1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ما مصدریہ ظرفیہ اور غیر ظرفیہ میں فرق کرنے کا ذریعہ

'عربی سیکھیں' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو جماز, ‏جنوری 18، 2015۔

  1. ‏جنوری 18، 2015 #1
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    فاضل بھائیوں سے سوال یہ ہے کہ ’ما‘ مصدریہ ظرفیہ اور غیر ظرفیہ میں فرق کس طرح کیا جاسکتا ہے یعنی کیسے پتا چلے گا کہ یہ ’ما مصدریہ‘ ظرفیت پر دلالت کر رہا اور یہ نہیں؟
    سورت مزمل کی اس آیت میں ’ما‘ کی دلالت کیا ہے؟
    واصبر علي ما يقولون واهجرهم هجرا جميلا

    جزاكم الله خيرا!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 19، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,439
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    آیت کریمہ کے اعراب حسب ذیل ہیں :
    (وَاصْبِرْ عَلى ما يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا) عطف على ما تقدم واصبر فعل أمر وفاعله مستتر تقديره هو وعلى ما متعلقان باصبر
    وجملة يقولون صلة ما واهجرهم عطف على اصبر وهجرا مفعول مطلق وجميلا نعت
    (إعراب القرآن وبيانه)
    --------------------------------------------
    الجدول في إعراب القرآن الكريم
    - (الواو) عاطفة (ما) حرف مصدريّ «2» ، (هجرا) مفعول مطلق منصوب..
    والمصدر المؤوّل (ما يقولون) في محلّ جرّ ب (على) متعلّق ب (اصبر) .
    وجملة: «اصبر ... » لا محلّ لها معطوفة على جملة اذكر.
    وجملة: «يقولون ... » لا محلّ لها صلة الموصول الحرفيّ (ما) .
    وجملة: «اهجرهم ... » لا محلّ لها معطوفة على جملة اصبر.
    ------------------------------------------
    (2) أو اسم موصول في محلّ جرّ والعائد محذوف والجملة صلته.
     
  3. ‏جنوری 19، 2015 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ خیرا تقدیرہ انت کی جگہ غلطی سے جلدی میں تقدیرہ ھو لکھا گیا

    محترم بھائی اگرچہ ہمارے فاضل بھائی ٓپکو زیادہ بہتر گائیڈ کر سکتے ہیں مگر میں اس بارے اپنی رائے دے دیتا ہوں کوئی فاضل بھائی اصلاح کر دے گا
    ما موصولہ ہو یا ما مصدریہ ہو اسنے اپنے مابعد سے ملکر پیچھے جملہ کا ایک جز بننا ہوتا ہے اب ما موصولہ تو اسم ہوتا ہے جواپنے صلہ کے ساتھ ملکر جملہ کا جزو بن سکتا ہے چاہے خبر بنے یا مفعول یا کچھ اور- لیکن ما مصدریہ کو زیادہ تر حرف مصدر سمجھا جاتا ہے اور اسکا کام صرف ما بعد فعل کے اندر زمانہ نکال کر اسکو مصدر کی تاویل میں کر دینا ہوتا ہے جس سے ما بعد فعل چونکہ مصدر کی تاویل میں یعنی اسم ہو جاتا ہے اسلئے وہ پھر ما موصولہ کی طرح جملہ کا جزو بن سکتا ہے اسکو سمجھنے کے لئے انگلش کی مثال لیتے ہیں
    اردو اور انگلش میں فعل دو چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے یعنی مصدری معنی(حدث) اور زمانہ البتہ عربی میں فعل میں ایک تیسری چیز بھی شامل ہوتی ہے اب جب آپ انگلش میں کسی فعل کے شروع میں to لگا دیں تو وہ اس فعل میں سے زمانہ کو نکال لیتا ہے پس باقی مصدری معنی رہ جاتا ہے پس to go کا معنی جانا بن جاتا ہے اور جانا مصدر یعنی اسم ہے اسکو انگلش میں جملہ کہا جاتا ہے یعنی غیر محدود جملہ یعنی وہ کسی ایک زمانہ ماضی حال مستقبل میں محدود نہیں رہتا بلکہ اسکو دوام حاصل
    ہو جاتا ہے اب اس infinite جملہ کو آپ ما موصولہ کی طرح جملہ کا کوئی سا بھی جز بنا سکتے ہیں
    اس کو سمجھنے کے بعد اب آتے ہیں ما مصدریہ ظرفیہ اور غیر ظرفیہ کی طرف
    اس میں یاد رکھیں کہ ما کے بعد جو فعل ہے اگر وہ مدت کے معنی میں آ رہا ہو تو پھر ما مصدریہ ظرفیہ بن جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ ما مصدریہ غیر ظرفیہ بن جائے گا اسکو سمجھانے کے لئے بھی میں انگلش کی ایک مثال لیتا ہوں کہ انگلش میں کسی فعل کو مصدر کے معنی میں کرنے کے لئے جس طرح to کا استعمال ہوتا ہے اسی طرح کبھی ایک جملہ یا کلاز کو مین جملہ سے لنک کرنے کے لئے بھی کچھ الفاظ استعمال ہوتے ہیں جیسے when, what وغیرہ یہ conjunction کہلاتے ہیں اور یہ اپنے ما بعد سے ملکر جملے کا جز بنتے ہیں پس آپ خود دیکھ سکتے ہیں جو when کے بعد آئے گا وہ ما قبل کا ظرف ہی بن سکتا ہے کیونکہ اسکا ترجمہ 'جب' ہے جو مدت کو ظاہر کرتا ہے مگر دوسرا لفظ مدت کو ظاہر نہیں کرتا
    I will come when you call
    میں آوں گا جس وقت تم بلاو
    یعنی یہاں conjunction چونکہ when تھا جو ظرفیہ ہوتا ہے اس نے ما بعد کو ظرف بنا دیا

    I agree what you said
    میں متفق ہو جو تم نے کہا
    یہاں conjunction چونکہ what تھا جو ظرفیہ نہیں ہے پس اسنے ما بعد کو ظرف کی بجائے مفعول بنا دیا
    لیکن عربی میں علیحدہ علیحدہ الفاظ کی بجائے ما سے دونوں معنی لئے جاتے ہیں اور ہم نے خود دیکھنا ہوتا ہے کہ ما اپنے مابعد فعل سے ملکر مدت کو ظاہر کر رہا ہے یا پھر غیر مدت کو ظاہر کر رہا ہے پس جب ما مصدریہ کا ما بعد فعل مدت کو ظاہر کر رہا ہو تو ما مصدریہ ظرفیہ ہو گا ورنہ نہیں
    مثلا ما دمت حیا میں ما کے بعد والا فعل دام مدت کو ظاہر کر رہا ہے پس ما ظرفیہ ہو گا
    اسی طرح کلما اضاء لھم مشوا فیہ
    جبکہ غیر ظرفیہ میں ودو ما عنتم وغیرہ شامل ہوں گے

    اس میں ما کو آپ مصدریہ غیر ظرفیہ بھی بنا سکتے ہیں البتہ یہ ما موصولہ ہے
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 19، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,061
    موصول شکریہ جات:
    8,172
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    فاضل بھائیوں نے بہترین وضاحت فرمائی ۔ میں بھی کچھ کہنا چاہوں گا کہ
    عموما ایسی جگہوں پر ’’ ما ‘‘ کے اندر مصدریہ اور موصولہ دونوں طرح کی صلاحیت ہوتی ہے ۔ لہذا دونوں طرح ترکیب کی جاسکتی ہے ۔
    البتہ جہاں ’’ ما ‘‘ کے بعد والا جملہ ایسا ہو کہ اس میں ’’ ضمیر غائب ‘‘ ظاہرا یا تقدیرا نہ ہو تو پھر ’’ ما ‘‘ کو موصولہ نہیں کہا جاسکتا ، کیونکہ ’’ صلہ ‘‘ کے اندر ایک ضمیر کا ہونا لازمی ہے جو موصول کی طرف لوٹے اور صلہ و موصول کا آپس میں ربط قائم رہے ۔ مثلا :
    وضاقت علیہم الأرض بما رحبت
    یہاں ’’ ما ‘‘ کو موصولہ نہیں بنا سکتے کیونکہ بعد والے جملے میں کوئی ایسی ضمیر نہیں نکالی جاسکتی جو اس کی طرف لوٹے ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 19، 2015 #5
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    جزاکم اللہ خیرا! اللہ آپ سب کے علم اور عمل میں اضافہ فرمائے۔ آمین

    بھائیوں نے جو اوپر تفصیل بیان کی ہے اسکا علم مجھے تھا لیکن میں اصلا اسکا قرآن مجید کی بیان کردہ آیت پر اطباق نہیں کر پا رہا تھا اسی لیے سوال میں آیت کا بھی ذکر کیا۔

    اصل مسئلہ یہ کہ ایک بھائ نے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف سے یہ حکم تھا کہ کفار جو بھی انکو اذیت دینے والی بات کہیں تو وہ اس پر صبر کریں۔ اور یہاں ’ما‘ کی دلالت مستقبل میں بھی لازم ہے یعنی جو وہ آپکی ہجو کرہے ہیں اس پر بھی اور جو مستقبل میں بھی کریں گے اس پر بھی آپ صبر کریں کیونکہ ’ما‘ کے بعد فعل مضارع حال اور مستقبل دونوں کو شامل ہے اور ’ما‘ عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاتم الرسول کو قتل کرنا قرآن سے ثابت نہیں۔

    مجھے الحمد للہ اس موضوع سے متعلق دیگر دلائل کا علم ہے اسی طرح مفسرین کے معانی کا بھی لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ’لغوی‘ اعتبار سے جو بھائ نے دلیل دی ہے سورت مزمل کی آیت سے وہ درست ہے کہ نہیں؟

    جزاکم اللہ خیرا!
     
  6. ‏جنوری 20، 2015 #6
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ خیرا اسکا الٹ اگر دیکھا جائے تو وہ بھی درست ہو گا کہ
    البتہ جہاں ’’ ما ‘‘ کے بعد والا جملہ ایسا ہو کہ اس میں ’’ ضمیر غائب ‘‘ ظاہرا یا تقدیرا ہو تو پھر ’’ ما ‘‘ کو صرف موصولہ کہا جاسکتا
    اسکی وجہ یہ ہے کہ ما مصدریہ حرف ہوتا ہے جسکی طرف ضمیر نہیں لوٹ سکتی
    دوسری طرف کبھی ما موصولہ کی عائد ضمیر حذف بھی ہوتی ہے جیسے بئری ذو طویت و ذو حفرت کا شعر ہے

    ویسے اوپر بتائی گئی آیت میں اگر ضمیر کا حذف بھی مانا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ مقدر کیسے کی جائے گی کیونکہ اوپر ذو طویت کی تقدیر تو آپ ذو طویتہ کرتے ہیں جس میں ہ کی ضمیر بیری کو راجح ہے مگر واصبر علی ما یقولون میں محذوف نکالنے کی صورت میں جملہ کی تقدیر کیا ہو گی
    اس تقدیر میں ضمیر ظاہرا تو نہیں نکال سکتے کیا تقدیرا نکالیں گے
     
  7. ‏جنوری 20، 2015 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,061
    موصول شکریہ جات:
    8,172
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی ما کو موصولہ قرار دینے کی صورت میں تقدیر عبارت یوں ہوگی :
    واصبر على ما يقولونه
     
  8. ‏جنوری 20، 2015 #8
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی میرے ذہن میں بھی ہی تقدیر تھی مگر میرے ذہن میں اسکا اشکال یہ تھا کہ ہ سے یہاں مراد قول ہے اور قول مفعول مطلق ہے نہ کہ مفعول بہ
    ویسے اب یاد آ گیا ہے کہ مفعول مطلق اس وقت ہو گا جب ضمیر کی صورت میں نہ ہو جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏جنوری 20، 2015 #9
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    یہ استدلال درست نہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ ما کو مصدریہ بھی لیں تو وہ بات ثابت نہیں ہوتی جو وہ کرنا چاہ رہے ہیں
    اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں اکثر حکم آئے ہیں جن میں زمانہ کی قید نہیں یعنی ایسا لگتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے ہی ہیں مگر بعد میں انکو ختم کر دیا گیا
    مثلا قرآن میں ہے کہ الم تر الی الذین قیل لھم کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوالزکوۃ
    اب یہاں حکم ہے کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو تو اتنی آیت سے کیا کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ یہ حکم چند دنوں کے لئے تھا بلکہ اس میں کفوا امر کا صیغہ ہے اور باقی قرآن کے اوامر کی طرح ہمیشگی پر ہی دلالت کرتا ہے مگر اسی آیت کے آگے اللہ فرماتا ہے کہ
    فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ
    کہ بعد میں اللہ نے اس حکم کو جو ہمیشہ کے لئے تھا اسکو اللہ نے بدل کر قتال کا حکم نازل کر دیا تو یہ قرآن کے خلاف معاملہ نہیں کہ اگر کوئی حکم ہمیں ہمیشہ کے لئے ہی نظر آ رہا ہو تو آگے جا کر اللہ تعالی اسکو تبدیل نہیں کر سکتا
    پس شروع میں اللہ تعالی نے اگر صبر کرنے کا دوام کے صیغہ سے کہا تو بعد میں اگر آپ کو قرآن و سنت سے اسکا نسخ نہ ملے تو پھر تو آپ حق بجانب ہو سکتے ہو ورنہ یہ اصول آپ نے کہاں سے نکال لیا
    اسکی مثال ہم آپ کو ایک چوکیدار سے دیتے ہیں فیکٹری کا مالک یہ سمجھتا ہے کہ ابھی ہم نے اس علاقے میں اثر و رسوخ حاصل نہیں کیا ایک دن سامنے والے جان بوجھ کر لڑائی نکالنے لگ گئے تو اس مالک نے چوکیدار کو کہا کہ
    سامنے والوں نے آج مجھے گالیاں دیں کوئی بات نہیں وہ بعد میں بھی اگر مجھے گالیاں دیں تم نے انکا کبھی بھی جواب نہیں دینا اور کبھی بھی ان سے لڑائی نہیں کرنی
    اب چند دن بعد جب مالک کا اس علاقہ میں اثر و رسوخ بڑھ جاتا ہے تو پھر جب سامنے والا گالی دیتا ہے تو مالک اس چوکیدار کو کہتا ہے کہ اس کو پھینٹی لگاؤ
    وہ عقلمند چوکیدار کہتا ہے کہ مالک جی آپ نے پہلے جو مجھے حکم دیا تھا اس میں الفاظ "کبھی بھی" استعمال کیے تھے اور "کبھی بھی" سے مراد ہوتی ہے کہ اس حکم میں ہمیشگی اور دوام ہے پس میں انکو کبھی بھی پھینٹی نہیں لگاوں گا تو ہمیں اس عقل مند چوکیدار کو داد دینی چاہئے یا نوکری سے ہی نکال دینا چاہئے
     
  10. ‏جنوری 20، 2015 #10
    ابو جماز

    ابو جماز رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    95
    تمغے کے پوائنٹ:
    64

    جزاکم اللہ خیرا!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں