1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدثین کا حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا اجتہاد تھا ؟ اور ان کی تصحیح یا تضعیف کو ماننا ان کی تقلید ہے ؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Rashid Yaqoob Salafi, ‏جون 25، 2012۔

  1. ‏اپریل 21، 2014 #21
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    حیرت ہے۔
     
  2. ‏اپریل 22، 2014 #22
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    حیرت ہے
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 22، 2014 #23
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    کیا امام صاحب مجتہد فی المذہب ہی پیدا ہوئے تھے؟

    یہ ایک ڈھونگ ہے۔ اور ڈھول ہے جو رچایا اور بجایا جاتا ہے۔ نہ کوئی سر ہے اور نہ پیر
     
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 22، 2014 #24
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ سارے جہاں کو معلوم ہے کہ تقلید نقل کو کہتے ہیں۔ ایسا نقل جس میں آپ کسی کی پیروی کرتے ہیں اسکے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ شماریہ بہن بھائی تو آپ بتائیں تقلید کیا مطلب ہے آپ بتا دیں
     
  5. ‏اپریل 22، 2014 #25
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    میرے محترم بھائی!
    یہاں تقلید اصطلاحی کی بات ہو رہی ہے۔ لغوی تقلید کے طور پر تو آپ کی بات بجا ہے لیکن ہم اس کی بات نہیں کر رہے۔

    براہ کرم اگر آپ کو اختلاف ہے تو میری اصلاح فرمائیے۔
     
  6. ‏اپریل 22، 2014 #26
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
    taqled ka laghvi matlab.jpg
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 22، 2014 #27
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    آپ نے جو ان الفاظ میں چند لائنیں لکھیں ہیں۔
    آپ کا یہ اپنا خیال ہے۔(کیونکہ آپ نے میرا خیال ہے کہ الفاظ لکھے ہیں) یا پھر آپ تقلید کی یہ اصطلاحی تعریف مانتے ہیں۔؟ اور ثابت بھی کرسکتے ہیں؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 23، 2014 #28
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    ہمارے معنی کی تائید لولی آل ٹائم نے بھی کردی ۔ اصلاحی تعریف بھی کوئی کردیگا بھائی یہاں پر
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 24، 2014 #29
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    قيل في بعض شروح الحسامي: التقليد اتّباع الإنسان غيره فيما يقول أو يفعل معتقدا للحقية من غير نظر إلى الدليل
    الکشاف

    حسامی کی بعض شروحات میں کہا گیا ہے: تقلید ایک انسان کی دوسرے کی اتباع کرنا ہے قول یا فعل میں اس کو حق سمجھتے ہوئے دلیل میں غور کیے بغیر۔

    گڈ مسلم بھائی اب اسے اس جگہ خود فٹ کر کے دیکھ لیں۔
    لولی بھائی جزاک اللہ خیرا۔ اصطلاحی ابحاث میں اصطلاحی تعریفات ہی کی جاتی ہیں لغوی نہیں۔
     
  10. ‏اپریل 24، 2014 #30
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ خیرا محترم بھائی میں بھی اپنی سمجھ اور علم کے مطابق دلائل تو دے سکتا ہوں حقیقی غلط صحیح تو اللہ تعالی ہی جانتا ہے کہ کون ہے ہاں ہم جتنی چیز کے مکلف بنائے گئے ہیں اور ہمیں جتنی نعمت (عقل و علم) دی گئی ہے اسکے تحت ہم غلط درست کا ایک نظریہ قائم کر سکتے ہیں اور اس میں بھی اللہ تعالی نے ہمیں ہماری سمجھ سے زیادہ مکلف نہیں بنایا واللہ اعلم

    محترم بھائی میرے خیال میں یہ بات بالکل تقلید میں نہیں آتی جس کے لئے میں نے اوپر بدعت والی مثال دی ہے کہ جو چیز کسی شرعی حکم کا ذریعہ بن رہی ہوتی ہے وہ بھی بالواسطہ شرعی حکم بن جاتی ہے جیسے پانی پلانے کے حکم میں گلاس اٹھانا اور پھر ٹوٹی کھولنا وغیرہ خود بغود آ جاتا ہے کیونکہ اس پر عمل کے بغیر پانی پلانا ہی ممکن نہیں اسی طرح نحو و صرف کا علم بالواسطہ شرعی حکم بن جاتا ہےکیونکہ اسکے بغیر بہت سے بلا واسطہ شرعی احکامات پر عمل ممکن نہیں مثلا ولقد یسرنا القران لذکر فھل من مدکر پر عمل کے لئے بھی بہت سے علوم کی ضرورت پڑتی ہے بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ کہتے ہیں کپ قرآن کو سمجھنے کے لئے سولہ علوم کی ضرورت پڑتی ہے

    اسی طرح بلغو عنی ولو ایۃ ایک بلا واسطہ شرعی حکم ہے اس پر ہم نے عمل کرنا ہے
    مگر سامنے ایک اور بلا واسطہ شرعی حکم نظر آ جاتا ہے کہ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار
    پس ڈر لگتا ہے کہ کہیں اسکی خلاف ورزی نہ ہو جائے تو اس بارے میں قرآن و حدیث کے بلا واسطہ احکامات سے وضاحت طلب کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے
    ان جاءکم فاسق --------
    یعنی ہمیں تحقیق کرنے کا حکم ملتا ہے
    اب تحقیق کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے اسکے لئے ہمیں قرآن و حدیث سے عقل کو استعمال کرنے اور لوگوں سے پوچھنے کا حکم ملتا ہے
    محترم بھائی یاد رکھیں عقل کا استعمال شریعت میں مطلقا منع نہیں ہے بلکہ یہ بھی بعض دفعہ جمہور کے نزدیک شریعت کا ایک ماخذ کہلاتا ہے جیسے قیاس ہے جس کو جمہور مانتے ہیں پس اس میں عقل ہی استعمال ہوتا ہے اور دیکھیں قیاس کو حجت نہ ماننے والوں کو دلیل بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے دی جاتی ہے کہ انھوں نے بھی قیاس (عینی عقل کا استعمال) کیا تھا پس قیاس حجت ہے
    تو میرے بھائی جب قیاس کی اصل بنیاد عقل اور مشاہدہ ہے تو قیاس کے حجت ہونے سے عقل حجت کیوں نہیں ہو سکتی
    البتہ معتزلہ کی طرح ہم نہیں کہتے کہ جو عقل کو نقل پر مقدم رکھتے تھے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ عقل کو نقل کے تابع رکھنا ہے مگر مطلقا ممنوع نہیں قرار دینا

    اب دیکھنا یہ ہیں کہ اوپر موضوع میں کیا عقل اور مشاہدہ کا ہی استعمال ہو رہا ہے اور وہ نقل کے تابع بھی ہے کہ نہیں
    تو میرے بھائی صرف اور نحو میں جو اصول بنائے جاتے ہیں وہ بھی تمام کے تمام عقل اور مشاہدہ کے تابع ہوتے ہیں اسی طرح اسماء الرجال کا علم بھی عقل اور مشاہدہ کے تابع ہوتا ہے
    پس جس طرح ہمیں کچھ شرعی احکام تک پہنچنے کے لئے عقلی طور پر وضع کیے گئے علم النحو اور علم الصرف کو شرعی بلواسطہ حجت ماننا پڑتا ہے اسی طرح ہمیں بلغو عنی ولو ایۃ وغیرہ کے شرعی احکامات کی بجاآوری کے لئے بھی اسماء الرجال جیسے عقل سے وضع کیے جانے والے علم کو شرعی حجت سمجھنا پڑتا ہے

    پس ہم جب اسماءالرجال میں کسی محدث کی عقلی تحقیق کو مانتے ہیں تو وہ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے علم النحو میں کسی نحوی کی عقلی تحقیق کو مانتے ہیں

    Dua بہنا نے بھی شاید وضآحت پوچھی تھی کہ پھر کس کی تحقیق پر عمل کریں تو جیسے شروع میں بتایا گیا ہے کہ ہم اپنی سمجھ کے مکلف ہوتے ہیں جتنا سمجھ آتا ہے اسکی تحقیق کر لیں باقی میں ہم دوسرے کی بات پر اعتبار کر لیں یعنی کہیں اہل حدیث کو بھی تقلید کرنی پڑتی ہے واللہ اعلم
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں