1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدثین ارسال پر تدلیس کا حکم لگاتے ہیں ؟

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏مارچ 02، 2016۔

  1. ‏اپریل 02، 2016 #11
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,311
    موصول شکریہ جات:
    1,070
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاک اللہ خیرا.
     
  2. ‏مئی 20، 2016 #12
    غضنفر اللہ

    غضنفر اللہ مبتدی
    جگہ:
    گجرات
    شمولیت:
    ‏اگست 03، 2015
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    بہت علمی باتیں ہو رہی ہیں ماشاء الله
     
  3. ‏مئی 20، 2016 #13
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

  4. ‏مئی 20، 2016 #14
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مالکیہ اور حنفیہ کے نزدیک تبع تابعین تک کا ارسال مطلقا قبول ہے۔
    حنابلہ کے نزدیک بھی مقبول ہے لیکن جب درمیان میں سے ایک شخص ("صرف" غالبا۔۔۔۔۔۔ناقل) غائب ہو۔
    اور امام شافعیؒ کے نزدیک کچھ شرائط کے ساتھ قبول ہے۔
    امام احمدؒ کی ایک روایت کے مطابق اور محدثین کرام کے نزدیک حدیث مرسل غیر مقبول ہے۔ فلیحرر و لیتنبہ
     
  5. ‏مئی 20، 2016 #15
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,136
    موصول شکریہ جات:
    2,632
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    خضر حیات بھائی دوسرے ارسال کی بات کر رہے ہیں!
    میری سمجھ جو بات آئی ہے وہ یہ ہے کبھی ایسا راوی جو جو مدلس نہیں، لیکن وہ اپنے استاد کا نام ذکر نہیں کرتا، اور عن کے ساتھ اپنے استاد کے استاد سے روایت کر دیتا ہے، اس ارسال اور تدلیس میں کیا فرق ہے؟ کیونکہ جب کوئی ایسا راوی جسے مدلس قرار دیا گیا ہو اس کی ایسی روایت پر انقطاع کا حکم لگایا جاتا ہے، تو یہاں اسے ارسال کیوں کہا جا رہا ہے؟ دونوں کا فعل تو ایک ہی ہے؟
    یہ بہت نفیس نکتہ ہے۔ تفصیل کی حاجت ہوئی تو ان شاء اللہ کوشش کروں گا۔
    ایک موقع پر ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہونے یا نہ ہونے کے موضوع پر بریلوی سے گفتگو ہو رہی تھی، اس میں یہی مدعا ھشام بن عروہ کے متعلق آیا تھا، ھشام بن عروہ نے کچھ روایات میں ارسال کیا ہے، یعنی اپنے استاد کا کہ جن سے انہوں نے وہ حدیث سنی اسےذکر نہیں کیا!
    اب یہاں مسئلہ یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ انہیں مدلس قرار دیا جائے گا یا نہیں؟
    اس مسئلہ پر شیخ ارشاد الحق الاثری نے بہت عمدہ تحقیق مختلف مقام پر پیش کی ہے، حاصل کلام یہ ہے کہ نہیں ھشام بن عروہ مدلس نہیں، بلکہ انہوں نے ایسی روایات میں ارسال کیا ہے ، اور ایسا کئی رواۃ سے ہوا ہے، جسے امام مسلم نے مقدمہ صحیح مسلم میں بیان کیا ہے، مقدمہ صحيح مسلم کی وہ عبارت پیش کرتا ہوں (ترجمہ وحاشیہ بریلوی عالم غلام رسول سعیدی کا ہے):

    7 - بَابُ مَا تَصِحُّ بِهِ رِوَايَةُ الرُّوَاةِ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ وَالتَّنْبِيهُ عَلَى مَنْ غَلَطَ فِي ذَلِكَ
    وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ مُنْتَحِلِي الْحَدِيثِ مِنْ أَهْلِ عَصْرِنَا فِي تَصْحِيحِ الْأَسَانِيدِ وَتَسْقِيمِهَا بِقَوْلٍ لَوْ ضَرَبْنَا عَنْ حِكَايَتِهِ، وَذِكْرِ فَسَادِهِ صَفْحًا لَكَانَ رَأْيًا مَتِينًا، وَمَذْهَبًا صَحِيحًا، إِذِ الْإِعْرَاضُ عَنِ الْقَوْلِ الْمُطَّرَحِ أَحْرَى لِإِمَاتَتِهِ، وَإِخْمَالِ ذِكْرِ قَائِلِهِ، وَأَجْدَرُ أَنْ لَا يَكُونَ ذَلِكَ تَنْبِيهًا لِلْجُهَّالِ عَلَيْهِ، غَيْرَ أَنَّا لَمَّا تَخَوَّفْنَا مِنْ شُرُورِ الْعَوَاقِبِ، وَاغْتِرَارِ الْجَهَلَةِ بِمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، وَإِسْرَاعِهِمْ إِلَى اعْتِقَادِ خَطَأِ الْمُخْطِئِينَ، وَالْأَقْوَالِ السَّاقِطَةِ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ، رَأَيْنَا الْكَشْفَ عَنْ فَسَادِ قَوْلِهِ وَرَدَّ مَقَالَتِهِ بِقَدْرِ مَا يَلِيقُ بِهَا مِنَ الرَّدِّ، أَجْدَى عَلَى الْأَنَامِ، وَأَحْمَدَ لِلْعَاقِبَةِ إِنْ شَاءَ اللهُ»
    وَزَعَمَ الْقَائِلُ الَّذِي افْتَتَحْنَا الْكَلَامَ عَلَى الْحِكَايَةِ عَنْ قَوْلِهِ، وَالْإِخْبَارِ عَنْ سُوءِ رَوِيَّتِهِ، أَنَّ كُلَّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ فِيهِ فُلَانٌ عَنْ فُلَانٍ، وَقَدِ اَحَاطَ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدْ كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ، وَجَائِزٌ أَنْ يَكُونَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَى الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ قَدْ سَمِعَهُ مِنْهُ وَشَافَهَهُ بِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَعْلَمُ لَهُ مِنْهُ سَمَاعًا، وَلَمْ نَجِدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُمَا الْتَقَيَا قَطُّ، أَوْ تَشَافَهَا بِحَدِيثٍ، أَنَّ الْحُجَّةَ لَا تَقُومُ عِنْدَهُ بِكُلِّ خَبَرٍ جَاءَ هَذَا الْمَجِيءَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَهُ الْعِلْمُ بِأَنَّهُمَا قَدِ اجْتَمَعَا مِنْ دَهْرِهِمَا مَرَّةً فَصَاعِدًا، أَوْ تَشَافَهَا بِالْحَدِيثِ بَيْنَهُمَا، أَوْ يَرِدَ خَبَرٌ فِيهِ بَيَانُ اجْتِمَاعِهِمَا وَتَلَاقِيهِمَا مَرَّةً مِنْ دَهْرِهِمَا فَمَا فَوْقَهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عِلْمُ ذَلِكَ، وَلَمْ تَأْتِ رِوَايَةٌ تُخْبِرُ أَنَّ هَذَا الرَّاوِيَ عَنْ صَاحِبِهِ قَدْ لَقِيَهُ مَرَّةً، وَسَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ فِي نَقْلِهِ الْخَبَرَ عَمَّنْ رَوَى عَنْهُ ذَلِكَ وَالْأَمْرُ كَمَا وَصَفْنَا حُجَّةٌ، وَكَانَ الْخَبَرُ عِنْدَهُ مَوْقُوفًا حَتَّى يَرِدَ عَلَيْهِ سَمَاعُهُ مِنْهُ لِشَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ، قَلَّ أَوْ كَثُرَ فِي رِوَايَةٍ مِثْلِ مَا وَرَدَ "

    6 - بَابُ صِحَّةِ الِاحْتِجَاجِ بِالْحَدِيثِ الْمُعَنْعَنِ "
    وَهَذَا الْقَوْلُ يَرْحَمُكَ اللهُ فِي الطَّعْنِ فِي الْأَسَانِيدِ قَوْلٌ مُخْتَرَعٌ، مُسْتَحْدَثٌ غَيْرُ مَسْبُوقٍ صَاحِبِهِ إِلَيْهِ، وَلَا مُسَاعِدَ لَهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْقَوْلَ الشَّائِعَ الْمُتَّفَقَ عَلَيْهِ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْأَخْبَارِ وَالرِّوَايَاتِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا، أَنَّ كُلَّ رَجُلٍ ثِقَةٍ رَوَى عَنْ مِثْلِهِ حَدِيثًا، وَجَائِزٌ مُمْكِنٌ لَهُ لِقَاؤُهُ وَالسَّمَاعُ [ص:30] مِنْهُ لِكَوْنِهِمَا جَمِيعًا كَانَا فِي عَصْرٍ وَاحِدٍ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فِي خَبَرٍ قَطُّ أَنَّهُمَا اجْتَمَعَا وَلَا تَشَافَهَا بِكَلَامٍ فَالرِّوَايَةُ ثَابِتَةٌ، وَالْحُجَّةُ بِهَا لَازِمَةٌ، إِلَّا أَنَّ يَكُونَ هُنَاكَ دَلَالَةٌ بَيِّنَةٌ أَنَّ هَذَا الرَّاوِي لَمْ يَلْقَ مَنْ رَوَى عَنْهُ، أَوْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَمَّا وَالْأَمْرُ مُبْهَمٌ عَلَى الْإِمْكَانِ الَّذِي فَسَّرْنَا، فَالرِّوَايَةُ عَلَى السَّمَاعِ أَبَدًا حَتَّى تَكُونَ الدَّلَالَةُ الَّتِي بَيَّنَّا، فَيُقَالُ لِمُخْتَرِعِ هَذَا الْقَوْلِ الَّذِي وَصَفْنَا مَقَالَتَهُ، أَوْ لِلذَّابِّ عَنْهُ: قَدْ أَعْطَيْتَ فِي جُمْلَةِ قَوْلِكَ أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ عَنِ الْوَاحِدِ الثِّقَةِ حُجَّةٌ يَلْزَمُ بِهِ الْعَمَلُ، ثُمَّ أَدْخَلْتَ فِيهِ الشَّرْطَ بَعْدُ، فَقُلْتَ: حَتَّى نَعْلَمَ أَنَّهُمَا قَدْ كَانَا الْتَقَيَا مَرَّةً فَصَاعِدًا، أَوْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا، فَهَلْ تَجِدُ هَذَا الشَّرْطَ الَّذِي اشْتَرَطْتَهُ عَنْ أَحَدٍ يَلْزَمُ قَوْلُهُ؟ وَإِلَّا فَهَلُمَّ دَلِيلًا عَلَى مَا زَعَمْتَ، فَإِنِ ادَّعَى قَوْلَ أَحَدٍ مِنْ عُلَمَاءِ السَّلَفِ بِمَا زَعَمَ مِنْ إِدْخَالِ الشَّرِيطَةِ فِي تَثْبِيتِ الْخَبَرِ، طُولِبَ بِهِ، وَلَنْ يَجِدَ هُوَ وَلَا غَيْرُهُ إِلَى إِيجَادِهِ سَبِيلًا، وَإِنْ هُوَ ادَّعَى فِيمَا زَعَمَ دَلِيلًا يَحْتَجُّ بِهِ، قِيلَ: وَمَا ذَاكَ الدَّلِيلُ؟ فَإِنْ قَالَ: قُلْتُهُ لِأَنِّي وَجَدْتُ رُوَاةَ الْأَخْبَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا يَرْوِي أَحَدُهُمْ عَنِ الْآخَرِ الْحَدِيثَ، وَلَمَّا يُعَايِنْهُ وَلَا سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا قَطُّ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ اسْتَجَازُوا رِوَايَةَ الْحَدِيثِ بَيْنَهُمْ هَكَذَا عَلَى الْإِرْسَالِ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ، وَالْمُرْسَلُ مِنَ الرِّوَايَاتِ فِي أَصْلِ قَوْلِنَا، وَقَوْلِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْأَخْبَارِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ احْتَجْتُ لِمَا وَصَفْتُ مِنَ الْعِلَّةِ إِلَى الْبَحْثِ عَنْ سَمَاعِ رَاوِي كُلِّ خَبَرٍ عَنْ رَاوِيهِ، فَإِذَا أَنَا هَجَمْتُ عَلَى سَمَاعِهِ مِنْهُ لِأَدْنَى شَيْءٍ ثَبَتَ عِنْدِي بِذَلِكَ جَمِيعُ مَا يَرْوِي عَنْهُ بَعْدُ، فَإِنْ عَزَبَ عَنِّي مَعْرِفَةُ ذَلِكَ أَوْقَفْتُ الْخَبَرَ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي مَوْضِعَ حُجَّةٍ لِإِمْكَانِ الْإِرْسَالِ فِيهِ،
    فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنْ كَانَتِ الْعِلَّةُ فِي تَضْعِيفِكَ الْخَبَرَ، وَتَرْكِكَ الِاحْتِجَاجَ بِهِ إِمْكَانَ الْإِرْسَالِ فِيهِ، لَزِمَكَ أَنْ لَا تُثْبِتَ إِسْنَادًا مُعَنْعَنًا حَتَّى تَرَى فِيهِ السَّمَاعَ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ " [ص:31]
    وَذَلِكَ أَنَّ الْحَدِيثَ الْوَارِدَ عَلَيْنَا بِإِسْنَادِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ فَبِيَقِينٍ نَعْلَمُ أَنَّ هِشَامًا قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، وَأَنَّ أَبَاهُ قَدْ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ، كَمَا نَعْلَمُ أَنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَمِعَتْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ يَجُوزُ إِذَا لَمْ يَقُلْ هِشَامٌ فِي رِوَايَةٍ يَرْوِيهَا عَنْ أَبِيهِ: سَمِعْتُ، أَوْ أَخْبَرَنِي، أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِيهِ فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ إِنْسَانٌ آخَرُ، أَخْبَرَهُ بِهَا عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَسْمَعْهَا هُوَ مِنْ أَبِيهِ، لَمَّا أَحَبَّ أَنَّ يَرْوِيهَا مُرْسَلًا، وَلَا يُسْنِدَهَا إِلَى مَنْ سَمِعَهَا مِنْهُ، وَكَمَا يُمْكِنُ ذَلِكَ فِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَهُوَ أَيْضًا مُمْكِنٌ فِي أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ كُلُّ إِسْنَادٍ لِحَدِيثٍ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ سَمَاعِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ، وَإِنْ كَانَ قَدْ عُرِفَ فِي الْجُمْلَةِ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ قَدْ سَمِعَ مِنْ صَاحِبِهِ سَمَاعًا كَثِيرًا، فَجَائِزٌ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَنَّ يَنْزِلَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ، فَيَسْمَعَ مِنْ غَيْرِهِ عَنْهُ بَعْضَ أَحَادِيثِهِ، ثُمَّ يُرْسِلَهُ عَنْهُ أَحْيَانًا، وَلَا يُسَمِّيَ مَنْ سَمِعَ مِنْهُ، وَيَنْشَطَ أَحْيَانًا فَيُسَمِّيَ الَّذِي حَمَلَ عَنْهُ الْحَدِيثَ وَيَتْرُكَ الْإِرْسَالَ، وَمَا قُلْنَا مِنْ هَذَا مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ مُسْتَفِيضٌ، مِنْ فِعْلِ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَسَنَذْكُرُ مِنْ رِوَايَاتِهِمْ عَلَى الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا عَدَدًا يُسْتَدَلُّ بِهَا عَلَى أَكْثَرَ مِنْهَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، فَمِنْ ذَلِكَ "

    أَنَّ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيَّ، وَابْنَ الْمُبَارَكِ، وَوَكِيعًا، وَابْنَ نُمَيْرٍ، وَجَمَاعَةً غَيْرَهُمْ، رَوَوْا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ، وَلِحِرْمِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ».

    فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ، وَحُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    وَرَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ» [ص:32]، فَرَوَاهَا بِعَيْنِهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    فَرَوَى هَذِهِ الرِّوَايَةَ بِعَيْنِهَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَدَاوُدُ الْعَطَّارُ، وَحُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

    وَرَوَى هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَكَفَ، يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ» [ص:32]، فَرَوَاهَا بِعَيْنِهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى الزُّهْرِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ»

    فَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ فِي الْقُبْلَةِ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» كَانَ يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ "

    وَرَوَى ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ»، فَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَهَذَا النَّحْوُ فِي الرِّوَايَاتِ كَثِيرٌ يَكْثُرُ تَعْدَادُهُ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا مِنْهَا كِفَايَةٌ لِذَوِي الْفَهْمِ، فَإِذَا كَانَتِ الْعِلَّةُ عِنْدَ مَنْ وَصَفْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ فِي فَسَادِ الْحَدِيثِ وَتَوْهِينِهِ، إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الرَّاوِيَ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ شَيْئًا، إِمْكَانَ الْإِرْسَالَ فِيهِ، لَزِمَهُ تَرْكُ الِاحْتِجَاجِ فِي قِيَادِ قَوْلِهِ بِرِوَايَةِ مَنْ يُعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ سَمِعَ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُ، إِلَّا فِي نَفْسِ الْخَبَرِ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ السَّمَاعِ، لِمَا بَيَّنَّا مِنْ قَبْلُ عَنِ الْأَئِمَّةِ الَّذِينَ نَقَلُوا الْأَخْبَارَ أَنَّهُمْ كَانَتْ لَهُمْ تَارَاتٌ يُرْسِلُونَ فِيهَا الْحَدِيثَ إِرْسَالًا، وَلَا يَذْكُرُونَ مَنْ سَمِعُوهُ مِنْهُ، وَتَارَاتٌ يَنْشَطُونَ فِيهَا، فَيُسْنِدُونَ الْخَبَرَ عَلَى هَيْئَةِ مَا سَمِعُوا، فَيُخْبِرُونَ بِالنُّزُولِ فِيهِ إِنْ نَزَلُوا، وَبِالصُّعُودِ إِنْ صَعِدُوا، كَمَا شَرَحْنَا ذَلِكَ عَنْهُمْ،
    وَمَا عَلِمْنَا أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ السَّلَفِ مِمَّنْ يَسْتَعْمِلُ الْأَخْبَارَ، وَيَتَفَقَّدُ صِحَّةَ الْأَسَانِيدِ وَسَقَمَهَا، مِثْلَ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَابْنِ عَوْنٍ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَشُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، فَتَّشُوا عَنْ مَوْضِعِ السَّمَاعِ فِي الْأَسَانِيدِ، كَمَا ادَّعَاهُ الَّذِي وَصَفْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ» [ص:33] وَإِنَّمَا كَانَ تَفَقُّدُ مَنْ تَفَقَّدَ مِنْهُمْ سَمَاعَ رُوَاةِ الْحَدِيثِ مِمَّنْ رَوَى عَنْهُمْ، إِذَا كَانَ الرَّاوِي مِمَّنْ عُرِفَ بِالتَّدْلِيسِ فِي الْحَدِيثِ، وَشُهِرَ بِهِ، فَحِينَئِذٍ يَبْحَثُونَ عَنْ سَمَاعِهِ فِي رِوَايَتِهِ، وَيَتَفَقَّدُونَ ذَلِكَ مِنْهُ كَيْ تَنْزَاحَ عَنْهُمْ عِلَّةُ التَّدْلِيسِ، فَمَنِ ابْتَغَى ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ مُدَلِّسٍ، عَلَى الْوَجْهِ الَّذِي زَعَمَ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ، فَمَا سَمِعْنَا ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ مِمَّنْ سَمَّيْنَا، وَلَمْ نُسَمِّ مِنَ الْأَئِمَّةِ «
    فَمِنْ ذَلِكَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ رَوَى عَنْ حُذَيْفَةَ، وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، وَعَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثًا يُسْنِدُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْهُمَا ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْهُمَا، وَلَا حَفِظْنَا فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ شَافَهَ حُذَيْفَةَ، وَأَبَا مَسْعُودٍ بِحَدِيثٍ قَطُّ، وَلَا وَجَدْنَا ذِكْرَ رُؤْيَتِهِ إِيَّاهُمَا فِي رِوَايَةٍ بِعَيْنِهَا،
    وَلَمْ نَسْمَعْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِمَّنْ مَضَى، وَلَا مِمَّنْ أَدْرَكْنَا أَنَّهُ طَعَنَ فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ اللَّذَيْنِ رَوَاهُمَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ بِضَعْفٍ فِيهِمَا، بَلْ هُمَا وَمَا أَشْبَهَهُمَا عِنْدَ مَنْ لَاقَيْنَا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِنْ صِحَاحِ الْأَسَانِيدِ وَقَوِيِّهَا، يَرَوْنَ اسْتِعْمَالَ مَا نُقِلَ بِهَا، وَالِاحْتِجَاجَ بِمَا أَتَتْ مِنْ سُنَنٍ وَآثَارٍ، وَهِيَ فِي زَعْمِ مَنْ حَكَيْنَا قَوْلَهُ مِنْ قَبْلُ وَاهِيَةٌ مُهْمَلَةٌ، حَتَّى يُصِيبَ سَمَاعَ الرَّاوِي عَمَّنْ رَوَى، وَلَوْ ذَهَبْنَا نُعَدِّدُ الْأَخْبَارَ الصِّحَاحَ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِمَّنْ يَهِنُ بِزَعْمِ هَذَا الْقَائِلِ، وَنُحْصِيهَا لَعَجَزْنَا عَنْ تَقَصِّي ذِكْرِهَا وَإِحْصَائِهَا كُلِّهَا، وَلَكِنَّا أَحْبَبْنَا أَنْ نَنْصِبَ مِنْهَا عَدَدًا يَكُونُ سِمَةً لِمَا سَكَتْنَا عَنْهُ مِنْهَا»

    جلد 01 صفحه 28 ۔ 34 مقدمة
    الكتاب: المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم
    المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري (المتوفى: 261هـ)
    المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي
    الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت


    معنعن حدیث سے احتجاج کرنا صحیح ہے جب کہ عن سے راویت کرنے والے اور جس سے راویت کی جائے ان کا لقاء یعنی ملاقات ممکن ہو، اور وہ مدلس نہ ہو
    نوٹ :حدیث معنعن اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں عن کا لفظ آئے جیسے عن علقمہ عن عبدا لله بن مسعود عن رسول الله صلی الله عليہ وسلم، حدیث معنعن کے بارے میں علی بن مدینی اور امام بخاری کا کہنا یہ ہے کہ یہ حدیث اس وقت تک مقبول نہیں ہو گی جب راوی کے مروی عنہ سے ملاقات ثابت ہو جیسے علقمہ کی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت ہے اس کے برخلاف امام مسلم اور دوسرے محدثین یہ کہتے ہیں کہ اگر راوی ، مروی عنہ کا ہمعصر ہو پھر بھی اس کی روایت مقبول ہوگی خواہ ان کی آپس میں ملاقات ثابت ہو یا نہ ہو، مذکور ذیل باب میں امام مسلم اپنے مسلک کی حجیت پر دلائل قائم کئے ہیں۔

    ہمارے بعض معاصر محدثین نے سندِ حدیث کی صحت اور فساد کے بارے میں ایک ایسی غلط شرط عائد کی ہے جس کا اگر ہم ذکر نہ کرتے تو یہی زیادہ مناسب تھا کیونکہ جو قول باطل اور مردود ہو اس کا ذکر نہ کرنا ہی زیادہ بہتر ہے، تاہم ہم نے خیال کیا کہ اگر اس فاسد قول کو ذکر کرکے اس کا رد نہ کیا جائے تو ممکن ہے کہ کوئی نا واقف شخص اس باطل کو صحیح سمجھ لے کیونکہ نا واقف لوگ نئی نئی باتوں کے زیادہ دلدادہ اور عجیب و غریب شرائط کے زیادہ شیدا ہوتے ہیں لہذا اب ہم ان معاصرین کی اس باطل شرط کو ذکر کر کے اس کا فساد ، بطلان اور خرابیاں ذکر کریں گے، تاکہ عام لوگ غلط فہمی سے محفوظ رہیں۔ ان بعض معاصرین کا خیال ہے کہ جس حدیث کی سند فلاں عن فلاں (فلاں فلاں سے روایت کرتا ہے) ہو اور ہم کو یہ بھی معلوم ہو کہ چونکہ یہ دونوں ہم عصر ہیں اس لیے ممکن ہے کہ راوی نے مروی عنہ سے ملاقات کی ہو اور اس سے اس حدیث کا سماع کیاہو البتہ ہمارے پاس کوئی دلیل یا روایت نہ ہو جس سے قطعی طور(پور) پر یہ ثابت ہو کہ ان دونوں نے ایک دوسرے سے ملاقات کی ہے اور ایک نے دوسرے سے بالمشافہ حدیث سنی ہے تو ایسی حدیث ان لوگوں کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو گی جب تک انہیں اس بات کا یقین نہیں ہو جائے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار آپس میں ملے ہیں یا ان میں سے ایک شخص نے دوسرے سے بالمشافہ حد ان کی باہمی ملاقات اور حدیث سنی ہے یا کوئی ایسی روایت ہو جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ دونوں زندگی میں کم از کم ایک بار ملے ہیں اور اگر ان کو نہ تو کسی دلیل سے ملاقات کا یقین ہو نہ ہو کسی روایت سے ان کی ملاقات اور سماع ثابت ہو تو ان کے نزدیک اس روایت کا قبول کرنا اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک کہ کسی روایت سے ان کی ملاقات (ملاقات) اور سماع ثابت نہ ہو جائے خواہ ایسی روایات قلیل ہوں یا کثیر۔
    باب : حدیث معنعن سے دلیل پکڑنا درست ہے
    ان معاصرین کی یہ شرط بالکل نئی اور اختراعی ہے پیشتر علماء حدیث میں سے کسی شخص نے یہ شرط عائد نہیں کی اور نہ موجودہ اہل علم میں سے کسی شخص نے اس شرط کی موافقت کی ہے۔ کیونکہ موجودہ اور سابقین تمام علماء حدیث، ارباب فن اور اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب ایک ثقہ اور عادل شخص اپنے ایسے معاصر ثقہ اور عادل شخص سے کوئی روایت کرے جس سے اس کی ملاقات اور سماع ممکن ہو اس کی یہ روایت قابل قبول اور حجت ہے خواہ ہمارے پاس ان کی باہمی ملاقات اور بالمشافہ حدیث سننے پر نہ کوئی دلیل ہو نہ کسی اور روایت سے یہ چیز ثابت ہو البتہ اگر کسی دلیل یا روایت سے یہ بات یقینی طور ثابت ہوجائے کہ ان دونوں کی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی ہے یا ملاقات تو ہوئی ہے لیکن انہوں نے ایک دوسرے سے گفتگو نہیں کی تھی ایسی شکل میں یقیناً یہ روایت غیر معتبر ہو گی اور جب تک یہ ثابت نہ ہو اور صرف ابہام ہو تو یہ روایت مقبول ہو گی۔ ہم ان لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ ایک ثقہ راوی کی دوسرے ثقہ راوی سے روایت حجت ہوتی ہے اور اس کے مقتضیٰ پر عمل لازم ہوتا ہے اب تم نے اس میں ایک مزید شرط کا اضافہ کر دیا کہ ان دونوں کی ملاقات بھی ضروری ہے اب بتاؤ کہ یہ نئی شرط فنِ حدیث کے علماء سابقین اور اسلاف نے بھی عائد کی تھی یا صرف تم نے کسی دلیل کی بناء پر یہ نئی اختراعی اور من گھڑت شرط عائد کی ہے؟ پہلی صورت تو یقیناً باطل ہے کیونکہ اسلاف سے ایسی کوئی شرط منقول نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی اختراعی شرط کے ثبوت میں یہ کہیں کہ ہم نے زمانہ حال اور ماضی میں بہت سے ایسے روایان حدیث دیکھے ہیں جو ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں حالانکہ ان راویوں نے نہ ایک دوسرے کو دیکھا ہوتا ہے اور نہ کوئی حدیث سنی ہوتی ہے، اس قسم کی حدیث مرسل مقبول نہیں ہوتی۔ اس لیے ہم نے سند حدیث میں راوی کے سماع کی شرط عائد کر دی ہے اب اگر ہمیں کسی قرینہ یا دلیل یا کسی خبر اور روایت سے یہ معلوم ہو جائے کہ راوی نے مروی عنہ سے حدیث سنی ہے تو اس کی کل روایات مقبول ہوں گی اور اگر ہم کو کسی قرینہ یا روایت سے سماع کا ثبوت نہ مل سکلا تو ہمارے نزدیک یہ حدیث موقوف ہوگی کیونکہ اس حدیث کے مرسل ہونے کا احتمال موجود ہے۔ ان لوگوں کی یہ دلیل اس لیے غلط ہے کہ ان کے بنائے ہوئے قاعدہ کی بناء پر یہ لازم آتا ہے کہ حدیث معنعن (یعنی جس حدیث کی سند یوں ہو کہ فلاں شخص نت فلاں سے روایت کیا) اس وقت تک مقبول نہ ہو جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ سند میں مذکور ہر راوی نے اپنے مروی عنہ سے سماع بھی کیا ہے۔ فرض کرو ایک حدیث اس سند سے مروی ہوتی ہےاز ہشام بن عروة از والد خود یعنی (عروة) از عائشہ اور ہم کو یقیناً معلوم ہے کہ ہشام نے اپنے والد سے اور ان کے والد یعنی عروة نے حضرت عائشہ سے سماع کیا ہے جیسا کہ ہم کو یہ بھی قطعی طور پر معلوم ہے کہ حجرت عائشہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے اور یہ سند بالاتفاق مقبول ہے لیکن تمہارے قاعدہ کی بناء پر لازم آئے گا کہ غیر مقبول ہو کیونکہ یہ ممکن ہےکہ ہشام جس شخص کو یہ حدیث بیان کریں اس شخص سے یہ نہ کہیں کہ یہ حدیث میں نے اپنے والد سے سنی ہے (یعنی سمعت يا اخبرني کا صیغہ استعمال نہ کریں) اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حدیث، ہشام نے براہ راست اپنے والد سے نہ سنی ہو بلکہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص واسطہ ہو جس کا ذکر ہشام نے نہ کیا ہو اور براہ راست اپنے والد سے حدیث روایت کر دی ہو اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ہشام کے والد عروہ نے براہ راست حضرت عائشہ سے حدیث روایت نہ کی ہو اور ان دونوں کے درمیان کوئی تیسرا شخص ہو جس کا ذکر عروہ نے نہ کیا ہو اور براہ راست حضرت عائشہ سے روایت کر دی ہو خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ حدیث جس کا راوی مروی عنہ سے حدیث سننے کی تصریح نہ کرے اس میں ممکن ہے کہ راوی نے مروی عنہ سے براہ راست حدیث نہ سنی ہو اور درمیانی شخص کا ذکر نہ کر کے براہ راست مروی عنہ سے روایت کر دی ہو۔ ہر چند کہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ فلاں راوی کا فلاں مروی عنہ سے سماع ثابت ہے لیکن جب تک اس خاص حدیث میں جس کو وہ بیان کر رہا ہے اپنے مروہ عنہ سے سماع کی تصریح نہ کرے اس حدیث میں مرسل ہونے کا احتمال موجود ہے۔ لہذا تمہارے قاعدہ کے مطابق یہ تمام احادیث غیر مقبول ہونی چاہئیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے اپنے شیخ سے متعدد احادیث سنی ہوتی ہیں لیکن کبھی تو وہ سند میں اپنے شیخ سے روایت کا ذکر کرتا ہے اور کبھی شیخ الشیخ سے روایت کرتا ہے اور شیخ کا درمیان میں ذکر نہیں کرتا، ہم نے جو سند بیان کرنے کا ذکر کیا ہے یہ ثقہ اہل علم اور ائمہ محدثین کے نزدیک مشہور و معروف ہے۔ مثلاً ایوب سختیانی، ابن مبارک، وکیع، ابن نمیر اور ان کے علاوہ محدثین کی ایک کثیر جماعت نے سند مذکور کے ساتھ ایک حدیث روایت کی ہے: از ہشام بن عروة از والد خود (یعنی عروة) از عائشہ: فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھنے اور کھولنے دونوں مواقع پر حضور کو خوشبو لگایا کرتی تھی جو میرے پاس بہتر سے بہتر موجود ہوتی۔ لیکن اسی حدیث کو لیث بن سعد، داؤد، عطا، حمید ابن اسود، وہیب بن خالد اور ابو اسامہ نے ہشام سے اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ہشام بیان کرتے ہیں کہ مجھے عثمان بن عروہ نے حدیث بیان کی ہے از عروة از عائشہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
    نوٹ: امام مسلم یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ دراصل ہشام نے یہ حدیث اپنے بھائی عثمان سے سنی تھی لیکن پہلی بیان کردہ سند میں اس کا ذکر نہیں اور دوسری میں اس کا ذکر کر دیا۔

    دوسری مثال یہ ہے کہ از ہشام از والد خود از عائشہ: وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ اعتکاف میں اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں آپ کے سر اقدس میں کنگھی کرتی حالانکہ میں اس وقت حالتِ حیض (ایام ماہواری) میں ہوتی تھی۔ اور بعینہ اسی روایت کو مالک بن انس نے اس سند کے ساتھ روایت کیا ہے، از زہری از عروہ از عمرة از عائشہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔
    نوٹ: امام مسلم کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث عروہ نے براہ راست حضرت عائشہ سے نہیں سنی بلکہ عمرة کے واسطے سے سنی تھی لیکن پہلی سند میں عمرة کے واسطے کا ذکر نہیں کیا اور دوسری سند میں اس کا ذکر کر دیا ہے۔
    تیسری مثال یہ ہے کہ زہری اور صالح بن ابی حسان از ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیتے تھے اور یحییٰ بن ابی کثیر نے اس حدیث کو اس سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ابو سلمہ نے ان کو یہ حدیث بیان کر کے کہا کہ مجھے یہ حدیث عمر بن عبد العزیز نے بیان کی ان کو عروہ نے بیان کی اور ان سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روزے کی حالت میں بوسہ دیا کرتے تھے۔
    نوٹ: امام مسلم کا مطلب یہ ہے کہ یہ حدیث دراصل ابو سلمہ نے عمر بن عبد العزیز اور عروہ کے واسطے سے سنی تھی لیکن جب زہری اور صالح بن ابی حسان کو یہ حدیث بیان کی تو ان واسطوں کا ذکر نہیں کیا۔
    چوتھی مثال یہ ہے کہ عمرو بن دینار حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھلایا اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کر دیا اور اسی حدیث کو حماد بن زید نے عمرو سے انہوں نے محمد بن علی سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
    نوٹ: امام مسلم کا مقصد یہ ہے کہ عمرو بن دینار کی سند میں محمد بن علی بھی ہیں لیکن پہلی سند میں انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔
    اس قسم کی روایات کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن عقل مند شخص کے لیے اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے یہ چند مثالیں بھی کافی ہیں کہ جن لوگوں کے نزدیک حدیث کے غیر معتبر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کسی حدیث کی سند میں مذکور راویوں میں سے کسی ایک کا دوسرے سے سماع معلوم نہ ہو کیونکہ ممکن ہے کہ وہ حدیث مرسل ہو ان لوگوں پر لازم آئے گا کہ وہ ایسی تمام روایات کو رد کر دیں جن میں راوی کی مروی عنہ سے سماع کی تصریح نہ ہو۔ حالانکہ جیسا کہ ہم ابھی ان مثالوں سے واضح کر چکے ہیں کہ کبھی تو ائمہ ، حدیث کی سند میں بعض راویوں کے ذکر کو چھوڑ دیتے ہیں اور حدیث کو بہ طور مرسل بیان کرتے ہیں اور کبھی ان کادل چاہتا ہے تو حدیث کی مکمل سند اسی طرح بیان کر دیتے ہیں جس طرح انہوں نے شیخ سے سنی ہوتی ہے۔ اور اگر کسی سند سے انہون نے کم واسطوں سے یعنی شیخ کی موجودگی میں شیخ الشیخ سے روایت حدیث کی ہو یا زیادہ واسطوں سے روایت کی ہو بایں طور کہ شیخ الشیخ سے روایت کی ہو تو اس تمام تفصیل کا ذکر کر دیتے ہیں۔ (پہلی صورت اصطلاح حدیث میں صعود اور دوسری نزول کہلاتی ہے۔ سعیدی) جیسا کہ ہم ابھی مثالوں سے واضح کر چکے ہیں۔

    متقدمین میں سے ائمہ حدیث مثلاً ایوب سختیانی، ابن عون، مالک بن انس، شعبہ بن حجاج، یحییٰ بن سعید القطان، عبد الرحمٰن بن مہدی اور بعد کے تمام محدثین کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جو حدیث بیان کرتے اس کی سند کی خوب چھان بین کرت لیکن ہمارے علم میں ان میں سے کسی محدث نے بھی حدیث کے قبول کرنے کے لیے راوی کے مروی عنہ سے سماع کی قید نہیں لگائی جس طرح ان لوگوں نے یہ باطل شرط عائد کی ہے۔ البتہ جو راوی تدلیس کرنے میں مشہور ہو اس کے بارے میں محدثین یہ تحقیق ضرور کرتے ہیں کہ وہ شیخ کی طرف روایت کی نسبت کر رہا ہے فی الواقع اس شخص سے اس نے حدیث سنی ہے یا اس کی طرف تدلیساً نسبت کر دی ہے اور اصل میں کسی اور شخص سے حدیث سنی ہے تاکہ حدیث کی مکمل تحقیق ہو جائے اور اگر فی الواقع راوی نے سند میں تدلیس کی ہو تو اس سند کا عیب ظاہر ہو جائے لیکن جس شخص پر تدلیس کی تہمت نہ ہو اس کی سند اور روایت کے بارے میں اس قسم کی تحقیق نہیں کیا کرتے کہ روای نے مروی عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں۔ حدیث کو قبول کرنے کے لیے ان لوگوں نے جو یہ باطل شرط عائد کی ہے اس کا ذکر ہم نے فن حدیث کے کسی امام سے نہیں سنا خواہ وہ ائمہ حدیث ہوں جن کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں یا ان کے علاوہ۔
    نوٹ: تدلیس کا معنی ہے شبہ پیدا کرنا، فن حدیث کی اصطلاح میں تدلیس اس فعل کو کہتے ہیں کہ راوی نے اپنے جس شیخ سے حدیث سنی ہو وہ اچھی شہرت نہ رکھتا ہو، مثلاً متهم بالكذب ہو اس لیے وہ اپنی روایت کو مقبول بنانے کے لیے اپنے شیخ کے شیخ کی طرف حدیث کی نسبت کر دیتا ہے جس کی اچھی شہرت ہوتی ہے تا کہ لوگوں کو یہ شبہ ہو کہ راوی نے اس شیخ سے براہ راست حدیث سنی ہے۔ حلانکہ اس نے اس سے وہ حدیث نہیں سنی ہوتی۔ ایسے راوی کو مدِلس اور ایسی حدیث کو مدَلَس کہتے ہیں۔ سعیدی
    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عبد اللہ بن یزید امصاری کمسن صحابی ہیں وہ حضرت حذیفہ اور ابو مسعود انصاری دونوں سے حدیث روایت کرتے ہیں، اس کے باوجود کہ اپنی کسی روایت میں ان سے سماع کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی کسی روایت سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن یزید نے ان دونوں صحابیوں سے ملاقات کی ہو اور اہل علم میں سے کسی شخص نے بھی عبد اللہ بن یزید کی روایت پر اس وجہ سے اعتراض نہیں کیا کہ ان کی حذیفہ اور ابو مسعود سے ملاقات اور سماع ثابت نہیں ہے اس وجہ سے ان کی روایات ضعیف اور غیر معتبر ہیں اس کے برخلاف ہمارے علم میں جس قدر اہل علم ہیں وہ سب ان کی سند کو قوی ترین اسانید میں شمار کرتے ہیں، ان کی روایات سے استدلال کرتے ہیں اور ان کے مقتضیٰ پر عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں (امام بخاری اور علی بن مدینی) کے مخترعہ قاعدہ کے مطابق یہ تمام روایات ضعیف اور غیر معتبر ہیں۔ اگر ہم ان تمام احادیث کا شمار کرنا شروع کر دیں، جن کو تمام اہل علم نے صحیح قرار دیا ہے اور وہ ان لوگوں کی مزعوم شرط پر پوری نہیں اترین تو اس کے لئے ایک ضخیم کتاب درکار ہو گی جس کا یہ مقدمہ متحمل نہیں ہے اس کے باوجود ہم یہ چاہتے ہیں کہ بطور نمونہ کے ایسی متفق علیہ احادیث کی چند مثالیں پیش کریں جو تمام اہل علم کے نزدیک صحیح ہیں لیکن ان لوگوں کی شرط کے مطابق وہ ضعیف اور غیر معتبر قرار پاتی ہیں۔
    (ترجمہ غلام رسول سعیدی)
     
    Last edited: ‏جون 03، 2016
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 02، 2016 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,109
    موصول شکریہ جات:
    2,351
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    محترم بھائی @ابن عثمان
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
    اس تحریر سے غیر متفق ہونے وجہ اگر بتادیں تو ہو سکتا ہے بندہ اپنی اصلاح کرلے ۔ ان شاء اللہ تعالی
     
  7. ‏جون 05، 2016 #17
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
    کافی دن سے کچھ مسائل کی وجہ سے ادھر باقاعدہ آنا نہیں ہوسکا۔۔۔
    ان شاءاللہ جلد کچھ عرض کرتا ہوں۔۔۔
     
  8. ‏جون 05، 2016 #18
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    محترم اسحاق بھائی ۔
    مرسل سے احتجاج طویل مسئلہ ہے ۔۔۔اور دونوں طرف بہت اہل علم ہیں ۔۔۔
    اس میں کسی رائے کو ایسے اختیار کرنا کہ دوسرے کی گنجائش ہی نہیں ۔۔۔میری رائے اس سے متفق نہیں ۔۔۔

    اور جب سوال بھی اس طرح کیا گیا ہو۔۔۔۔

    کیا ارسال کی کوئ قسم قابل قبول ھے؟؟؟

    جواب

    آپ کے جواب میں بہت اجمال ہے ۔۔۔
    کوئی بھی قسم۔۔۔
    مرسل مطلقاََ نا مقبول۔۔۔
    اور پھر آگے عبارات میں لفظ نقل کیا۔۔۔جماہیر اہل علم کے نزدیک۔۔۔
    کبھی علما اپنی رائے کو ایسا سمجھ کر ایسے الفاظ لکھ دیتے ہیں ۔۔۔اور یہ دونوں اطراف سے ہوجاتا ہے ۔۔۔لیکن میری رائے میں ہمیں الفاظ سے استدلال نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔بلکہ ہمیں دونوں آرا ءبیان کرنا چاہییں۔۔۔تاکہ تعارض محسوس نہ ہو۔۔
    جماہیر اہل علم کا لفظ کیسے صحیح ہوسکتا ہے۔۔۔ ۔۔۔جبکہ مرسل تابعین کی جماعت کے نزدیک ، ائمہ مجتہدین الاوزاعیؒ ، مالکؒ اور ان کے اصحاب ۔۔ ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب ۔۔۔ سفیانؒ و ابن مبارکؒ وغیرہ کے نزدیک قابل قبول ہے ۔
    امام احمد ؒ کے نزدیک بھی مقبول ہے ۔۔انہوں نے کئی ائمہ (سعید ؒ ، ابراہیم ؒ وغیرہ) کی مراسیل کی تصحیح کی ۔اور حنابلہ کی مشہور روایت کے مطابق بھی امام احمدؒ مرسل کو قبول کرتے ہیں ۔۔۔ایک عبارت امام ابوداودؒ کی بعض اہل علم پیش کرتے ہیں ۔۔۔وہ یہ ہے ۔۔

    وَأما الْمَرَاسِيل فقد كَانَ يحْتَج بهَا الْعلمَاء فِيمَا مضى مثل سُفْيَان الثَّوْريّ وَمَالك بن أنس وَالْأَوْزَاعِيّ حَتَّى جَاءَ الشَّافِعِي فَتكلم فِيهَا وَتَابعه على ذَلِك أَحْمد بن حَنْبَل وَغَيره
    (رسالة أبي داود)

    لیکن اس میں بھی کہاں ہے کہ وہ مطلقاََ رد کرتے تھے ۔۔۔بلکہ انہوں نے اس میں کلام کیا ۔۔۔وہ تو سارے کرتے ہیں ۔۔۔مطلقاََ ہر ہر مرسل مقبول تو کوئی نہیں کرتا ۔
    اسی لئے ابن رجب حنبلیؒ نے لکھا۔۔

    وقد استدل كثير من الفقهاء بالمرسل، وهو الذي ذكره أصحابنا أنه الصحيح عن الإمام أحمد
    شرح علل الترمزیؒ ۱۔۱۸۷ ۔ ت ھمام
    اور ص ۵۵۲ پہ ہے

    ولم يصحح أحمد المرسل مطلقا، ولا ضعفه مطلقا
    انہوں نے امام احمدؒ اور بہت سی روایات بھی نقل کی ہیں۔۔۔جس میں بعض کی مرسل مقبول اور بعض ضعیف ۔۔۔
    ان کے ایک کلام سے بظاہر یوں محسوس ہوا کہ مرسل ضعیف ہوتی ہے ۔۔۔تو اس بارے میں بھی
    انہوں نے الاثرمؒ سے نقل کیا کہ وہ بعض اوقات مرسل قبول کر لیتے ہیں ۔۔۔جب اس کے مخالف کچھ نہ ہو۔۔

    وربما أخذ بالحديث المرسل إذا لم يجيء خلافه
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امام شافعیؒ بھی مطلقاََ رد نہیں کرتے ۔۔۔۔جیسا کہ مخفی نہیں
    لیکن شوافع کی طرف مائل محدثین بیشک ان کے جیسا ہی نظریہ رکھتے ہیں ۔۔اور یہ جمہور اور اکثر کا دعوی بھی زیادہ انہی کی کتب میں نظر آتا ہے ۔۔۔حیرت ہے وہ بھی لفظ سے ہی استدلال کرتے ہیں ۔۔۔۔ساتھ ساتھ بڑے بڑے ائمہ کا استثنا بھی بتاتے ہیں ۔۔
    اور ان میں بعض اپنی کتب میں مرسل قبول بھی کر لیتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یحیی بن معینؒ ، علی بن المدینیؒ سے مراسیل میں استثنا منقول ہیں ۔۔۔

    اوپر جن ائمہ کا ذکر ہوا یہ کوئی فرد واحد کی حیثیت نہیں رکھتے ۔۔۔۔بلکہ اہل علم کے طبقات ان کے نظریات کی طرف مائل ہوتے ہیں۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    قولنا و قول اہل العلم بالاخبار ۔۔۔سے جماہیر اہل العلم مراد لینا میری خیال میں درست نہیں۔۔۔
    مصنفین صحاح میری نظر میں ایک درجہ کے مجتہدین ہیں ۔۔۔وہ اصولوں کو مقید ہو کر نہیں دیکھتے ۔۔۔اسی لئے بعد کے بعض محدثین (دارقطنیؒ وغیرہ) جو قواعد کی پابندی میں ان پر اعتراض کرتے رہے ۔۔اس کا بھی یہی جواب ہے ۔۔۔بہر حال یہ دوسرا موضوع ہے ۔۔ابھی امام مسلمؒ کے بارے میں ہی عرض کرتا ہوں۔
    جیسا کہ میں نے بتایا کہ جماہیر اہل علم کی اصطلاح مطلقاََ تو مناسب نہیں ۔ اگر کسی نے کہا ہے تو یہ (ان کے نظریہ میں بھی )کثیر کے معنوں میں ہوگی ۔۔اور وہ بھی مطلقاََ ہر ہر طرح کی مرسل نہیں۔
    جب امام مسلم ؒ نے خو اپنی صحیح میں گنتی کی چند مراسیل بھی روایت کی ہیں ۔
    ایسے موقع پر اکثر دوست صحیحین کے بارے میں یہ کہتے ہیں کے ، تعلیقات بخاری اور استشہاد یا مقروناََوغیرہ میں بخاری و مسلم ضعیف کو بھی لے لیتے ہیں۔
    لیکن کیا ہم یہ قاعدہ بنا دیں کہ جو جو استشہاد وغیرہ میں چیز ہے وہ ضعیف ہی ہوتی ہے ۔
    خصوصاََ امام مسلمؒ نے (اگردوسروں کے نظریہ سے مقید ہو کر ہی دیکھیں کہ) استشہاد میں روایت لی ہے ۔۔۔تو ایک مرسل میں سعید بن المسیبؒ کی کیا تخصیص ہے ۔۔۔
    کیونکہ ائمہ ان کی مرسل کی تصحیح کرتے ہیں۔ تو امام مسلمؒ کی بھی ان کے بارے امام شافعیؒ والی رائے ہو گی۔
    يهاں پھر دوسرا سوال یہ کہ جو ائمہ سعیدؒ جیسے ہیں ۔ ان کی مراسیل بھی ویسی ہی ہوں گی۔ جیسا کہ دوسری مراسیل میں ہے
    جیسا کہ ایک جگہہ تابعی کبیر امام يزيد بن عبد الله بن الشخيرؒ کی ایک مرسل بغیر کسی متابعت کے موضع استدلال میں موجود ہے ۔ جس کا حوالہ تدریب میں بھی ہے ۔

    حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا، كَمَا يَنْسَخُ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا»
    صحیح مسلم ۱۔ ۲۶۹ ۔ ط دار إحياء التراث العربي

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح امام ابو داودؒ نے صراحتاََ اپنا مسلک بیان کیا ہے ۔

    الْمُرْسل والاحتجاج بِهِ
    وَأما الْمَرَاسِيل فقد كَانَ يحْتَج بهَا الْعلمَاء فِيمَا مضى مثل سُفْيَان الثَّوْريّ وَمَالك بن أنس وَالْأَوْزَاعِيّ حَتَّى جَاءَ الشَّافِعِي فَتكلم فِيهَا وَتَابعه على ذَلِك أَحْمد بن حَنْبَل وَغَيره رضوَان الله عَلَيْهِم
    فَإِذا لم يكن مُسْند غير الْمَرَاسِيل وَلم يُوجد الْمسند فالمرسل يحْتَج بِهِ وَلَيْسَ هُوَ مثل الْمُتَّصِل فِي الْقُوَّة
    رسالة أبي داود
    ۱۔۲۴۔ ت الصباغ

    یعنی مرسل سے احتجاج کیا جائے گا اگر مسند موجود نہ ہواور یہ قوت میں متصل کے برابر نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ترمذیؒ نے العلل (ت شاکر) ص۷۵۳۔۔۔۔میں فرمایا۔۔۔

    قَالَ أَبُو عِيسَى والْحَدِيث إِذا كَانَ مُرْسلا فَإِنَّهُ لَا يَصح عِنْد أَكثر أهل الحَدِيث قد ضعفه غير وَاحِد
    اور پھر کچھ عبارات نقل کیں ۔۔۔۔پھر فرمایا
    وَقد احْتج بعض أهل الْعلم بالمرسل أَيْضا
    ان کی رائے میں اکثر کی رائے میں مرسل ضعیف ہے ۔۔اور بعض کی رائے احتجاج کی ہے ۔
    مرسل سے احتجاج کے قائل کہتے ہیں ۔۔۔کہ اکثر کی رائے تو احتجاج کی ہے ۔۔۔بعض کی رائے اس کے خلا ف ہے ۔۔
    بہر حال امام
    ترمذیؒ کی اس عبارت پر حافظ ابن رجبؒ نے شرح علل ۱۔۵۳۲میں اتفاق نہیں کیا۔۔۔۔انہوں نے ساتھ ہی امام حاکمؒ کی ایک عبارت بھی نقل کی ۔۔۔جس میں یوں ہی بہت سے ائمہ کے بارے میں دعوی تھا۔۔۔
    وقد ذكر الترمذي لأهل العلم فيه قولين:
    أحدهما: أنه لا يصح، ومراده: أنه لا يكون حجة.
    وحكاه عن أكثر أهل الحديث.
    وحكاه الحاكم عن جماعة أهل الحديث من فقهاء الحجاز، وسمى منهم: سعيد بن المسيب، والزهري، ومالك بن أنس والأوزاعي، والشافعي، وأحمد، فمن بعدهم من فقهاء المدينة.

    وفي حكايته عن أكثر من سماه نظر.
    ولا يصح عن أحد منهم الطعن في المراسيل عموما، ولكن في بعضها
    ………………………..

    اسی طرح امام طحاویؒ اور امام طبریؒ کا مرسل کی قبولیت میں موقف معروف ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام حاکمؒ بھی امام شافعیؒ وغیرہ والا نظریہ رکھتے ہیں ۔وہ سعید بن المسیبؒ کی مرسل کی تصحیح کے قائل ہیں ۔۔۔اور اس کے علاوہ مستدرک میں چند مراسیل ہیں۔
    ان میں ایک دو جگہہ امام حسن بصریؒ کی مرسل کی تصحیح بھی کی ہے ۔۔۔
    اور تعلیق ذہبیؒ میں کئی جگہہ مرسل کی تصحیح موجود ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    اس عبارت میں بہت اجمال ہے ۔۔۔وہاں لمبی بحث کی گئی ہے ۔۔۔اور جماہیر اہل علم کا مفہوم مطلقاََ نہیں نکلتا۔۔۔
    انہوں نے دونوں آراء بیان کی ہیں ۔۔۔۔اور دونوں کے بارے میں جو دلائل ہیں وہ مختصراََنقل کئے ہیں۔۔۔۔۔پہلے مرسل سے احتجاج کرنے والوں کا ذکر کیا ہے ۔۔اور اس میں سلف کا طرز عمل بتایا ہے ۔۔۔

    بِأَنَّ السَّلَفَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَرْسَلُوا وَوَصَلُوا وَأَسْنَدُوا فَلَمْ يَعِبْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَلَى صَاحِبِهِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ بَلْ كُلُّ مَنْ أَسْنَدَ لَمْ يَخْلُ مِنَ الْإِرْسَالِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور پھر امام طبریؒ کی رائے بیان کی ہے ۔۔۔
    وَزَعَمَ الطَّبَرِيُّ أَنَّ التَّابِعِينَ بِأَسْرِهِمْ أَجْمَعُوا عَلَى قبول المرسل ولم عَنْهُمْ إِنْكَارُهُ وَلَا عَنْ أَحَدِ الْأَئِمَّةِ بَعْدَهُمْ إِلَى رَأْسِ الْمِائَتَيْنِ كَأَنَّهُ يَعْنِي أَنَّ الشَّافِعِيَّ أَوَّلُ مَنْ أَبَى مِنْ قَبُولِ الْمُرْسَلِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر ائمہ فقہا اور ان کے اصحاب کا مسلک بیان کیا ہے ۔۔
    امام مالکؒ اور ان کے اصحاب کا۔۔۔امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کا۔۔۔۔
    اس کے بعد انہوں نے ۔۔۔لکھا ہے ۔۔۔

    وَقَالَ سَائِرُ أَهْلِ الْفِقْهِ وَجَمَاعَةُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي كُلِّ الْأَمْصَارِ فِيمَا عَلِمْتُ الِانْقِطَاعُ فِي الْأَثَرِ عِلَّةٌ تَمْنَعُ مِنْ وُجُوبِ الْعَمَلِ بِهِ
    آگے ان کے دلائل بیان کئے ہیں۔۔
    اس میں اول تو مطلقاََ مرسل پر اعتراض ہے ۔۔۔حالانکہ اس میں تفصیل ہے ۔۔۔جو کہ کچھ انہوں نے شروع میں بیان کر دی ۔۔۔
    لیکن اس وقت وہ مرسل سے عدم احتجاج والوں کا مذہب بیان کر رہے ہیں۔۔۔
    دوسرا پھر وہی بات کہ اگر لفظ ’’ سَائِرُ أَهْلِ الْفِقْهِ وَجَمَاعَةُ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فِي كُلِّ الْأَمْصَارِ‘‘ سے ہی جماہیر کا مفہوم نکالنا ہے تو ایسا صحیح اس لئے نہیں کہ پھر پچھلی عبارات سے پھر یہ مفہوم نکلے گا کہ سلف اور تابعین کا تو اجماع تھا اس کے قبول پر۔۔۔بعد میں مخالفت ہوئی۔۔۔ اسی طرح ابوداودؒ کے قول سے بھی یہی مفہوم نکلتا ہے۔۔
    اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مبالغہ کے لفظ سے استدلال کیوں کیا جائے ۔۔۔چناچہ ابن جریرؒ کی رائے کو پھر متاخرین شوافع نے بعد میں تنقید کا نشانہ بنایا۔۔۔
    تیسری بات کہ ابن عبد البر ؒکی مراد ہی اس مذہب بیان کرنے میں شوافع اور اصحاب الحدیث کی ایک جماعت ہے ۔۔۔جیسا کہ عبارت ختم ہونے پر انہوں نے فرمایا ہے ۔۔۔

    هَذَا كُلُّهُ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَصْحَابِهِ وَأَهْلِ الْحَدِيثِ
    اب کوئی پھر اہل الحدیث لفظ سے سارے ہی لینا چاہے تو پھر وہ عبارت کے شروع کو دیکھ لے ۔۔اور میں بھی اس کا قائل ہوں کہ ایک جماعت اصحاب الحدیث کا یہی مذہب تھا۔۔۔لیکن اگر بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ پہنچ گئی ہے تو پھر لفظ کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
    اور پھر چوتھی بات کہ امام ابن عبد البرؒ بھی اس کے قائل نہیں۔۔۔
    التمہید کے بعد کی تصنیف میں ان کی ایک عبارت یہ ہے ۔۔

    قَالَ أَبُو عُمَرَ: حَدِيثُ رَبِيعَةَ عَنْ عُمَرَ، وَإِنْ كَانَ مُنْقَطِعًا،
    فَقَدْ قُلْنَا: إِنَّ أَكْثَرَ الْعُلَمَاءِ مِنَ السَّلَفِ قَبِلُوا الْمُرْسَلَ مِنْ أَحَادِيثِ الْعُدُولِ

    الاستذكار۲۲۔۲۹۔ ط قلعجی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امام احمدؒ کے بارے میں ابن رجبؒ نے اثرمؒ سے جو یہ نقل کیا گیا۔۔کہ وہ مرسل قبول کرتے ہیں جب اس کے مخالف کچھ نہ ہو۔۔اور
    امام ابو داودؒ نے جو یہ فرمایا۔۔۔ مرسل قابل احتجاج ہے لیکن مسند کے برابر نہیں ۔۔۔
    یہ بات بہت غور کرنے کی ہے ۔۔۔کئی محدثین امام بیہقیؒ وغیرہ جو مرسل احادیث کا ضعف بیان کرتے ہیں
    تو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اکثر ۔۔۔ مسند کے مد مقابل ہوتی ہے ۔۔۔۔
    اسی لئے پھر وہ کئی جگہہ مرسل کی تصحیح بھی کرجاتے ہیں۔۔۔
    اختلافی مسائل میں حافظ دار قطنیؒ ۔۔۔خصوصاََ ابراہیم نخعیؒ کی مراسیل پر اعتراض وارد کر دیتے ہیں۔۔۔لیکن ایک جگہہ خود انہوں نے ان کی ایک مرسل روایت بیان کی اور یہ فرمایا۔۔۔

    فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَإِنْ كَانَ فِيهَا إِرْسَالٌ فَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ هُوَ أَعْلَمُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَبِرَأْيِهِ وَبِفُتْيَاهُ ,
    قَدْ أَخَذَ ذَلِكَ عَنْ أَخْوَالِهِ عَلْقَمَةَ , وَالْأَسْوَدِ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ يَزِيدَ , وَغَيْرِهِمْ مِنْ كُبَرَاءِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ ,
    وَهُوَ الْقَائِلُ: " إِذَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَهُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْهُ , وَإِذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ سَمَّيْتُهُ لَكُمْ

    سنن دار قطنی ۴۔۲۲۶ ۔ط الرسالۃ
    یوں ہی امام نوویؒ نے شرح مسلم میں جو صلاۃ قبل المغرب (ابھی اس مسئلہ سے بالکل بحث نہیں ) کے بارے میں جو مذاہب نقل کئے ہیں

    وَفِي الْمَسْأَلَةِ مَذْهَبَانِ لِلسَّلَفِ
    وَاسْتَحَبَّهُمَا جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ أَحْمَدُ واسحق
    وَلَمْ يَسْتَحِبَّهُمَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَآخَرُونَ مِنَ الصَّحَابَةِ وَمَالِكٌ وَأَكْثَرُ الْفُقَهَاءِ

    یہ عدم استحباب کی روایت خلفاء راشدینؓ سے ۔۔۔(میرے ناقص علم کے مطابق ) صرف ابراہیمؒ کی مرسل میں ہے ۔
    امام بیہقیؒ نے بھی سنن ۲۔۶۶۹ میں بعض صحابہؓ کی ان نوافل کے پڑھنے کی روایت سفیان ؒ کی سند سے نقل کی
    اور ساتھ ہی سفیان ؒ کا قول نقل کیا۔۔۔
    قَالَ سُفْيَانُ: نَأْخُذُ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَ

    اور آگے خود وضاحت کی۔۔
    يُرِيدُ سُفْيَانُ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَ مَا رَوَاهُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: لَمْ يُصَلِّ أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ، وَلَا عُثْمَانُ
    اور امام بیہقیؒ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔
    چونکہ قبل المغرب کی رکعات کے بارےمیں دونوں آرا موجود ہیں۔۔اس لئے روایات پر جرح اس طرح نہیں کی گئی ۔
    اور یہاں توسع سے کام لیا گیا ہے ۔۔۔۔دونوں آراء کوتسلیم کیا گیا ہے ۔۔۔اگرچہ کسی ایک کو ترجیح دی گئی ہو۔۔۔
    اب ہم اگر ان پر اعتراض شروع کردیں اور ان کے کلام میں تعارض پیدا کریں انہیں متعصب کہیں ۔۔۔تو زیادہ بہتر نہیں کہ یہ کہیں کہ جہاں انہوں نے قبول نہیں کیا ۔۔۔وہاں بعض جگہہ(ان کی نظر میں ) وہ مسند کے مقابلے میں تھیں۔۔۔یا اگر بظاہر تعارض ہے بھی تو اس کا بھی حل ہے ۔۔۔۔وغیرہ

    امام ذہبیؒ ، امام ابن تیمیہؒ ، امام ابن کثیرؒ ،حافظ ابن رجبؒ ، حافظ الہیثمی ؒ ، حافظ ابن حجرؒ ، البوصیریؒ۔۔۔سب کی رائے میں مراسیل میں قابل قبول بھی ہیں اور غیر مقبول بھی۔۔۔۔اور ان کی کتب میں مرسل جید ، مرسل حسن ، مرسل ضعیف۔۔۔ اصطلاحات موجود بھی ہیں۔۔۔۔
    اب یہ سب کچھ بھی گزر جانے کے بعد جماہیر اہل علم کے نزدیک ہر مرسل بالکل ضعیف و نامقبول ہے تواس سے میں غیر متفق ہوں۔۔۔
    اور میری رائے بھی یہ نہیں کہ جماہیر اہل علم مرسل کوقبول کرتے ہیں ۔۔لیکن یہ ہے کہ اکثر اس کو حجت سمجھتے ہیں ۔
    واللہ اعلم۔
    بات چونکہ مرسل کی حجیت پہ تو نہیں کرنی تھی ۔۔۔اس سے کتب بھری ہوئی ہیں۔۔اس لئے سوچا تھا کہ مختصر ہو ۔۔۔لیکن کچھ طویل ہوگئی ۔۔اس کے لئے معذرت ۔۔۔
    اللہ تعالیٰ کوئی کمی کوتاہی ہو تو درگزر فرمائے ۔۔ اور بے علمی کی وجہ سے کسی لفظ و عبارت یا مراد سمجھنے یا لکھنے میں نا انصافی ہوئی ہو تو مجھے سیدھے راستہ پر لائے ۔۔آمین۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں