1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مجبوری کی حالت میں دی گئی طلاق کا حکم

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جون 21، 2011۔

  1. ‏جون 27، 2011 #11
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    عمر معاویہ بھائی!
    یہ بتائیے گا کہ گاؤں کے کسی چوہدری کو اگر اپنے مزارع کی حسین بیوی پسند آجاتی ہے، تو وہ اسلحے کے زور پر اپنے مزارع سے اس کی بیوی کو جبرا طلاق دلوا کر عدت گزرنے کے بعد اس سے شادی کر لیتا ہے، تو کیا یہ شادی آپ کے نزدیک درست ہوگی؟؟!! صرف آپ کی رائے مطلوب ہے۔
    براہِ مہربانی مذہبی تعصّب کی بجائے اپنے آپ کو کمزور شخص کی جگہ رکھ کر اور اللہ سے ڈر کر جواب دیجئے گا؟!! فرمانِ نبویﷺ ہے: « من كتم علما ألجمه الله يوم القيامة بلجام من نار » ... صحيح الترغيب ١٢١
     
  2. ‏جون 27، 2011 #12
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    جزاک ا للہ انس بھائی جان اہل علم حضرات کےلیے بہت ہی اہم بات کی طرف توجہ دلادی ہے۔
    فرمان نبویﷺ پڑھ کر خوف الہی کی طلب اور رب جلیل و رب قدوس و رب غفور کے اس عذاب سےپناہ مانگتے ہوئے یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی کتمان علم سے بچاتے ہوئے دین کی اسی طرح اشاعت کی توفیق دے جس طرح ہمارے پیر و مرشد ﷺ دے کر گئے ہیں۔ہماری حالت یہ ہےکہ ہم اس عارضی دنیا میں اور عارضی شہرت حاصل کرنے کےلیے دین محمدیﷺ کا صریح علم ہونے کے باوجود بھی بہت ساری باتیں جان بوجھ کر،آباؤ اجداد کی تقلید میں یا کسی اور سبب سے غلط بیان کرجاتے ہیں۔ یا تأویل کی راہ اختیار کرتے ہوئے عارضی طور پر اپنے اور دوسروں کے نفس کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یہ عمل ہمیں اس طرح کے عذاب سے نہیں بچا پائے گا۔اللهم انا نعوذبك
     
  3. ‏ستمبر 28، 2011 #13
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    عمر معاویہ بھائی جان انس بھائی کی اس بات کا جواب آپ پر لازم ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں