1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مجتھد مطلق

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏ستمبر 10، 2019۔

  1. ‏ستمبر 10، 2019 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    733
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اگر آپ مجتھد مطلق (جو اصول و فروع کا براہ راست کتاب و سنت سے استنباط کرتا ہے) بننا چاہتے ہیں تو علوم عربیہ علوم قرآن علوم حدیث کے ساتھ مذاھب اربعہ کے اصول و فروع میں ان کے معتبر متون اور اس کی معتبر شروحات میں بھی کمال حاصل کریں. مذاھب اربعہ کو محض فقۃ المقارن کی کتب سے سمجھنا درست طریقہ نہیں ہے.
    اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو اہل سنت کے فقہی مذاھب میں سے منسلک ہوجائیں اور ساتھ کتاب و سنت کا بھی مطالعہ کریں جہاں آپ انصاف کے ساتھ محسوس کریں امام کا قول کتاب و سنت سے موافق نہیں تو وہاں اقرب الی الکتاب والسنۃ کو ترجیح دیں.

    ہمارے ہاں جو فقہ میں مخالفین کے لیے انتہائی شدت اور سطحیت اور تنگ نظری ہے اس کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مخالف سے متعلق ہمارا مطالعہ مصادر ثانویہ پر مبنی ہوتا ہے...اگر ہم مصادر اصلیہ سے مکمل تحقیق کریں تو اتفاق چاہے نابھی کریں ان کو کتاب و سنت کے مخالف باور کرانے کے بجائے کم از کم مجتھد مخطی کا درجہ دینے کے لیے تیار ہوجائیں

    نوٹ: ترجیح اور براہ راست استنباط کا فرق ملحوظ خاطر رہے
     
  2. ‏ستمبر 27، 2019 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    733
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اتباع کے لیے ناصرف نصوص کا علم ہونا ضروری ہے بلکہ کس وقت نص کس حکم (وجوب، ندب، اباحۃ، کراہت، حرمت......) پر دلالت کررہی ہے اس کا علم بدلیل ہونا بھی ضروری ہے.
    اگر آپ کو اس کی دلیل نہیں معلوم تو آپ بھی مقلد ہی ہیں (جو اس معاملہ پر علماء پر بغیر دلیل کے اعتماد کررہا ہے)
     
  3. ‏ستمبر 27، 2019 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,318
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اتباع کے لئے یہ شرظ کہاں سے ماخوذ ہے؟
    مقلد کی یہ تعریف کہاں منقول ہے؟
     
  4. ‏ستمبر 28، 2019 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,318
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    کرتا ہے، کے بجائے اگر کر سکتا ہے، کہا جائے تو بہتر ہے، کہ ائمہ مجتہدین بلکہ جنہیں مقلدین بھی مجتہد مطلق مانتےہیں، انہوں نے بھی ہمیشہ اور لازماً براہ راست قرآن کتاب و سنت سے از خود مسائل کا استنباط نہیں کیا، بلکہ انہوں نے بھی اپنے اساتذہ یا دیگر فقہاء کے اخذ کردہ مسئلہ کے استدلال اور استنباط کو درست پایا، اور ان کے استدلال و استنباط میں کوئی نقص نظر نہیں آیا، تو اس سے موافقت کی! جہاں کوئی نقص سمھجا، یا پایا تو اس کی مخالفت بھی کی!
    لیکن اس طرح نہیں کہ امام مالک نے ایک مسئلہ قرآن وحدیث سے استدلال و استنباط کر کے امام شافعی کو بتلایا، تو امام شافعی نے امام مالک سے کوئی استفادہ نہ کیا، اور خود از سرے نو وہی مسئلہ کو قرآن وحدیث سے اخذ کرنے کے در پے ہوئے! خواہ وہ مسئلہ اصول کا ہو یا فروع کا!
    اور میرے علم میں ایسا کوئی مجتہد نہیں، کہ جس نے دسرے فقیہ سے استفادہ حاصل نہ کرتا رہا ہو!
    یہی وجہہ ہے کے ہمیں کتب تاریخ اور کتب فقہ میں ان مجتہدین کے بشمول ائمہ اربعہ کے دیگر فقہاء سے مباحثے اور مذاکرے ملتے ہیں!

    آسان لفظوں میں مجتہد مطلق پر دیگر فقہاء سے استفادہ کرنا حرام نہیں ہوتا، کہ اس نے ہمیشہ خود ہی قرآن وحدیث سے استدلال و استنباط کرنا ہے، ہاں اس میں یہ لیاقت ہوتی ہے!
    نیلے رنگ کی عبارت سے میں بالکل متفق ہوں!
    مجتہد مطلق کے علاوہ دیگر تمام کا کسی ایک فقہی مسلک سے منسلک ہونا کیوں ضروری ہوا!
    ہم ائمہ اربعہ کہ جنہیں مقلدین بھی مجتہد مطلق مانتے ہیں، کے زمانے میں دیکھتے ہیں، کہ آیا ایسا ہوا تھا! ان چار ائمہ مجتہدین مطلق کے علاوہ باقی تمام نے ان کے مسلک میں سے کسی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہوں! ہمیں تو ایسا کہیں نظر نہیں آتا! دو طبقے نظر آتے ہیں، ایک أصحاب الرائے کا ایک أصحاب الحدیث کا!
    آج بھی یہی ہے کہ مجتہدین مطلق کے علاوہ باقی یہ فیصلہ کر لیں کہ آیا وہ أصحاب الحدیث کے منہج و فقہ کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، یا أصحاب الرائے کے منہج وفقہ کو! اور جسے أصحاب الحدیث اور أصحاب الرائے کی تمیز نہیں، اسے تو عوام کے طبقے میں رکھنا چاہیئے! اہل سنت میں أصحاب الرائے میں فقہ حنفی ہے اور أصحاب الحدیث کی فقہ میں دیگر تین فقہ بھی شامل ہیں! یاد رہے یہ بحث مجتہد مطلق کے علاوہ کے لئے ہے، یعنی مجتہد مطلق سے کم تر فقیہ و عالم کے لئے! عوام کی بات بعد میں آئے گی!
    اور جو أصحاب الحدیث کے منہج وفقہ کو اختیار کرتے ہیں، ان کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ ''اہل الحدیث'' کا منہج اختیار کرے! اور اس پر عمل ہو رہا ہے، یہ محال نہیں ہے!

    اہل الحدیث کا یہی طرز عمل ہے، اور ہمیشہ سے رہا ہے، کہ اہل الحدیث کے علماء و فقہاء ائمہ اربعہ و دیگر مجتہدین کے جس موقف کو قرآن و حدیث کے اقرب پاتے ہیں، اسے ترجیح دیتے ہیں، اسی ترجیح وموافقت کی وجہ سے ان میں شوافع و حنبلی وغیرہ کہلائے!
    اہل الرائے میں ایسے أصحاب ترجیح ہوئے بھی ہیں، جو فقہ حنفی اور فقہاء احناف کے علاوہ دیگر فقہ اور فقہاء کے استدلال و استنباط کو قرآن وسنت کے اقرب ہونے پانے پر ترجیح دیتے تھے، مگر کافی کم، اس کی وجہ أصحاب الرائے اور أصحاب الحدیث کے أصول فقہ کا شدید اختلاف ہے!
    لیکن فی زمانہ ایسے نظر نہیں آتے، اور جو کچھ حضرات کا فقہ حنفی سے باہر کسی موقف کو اختیار کرنا نظر آتا ہے، اس میں دیگر مقاصد کا شبہ زیادہ ہوتا ہے! کس کا نام لینا یہاں مناسب نہیں سمجھتا، عقلمند را اشارہ کافی!
    مختصراً، آپ کی بات درست ہے، سوائے ایک فقہ کے ساتھ منسلک ہونے کے لزوم کے!

    بالکل متفق! ایک توضیح کے ساتھ، کہ مجتہد مخطی کا درجہ دیا جانا جاہیئے، اور لازم ہے، اس پر امام ابن تیمیہ کی مستقل کتاب ہے، رفع الملام عن الأئمة الأعلام کے نام سے مستقل ایک کتاب ہے، مگر یہ جس مسئلہ میں مجتہد کو مخطی کہا جا رہا ہے، اس مسئلہ کو غلط کہنے، اور اس کے ابطال کا حق بھی ہونا چاہیئے! اور اس طرح کی باتیں کہ اتنے بڑے عالم، اتنے بڑے فقیہ، اتنے بڑے مجتہد کی بات کو آپ غلط کہہ رہے ہو، نہیں، نہیں، یہ بھی ٹھیک ہے، وہ بھی ٹھیک ہے، یہ خود فریبی نہیں ہونی چاہیئے!
    جی فرق تو ہے، لیکن آپ نے اس میں کچھ زیادہ ہی تفاوت سمجھ لی ہے!
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ اتباع سوائے عالم کے کوئی نہیں کر سکتا! لہٰذا قرآن وحدیث میں جہاں بھی اتباع کرنے کا حکم آیا ہے، عامی اس حکم میں داخل نہیں!
    اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ﴿ سورة الأعراف 03﴾
    جو چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتری ہے اس کا اتباع کرو اور الله کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں کی تابعداری نہ کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو﴿ ترجمہ: احمد علی لاہوری
    اگر اتباع صرف عالم ہی کر سکتا ہے، تو عامی کے لئے یہ حکم محال ہوا، اور عامی اس حکم سے خارج قرار پائے گا! اور اس کا کوئی بھی عمل نہ تو مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ کی اتباع قرار پائے گا، اور نہ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ کی!
    وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۚ أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ ﴿ سورة لقمان 21﴾
    اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس پر چلو جو الله اس پر چلو جو الله نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا اگرچہ شیطان ان کے بڑوں کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا رہا ہو ﴿ ترجمہ: احمد علی لاہوری
    اب اتباع صرف عالم ہی کر سکتا ہے، تو یہ معمہ نجانے کیسے حل ہوگا، کہ جن مشرکین کو اللہ تعالیٰ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ کی اتباع کا حکم دے رہا ہے، وہ کتنے بڑے عالم تھے! یا پھر اللہ انہیں محال کا حکم دے رہا ہے! اور یہ محال ہے کہ اللہ محال کا حکم دے!
    یہ فقہی تقلید نہیں! گو کہ اسے عرف میں تقلید کہا بھی گیا ہے، کیونکہ اسے نص نے واجب کیا ہے، اور جسے واجب کرے اسے فقہی تقلید نہیں کہتے! دوم کہ پھر عامی ائمہ اربعہ کے نہیں اس اس عالم کے مقلد ٹھہریں گے، جس عالم سے وہ فتوی لیتے ہیں!
    اس پر فورم پر بہت کچھ لکھا گیاہے، تلاش کریں تو وہ تھریڈ مل جائیں گے!

     
    Last edited: ‏ستمبر 28، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں