کی کیفیات کے انوار سے اپنا دامن سمیٹنے کو بے تاب نظر آتا ہے۔ بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے اور وہ رمضان کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ ماہ مقدس کے حوالے سے ان کے ذہن کی تختیوں پر ابھرنے والے متعدد سوالات گھر کے بڑوں، بزرگوں کو تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ مہینہ اپنے معمولات‘ اعمال صالح اور اہل اسلام کے باطن میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کے حوالے سے منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ نماز پنجگانہ، تراویح، نوافل، تلاوت قرآن، درود شریف اور اَورَاد ووظائف کی کثرت سے من کی دنیا کو سیرابی ملتی ہے اور اخلاق حسنہ کی کونپلیں دل کی وادی میں پھوٹ کر افعال میں کمال بہتری کا موجب بن رہی ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں گناہگاروں کے لئے امید کے پھول کھلتے ہیں اور وہ اپنے رب کو منانے کے لئے نیک صحبتوں اور مساجد کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلیوں، بازاروں کی رونقوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، گھر ایسے پکوانوں کی خوشبوؤں سے مہکتے دکھائی دیتے ہیں جو عموماً سال کے دیگر مہینوں میں خال خال ہی پکتے ہیں۔ ہر کوئی پورے دن کی پیاس کے بعد افطاری کے وقت انواع و اقسام کے مشروبات اور کھانوں سے لطف اندوز ہو کر اللہ کی نعمتوں پر شکر گزاری کے احساس کے ساتھ نماز مغرب کے لئے سجدہ ریز ہو رہا ہوتا ہے۔اللہ کی بے پایاں نعمتوں کو اپنے حصار میں لئے ماہ رمضان المبارک امت مسلمہ کے ہر فرد کے لئے اصلاح احوال کا بہترین موقع لے کر آتا ہے۔ نفس کی آلائشوں سے چھٹکارا پانے کے لئے روزہ بہترین ذریعہ ہے۔ دل کے تخت پر نفسانی خواہشات کا قبضہ چھڑانے اور مضمحل روح کو توانا کر کے اسے نفس کے خلاف دوبارہ صف آراء کرنے کے لئے رمضان المبارک سے بہتر اور کوئی مہینہ نہیں۔ ہزاروں لاکھوں ایسے خوش نصیب بھی ہوتے ہیں جو ان مبارک دنوں میں دل کی بادشاہت پر دوبارہ روح کو قبضہ دلانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کی زندگی کی ترجیحات میں مثبت تبدیلی آ جاتی ہے اور وہ اعلیٰ اخلاق اور محاسن سے آراستہ ہو کر معاشرے اور انسانیت کے لئے خیر، فلاح اور امن و سلامتی کا پیکر بن جاتے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک جہاں برکتوں، نعمتوں، سعادتوں اور باطنی نور کو سمیٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے وہاں فرد اور معاشرے پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے ان ذمہ داریوں کی نوعیت دو قسم کی ہے۔ ایک انفرادی اصلاح تاکہ اس فرد کا وجود اس کے گھر، خاندان کے لئے سود مند بنے‘ اس کے بچے اور خاندان کے دیگر افراد کے کردار میں مثبت تبدیلیاں آئیں اور وہ بھی رضائے الٰہی کے حصول کو مقصد حیات بنا لیں۔ دوسرا وہ شخص معاشرے میں مثبت اقدار کے فروغ کے لئے ہونے والی جدوجہد میں شامل ہو کر معاشرے کے ہر فرد تک دعوت دین پہنچانے کی ذمہ داری لے۔
    معاشرے کے افراد کو ان کے معاشی، سیاسی حقوق کا شعور دے اور معاشرے میں منفی رویوں کے خاتمے، انتہاء پسندی اور نفرت کو اعتدال اور محبت سے بدلنے میں معاون ہو جائے۔ عوام کے شعور کو بیدار کرے‘ انہیں ان کے حقوق کی آگاہی دینے اور مقتدر طبقات کی طرف سے معاشرے کو دی جانے والی اذیت، نا انصافی اور ظلم کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دے۔ عوام کو احساس دلائے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سحری و افطاری کے اوقات میں بھی بجلی سے محروم کرنے والے طبقات ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں۔ حکمرانوں کی ترجیحات میں عوام کو سہولت و آسودگی دینا نہیں بلکہ لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پیس کر انہیں جانوروں سے بدتر زندگی دینا ہے۔
    لوگ دنیوی اعتبار سے رمضان المبارک کی آمد کا بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ گھروں میں مہینے بھر کی اشیاء خوردنوش کی لمبی چوڑی لسٹیں بنتی ہیں، بھرپور خریداری کی جاتی ہے، بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے، حکومت بھی لوگوں کی سہولت کی خاطر سستے رمضان بازار لگاتی ہے۔ ان سب باتوں کی اہمیت اپنی جگہ ان سے انکار ممکن نہیں۔ رمضان المبارک بطریق احسن گزارنے کیلئے ان ضروریات زندگی کا ہونا ضروری ہے لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ کچھ ضروریات اور لوازمات ان سے بھی زیادہ ضروری ہیں۔ وہ یہ کہ رمضان المبارک میں عبادات کی ترتیب کیا ہو گی؟ گھر میں روزانہ کتنے پارے پڑھے جائیں گے؟ نوافل کتنے ادا کئے جائیں گے؟ قیام اللیل کا اہتمام کیسے ہو گا؟ بچوں کی اصلاح کیسے ہو گی؟ گھر کا ماحول کیسے اسلامی بنایا جائے گا؟ ان کو روزہ رکھنے کی ترغیب کیسے دلائی جائے گی؟ رب کو کیسے منایا جائے گا؟ گناہوں کو کیسے بخشوایا جائے گا؟ رمضان کا حق کیسے ادا ہو گا اور روزہ کو با مقصد کیسے بنایا جائے گا؟ ہر شخص اپنے انداز، اپنے حساب اور اپنے طور طریقے کے مطابق رمضان المبارک کا اہتمام و استقبال کرتا اور اس کے فائدے سمیٹتا ہے۔ ذخیرہ اندوز ذخیرہ اندوزی کر کے اشیاء خور و نوش کی مصنوعی قلت پیدا کرتا ہے۔ دکاندار قیمتیں بڑھا کر مالی فائدے سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے، کپڑے کا کاروبار کرنے والا سال بھر کی کمائی ایک مہینے میں کر لینے کی فکر میں رہتا ہے۔
    پوری دنیا میںیہ اصول ہے کہ اہم مذہبی تہواروں پراشیائے خورونوش اور اشیائے صرف میں کمی کر دی جاتی ہے، پورے یورپی ممالک میں ۲۵ دسمبر کو کرسمس کے موقع پر تمام اشیائے صرف کی قیمتوںمیں کمی کر دی جاتی ہے۔عرب ممالک میں بھی رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں جگہ جگہ مفت سحری و افطار ی کروائی جاتی ہے، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوںمیںانتہائی کمی کر دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں ان میں سے کوئی ایک مقصد بھی رمضان المبارک کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کیا ہم نے رمضان کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تزکیہ نفس اور اپنا محاسبہ کیا ہے یا نہیں؟ کیا کسی نے سوچا اور اس بات کا جائزہ لیا کہ اس کے ایمان کا لیول کتنا بڑھا؟ ایمان کتنا مضبوط ہوا؟ رب کے ساتھ تعلق کتنا بڑھا؟ بیوی بچوں کی کتنی اصلاح ہوئی؟ اور اہل خانہ کو رب کا کتنا قرب حاصل ہوا؟رمضان المبارک کا مقصد یہ ہے کہ انسان کا تزکیہ ہو، معاشرہ کی اصلاح ہو، اللہ کا قرب حاصل ہو، عبادات میں پختگی ہو، جنت کی طلب ہو، جہنم سے نفرت ہو، تلاوت میں باقاعدگی ہو، رزق حلال کی چاہت ہو، رزق حرام سے اعراض ہو، تقویٰ کے حصول کا جذبہ ہو، ایمان کی لذت و حلاوت ہو، ہاتھ میں سخاوت ہو، سچ سے محبت اور جھوٹ سے نفرت ہو، مسجد سے الفت ہو اس لئے کہ رمضان کے مہینے میں کثرت سے فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کو تلاش کرتے ہیں کہ کون نماز پڑھ رہا ہے؟ کون تلاوت کر رہا ہے؟ کون جہاد کر رہا ہے؟ کون صدقہ و خیرات کر رہا ہے؟ کون امر بالمعروف اور کون نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے رہا ہے؟ کون اپنے گھروں کی اور معاشرے کی اصلاح کر رہا ہے؟ کون اپنے بچوں کو نیکی کی تلقین کر رہا اور کون روزے رکھ رہا ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں