1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ما اھل لغیر اللہ کی تفسیر از مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ

'شرک عبادت' میں موضوعات آغاز کردہ از آزاد, ‏فروری 07، 2015۔

  1. ‏فروری 07، 2015 #1
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کی تفسیر ثنائی، ج: 1، ص: 118، طبع: المکتبۃ الرحمن، سرگودھا، سورۃ البقرۃ، آیت نمبر: 173 کے تحت بہت خوبصورت تحریر پڑھنے کو ملی۔ سوچا آپ ساتھیوں سے شیئر کی جائے، ملاحظہ فرمائیں:

    ’’زمانہ حال میں یہ اختلاف ہے کہ غیر خدا کے نام کی اشیاء جو بغرض تقرب (1)مقرر کی جاتی ہیں، جب ان کو بسم اللہ سے ذبح کیا جائے تو حلال ہیں یا حرام؟ بعض لوگ اس کو حلال جانتے ہیں، مگر محققین کے نزدیک حرام ہیں۔ حضرت حجۃ الہند شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی قدس سرہ العزیز نے اسی کو پسند کیا ہے اور مولانا عبد الحق صاحب مصنف تفسیر حقانی دہلوی بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسی اشیاء کی حرمت کچھ ایسی عارضی نہیں ہوتی جیسی بغیر اجازت چیز میں ہوتی ہے جو بعد اجازت حلال ہوجاتی ہے، بلکہ ان کی حرمت کا سبب شرک ہے جو ابتداء ہی سے اس میں اثر کر گیا ہے۔ سر سید سے اس مسئلہ میں مشرکوں کی تائید ہوگئی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ
    ’’حرام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ سوائے خدا کے کسی کے نام کی کوئی چیز مقرر کردینا شرک نہیں بلکہ اقدام علی الشرک ہے، شرک جب ہوگا کہ اسی کے نام پر ذبح کی جائے اور جب ذبح خدا کے نام پر ہے تو پھر اقدام علی الشرک سبب حرمت نہیں۔‘‘
    میں کہتا ہوں سید صاحب کا یہ فرمانا کہ تسمیہ غیر اللہ کے نام کا شرک نہیں، صحیح نہیں، بلکہ یہ بھی شرک ہے اس لیے کہ شرک تو نیت کے متعلق ہے، نہ کہ خاص فعل سے
    ‹لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ› [الحج: 37] اس کا مؤید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہ نے غیر خدا کی نسبت غلامی کو بھی شرک قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں:
    ’’از ینجا دانستہ شد کہ شرک در تسمیہ نوعیست از شرک چنانکہ اہل ِزمان ِما غلام ِفلاں و عبد ِفلاں نام مے نہند‘‘ (حاشیہ ترجمہ قرآن، پارہ 9، ربع ثالث)
    پس آپ کا یہ فرمانا کہ یہ نیت اقدام علی الشرک ہے، شرک نہیں، قابل نظر ہے۔ رہا ان لوگوں کا جھگڑا جو ایسی چیزوں کو اس تاویل سے کہ ہمیں ثواب رسانی مقصود ہوتی ہے، نہ کہ ان بزرگوں سے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سو یہ تنازع لفظی ہے، اس لیے کہ ان کی تقریر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقرب غیر اللہ اگر ہو تو بےشک حرام ہے، مگر صورت مروجہ میں نہیں پایا جاتا۔ پس اب ہماری تلاش یہ ہوگی کہ ایسے موقعہ پر ہم بقرائن دریافت کریں کہ ان لوگوں کی غرض کیا ہوتی ہے؟ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب نے بھی ایک قرینہ بتلایا ہے ، وہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے کہا جائے کہ تم اس بکرے جتنا گوشت بازار سے لے کر مساکین کو کھلا دو اور پیر صاحب کو ثواب پہنچا دو، تو ہرگز نہیں مانیں گے۔ معلوم ہوا کہ غرض ان کی صرف غیر اللہ کے نام پر جان دینے کی ہے، نہ کچھ اور، سو یہی شرک ہے، پس اس موقع پر بسم اللہ سے ذبح کرنا کیا مفید ہوسکتا ہے؟
    راقم کہتا ہے : تمام لوگوں کا پیر صاحب کے نام ذبح کرنا اور اس سے ایصال ثواب مقصود رکھنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے نام کی کوئی نیاز نہیں کرتا۔ کسی نے آج تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نام کی چاء نہیں پکائی۔ کبھی نہیں سنا کہ کسی نے بکرے کا ثواب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچایا ہو۔ حالانکہ اگر باعتبار بزرگی کے دیکھا جائے تو اس تعظیم میں وہی لوگ زیادہ حق رکھتے ہیں جن کی بزرگی دلیل قطعی سے ثابت ہو۔ پس یہ بھی قرینہ اس امر کا ہے کہ ثواب رسانی مقصود نہیں۔ علاوہ اس کے ہم نے بذات خود ایسے لوگوں کا حال دیکھا ہے جن کو پیروں کے نام پر نیازیں دینے کی عادت ہے۔ بالکل یہی جانتے ہیں کہ اس نیاز کی قبولیت پیر صاحب کی طرف سے ہے اور اس قبولیت کے عوض وہ ہماری بلا ضرور ہی دفع کردیں گے یا حصول مطلب کرا دیں گے۔ ہاں بعض لوگوں کا اعتراض بھی قابل ذکر ہے گویا کہ پاک کتاب کی تفسیر ایسے سوالوں کے ذکر مناسب نہیں، مگر اس لیے کہ ایسے لوگوں کا شبہ بھی حل ہوجائے، کچھ لکھا جاتا ہے۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ اگر پیر صاحب کا بکر اکہنے سے وہ بکرا حرام ہوجاتا ہے تو پھر کوئی چیز بھی حلال نہ ہوگی۔ اس لیے کہ ہر ایک چیز کو ہم کہا کرتے ہیں کہ یہ روٹی زید کی ہے اور وہ بیوی عمرو کی، پس یہ بھی حرام ہوئیں۔ سبحان اللہ، ما أصدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فداہ أبي وأمي ’’یرفع العلم ویفشو الجہل قبل القیامۃ‘‘ افسوس ان حضرات نے یہ نہیں سمجھا کہ ان صورتوں میں تو اضافت تملک ذات یا منافع کی ہے، پیر صاحب کی نسبت میں کون سی اضافت ہے؟ اگر یہی ہے تو مُردہ کی مِلک کیونکر ہوئی؟ اور اگر ہوئی تو بلا اجازت ان کے اس چیز کو کیوں کھاتے ہو؟ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں بنی اسرائیل کی طرح بچھڑے کی محبت گھر کرگئی ہوئی ہے۔ اس لیے ایسی باتیں ان سے کچھ بعید نہیں۔اللہم اھد قومی فانھم لا یعلمون۔

    -----------------------------------------------------------

    (1) تقرب غیر اللہ اس کو کہتے ہیں کہ سوا خدا کے کسی کے نام کا بکرا یا کوئی اور چیز اس نیت سے دی جائے کہ یہ صاحب میری اس نیاز کو قبول کریں۔
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 08، 2015 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ماشاءاللہ ، ایک اہم موضوع پر بہترین اقتباس ۔
    ’’ ما اہل لغیر اللہ کی حلت و حرمت ‘‘ کے بارے میں اگر کسی رکن کے پاس مزید معلومات ہیں تو ضرور شریک فورم کریں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں