1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

انٹرویو محترم خضر حیات صاحب ( علمی نگران )

'انٹرویوز' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏جون 04، 2014۔

  1. ‏جون 04، 2014 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,574
    موصول شکریہ جات:
    4,375
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    [​IMG]

    [​IMG]
    محترم خضر حیات صاحب کا انٹرویو

    [​IMG]

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اُمید کرتے ہیں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے اللہ تعالی سے دُعا ہے کہ وہ آپ کو اور آپ کی فیملی کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور آپ کی ہر جائز خواہش کو پورا کرے آمین اور آپ سب کی زندگی میں آنے والے ہر دُکھ و پریشانی کو خوشیوں میں بدل دے آمین۔


    [​IMG]

    علم دین مسلمان کو مثبت تعمیری سوچ اور اصلاح احوال کی جانب گامزن رکھتا ہے۔معاشرے میں کامیاب انسان وہی ہے
    جو اپنے مقاصد حیات کی فکر وجستجو کے ساتھ ، نیک عزائم کے حصول میں پر عزم ہو جائے۔بہترین حافظہ اور علمی
    صلاحیت کے حامل ایک ایسی ہی شخصیت محترم خضر حیات بن محمد الیاس صاحب کی ہے۔
    ذوق تحقیق ، وسعت نظر ،اور عادلانہ مزاج و رائے رکھتے ہیں۔
    اللہ تعالی کے فضل وکرم سے آپ جامعہ لاہور اسلامیہ ، کلیۃ القرآن کے فضلاء میں ہونے کے ساتھ ساتھ
    سبعہ عشرہ کے قاری بھی ہیں۔پختہ سوچ ، دھیمےانداز مگر پر اثر شخصیت کے مالک ہیں۔آپ کے بارے میں مزید
    جاننے کے لیےآج آپ کا انٹرویو پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ

    اللہ تعالیٰ آپ کے علم وعمل میں خوب برکت عطا فرمائے۔آمین

    [​IMG]

    1۔آپ کا مکمل نام ، اور آپ کی رہائش؟
    2۔آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ، ؟مزید اپنی دینی تعلیم کا سفر کیسے اور کہاں سے شروع کیا، اور کیا آپ کو اس دوران کسی مشکل کا سامنا ہوا؟
    3۔آپ کا پیشہ کیا ہے؟
    4۔عمرکتنی ہے ؟
    5۔شادی ہوئی ؟ اولاد ہے ؟ ان کے نام کیا ہیں ؟ ان کو کیا بنانا چاہتے ہیں ؟
    6۔کامیاب شادی کا مطلب ذہنی ہم آہنگی ، سمجھوتہ یا مزاج کی مطابقت ہے ، یا کچھ اور ؟
    7۔مزاجا کیسی طبیعت کے مالک ہیں؟ آپ اجتماعیت پسند ہیں یا انفرادیت پسند؟
    8۔انٹرنیٹ کی دنیا سے کب متعارف ہوئے ؟ اور اس پر دینی کام کرنے کا رجحان کیسے پیدا ہوا ؟
    9۔ ایسا کون سا کام ہےجس کو سرانجام دیکر آپ کو قلبی مسرت ہوتی ہے؟
    10۔فرصت اور پریشان کن لمحات کن امور پر صرف کرتے ہیں؟ آپ کے روز مرہ کے مشاغل کیا ہیں؟
    11۔آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
    12۔وہ کون سی ایسی خواہش یا خواب ہے جو اب تک پورا نہ ہو سکا؟
    13۔کس چیز سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں؟
    14۔مستقبل میں ایسا کیا کرنا چاہتے ہیں ، جو ابھی تک نہیں کیا؟
    15۔ کسی کے ساتھ پہلی مُلاقات میں آپ سامنے والے میں کیا ملاحظہ کرتے ہیں ؟
    16. اِس پُرفتن دور میں دُنیا کے مجموعی حالات کو دیکھ کر آپ کیا سوچتے ہیں؟
    17۔محدث فورم کا تعارف کیسے حاصل ہوا ؟؟ فورم پر پہلا دن کا احوال اور آغاز میں کیسی مشکلات سامنے آئیں؟
    18۔محدث فورم کے وہ کون سے رکن ہیں ، جن کی تحاریر سے آپ متاثر ہوئے اور آپ کو ان رکن سے دینی فائدہ حاصل ہوا؟
    19۔مسقبل میں کیا کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ہمیں بھی اس سے آگاہ کیجئے ہوسکتا ہے آپ کو محدث فورم سے کوئی ہمنوا مل جائے ؟
    20۔ہدایت اللہ کی طرف سے آتی ہے، مگر اللہ تعالی ایسے اسباب بنا دیتے ہیں ، جو ہدایت کا باعث بن جاتے ہیں ، آپ کی زندگی میں ان اسباب کا کیا کردار رہا؟؟
    21۔زندگی کے اتنے ادوار گزار لینے کا بعد زندگی سے کیا سیکھا؟؟
    22۔دین اسلام کی ترقی و بلندی کے لیے ، مسلمانوں میں کس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟؟
    23۔نوجوان طبقے کے لیے وہ چند ضروری باتیں کون سی ہوں گی ، جن سے وہ راہ راست اختیار کر سکیں؟؟
    24۔دین اسلام کے بیش بہا موضوعات میں سے وہ کون سا ایسا موضوع ہے ، جس کی محفل آپ کو بہت بھاتی ہے؟؟
    25۔ہر انسان زندگی کے کسی نہ کسی شعبہ میں مہارت اور قابلیت رکھتا ہے ، اس حوالے سے اپنی صلاحیتوں کی تلاش کیسے ہوئی ؟ نیز اس مہارت اور قابلیت کا تذکرہ بھی کیجیئے۔
    26۔ آپ كے خيال ميں جس تيزى سے اہوا پرستى اور اباحيت عام ہو رہی ہے كيا اتنے موثر انداز ميں رجوع الى اللہ كى طرف بلانے كا كام ہو رہا ہے؟ ہميں كيا حكمت عملى اپنانى چاہیے ؟
    27۔آپ بفضل اللہ تعالی جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم ہیں، جامعہ اور مدینہ منورہ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیجیئے۔
    28۔دین اسلام پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کی کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ اور ان رکاوٹوں کا سدباب کس طرح کیا؟
    نيكى كے راستے سے برائى كى تاريك راہوں كى طرف جا نكلنے والے بھی كم نہيں ۔ جب ايسا كچھ كھل كر سامنے آتا ہے تو اس واقعے كے بہت اثرات ہوتے ہيں ۔ ان مواقع پر كيا چيز حوصلہ ديتى ہے ؟ داعى كو كس حد تك اس كا اثر لينا چاہیے۔ بعض اوقات انسان كو خود اپنے نفس كے متعلق خوف محسوس ہوتا ہے ؟ داعى كو ايسے حالات ميں كيا كرنے كا مشورہ ديں گے؟
    29۔دین کے معاملے پر کس شخصیت پر رشک آتا ہے؟
    30۔امور خانہ داری میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
    31۔کھانے میں کیا پسند کرتے ہیں؟؟اور اگر خود کھانا بنانا پڑے تو؟؟؟
    32۔ کیا آپ کا تعلق دین دار گھرانے سے ہے ؟آپ کے دینی مشاغل پر خاندان و احباب کا کیا ردعمل ہوتا ہے؟
    33۔ ایسے افعال ، جن کو سرانجام دینے کے لیے لمبی زندگی کی دعا مانگتے ہوں؟
    34۔ آپ کو غصہ کتنا آتا ہے اور اُس صورت میں کیا کرتے ہیں؟
    35۔اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں ہیں۔کسی ایک نعمت پر تذکرہ کیجیئے۔
    36۔آپ کے پسندیدہ مصنفین اور کتب؟مذہب اور ادب میں خاص طور پر۔
    37۔ادارہ محدث کے کاموں میں پہلے سے اب تک عملی طور پر شامل ہیں یا نہیں؟
    38۔محدث فورم کے کن کن اراکین سے آپ کی مُلاقات ہو چُکی ہے۔
    39۔کیاآپ کسی کو قائم مقام علمی نگران کا اہل سمجھتے ہیں؟ہلکا پھلکا سوال!
    40۔ بطورِ(علمی نگران) آپ محدث فورم کے اراکین کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟


    [​IMG]
    @خضر حیات
    [​IMG]

    نوٹ
    ( تمام اراکین سے بصد احترام گزارش ہے کہ جب تک اوپر پیش کیے گئے سوال مکمل نہ ہوجائیں مزید کوئی سوال جواب یا تأثرات کا اظہار ( سوائے ریٹنگ کے ) نہ کریں ۔
    تاکہ انٹرویو میں ایک تسلسل برقرار رہے ۔
    اگر کسی رکن سے اس سلسلے میں تسامح ہوا تو ان کے پیغامات حذف کردیے جائیں گے ۔ منجانب : انٹرویو پینل )


    [​IMG]
    '' تجاویز و غیرہ کے لیے یہاں تشریف لائیں ''
    [​IMG]

    [​IMG]
     
    • پسند پسند x 9
    • زبردست زبردست x 5
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
  2. ‏جون 04، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    بہت بہت شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ مجھے اس قابل سمجھا گیا کہ اپنے بارے میں کچھ بیان بازی کرسکوں ۔
    انٹرویو پینل کی طرف سے میرے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں یہ ان کا حسن نظر ہے یا انٹرویویانہ مزاج کی مجبوری ورنہ مجھے اپنے اندر ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی ۔
    شیطان ذہن میں یہ ڈال رہا ہے کہ یہ کیفیت شاید
    ’’اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے ‘‘
    کے قبیل سے ہو لیکن اللہ کا شکر ہے کہ بروقت اس ابلیسی چال سے آگاہی ہوگئی ہے ۔ لہذا اس شعر کا اگلا مصرعہ یوں ہو گیا ہے :
    ’’یہ تمسخر ہی تمسخر ہے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔‘‘
    فورم پر انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہوا ، تو جہاں اس میں حصہ لینے کا شوق تھا وہیں بھاری بھر کم سوالات کے بوجھ کا خوف بھی تھا ۔ اوپر سے انٹرویو پینل نے بھی حد کردی ہے کہ ہر رکن کو تقریبا ایک جیسے ہی سوالات کیا جاتے ہیں ـ حالانکہ بچو ں سے ’’ کھیل کود ‘‘ والا انٹرویو جبکہ بڑے لوگوں سے ’’ سیانے سوالات ‘‘ ہونے چاہییں ۔
    خیر اب ’’ سیانے سوالات ‘‘ کے جوابات (جیسے بھی ہیں) بصارت (سماعت تو ممکن نہیں ) فرمائیں ۔
     
    • پسند پسند x 12
    • زبردست زبردست x 8
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 04، 2014 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    1۔آپ کا مکمل نام ، اور آپ کی رہائش؟
    جواب :
    مکمل نام سے مراد اگر سلسلہ نسب ہے تو حاضر و دستیاب معلومات کے مطابق کچھ یوں ہے :
    حافظ خضر حیات بن محمد الیاس بن عبد الکریم بن محمد بن عمردین بن رستم بن دسیندی
    جیساکہ برصغیر کے عمومی باشندوں کا حال ہے کہ سب کے آباء و اجداد غیر مسلم تھے اس لیے ان کے انساب سکھوں اور ہندؤوں سے جا ملتے ہیں ، ہمارے ہاں بھی صورت کچھ ایسی ہے ۔
    اور بزرگوں میں سے بھی کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی کہ کسی معروف اسلامی ہستی کی طرف سلسلہ نسب جوڑ لیں جیساکہ عموما برصغیر پاک و ہند میں رواج ہے ، اس لیے نسب نامہ بیان کرتے ہوئے کبھی بھی لمبے چوڑے ناموں کی فہار س بیان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔
    صرف اتنا معلوم ہے کہ پشت کے کسی بڑے کا نام یا لقب ’’ جھنڈا ‘‘ تھا اس لیے لوگ ہمیں ’’ آ ل جھنڈا ‘‘ کہتے ہیں ۔
    کراچی کے آس پاس ’’ مہاجروں ‘‘ سے پتہ نہیں کیا مراد لیا جاتا ہے البتہ چونکہ ہمارے دادا اور پڑدادا جی بھی ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان میں ٹھہرے اس لیے ہم بھی ’’ مہاجرین ‘‘ شمار ہوتے ہیں ۔
    پاکستان صوبہ پنجاب کے اندر لاہور شہر سے کچھ فاصلے پر ’’ رائیونڈ ‘‘ ایک معروف شہر ہے اس شہر سے تقریبا سات کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں ’’ بھمبھ کلاں ‘‘ کے نام سے ہے، وہی میرامولد و مسکن ہے ۔
    ضلع قصور اور تحصیل کوٹرادھاکشن ہے ۔
    کارواں سلف کے اندر مولانا اسحاق بھٹی صاحب نے مولانا سید محمد شریف شاہ گھڑیالوی رحمہ اللہ اور ان کی اولاد کے بارے میں لکھتے ہوئے ہمارے گاؤں کا تذکرہ کیا ہے ۔
    معاصر نامور علماء میں سے حافظ محمد شریف صاحب ( مدیر مرکز التربیۃ ) حفظہ اللہ بھی اسی گاؤں کے چشم و چراغ ہیں ۔
    گاؤں کے اندر اکثر بریلوی پھر اہلحدیث اور اس کے بعد دیوبندی پھر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، جبکہ مرزائیت وغیرہ بالکل نہیں ہے ۔
    گاؤں کے اندر کل 10مساجد ہیں 3 اہلحدیث کی ،6 بریلویوں کی ، 1 دیوبندیوں کی ۔
    اہلحدیث کی مرکزی مسجد جامع رحمانیہ اہلحدیث ہے جو کہ گاؤں کی ہی نہیں بلکہ اس پورے علاقے کی عظیم الشان مسجد ہے ۔
    گاؤں کا ماحول دینی اعتبار سے زیادہ قابل اطمینان نہیں ، معاشرے کے اندر پائے جانے والی فحاشی و عریانی سمیت جتنی بیماریاں ہیں ساری تقریبا موجود ہیں ۔ اللہم أصلح أحوالہم ۔
    شرک و بدعت کا دور دورہ ہے ، اور صورت حال دن بدن بگھڑتی جارہی ہے ، پچھلے چند ماہ پہلے ایک عورت نے دعوی کردیا تھا کہ ان کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور روٹی کے اوپر پاؤں کا نشان چھوڑ گئے ہیں ۔ اناللہ وإنا الیہ رجعون ۔
    آج سے 14 سال پہلے تک اہلحدیث کا پورے گاؤں پر ایک قسم کا کنٹرول تھا ، جماعت منظم تھی اور عموما خرافات پر قابو پالیا جاتا تھا لیکن جب سے مرکزی مسجد کے امام و خطیب حضرت سید سعید احمد شاہ مشہدی رحمہ اللہ(جو کہ مرکزی جمعیت ضلع قصور کے ناظم بھی تھے ) فوت ہوئے ہیں ، جماعت کے اندر انتشار او راختلاف کے باعث مخالفین نسبتا مضبوط ہو گئے ہیں اور چند سالوں سے میلاد کے جلوس بھی نکلنا شروع ہوگئے ہیں ۔
    ایک بات خوش آئند ہے کہ بہت سارے لوگ آہستہ آہستہ مسلک اہلحدیث سے وابستہ ہورہے ہیں ، اور جماعت اہلحدیث کے کئی افراد نے اپنی اولاد کو دینی تعلیم کے لیے وقف کیا ہوا ہے ۔
    ہمارے گاؤں سے پاکستان کے اندر مختلف مدارس و جامعات کے متعلمین اور فاضلین تو تقریبا 20 کے قریب ہوں گے البتہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا طالبعلم ہونے کا شرف ابھی تک صرف تین لوگوں کو حاصل ہوا ۔ پہلے حافظ شریف صاحب اور تیسرا راقم الحروف ہے ۔جبکہ دوسر ے نمبر پر مولانا ضیاء الحق صاحب ہیں جو خوشاب کے ایک مدرسے میں بطور ایک منتظم و معلم دین کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔
     
    • زبردست زبردست x 17
    • پسند پسند x 10
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 05، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    جواب :
    تعلیمی قابلیت سے مراد شایدڈگریاں شگریاں ہوتی ہیں ، تو جناب عصری تعلیم میں جیسے تیسے کرکے ایف اے پاس کیا ہواہے ۔ حاصل کردہ نمبر 802 ہیں ۔ جبکہ میٹرک میں 566 تک ہی پہنچ سکا تھا۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں شرف قبولیت ہوا تو یہ سلسلہ رک گیا ورنہ شاید اب تک بی اے کے بعد اسلامیات میں ماسٹر واسٹر بھی ہو چکا ہوتا ۔
    ایک عدد کمپیوٹر ہارڈویئر ڈپلومہ بھی کہیں سے مل گیا تھا ۔
    جبکہ اثری تعلیمی سفر ابھی تک جاری ہے ، وفاق المدارس السلفیہ کے جمیع مراحل کی اسانید ، اسی طرح جامعہ رحمانیہ سے عالیہ ( بی اے ) تک، اسی طرح حفظ قرآن ، تجوید ، قراءات عشرہ تک کی اسانید نمایاں نمبروں کے ساتھ حاصل کر چکا ہوں ۔
    جامعہ رحمانیہ میں پڑھائی کے دوران لاہور اور بیرون لاہور حفظ القرآن کے بعض مقابلوں میں بھی حصہ لیا 2 دفعہ اول پوزیشن حاصل کی ، جبکہ ایک دفعہ 3 پوزیشن پر رہا ۔
    دينی تعلیم کا سفر پتہ نہیں کب اور کیسے شروع ہوا ؟ البتہ اتنا یاد ہے کہ جب حفظ قرآن کی غرض سے جامعہ رحمانیہ میں نومبر 2001ء میں داخلہ لیا تو اس وقت نورانی قاعدہ اور ناظرہ قرآن مجید مکمل جبکہ تجوید کے ابتدائی قواعد اور روزمرہ کی بنیادی دعائیں یاد تھیں ۔
    ہمارا خاندان ‘‘سندھو جٹ ’’ برادری سے تعلق رکھتاہے ، اور آبائی پیشہ کھیتی باڑی ہے ۔
    اس کے باوجود والدین کی خواہش پڑھانا لکھانا تھی ، مجھے بھی شوق ہوگا اس لیے سکول کی پانچویں جماعت تک خوب جم کر پڑھا ۔ کیونکہ والد صاحب نے ٹریکٹر بھی رکھا ہوا تھا ، اور گاہے بگاہے مجھے اس کی ڈرائیونگ سکھاتے رہتے تھے ، میں بھی بچوں کی تمام کھیلوں سے بے نیاز ہوکر والد صاحب کی طرح ایک اچھا ڈرائیور بننے کے خواب دیکھنے لگا ، جس میں خاطر خواہ کامیابی بھی ہوئی ، دادا جی مرحوم میری اس دلچسپی سے بہت خوش ہوئے اور مجھے تعلیم کی بجائے آبائی پیشہ کی طرف راغب کرنے لگ گئے اور کہنے لگے کہ اب ہم تیرے لیے ایک اور نیا ٹریکٹر خرید لیتے ہیں ، میں اس حوصلہ افزائی پر بغلیں بجانے لگا ۔ لیکن والدہ محترمہ ( اللہ ان کو صحت و ایمان والی لمبی زندگی دے ) اس صورت حال سے بہت ناراض ہوئیں کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ میں اچھے طریقے سے تعلیم حاصل کروں ۔
    خیر اس وقت میری عمر تقریبا 10 ، 11 سال ہوگی کہ ہمارے گاؤں کےروح رواں اور مسجد کے امام و خطیب حضرت سید سعید احمد شاہ صاحب کا انتقال ہوگیا ، اسی سال رمضان کے مہینے میں حافظ شریف صاحب نے اپنے شاگرد رشید قاری نعمان مختار لکھوی صاحب کو گاؤں کی مرکزی مسجد میں امامت تراویح اور خطبات جمعہ وغیرہ کے لیے بھیجا ، رمضان کے آخری دنوں میں قاری صاحب نے ایک لڑکے کو حفظ قرآن شروع کرنے پر آمادہ کرلیا ، مسجد میں کسی جگہ بیٹھے ان سے باتیں ہور ہی تھیں کہ میں بھی ویسے ہی ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا ، قاری صاحب مجھے کہنے لگے :

    او جٹ ! تم بھی ان کے ساتھ تیار ہو جاؤ ۔

    اتفاق سے میری دینی حالت اس لڑکے سے بہتر تھی ، قرآن بھی اس سے اچھا پڑھنا آتاتھا ،
    اس صورت حال میں قاری صاحب کی بات میرے اوپر اثر انداز ہوئی لیکن میں نے کہا :

    قاری صاحب ! گھر والے نہیں مانیں گے ۔

    اتفاق سے والد صاحب بھی اس وقت کہیں مسجد میں ہی تھے ، فورا قاری صاحب نے ان سے بات کی تو انہوں نے ساری بات امی جان پر ڈال دی کہ ان سے اجازت لے کر بتائیں گے ۔
    اسی دن امی سے بات ہوئی تو امی نے بہت خوشی خوشی اجازت دی اور کہا کہ لگتا ہے میری بوقت تہجد کی ہوئی دعائیں قبول ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔
    یوں رمضان کے بعد ہم چار لڑکے بھمبھہ کلاں سے جامعہ رحمانیہ گارڈن ٹاؤن لاہور میں شعبہ تحفیظ القرآن میں داخل کروادیے گئے ۔
    گھرسے دور رہنا ، کھانے کے مسائل اسی طرح دیگر طالبعلموں کے ساتھ اونچ نیچ سے بعض دفعہ کافی پریشانی ہوئی لیکن در حقیقت یہیں سے سعادتوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا ۔ والحمدللہ ۔
    ریکارڈ کے مطابق میں نے حفظ قرآن کی ابتداء 26 نومبر 2001ء کو کی اور ٹھیک ایک مہینے بعد 26 دسمبر کو پہلا پارہ حفظ کرنےکا شرف حاصل کیا ، اس کے بعد سلسلہ چل نکلا اور پورے دو سال بعد حضرت قاری اشرف صاحب رحمہ اللہ کی کی محنتوں سے بالخصوص اور دیگر منتظمین کی کاوشوں سے بالعموم جب میں شعبہ تحفیظ سے فارغ ہوا تو لوگوں نے مجھے ایک پختہ اور اچھا پڑھنے والا حافظ قرآن گردانا ۔ وللہ الحمد ۔
    حفظ قرآن کے بعد پھر قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کے بحر بے کنار میں قدم رکھا جس میں تاحال غوطہ زنی جاری ہے ۔ حفظ کے بعد 7 سال جامعہ رحمانیہ میں گزارے پھر اس کے بعد اب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں چوتھا سال جاری ہے ۔
    جیساکہ پہلے ذکر کیا کہ چھوٹی موٹی پریشانیاں اور مشکلات تو آتی رہیں لیکن الحمدللہ ایسی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی جس سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے کا خطرہ ہو ۔ والدین نے ہمیشہ کوشش کی کہ کسی قسم کی کوئی پریشانی یا کمی نہ ہونے دیں جو تعلیم پر اثر انداز ہو ۔
    اللہ تعالی کی اس نعمت اور والدین کریمین کے اس احسان کا بدلہ کسی صورت نہیں دیا جاسکتا۔
     
    • زبردست زبردست x 16
    • پسند پسند x 11
    • شکریہ شکریہ x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 05، 2014 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    مولوی ہوں ۔ الحمدللہ ۔
    كاغذات کے مطابق میری تاریخ پیدائش 4 مارچ 1989 ء ہے ۔ حساب لگالیں 25 سال عمر والے مجھ سے چھوٹے جبکہ 26 سال والےبڑوں میں شمار ہوں گے ۔
    جی الحمدللہ ۔ جون 2012ء میں شادی شدوں میں شمار ہونے لگا ۔ جبکہ اس سے پہلے شادی شوہدوں میں گنا جاتا تھا ۔
    18 فروری 2014ء کو اللہ نے ایک بیٹی سے نوازا اور یوں بعض باذوق دوستوں نے مجھے ‘‘ ابو خولہ ’’ کہنا شروع کردیا ۔ نصف بہتر کی خواہش ہے کہ بیٹی کو حافظہ قرآن بنانا ہے جس سے مجھے بھی مکمل اتفاق ہے ۔ باقی ایک عظیم صحابیہ کے نام پر نام رکھا ہے تو کوشش ہے کہ گفتار و کردار بھی ان جیسا بن جائے ۔
    کامیاب شادی کے لیے ذہنی ہم آہنگی ، سمجھوتہ ، مزاج میں مطابقت پیداکرنے کی حتی الامکان کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ، میاں بیوی کا اپنی اوقات سے واقف اور حرکات سے متنبہ و محتاط رہنا انتہائی ضروری ہے ۔
    مياں بیوں میں سے کوئی ایک غصہ میں ہو تو دوسرےکا پرمزاح ہونا خوشگوار زندگی کے لیے بہت ضروری ہے ۔
    عجیب قسم کا مزاج سمجھتا ہوں ۔ حالات کےمطابق مزاج میں تبدیلی آتی رہتی ہے ۔ اپنے رشتہ داروں اور قریبی دوست ہوں تو طنز و مزاح کو پسند کرتا ہوں ، بعض دفعہ علمی بحث و مباحثہ شروع کرکے مجلس کا ماحول خراب کرنے کی بھی پوری پوری کوشش ہوتی ہے ۔
    جب تک پاکستان میں رہا ، تنہائی پسند تھی ، اور اکثر اوقات ایسے ہی گزرتے تھے ۔ لیکن سعودیہ آکر آہستہ آہستہ مزاج میں تبدیلی آرہی ہے ، کئی دفعہ مجلس سجانے کا بہت شوق پیدا ہوجاتا ہے ۔ کئی دفعہ اچھی باتیں جبکہ بعض دفعہ گھنٹے فضولیات میں بھی گزر جاتے ہیں ۔
    بعض ساتھیوں کا کہناہےکہ میں کسی بھی چیز کے مثبت پہلوؤں پر غور کرنے کی بجائے منفی پہلوؤں پر زیادہ سوچتا ہوں ۔ کئی اچھے کام خود ساختہ اوہام کی بنا پر رہ جاتے یا تاخیر کاشکار ہوجاتے ہیں ۔ خیر یہ دوسروں کا خیال ہے ۔
    البتہ میری نظر میں اس کو ‘‘ دور اندیشی ’’ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ ( ابتسامہ )
    بعض دفعہ بہت بڑے بڑے حادثات دیکھ کر بھی طبیعت میں کوئی گرانی نہیں آتی جبکہ بعض ایسے حالات آتے ہیں کہ کسی قلم کار کے چند جملوں یا کسی اداکار کی مصنوعی حرکتوں سے بھی آبدیدہ ہوجاتا ہوں ۔
    تصنع اور بناوٹ ناپسند ہیں ایسا کرنے والے بھی اچھے نہیں لگتے ، لیکن باوجود کوشش کے بعض دفعہ خود اس میں مبتلا ہوجاتا ہوں ۔
     
    • زبردست زبردست x 16
    • پسند پسند x 9
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 05، 2014 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    2007 میں ڈیرہ غازی خاں میں حفظ القرآن مقابلہ میں بطور انعام تیس ہزار روپیہ انعام ملا تو سب سے پہلا کام جو اس سے کیا وہ ایک عدد ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر خریدنا تھا ۔ تقریبا ایک سال بعد پتہ چلا کہ اگر کمپیوٹر کےساتھ انٹرنیٹ لگ جائے تو پوری دنیا کے علماء و قراء سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ خیر پوچھ گچھ کرکے نیٹ شروع کرلیا ، لیکن ابھی تک صرف یہ معلومات تھیں کہ انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے ویب سائٹوں کے ایڈریس یاد ہونا ضروری ہیں ، لہذا اخبارات اور رسائل وغیرہ سے پتے نوٹ کرنا شروع کردیے ۔ اگر کہیں کوئی بھول چوک ہوجاتی تو غلط ہونے کی وجہ سے ایک ایک ویب سائٹ پر گھنٹوں صرف ہو جاتے ، ایک دفعہ کسی نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر ‘‘ گوگل ’’ نام کی کوئی چیز ہوتی ہے جس پر غلط سلط جو مرضی لکھیں ، ذرا محنت کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہے ۔
    انٹرنیٹ سے باقاعدہ مفید معلومات کےحصول کا آغاز جامعہ اسلامیہ میں داخلہ کے بعد شروع ہوا ، اس سے پہلے یاہو ، سکائپ پر اکاؤنٹ تھے وہ بھی کبھی کبھار کسی سے بات کرنے کے لیے استعما ل کرتا تھا ۔ لیکن یہاں آکر کسی نے فیس بکیوں میں شامل کردیا ۔ انہیں دنوں میں نے لیپ ٹاپ خریدا اور گھر بات کرنے کے لیے ہم تین ساتھیوں نے مل کر مستقل نیٹ بھی لگوالیا ۔ جامعہ رحمانیہ مادر علمی ہونے کی وجہ سے توجہ کامرکز و محور تھی اس لیے " كتاب وسنت ڈاٹ کام ’’ کو کھول کر دیکھنا اچھا محسوس ہوتا تھا ، اسی آنے جانے سے ایک دن ‘‘ محدث فورم ’’ پر بھی حاضری ہوگئی ۔
    گرما گرم علمی مباحث دل کو اچھی لگیں ، اور یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ یہاں جو کچھ لکھیں فورا دوسروں تک پہنچ جاتا ہے ۔ بلکہ تائید یا تردید بھی آجاتی ہے ۔
    گویا محدث فورم پر ابتدائی حاضری کسی بھی انٹرنیٹ فورم سے پہلا تعارف تھا ۔ بس وه دن اور آج كا دن ‘‘ چھٹتی نہیں ہے ظالم منہ کو لگی ہوئی ’’ کے مصداق اب فورم سے غیر حاضری بہت گراں گزرتی ہے ۔
    اگرچہ ملتقی اہل الحدیث وغیرہ پر بھی کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں ، اسی طرح بعض دیگر اردو فورمز پر بھی آتا جاتا رہتا ہوں لیکن انٹرنیٹ پر میری دینی سرگرمیوں کا مرکز و محور ‘‘ محدث فورم ’’ ہی ہے ۔
    ایسا نیک کام جس کی خبر میرے سوا کسی اور کو نہ ہو ۔
    ٹاک شوز دیکھتا ہوں ۔ بعض دفعہ شاعری سن لیتا ہوں ۔ کبھی کبھار سیر و سوانح پڑھنا شروع کردیتاہوں ۔ فوج اور ایجنسیوں کے متعلق خبریں مل جائیں تو بہت شوق سے پڑھتا ہوں ۔
    روز مرہ مشاغل میں پڑھائی کے لیے کلاس میں جانا ، کلاس میں ملنے والا کام کرنا ، فورم پر حاضری دینا ۔ اتنا ہی وقت ہوتا ہے باقی وقت ، نمازوں ، کھانے پینے ، اور سونے میں گزر جاتا ہے ۔
    کبھی زیادہ ہی جوش آئے تو ‘‘ نظام الاوقات ’’ مرتب کرنےمیں بھی کافی وقت ضائع کرتا ہوں ۔
    پریشانی کے لمحات میں اللہ کا ذکر اور دعا وغیرہ کرتا ہوں ۔
     
    • زبردست زبردست x 15
    • پسند پسند x 11
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 07، 2014 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    کسی بھی مسلمان کی زندگی کا مقصد عبادت الہی ہوتا ہے ۔ اللہ کی کما حقہ عبادت کرنا اور دوسروں کو اس کی دعوت دینا ، میری زندگی کا مقصد ہے ۔
    ايك اچھا استاد یعنی معلم بننا ۔ عالم باعمل ہونا۔
    اس کے علاوہ کچھ دنیاوی قسم کی خواہشات ہیں۔
    اس حوالے سے میری طبیعت بچوں یا عورتوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے ۔ ( ابتسامہ )
    چھوٹے بڑے بہت سارےمنصوبے ذہن میں آتے رہتے ہیں ، لیکن وہ صرف سوچ کی حد تک ہیں ، اگر کبھی محسوس ہوا کہ عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل ہوں تو پھر بیان کروں گا ۔ ان شاءاللہ ۔
    ہاں یہ حقیقت ضرور عرض کیے دیتا ہوں میں کوئی باہمت یا پرعزم انسان نہیں ہوں اس لیے منصوبے بھی چھوٹے چھوٹے ہیں اور ان کا دائرہ کار بھی بہت زیادہ وسیع نہیں ۔
    اب تک کے حالات یہی ہیں ،بعد میں کوئی تبدیلی آئے تو کچھ پتہ نہیں ۔ (ابتسامہ )
    کہ وہ میرے میں کیا ملاحظہ کر رہا ہے ۔(ابتسامہ )
    اگر کسی سے پہلے غائبانہ تعارف ہو تو سب سے پہلے اس خوبی یا خامی کے تناظر میں دیکھتا ہوں ۔اگر کوئی تعارف نہ ہو تو پھر ذہن ان چیزوں کو تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے ۔
    فتنوں کے حل کے بارےمیں سوچ آنے لگتی ہے ۔ جب کوئی بڑا فتنہ پیش آتا ہے تو اس کو برپا کرنےوالے اور اس سے متاثر ہونےوالے ، کا پس منظر جاننے کی خواہش ہوتی ہے ۔
    تعارف کیسے ہوا اور آغاز کیسے ہوا یہ سب میں پہلے بیان کر چکاہوں ۔ شروع سے لے کر اب تک کوئی قابل ذکر مشکل پیش نہیں آئی ۔ جہاں کہیں کوئی بات سمجھ نہیں آئی فورم پر موجود ساتھیوں کے ساتھ تذکرہ کیا اور مسئلہ حل ہوگیا۔ الحمدللہ
    بہت سارے ہیں مثلا
    @انس نضر
    @ابو الحسن علوی
    @کفایت اللہ
    @رفیق طاھر
    @ابن بشیر الحسینوی
    @سرفراز فیضی
    @یوسف ثانی
    @عبدہ
    @شاہد نذیر
    ان میں سے کچھ اراکین تو ایسے ہیں جن کی ہر ہر تحریر سے میں متاثر ہوجاتا ہوں او ر کچھ ایسے ہیں جنہوں نے بعض موضوعات پر بہت خوب لکھا ۔ اس کے علاوہ فورم کے جمیع فعال اراکین(بعض سے شدید اختلاف کے باوجود ) سے بہت کچھ سیکھنےکو ملا ۔
    کسی جگہ پڑھاتھا کہ لوگ اپنی اہلیت و طبیعت کے اعتبار سے مختلف اقسام کےہیں کچھ لوگ خود سوچتے ، ایک تصور قائم کرتے ہیں پھر اس کے لیے افراد تلاش کرتےہیں ، جبکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ، جن کو ایسی سوچیں کم ہی آتی ہیں وہ سوچنے والے افراد کے بنائے ہوئے تصورات سے متفق ہونے کی بنا پر ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ۔مثلا کچھ علماء اپنے ادارے قائم کرتےہیں ، اس کی تنظیم و ترتیب اور مال و اسباب فراہم کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے علماء ان اداروں میں بطور ملازم کے کام کرتے ہیں ۔
    اب تک مجھےیہی سمجھ آئی ہے کہ میں دوسری قسم کے لوگوں میں سے ہوں ۔ اس لیے مجھے ہمنوا تلاش کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ کسی مفکر کو اپنی سوچ کی تکمیل کے لیے میری ذات ، اوقات اور حرکات پسند آئیں تو خود رابطہ فرما لیں گے ۔ ( ابتسامہ )
    الحمدللہ پیدائشی مسلمان ہوں ، مسلک حق اہلحدیث بھی وراثت میں ملا ۔ اس کے بعد :
    ایک تو ہے علم دین کی طرف راغب ہونا اس کی وجہ تو میں شروع میں ہی بتا چکا ہوں کہ کس طرح حفظ قرآن سے ابتداء ہوئی اور اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔
    دوسرا ہے زہد و ورع ، تقوی ، اخلاص ، للہیت ، اس طرح کے اوصاف میں ابھی بہت پیچھے ہوں ، جب نصیب ہوں گے تو اسباب بھی بتاسکوں گا ۔
    يسر المرء ما ذهب الليالي
    وكان ذهابهن له ذهابا

    ویسے میرے جتنے ادوار گزارنے والوں سے بھری مجلس میں ایسے سوال جواب نہیں کیے جاتے ۔بزرگوں کی توہین کا الزام لگ جائے گا۔(ابتسامہ )
    قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا۔
    مسلمان حکمرانوں کے اندر سختی اور شدت ہونی چاہیے تاکہ لوگ انجام کے خوف سے غلط کام نہ کریں ۔
    جبکہ عوام کے مابین ، نرمی ، الفت اور محبت اور عدم جذباتیت کو فروغ دینےکی ضرورت ہے تاکہ مخالف قوتیں مسلمانوں کے آپسی اختلافات سے فائدہ نہ اٹھاسکیں ۔
    قرآن وسنت كی تعلیم حاصل کریں ، اسلاف کی تاریخ پڑھیں ، بڑوں کا احترام کریں اور دعائیں لیں ۔
    حلقہ یاراں ترتیب دینے کے لیے ذاتی اور طبعی میلان تو ہوتا ہی ہے لیکن شریعت نے ‘‘ جلیس صالح ’’ اور ‘‘ جلیس سوء ’’ کے حوالے سے جو تعلیمات دی ہیں ان کو حرز جاں بناکر رکھیں ۔
    کاش ہم یہ جان لیں کہ بری صحبت ہمارے اخلاق و کردار کو ایسے ہی جلا کر راکھ کردیتی ہے جس طرح آگ کی چنگاریاں کپڑوں کو جلا دیتی ہیں ۔
     
    • زبردست زبردست x 14
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • لسٹ
  8. ‏جون 08، 2014 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    تمام اسلامی موضوعات بہت اچھے لگتے ہیں ۔ عموما حدیث اور علوم الحدیث کے تعلق سے قائم کردہ مجالس سے بہت محظوظ ہوتا ہوں یہی وجہ ہے کہ جامعہ اسلامیہ میں کلیۃ الحدیث کا انتخاب کیا ہے ۔
    بعض دفعہ اہل مجلس کے حساب سے دلچسپی تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس لیے کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ تفسیر ، فقہ ، علوم اللغۃ وغیرہ دیگر علوم کے حلقات میں بیٹھنے کی طرف دل زیادہ مائل ہوتا ہے ۔
    اختلافی مسائل میں بات کرنے کا بہت شوق تھا اب بھی ہے لیکن اب عصر حاضر میں نئے پیش آمدہ مسائل میں دلچسپی بڑھ رہی ہے ۔
    مجھے اس سے مستثنی سمجھیں ۔ کیونکہ میں نے اپنے اندر ابھی تک ایسی کوئی خصوصیت نہیں پائی جس کو باقاعدہ مہارت کہا جاسکتا ہو ۔ باقی گزارہ لائق کام بہت سے کرسکتا ہوں ۔
    مثلا تقریر کرسکتا ہوں ۔ اسلامیات کے لیے معلم کے فرائض سر انجام دے سکتا ہوں ۔ کمپیوٹر ٹائپنگ کرسکتا ہوں ۔ عربی سے اردو ترجمہ کرسکتاہوں ۔ عربی اردو کتابوں کی نظر ثانی (پروف ریڈنگ)کرسکتا ہوں ۔
    میرے خیال میں تو نہیں ہورہا ۔
    دعوت کی بنیاد قرآن وسنت ہو۔
    داعی کے اندر ‘‘ اخلاص ’’ اور ‘‘ اتباع سنت ’’ کم از کم دو صفات ضرور ہوں ۔
    خود باعمل ہو
    اهم فالأهم کے اصول سے اچھی طرح واقف ہو ۔
    ان شاءالله دعوت مؤثر ہوگی ۔
    جس قدر یہ خصوصیات کسی دعوت میں پائی جائیں گے ، دعوت کامیاب ہوگی ، جس قدر نہ ہوں گی اس قدر ناکام ہوگی ۔
    بہت سارے لوگوں کی بنیاد ہی قرآن وسنت نہیں ہوتی ۔ کئی لوگوں کے اندر اخلاص نہیں ہوتا بلکہ دنیاوی حرص و طمع کی صورتوں میں سے کوئی صورت دعوت کا محرک ہوتی ہے ۔ وعلی ہذا القیاس
     
    • زبردست زبردست x 11
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 19، 2014 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    مدینہ منورہ اور جامعہ اسلامیہ کے بارے میں میرے جیسا کوتاہ قلم شخص کیا اظہار خیال کر سکتا ہے ۔ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ اللہ نے مدینہ رسول کی نہ صرف زیارت کا موقعہ دیا بلکہ یہاں دینی تعلیم سیکھنے کے لیے انتخاب فرمایا ۔اللہ تعالی اس نعمت کی کماحقہ قدر اور احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
    صحیح حدیث کے اندر آتا ہے کہ جو مسجد نبوی میں صرف اس لیے آتا ہے کہ علم دین حاصل کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جو جہاد سبیل اللہ کے جاتا ہے ۔
    کوئی قابل ذکر مشکل آئی نہیں ، اس لیے سد باب کی بھی ضرورت نہیں پڑی ۔ جو چھوٹی موٹی مشکلات ہیں وہ خود نفس امارہ کی پیداوار اور خواہشات نفس سے جنم لینے والی ہیں ، اس کی بنیاد ی وجہ اللہ کی ذات اور اس کی کتاب سے تعلق کمزور ہونا ہے اور اس کا واحدحل اس تعلق کو مضبوط بنانا ہے ، اللہ توفیق عطا فرمائے ۔
    ایسے حالات میں یہ سوچ لینا کافی ہے کہ ایک داعی کی حیثیت ایک ‘‘ ملازم ’’ سے زیادہ نہیں ،اسے صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کر رہا ہے کہ نہیں ؟ باقی لوگ دعوت کو قبول کرتے ہیں یا نہیں کرتے اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ ہدایت دینے والا اللہ اور اور ہدایت لینے والے لوگ ہیں ، جن کو اللہ پسند کرتا ہے ان کو ہدایت دے دیتا ہے جو اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے محروم رہتے ہیں ، دعوت ان پر کوئی اثر نہیں کرتی چاہے دعوت دینے والے انبیاء ہی کیوں نہ ہوں ۔

    ابھی کل ہی ہمارے استاذ بتا رہے تھے کہ ‘‘ دعاۃ ، علماء ، قراء ’’ دوسروں کی اصلاح میں لگے رہتے ہیں لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہےکہ دوسروں کی اصلاح کا سبب بننے والا یہ شخص خود اپنی آخرت برباد کر رہا ہوتا ہے ۔
    داعی کو پیش آنے والی تمام مشکلات کا واحد حل ‘‘ تقوی اللہ ’’ ہے ۔ تنگی خوشی ہر حالت میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے ۔ جس طرح دوسروں کی اصلاح کی فکر ہوتی ہے اس سے زیادہ اپنی ذات اور اہل خانہ کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے ۔
    بہت ساری شخصیات ہیں ۔ ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ ہیں ‘‘ فضل الحق ’’ صاحب ، مولانا ضیاء الحق صاحب(ان کا ذکر انٹرویو کے شروع میں ہوا ہے) کے والد ہیں ۔ حافظ شریف صاحب ( مدیر مرکز التربیۃ ، فیصل آباد ) کے والد صاحب شروع شروع میں ان کی دینی پڑھائی کے سخت خلاف تھے ، باباجی فضل الحق صاحب نے اس سلسلے میں حافظ صاحب کےساتھ بہت تعاون کیا تھا۔
    دین سے تعلق رکھنے والے چھوٹے بڑے تمام معاملات میں انتہائی زیادہ محتاط ہیں ، دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے لیکن ان کے جو احوال ہمارے سامنے ہیں اس بناپر میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے آج تک دینی حوالے سے ان سے زیادہ متاثر کن شخصیت نہیں دیکھی ۔
    سر ڈھانپنے والی سنت پر اس قدر باقاعدگی کے ساتھ عمل پیرا ہیں کہ آج تک ہم نے ان کا سر ننگا نہیں دیکھا ۔
    آج سے سات آٹھ سال پہلے رمضان کے اندر ہم رات کو قیام کیا کرتے تھے ، بزرگوں میں سے صرف یہی بزرگ ہمارے ساتھ رہ جاتے اور قیام اتنا لمبا ہوتا کہ ایک دفعہ دو رکعتوں کے اندر پوری سورۃ البقرۃ پڑھی گئی ۔ اور ایک رکعت کے اندر ایک پارہ پڑھنا معمول تھا ۔ حتی کہ نوجوان بھی تھک جاتے تھے لیکن یہ بزرگ ہمیشہ ہوتے اور قیام ہمیشہ قیام (کھڑے ہوکر ) کی صورت ادا فرماتے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ ان کی عمر تقریبا 70 سال سے زائد ہوگی ۔تقبل اللہ منہ و من الجمیع صالح الأعمال۔
    اس کے علاوہ اس فورم پر ، جامعہ کے اندر ، اپنے اساتذہ میں سے بعض کی شخصیات سے بہت متاثر ہوں ۔ سب کا تذکرہ کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔
     
    • زبردست زبردست x 9
    • پسند پسند x 7
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 19، 2014 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    6,705
    موصول شکریہ جات:
    7,818
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    چھوٹے ہوتے تھے تو ‘‘ باجی ’’ کے سکول میں ‘‘ خانہ داری ’’ کے امتحان وغیرہ کے موقع پر اس سلسلے میں ‘‘ چولہا ’’ وغیرہ اور دیگر ساز و سامان چھوڑ آیا کرتا تھا ۔اگر چھوٹا بھائی اور ابو کہیں مصروف ہوں تو انتہائی ضرورت کے وقت کبھی کبھی گیس سلنڈر بھروا کر لےآتا ہوں ۔
    شادی کے بعد بھی اس سلسلہ میں اب تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی ، لیکن لگتا ہے کہ آئندہ اب کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا ۔
    ساگ ، کڑی پکوڑے ،میٹھی چیزیں بہت پسند ہیں ۔ بارہ تیرہ سال سے اکثر اوقات گھر کا کھانا نصیب نہیں ہوتا ، اس لیے پسند نا پسند کا خیال رکھنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ البتہ جب ‘‘ ماں جی ’’ کے پاس ہوتا ہوں تو صبح و شام پراٹھے اور ہفتے میں کم از کم ایک دفعہ ‘‘ کڑی ’’ اور ‘‘ ساگ ’’ ضرور کھاتا ہوں ۔
    ‘‘ امی جان ’’ کے ساتھ تو خوب نخرے کر لیتا تھا اور اب بھی لیکن اگر کوئی اور ہو ( حتی کہ بیگم صاحبہ بھی ) تو روکھی سوکھی میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔
    سعودیہ کے بعض شہروں ( مکہ ، مدینہ ، جدہ ، ینبع ) میں کے ایف سی کی طرح ایک کھانے والی کمپنی ہے ‘‘ البیک ’’ ۔ ان کا بروسٹ بہت شوق سے کھاتاہوں ۔
    سموسوں اور ‘‘ کیچپ ’’ میں خصوصی دلچسپی کی وجہ سے بعض ساتھی مذاق بھی اڑاتے ہیں ۔
    کھانا بنانے میں کوئی مہارت نہیں اور نہ ہی دلچسپی ، اگرمدرسے وغیرہ میں کبھی ضرورت ہو تو دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر وقت پاس کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔
    اگر کوئی نہ ملے تو ‘‘ بھوک ’’ برداشت کرلینے میں بھی کوئی زیادہ دقت محسوس نہیں ہوتی ۔
    سعودیہ میں پانی اور بوتل کے نرخ ایک جیسے ہونے کے سبب کھانے کے بعد بوتل پینے کی عادت بن گئی ہے ۔ ورنہ کھانے سے پہلے یا بعد میں چائے سمیت ایسی چیزیں پینے کا شوقین نہیں ہوں ۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 26، 2014
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں