1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متغیر اور مختلط راوی

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از انور شاہ راشدی, ‏مئی 04، 2014۔

  1. ‏مئی 05، 2014 #11
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اللہ البر.
    انا للہ وانا الیہ راجعون.
    میں اور امتحان.
    محترمی میں آپ شیوخ سے فیض یاب ھورھا ھوں.
    اور ابن الصلاح کی بات مختلط کے بارے میں ھے.میں نے متغیر کے حوالے سے کہا تھا.

    ویسے میں بھی یہی سمجھتا ھوں کہ متغیر کا جہاں وھم ثابت ہوجائے وہ ضعیف کے حکم میں ھے.واللہ اعلم.
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 05، 2014 #12
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    کیسی بات کر رہیے ہیں شیخ صاحب میں عمر علم ہر لحاظ سے آپ سے چھوٹا ہوں ابھی طالبعلم ہوں۔۔۔۔۔

    آپ مختلط اور متغیر میں کیسا فرق کرتے ہیں؟؟؟
     
  3. ‏مئی 05، 2014 #13
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    لعلي انا اصغر منك سنا و علما
    لكن لا باس،
    ولسوالك راجع الى ما ذكرت من
    كلام الشيخ اليماني رحمه الله فتجد فيه ما قلت اخي الكريم
    معذرة اني كتبت من الكمبيوتر وليس فيه الاردية
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 05، 2014 #14
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    شائد آپ کی مراد شیخ معلمی ہے۔۔۔۔؟؟
    تو پھر دونوں ایک ہی ہوئے نے انہوں نے بھی ایک ہی کہا ہے بس دقیق سے فرق کی طرف اشارہ کیا ہے
     
  5. ‏مئی 06، 2014 #15
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    میرا مطلب یہ ھے کہ متغیر کی روایت مردود نہیں الا کے کہیں اسکا وھم وغیرہ ثابت ھوجائے.
    جیسا کہ ذہبی نے کہا.اور مختلط کی مردود.یہ تو آپ بھی اوپر فرما کر آئے ھیں.
     
  6. ‏مئی 06، 2014 #16
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لأن التغيّر ليس بمنْزلة الإختلاط، ذكر هذا الحافظ الذهبي في ترجمة هشام بن عروة عند أن قال ابن القطّان: إنه تغير أو هكذا اختلط بعد ما نزل إلى العراق. فأنكر عليه وقال: إنه ضعف حفظه -أي هشام- ولم يبلغ إلى حد الاختلاط، ثم قال: وهشام شيخ الإسلام، ولكن أحسن الله عزاءنا فيك يا ابن القطّان." (المقترح في أجوبة بعض أسئلة المصطلح: ص 61)۔

    میرے خیال سے ان دونوں میں عام اور خاص کا فرق ہے۔ ہر مختلط راوی متغیر ہے لیکن ہر متغیر مختلط نہیں۔
    امام اہل السنہ احمد بن حنبل نے بھی ان دونوں میں تفریق کی ہے۔ عبد اللہ بن احمد روایت کرتے ہیں کہ: "حدثني أبي قال: سألتُ ابن عليّة عن الجُريري فقلت له: يا أبا بِشر أكان الجُريري اختلط؟ قال:لا، كبر الشيخ فرقّ" (العلل ومعرفة الرجال 3:302)۔

    تغیر حافظہ میں کمزوری کو کہتے ہیں جو بڑہاپے یا جسمانی کمزوری کی وجہ سے آ جائے۔ متغیر کا معاملہ مختلط جیسا نہیں ہو گا کیونکہ تغیر سے جو اغلاط و اوہام ہوتے ہیں اس سے راوی کی مرویات پر اتنا اثر نہیں ہوتا۔ اس کا حال ایسے ثقہ راوی کی طرح ہوتا ہے جو غلطیاں کرتا ہے لہٰذا جہاں پر اس کی غلطی یا خطاء ثابت ہو جائے وہاں توقف کیا جائے گا اور باقی مرویات کو قبول کیا جائے گا۔ بخلاف مختلط راوی کہ جس کو کوئی ہوش نہیں ہوتی کہ وہ کیا روایت کر رہا ہے اور وہ جس طرح چاہے روایت کر دیتا ہے۔ امام ذہبی ہشام بن عروہ کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: "أحد الأعلام، حجة إمام، لكن في الكِبَر تناقَص حفظُه، ولم يختلط أبداً، ولا عبرة بما قاله أبو الحسن بن القطّان من أنه وسُهيل بن أبي صالح اختلطا وتغيرا، نعم الرجلُ تغيّر قليلاً ولم يبق حفظُه كهو في حال الشَّبيبة فنسِيَ بعضَ محفوظِه أو وهم فكان ماذا؟ أهو معصوم من النسيان؟ ولما قدم العراق في آخر عمره حدّث بجملة كثيرة من العلم في غضون ذلك يسير أحاديث لم يجودها، ومثل هذا يقع لمالك، ولشعبة، ولوكيع، ولكبار الثقات، فدعْ عنك الخَبْط وذَرْ خَلط الأئمة الأثبات بالضعفاء والمُخلِّطين" (ميزان الاعتدال 5/426-427)

    لیکن جس طرح ثقہ راوی اگر کثیر الخطاء ہو تو وہ ضعیف ہو جاتا ہے اسی طرح اگر متغیر راوی کی غلطیاں بھی کثیر ہو جائیں تو اس کی بھی روایت ضعیف ہو جاتی ہے۔ لہٰذا یہاں خفیف تغیر اور شدید تغیر کا فرق بھی دھیان میں رکھنا چاہیے واللہ اعلم۔

    جہاں تک ابو اسحاق کا تعلق ہے تو ان کے معاملے میں امام ذہبی کا قول صحیح نہیں ہے۔ آپ مختلط تھے اور یہ بات کئی ائمۃ سے ثابت ہے۔

    شیخ کفایت اللہ کیا کہتے ہیں؟
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 06، 2014 #17
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,818
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    معمولی تغیر اور اختلاط میں فرق ضرور ہے ۔
    لیکن ہم صرف الفاظ کی بناپر فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں ۔
    مجھے لگتا ہیں بعض محدثین اختلاط فاحش کے معنی میں تغیر کا لفظ استعمال کرتے ہیں اسی طرح بعض محدثین معمولی تغیر کے لئے اختلاط کا لفظ بول دیتے ہیں ۔
    کس محدث نے کس معنی میں لفظ تغیر یا لفظ اختلاط استعمال کیا اس کا پتہ لگانے کے لئے اس کے تمام اقوال اسی دیگر محدثین کے اقوال کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کیا جاسکتا ہے واللہ اعلم۔
     
    • علمی علمی x 5
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 06، 2014 #18
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ماشاء اللہ.بہت اچھا لگا.
    شیخین کا شکریہ.
    مذکورہ تحریرسے مجھے دو باتیں سمجھ میں آئی ھیں.

    ۱
    اگر کسی پر اختلاط کا الزام ھے تو ضروری نہیں کہ حقیقت میں بھی وہ مختلط ہو.بلکہ بسا اوقات تغیر قلیل سے متصف راوی کو بھی محدثین کرام مختلط کہدیتے ہیں.جیسے عبدالملک کو ابن معین نے مختلط کہدیا تھا.تو ابن حافظ ذہبی اسکا تعاقب کرتے ہوئے اسکا دفاع کردیا.
    اسی طرح ھشام کی مثال ملاحظہ فرمالیں.

    ۲
    جب مختلط کے لئے بھی بحث و تمحیص اتنی ہے تو محض تغیر سے متصف راوی کو کیسے مختلط قرار دیا جا سکتاھے؟

    عبداللہ بن سلمہ المرادی
    ابن حجر تقریب میں فرماتے ھیں: صدوق تغیر حفظہ.
    کیا اسکو مختلط کہا جاسکتا ہے؟
    حالانکہ اسکا ذکر الاغتباط میں ھے اور نہ کواکب النیرات میں.
     
  9. ‏مئی 06، 2014 #19
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ابن ..نہیں..بلکہ صرف ذہبی..
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 06، 2014 #20
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    عبد اللہ بن سلمہ سے ایک ہی راوی روایت کرتا ہے اور اس کے باوجود بھی علماء نے ان کی توثیق کی ہے جبکہ مختلط کی توثیق کے لئے اس کے ایک سے زائد شاگردوں کی روایات کو دیکھنا پڑتا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا تغیر اتنا شدید نہیں تھا کہ ان کو ضعیف ٹہرا دے۔ ورنہ ان سے ایک ہی راوی کی روایت کے سبب سے ان کی تمام روایات مسترد کر دی جاتیں کہ اس راوی نے ان سے تغیر میں بھی سنا اور تغیر کے بعد بھی۔ اور ان دونوں حالتوں میں فرق کرنے والا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ لہٰذا ان کی توثیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا تغیر ان کی روایت پر اثر انداز نہیں تھا۔ واللہ اعلم۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ

اس صفحے کو مشتہر کریں