1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مجموع فتاوی شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ

'محدث لائبریری' میں موضوعات آغاز کردہ از Muhmmad umair, ‏مئی 12، 2019۔

  1. ‏مئی 12، 2019 #1
    Muhmmad umair

    Muhmmad umair مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2019
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    مطب یہ ہے کہ امام ابن تیمیہ کے فتاوی کا جو مجموعہ ہے جو تقربنً ۳۸ جلدوں میں ہے اس کی محدث لاہبریری میں شامل ہونے کی کوئئ امید ہے
     
  2. ‏مئی 13، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اگر " مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ " عربی (جو 37 جلدوں میں ہے ) کی بات کر رہے ہیں ،تو وہ کئی سائیٹوں پر موجود ہے ،
    https://archive.org/details/mjftitdrwf
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور اگر آپ اس کے اردو ترجمہ کی بات کرتے ہیں تو وہ ہمارے علم میں نہیں ۔۔
    ــــــــــــــــــــــــــ
    اور محترم بھائی جناب @محمد نعیم یونس صاحب سے گذارش ہے کہ فتاوی ابن تیمیہؒ کے متعلق ان دو پوسٹوں کو ایک نئے تھریڈ میں منتقل کردیں ،جزاکم اللہ تعالی خیراً


     
  3. ‏مئی 13، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    فتاوی امام ابن تیمیہؒ کے ترجمہ و اشاعت سے متعلق مزید کچھ باتیں درج ذیل تھریڈ میں پڑھیں ؛
    فتاوی ابن تیمیہؒ
     
  4. ‏مئی 13، 2019 #4
    Muhmmad umair

    Muhmmad umair مبتدی
    شمولیت:
    ‏مئی 03، 2019
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    میں اردو ترجمہ کی بات کررہا ہوں
     
  5. ‏مئی 13، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

  6. ‏جولائی 19، 2019 #6
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    السلام علیکم محترم اسحاق سلفی



    ابن تیمیہ،رح کا اس پر کہنا ہے

    مجموع الفتاوى ج: 5 ص: 396
    (وأما رسالة أحمد بن حنبل الى مسدد بن مسرهد فهى مشهورة عند أهل الحديث والسنة وأصحاب أحمد وغيرهم تلقوها بالقبول وقد ذكرها أبو عبدالله بن بطة فى كتاب الإبانة واعتمد عليها غير واحد كالقاضى أبى يعلى وكتبها بخطه) انتهى

    امام احمد کا خط جو مسدد کو لکھا گیا ہے وہ اصحاب احمد اور اہل حدیث میں مشہور ہے اور اس کو درجہ قبولیت حاصل ہے اور اس کا ذکر امام ابن بطہ نے کتاب الابانہ میں کیا ہے اور اسی پر قاضی ابو یعلی وغیرہ نے اعتماد کیا ہے

    اس فتویٰ کی حقیقت کیا ہے

    اور کیا امام احمد بن حمبل رح فرشتوں کو پکارنے کے قائل تھے ایک تھریڈ دیکھا یہاں شیخ کفایت اللّه صاحب کا جس میں اس حدیث کو ضعیف کہا گیا ہے جس حدیث سے امام احمد بن حمبل کا یہ عقیدہ بتایا جاتا ہے

    جو ابن عبّاس رض سے مروی ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں