1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محترم حافظ زبیر صاحب کی ایک فکر

'امت مسلمہ کے فکری مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏دسمبر 01، 2016۔

  1. ‏دسمبر 01، 2016 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    علمائے دیوبند کا مقام
    ---------------------
    حالیہ پوسٹوں پر حنفی دوست کا سوال ہے کہ دین صرف اہل حدیثوں کے پاس ہی ہے یا حنفیوں کی بھی کوئی حیثیت ہے؟ جواب: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ملک حنفیوں کا ملک ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برصغیر پاک وہند میں جتنی دینی اور ملی خدمات علمائے دیوبند کی ہیں، اتنی کسی اور مسلک کی نہیں ہیں۔
    میری نظر میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث، تینوں حنفیت سے ہی نکلے ہیں۔ شیخ نذیر حسین دہلوی، مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہم اللہ حنفیوں میں سوچ کے تین انداز تھے جو آگے بڑھ کر تین مسلکوں کی صورت اختیار کر گئے۔ اور ان تین مسالک میں بریلویوں کی حیثت تو ہجوم کی سی رہی اور اہل حدیث اقلیت میں رہے جبکہ دیوبندی ایک دینی قوت اور طاقت بن کر سامنے آئے۔
    میں صرف یہ نہیں کہتا کہ دیوبند کے پاس شیخ الہند جیسے استاذ، حکیم الامت جیسے مربی، حضرت مدنی جیسے مجاہد، علامہ کاشمیری جیسے محدث، مولانا الیاس جیسے مبلغ اور مفتی شفیع رحمہم اللہ جیسے فقیہ موجود ہیں بلکہ ہمارے ملک کی اکثر وبیشتر دینی اور اسلامی تحریکیں بھی تحریک دیوبند ہی کی ایکسٹینشن ہیں جیسا کہ تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی وغیرہ
    پھر اس ملک میں فتنوں کے خلاف جو کردار دیوبند کے حلقے کو حاصل رہا ہے، وہ کسی اور حاصل نہیں ہے۔ ختم نبوت کے لیے سب سے زیادہ کام اسی حلقے نے کیا ہے۔ اسی طرح انکار حدیث کے فتنے کے خلاف اہل حدیث کیا بند باندھنے میں کامیاب ہو سکتے تھے، اگر انہیں دیوبند کی سپورٹ حاصل نہ ہوتی؟ دیوبند کو آپ نکال دیں، تو اس ملک میں مسلمانوں کی حیثیت ایک اقلیت سے زیادہ نہیں رہ جائے گی۔
    ہاں البتہ بطور شرارت اتنی بات کہی جا سکتی ہے کہ حنفیوں میں سے جو پڑھ لکھ گئے، وہ دیوبندی کہلائے اور جو زیادہ پڑھ لکھ گئے، وہ اہل حدیث بن گئے۔ تو اہل حدیث، حنفیوں سے اختلاف ضرور کریں لیکن مخالفت نہ کریں۔ باپ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے باپ ہونے کا انکار نہیں۔ برصغیر میں حنفیت، تینوں مسالک کے لیے باپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی بھی اس کا انکار کرے گا تو اسے اپنا شجرہ مکمل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اور شجرہ سے مراد علمی شجرہ ہے کہ جسے علمی سند کہتے ہیں۔
    از قلم حافظ زبیر تیمی​
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 02، 2016
  2. ‏دسمبر 01، 2016 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جواب از ابو بکر قدوسی حفظہ اللہ
    اہل حدیث کی فکر کب سے ہے ؟
    .
    دوست نے سوت کاتا اور برباد کر دیا ، غنیم کے غنیم قلم کی کاٹ سے ہراساں تھے ، لیکن "لشکری " اپنے ہی لشکر پر چڑھ دوڑا -
    مجھے کل سے راجہ پورس یاد آ رہا ہے اور بہت یاد آ رہا ہے ، جہلم کے کنارے جس کی پامردی کھیت ہوئی ، ہر معرکے کا فاتح راجہ پورس ، سکندر کے مقابل آیا ممکن ہے تاریخ بدل جاتی لیکن اس کے ترپ کے پتے "ہاتھی "پلٹ کے واپس جو بھاگے تو پورس اسکندر کی قید میں تھا -
    انکار حدیث کے رد کا کام کرنے والے ہمیشہ ہی میری محبت کا مرکز رہے ، سو محبت اور عقیدت اب بھی ہے لیکن اگلے روز "دوست " گھر ہی کی دیوار ڈھانے کو آ گئے -
    لکھتے ہیں کہ :
    "میری نظر میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث، تینوں حنفیت سے ہی نکلے ہیں۔ شیخ نذیر حسین دہلوی، مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہم اللہ حنفیوں میں سوچ کے تین انداز تھے جو آگے بڑھ کر تین مسلکوں کی صورت اختیار کر گئے-"
    موخر الذکر بزرگوں کی بات کی جاتی تو ہمیں کیا اعتراض ہو گا - اگر برصغیر کی حد تک بھی کی جائے تو اہل حدیث کے باب میں بے بنیاد ہے - بجا کہ سید نذیر حسین رح کی بہت زیادہ خدمات ہیں اور برصغیر میں اہل حدیث کی " نشاه ثانیہ " کچھ انہی کی مرہون منت ہے - لیکن یہ کہنا کہ ان کی سوچ کا انداز آگے بڑھ کے مسلک کی صورت اختیار کر گیا ، تاریخ سے لاعلمی ہے محض - میاں صاحب اپنے کلیدی کردار کے باوجود پچھلی تحریک کا پرتو ہیں ، آگے کی منزل ہیں ، سفر نو کا آغاز ہیں -
    اہل حدیث اس دیس میں سیدنا فاروق اور سیدنا عثمان رض کی ادوار سے چلے آئے تھے ، کہ جب فقہی مسالک کی بنیاد تو کیا پڑتی - ان کی بنیادیں ابھی "عالم بالا" میں تھیں -اور ان مذاہب کے وہ بزرگ کہ جن کے نام پر یہ تشکیل ہوئی پیدا بھی نہیں ہووے تھے - سوال تو اٹھے گا کہ تب سندھ ، مالا بار اور کیرالا کے باشندوں کا مذھب کیا تھا ؟
    کس فقہی مذھب کے وہ پیروکار تھے ؟-
    جناب وہ سیدھے سیدھے اور سادے سادے اسلام پر عامل تھے ، جس میں احکام کا منبع قران اور حدیث ہے -
    اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان تاریخی کتب کا کیا کیا جائے جو برصغیر میں اہل حدیث فکر کی موجودگی کو واضح کرتی ہے - خلافت راشدہ کے دور سے آگے نکل کے عرض کرتا ہوں -تب کی بات کر لیتے ہیں جب فقہی مذہب وجود میں آ چکے تھے - ایک سیاح سندھ کی سیر کو آیا - شمس الدین المقدسی انبیاء کی سرزمین بیت المقدس سے آیا تھا - لکھتا ہے :
    "یہاں (منصورہ ) کے مسلمانوں میں سے اکثر اہل حدیث ہیں ،میں نہ یہاں قاضی ابو دمحمد منصوری کو دیکھا ،جو داوودی تھے ،بڑے شہروں میں حنفی فقہا بھی پائے جاتے ہیں ، یہاں مالکی اور حنبلی نہیں "-
    اسی طرح ریاست ہباریه بھی سندھ میں تھی ،وہاں کا مذھب بھی اہل حدیث تھا - حوالے درجنوں موجود ہیں ...قاضی اطہر مبارک پوری کی کتاب اور احسن التقاسیم جن سے بھری پڑی ہے - اور بھی کتب کہ تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں -
    پھر یہی معاملہ کیرالہ ،مالی بار ،دکن کا بعض علاقوں میں مسلمان جو پائے جاتے تھے ان کی اکثریت کا کبھی یہی مذھب تھا - پھر افغانستان سے حملہ اور آنے شروع ہووے تو ہندستان میں ملوک کے مذھب کی اشاعت کا زور ہوا اور ام مذھب حنفی قرار پایا -
    دوست مزید کرم فرمائی کرتے ہووے لکھتے ہیں :
    "پھر اس ملک میں فتنوں کے خلاف جو کردار دیوبند کے حلقے کو حاصل رہا ہے، وہ کسی اور حاصل نہیں ہے۔ ختم نبوت کے لیے سب سے زیادہ کام اسی حلقے نے کیا ہے۔ اسی طرح انکار حدیث کے فتنے کے خلاف اہل حدیث کیا بند باندھنے میں کامیاب ہو سکتے تھے، اگر انہیں دیوبند کی سپورٹ حاصل نہ ہوتی؟ "-
    حضرت مجھ سا روادار یہاں اس فورم پر کون ہو گا ؟ لیکن پھر بھی دبے لفظوں میں کہوں "کون سی سپورٹ ، کیسی سپورٹ " - حضرت اگر خفی انکار اور انکار کی ہر دم حوصلہ افزائی سپورٹ ہے تو آپ درست کہتے ہیں ، ورنہ بخاری اب کوئی ایسی محبوب نہیں احباب کی محفلوں میں ،کسی درجہ "مغضوب " ہی ہے اب -
    رہے دوسرے فتنے کم زیادہ کی بحث کبھی بھی انجام کو نہیں پہنچتی - جس نے زیادہ کیا جس نے کم کیا اللہ کے ہاں اجر ہے ..لیکن کبھی دوستوں سے بھی کچھ لکھوا دیکھیے ، کبھی ہمارا بھی کلیجہ ٹھنڈا ہو کہ ہاں ہندوستان میں جمعیت علمائے ہند کی بنا کی تحریک مولانا ثناء اللہ امرتسری نے دی تھی ، جمعیت علمائے اسلام کی بنیاد میں مولانا سیالکوٹی بھی وسے ہی شریک تھے جیسے مولانا شبیر احمد عثمانی ... آپ کو کبھی بھولے سے نام بھی مگر سننے کو نہیں ملے گا - ہاں ختم نبوت کے باب میں کوئی ثناء اللہ امرتسری بھی تھا -
    آپ شرارت سے "فرماتے" ہیں اور کیا غضب ڈھاتے ہیں ، اور ایسی "محبت"کے مظاہرے کہ جس میں سارا جہاں جل گیا ، زمین کیا آسمان بھی جل گیا ،اور جگر ہی نہیں دل بھی جل گیا ،:
    "ہاں البتہ بطور شرارت اتنی بات کہی جا سکتی ہے کہ حنفیوں میں سے جو پڑھ لکھ گئے، وہ دیوبندی کہلائے اور جو زیادہ پڑھ لکھ گئے، وہ اہل حدیث بن گئے۔ تو اہل حدیث، حنفیوں سے اختلاف ضرور کریں لیکن مخالفت نہ کریں۔ باپ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے باپ ہونے کا انکار نہیں۔ برصغیر میں حنفیت، تینوں مسالک کے لیے باپ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور اگر کوئی بھی اس کا انکار کرے گا تو اسے اپنا شجرہ مکمل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اور شجرہ سے مراد علمی شجرہ ہے کہ جسے علمی سند کہتے ہیں۔"
    میں بھی "شرارت " سے کہوں .... چھوڑئیے اس بات کو کہ کون زیادہ پڑھ لکھ گیا کون کم ،لیکن اتنا عرض کر دوں کہ باپ پہلے ہوتا ہے پھر بیٹا پیدا ہوتا ہے ، البتہ اس بات سے آپ کی اتفاق ہے کہ باپ سے اختلاف ہو سکتا ہے اس کے باپ ہونے سے انکار نہیں ...جدید و قدیم کا تعین کیجیے اور پھر تاریخی ڈی این اے کر لیجیے باپ کا معلوم ہو جائے گا منوانا پھر آپ کی ذمے داری ... اور ہاں ! یہ جو علمی شجرہ ہے نا اصل میں ہمارا ہی تھا ..بیچ میں ذرا ادھر ادھر نکل گیا ، اور جب واپس آیا تو حضرت شاہ ولی اللہ کو بھی ساتھ لے آیا ورنہ حجتہ اللہ کی بیش قیمت عبارتیں احباب کو دکھا دیجیے کہ جو سورج سی روشن اور چاند سی تابناک ہیں
    ابوبکر قدوسی
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 02، 2016
    • پسند پسند x 8
    • زبردست زبردست x 2
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 02، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا استاذ محترم
     
  4. ‏دسمبر 02، 2016 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مسالک کے درمیان تقابل کا یہ انداز ، عجیب و غریب ہے ، لگتا نہیں کہ اس سے کوئی علمی یا فکری سطح پر فائدہ ہوسکے گا ۔
    مسلک اہل حدیث سید نذیر حسین سے شروع ہوا ، یہ بالکل سطحی بات ہے ، جو کہ بالکل عامی قسم کے لوگ کرتے ہیں ، اہل علم اور تاریخ سے واقفیت رکھنے والے لوگ چاہے وہ اہل حدیث نہ بھی ہوں ، ایسی بات نہیں کہتے ۔
    مسالک اور اہل مسالک کی خدمات کو دو طرح دیکھنے کی ضرورت ہے ، ایک ہے مسلکی سطح پر خدمات ، دوسرا ہے ، ملکی سطح پر یا امت کی سطح پر کوشش و کاوشیں ۔
    مسلکی سطح پر تقابل کرنے کا زیادہ فائدہ نہیں ، جبکہ بطور امت ، ہم سب ایک ہیں ، تقابل کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟
     
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 4
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 02، 2016 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    لیکن تاریخ اہل حدیث کو جس طرح پیش کیا جا رہا ہے وہ قطعا درست نہیں ہے اگر ہم اپنا انتساب صحابہ اور فہم صحابہ کی طرف کرنے میں درست ہیں تو پھر ۔۔۔۔
    اس کے علاوہ یہ اغیار کی سازش ہی تو ہے کہ وجود اہل حدیث کی مسلمہ تاریخ کو نظروں سے اوجھل کرنے کے بعد اسے کویی حالیہ تحریک ثابت کر دیا جایے جبکہ ایسا نہیں
    اور یہ بھی کہ مسالک کے درمیان مقارنہ اور موازنہ کویی برایی نہیں لیکن مدافعانہ تقابلی مطالعہ جس میں اپنا وجود ہی مشکوک ہو جایے یہ محل نظر ہے
     
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 03، 2016 #6
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    حافظ زبیر صاحب کوئی گمنام شخصیت نہیں ۔ اسی فورم کے مشہور علمی نگران محترم @ابوالحسن علوی ہیں۔
    ان سے رابطہ کریں ۔تاکہ وہ خود ہی بات کو آگے بڑھائیں ۔ اگر بڑھانا چاہتے ہوں۔
    معلوم نہیں ان جیسا نیٹ پہ بہت سرگرم۔۔مشہور ۔۔۔صاحب قلم ۔۔۔اپنے ہی ہم مسلک اس فورم پر کیوں نہیں آتا۔؟
    بعض مخالف مسلکی مناظرین کے تناظر میں(جو مسلک اہل حدیث کو نئی چیز کہتے ہیں) ایک ایسے سلفی عالم کی تحریر کو کیوں دیکھتے ہیں
    غالباََ مراد ان کی ۔۔۔شہرت ، عروج ہی ہے جس میں ظاہر ہے کہ مولانا نذیر حسین دہلویؒ کا بہت حصہ ہے ۔
    اسی لئے انہوں نے اہل حدیث کے علاوہ مسالک کو بھی شخصیات سے ہی منسوب کیا ہے ۔
    اور یہ عروج یا نشاۃ ثانیہ ۔۔جو بھی کہہ لیں ۔۔چاہے میاں نذیرحسین دہلویؒ سے منسوب کریں ، یا ۔۔۔شجرہ و علمی سند کے ذریعے شاہ ولی اللہ ؒ سے جوڑیں۔۔ان دونوں حضرات کی حنفیت سے تعلق کی کون نفی کر سکتا ہے ۔
    آپ بے فکر ہو کر حافظ زبیر صاحب سے ایک ایک مسئلہ پر الگ الگ رائے پوچھیں گے تو وہ سلفی اہلحدیث کی رائے کو ہر مسئلہ میں ترجیح بھی دیں گے اور مخالف ہر رائے کو غلط بھی کہیں گے۔جیسا کہ ان کی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے ۔
    وہ تواپنی رائے کے اظہار کے لئے براہ راست اپنے دادا۔۔۔یا ۔۔۔دادا استاذ کی عمر کے حنفی دیوبندی عالم مولانا سلیم اللہ خان پر بھی تنقید کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔۔
    بس یہ ہے کہ غالباََ چونکہ وہ کچھ دعوتی ذہن بھی رکھتے ہیں ۔اور سب کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ۔اس کو دیکھ کر ان کی بات اس طرح کی لگتی ہے کہ جیسے مخالف کی ہمت افزائی بھی ہو جائے ۔اسی لئے انہوں نے تحریرکی وجہ بھی یہی لکھی ہے کہ

    حالیہ پوسٹوں پر حنفی دوست کا سوال ہے کہ دین صرف اہل حدیثوں کے پاس ہی ہے یا حنفیوں کی بھی کوئی حیثیت ہے؟
    جیسے کوئی بچوں کی ریس یا مقابلہ ہو تو جو بچہ ہار جائے تو اس کی ہمت افزائی کے لئے کہا جاتا ہے ۔۔’’کوئی بات نہیں بیٹا، تم تو ان سے بہتر دوڑے ، سپیڈ بھی زیادہ تھی ، یا ۔۔زور بھی خوب تھا۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی بات نہیں ۔۔‘‘
    جیسے کوئی بچہ ۔۔ریس میں گر جائے ۔۔۔تو ہمت بندھانے والے ٹیچر کہتے ہیں ۔۔۔
    ’’گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
    وہ طفل کیا گرے گاجو گھٹنوں کے بل چلے۔‘‘
    اس لئے بے فکر رہیں (مسکراہٹ)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 03، 2016 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    صرف ابن عثمان بهائی سے ۔
    وہ کیا تبدیلی هے جو کسی حنفی میں آجائے تو اسے اہل حدیث سمجها جانے لگتا هے؟
    رفع یدین، آمین بالجہر، رکوع و سجود کی حالتوں کا فرق، رفع السبابہ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یقینا آپکا جواب هوگا نہیں ، یہ۔فرق تو شافعی اور حنبلی میں بهی موجود هے ۔
    دراصل فکر تبدیل هوتی هے کسی بهی حنفی یا شافعی کی اگرچہ وہ صحیح العقیدہ نا هوتے هوئے متصوفہ هو ۔ جب فکر تبدیل هو تو هر چیز تبدیل هوتی هے اسے اہل حدیث کہا جانے لگتا هے ۔ اہمیت عقیدہ کی سب سے زیادہ هے محترم بهائی ۔ اس لیئے میرے جیسے اکثر کہا کرتے ہیں اہل حدیث عقیدہ میں غیر متزلزل ہیں۔ یہ ایک امتیاز هے ، جو اپنا اثر رکهتا هے ۔
    امید هے کہ آپ میری باتوں پر غور ضرور کرینگے ۔ یہ سادہ بیانی هے ، میرے اپنے مشاهدات ہیں ۔
    والسلام
     
  8. ‏دسمبر 03، 2016 #8
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    حنفیت سے تعلق هونا اور تصوف سے تعلق هونے میں فرق هے بهائی ۔
     
  9. ‏دسمبر 03، 2016 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    مجھے تو نہیں لگتا.
    شاید مصروفیت ہو.
     
  10. ‏دسمبر 03، 2016 #10
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
    طارق بھائی۔یہ بات اصل میں عمومی نہیں چل رہی ۔ بلکہ حافظ زبیر صاحب کی تحریر کے ضمن میں ہے ۔
    اور جن معنوں میں وہ کہہ رہے ہیں ۔ ان معنوں میں وہ تبدیلی صرف ترک تقلید تھی۔بڑا فرق یہی تھا۔ اگرچہ پھر اس کے ضمن میں فروعی مسائل بھی چھڑ گئے۔
    باقی آپ کو شاید معلوم نہیں اس دور کے علما میں آج کل کی بحثیں نہیں تھیں ۔ جن کو عقیدہ سے متعلق سمجھا جاتا ہے ۔
    اور اگر آپ نے میاں نذیر حسینؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ سے متعلق عبارت سے ۔۔حنفیت سے تعلق ۔۔کا جملہ کہا ہے تو پھرتو ان دونوں کا تعلق تصوف سے بھی تھا۔غلط والا نہیں صحیح والا (مسکراہٹ)
    لیکن آپ کو حوالہ نہیں دوں گا کہیں آپ ان سے بھی بد ظن نہ ہو جائیں۔
    لیکن کام کی بات یہ ہے کہ سید نذیر حسینؒ جب مروجہ معنی میں اہل حدیث ہو بھی گئے تو پھر بھی ان کے اور ان کے بڑے شاگردوں کے تعلقات احناف خصوصاََ دیوبند والوں سے اتنے خراب نہیں تھے ۔جتنے آج ہیں۔
    وہی ہیں ۔خضر بھائی سےپوچھ لیں ۔ اور بہت ہی عجیب بات ہوئی کہ جیسے ہی میں نے یہ تحریر لکھی اس وقت وہ آئے ہوئے تھے ۔ لیکن شاید ادھر نہ آئے ہوں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں