1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدث صحابہ(رضی اللہ تعالٰی عنہم)

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏مئی 18، 2013۔

  1. ‏مئی 18، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تعداد بہت زیادہ ہے اور صحیح طور پر اس کی تعین نہیں کی جا سکتی ۔علماء نے اندازہ سے ان کی تعداد بتائی ہے صحیح عدد معلوم نہیں ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہنے کے واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ اصحاب ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کسی کتاب میں ان کی گنتی مذکور نہیں ۔(صحیح بخاری)محدث ابو زرعہ سے دریافت کیا گیا کہ یہ بات کہاں تک درست ہے کہ احادیث نبویہ کی تعداد چار ہزار ہے؟ فرمانے لگے یہ زنادقہ کا قول ہے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کون شمار کر سکتا ہے؟ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ موجود تھے اور ان سب نے آپ سے حدیثیں سنیں اوعر روایت کیں۔ پھران سے سوال کیا گیا یہ صحابہ کہا تھے اور انہوں نے کس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں سنیں؟فرمانے لگے صحابہ مکہ ومدینہ اور ان کے آس پاس بودو باش رکھتے تھے ۔کچھ دیہاتی تھے اور وہ بھی جو حجۃ الوداع کے موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات کے میدان میں دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی سنے۔
    مندجہ صدر بیانات اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ حدیثیں روایت کرنے والے صحابہ کی تعداد بہت زیادہ ہے لہٰذا ہم صرف انہی صحابہ کا ذکر کریں گے جو روایت حدیث میں شہرت رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ان کے مختصر سیر وسوانح بھی بیان کریں گے۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:
    اسم گرامی عبدالرحمن بن صخر اور کنیت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔ ۷ھ ماہ محرم میں غزوئہ خیبر والے سال مشرف بااسلام ہو کر زیارت نبوی کی سعادت حاصل کی ۔امام شافعی اور دیگر محدثین کے قول کے مطابق یہ صحابہ میں سب سے بڑے حافظ حدیظ تھے ۔حالانکہ ان کو صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی سعادت بہت کم حاصل ہوئی بہت کم عرصہ صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مستفید ہونے کے باوجود ان کے کثیرالرواےۃ ہونے کے وجوہ اسباب حسب ذیل ہیں۔
    ۱۔ یہ ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر رہتے تھے اور شاذونادر ہی غیر حاضر ہوتے تھے ۔بخاری ومسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیثیں بہت رواےت کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ میں ایک مسکین آدمی تھا پیٹ بھر کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نے کے سوا مجھے کوئی کام نہ تھا ۔ مہاجرین بازار میں کاروبا کرتے تھے اور انصارِ مدینہ اپنے مالوں کی حفاظت میں مصروف رہا کرتے تھے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے میرے بات ختم کرنےتک طادر پھیلائے اور پھر اسے سمیٹ لے اور پھر اس کے بعد اسے سنی ہوئی بات کبھی نہ بھولے یہ سن کر میں نے طادر بچھادی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلئہ کلام ختم کیا تومیں نے وہ چادر سمیٹ لی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کے بعد مجھے کوئی بات نہیں بھولی۔(بخاری ومسلم)
    ۲۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحصیل علم کے بڑے دلدادہ تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی تھی کہ انہیں نسیان کی بیماری لاحق نہ ہو ۔یہی وجہ ہے کہ وہ صرف تین سال صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہنے کے باوجود کثرت روایت میں سب صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر فوقیت لے گئے تھے ۔امام نسائی نے باب العلم میں روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر چند مسائل دریافت کئے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھئے پھر انہوں نے یہ واقعہ سنایا کہ ایک دن میں ا بو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوعر ایک شخص مسجد میں بیٹھے ذکر الٰہی میں مصروف تھے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر ہمارے پاس بیٹھ گئے ہم خاموش ہوگئے فرمایا جو کام آپ کررہے تھے اسے جاری رکھئے زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھی نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے دعا مانگی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہی پھر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا مانگی اور کہا اے اللہ میرے ساتھیوں نے جو تجھ سے طلب کیا ہے میں وہ طلب کرتا ہوں اور تجھ سے ایسے علم کا طالب ہوں جو فراموش نہ ہونے پائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہی حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم بھی اللہ سے نہ بھو لنے والے علم کے خواستگار ہیں ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسی (ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)لڑکا اس بات میں تم پر فضیلت لے گیا۔(سنن نسائی)
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ روز قیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کس کو نصیب ہوگی ؟حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال تھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے کوئی شخص مجھ سے یہ سوال نہیں کرے گا ۔اس لئے کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہحدیثوں کے بہت مشتاق ہیں ۔میری شفاعت کی سعادت سب سے بڑھ کر روز قیامت اس شخص کو نصیب ہوگی جو خلوص دل سے لا الہ الا اللہ پڑھے۔(بخاری)

    ۳۔ کثرت روایت کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مل کر استفادہ کیا تھا ۔اس لئے ان کا علم کامل اور وسعت پذیر ہو گیا ۔
    ۴۔ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد طویل عمر پائی ،آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سینتالیس سال بقید حیات رہ کر حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشرو اشاعت کرتے رہے ،آپ مناصب ومشاغل اور فتنوں سے دور رہے۔
    مندرجہ صدر وجوہ اسباب کے پیش نظر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہمیں عظیم تر حافظ حدیث تھے اور حدیث کے اخذ و تحمل اوعر رویت دونوں میں سب صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر فائق تھے ۔ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بحیثیت مجموعی جن احادیث کے حافظ تھے وہ انفرادی طور پر تمام یا اکثر صحابہ کو یاد تھیں ، یہی وجہ ہے کہ اکثر صحابہرضی اللہ تعالٰی عنہپیش آمدہ مسائل حل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب رجوع کرتے اور ان پر اعتماد کیا کرتے تھے ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کے موقع پر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث محفوظ رکھا کرتے تھے ۔ بقول امام بخاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قریباً آٹھ سو اہل علم صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم و تابعین نے حدیثیں روایت کی ہیں ۔
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پانچ ہزار تین سو چوہتر (۴۷۳۵)احادیث مروی ہیں ،ان میں سے بخاری مسلم میں تی سو پچیس روایات ہیں ۔صرف بخاری میں ترانوے اور صرف مسلم میں ایک سو چوراسی حدیثیں ہیں ،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ میں ۷۵ھ میں بعمر اٹھتر سال وفات پائی۔

    ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

    نام ونسب سعد بن مالک بن سنان خدری انصاری خزرجی ہے،ان کے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے اور کوئی ورثہ باقی نہ چھوڑا اس طرح ابو سعید بچپن ہی میں عسرت وافلاس کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے ،مگر ان کی اقتصادی بد حالی ان کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہو کر استفادہ کرنے سے باز نہ رکھ سکی ،چنانچہ یہ بڑے ذوق وشوق کے ساتھ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحصیل کرتے رہے اور احادیث کا اس قدر ذخیرہ جمع کیا کہ ان جیسی معاشی مشکلات میں مبتلا کوئی شخص اس باب میں ان کا حریف ثابت نہ ہو سکا ،حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار کثیرالرواےۃاور محدث وفاضل صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہمیں ہوتا ہے۔
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونسٹھ سال زندہ رہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے کبار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے حدیثیں اخذ کیں اور انہیں لوگوں تک پہنچایا ،اسی لئے ان کی مرویات ایک ہزار ایک سو ستر تک پہنچ گئیں،ان میں سے چھیالیس احادیث بخاری و مسلم دونوں میں ہیں ،سولہ احادیث کے روایت کرنے میں امام بخاری منفرد ہیں امام مسلم باون احادیث کے رویت کرنے میں منفرد ہیں ۔
    حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کثیر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم وتابعین رحمہ اللہ تعالٰی نے حدیثیں روایت کی ہیں ، صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ میں سے آپ سے حضرت جابر، زید بن ثابت،ابن عباس ،انس بن عمر، اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے روایت کی ہیں ،تابعین میں سے سعید بن المسیب ،ابو سلمہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ،عطا بن یسار اور دیگر حضرات نے استفادہ کیا ہے ۔
    حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارہ غزوات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی ان میں سب سے پہلا غزوئہ خندق ہے یہ بڑے بے باک حق گو تھے اور کسی کی پروانہ کرتے تھے ، حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےمدینہ میں ۴۷ھ بعمر اسی سال اور کچھ زائد وفات پائی، حضرات صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہان کو بڑی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

    حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :


    نام ونسب جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری ہے ،آپ کے والد بھی صحابی تھے یہ بڑے کثیر الروایۃ صحابی تھے۔
    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کثیر صحابہ مثلاًحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے حدیثیں روایت کیں ،حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کے بیٹوں ،عبدالرحمن ،عقیل ،محمد،اور اکابر تابعین مثلاًسعید بن المسیب عمر وبن دینار حسن بصری وغیرہ ہم نے استفادہ کیا،۔
    حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد غزوہ احد میں شہادت سے سرفراز ہوئے اور پسماندگان میں چند کم عمر بیٹیاں چھوڑگئے علاوہ ازیں واجب الادقرض بھی با قی چھوڑا جس کی وجہ سے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث عسرت وافلاس کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے ،مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کرم نوازی سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر کا قرض ادا کردیا۔ مگر صعوبات اور مشکلات یہ ہجوم حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث نبو ی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخذ واستفادہ سے باز نہ رکھ سکا ،چنانچہ آپ تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ صغیر لاسن تھے،اور آپ نے اس کے بعد طویل عمر پائی اور کبار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے ملے ،اس لئے آپ کو حدیث نبو صلی اللہ علیہ وسلم کے اخذ وتحمل اور نشرواشاعت کا خوب موقع ملا ۔مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کا ایک حلقہ تھا لوگ اس میں حاضر ہو کر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔
    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونسٹھ سال تک زندہ رہے آپ نے یہ مدت حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت واشاعت میں گزاری آپ کی مرویات کی تعداد ایک ہزار پانچ سو چالیس ہے ۔بخاری ومسلم ساٹھ احادیث کے رویت کرنے پر متفق ہیں چھبیس احادیث کے رویت کرنے میں بخاری منفرد ہیں اور صحیح مسلم نے صرف ایک سو چھبیس احادیث روایت کی ہیں۔
    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصاف ومناقب بے شمار ہیں چنانچہ بخاری ومسلم خودان سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صلح حدیبیہ کے روز فرمایا تم آج روئے زمین کے لوگوں سے افضل ہو ہماری تعداد اس دن چودہ تھی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اگر میری نظر تو میں تہمیں اس درخت کی جگہ دکھاتا (جس کے نیچے بیٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی)عمر کے آخری حصہ میں آپ نابینا ہوگئے تھے آپ نے ایک قول کے مطابق ۸۷ھ میں وفات پائی ۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ:


    نام ونسب انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہبن نضر انصار خزرجی ہے،یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے اگے چل کر بصرہ میں سکوبت گزیں ہوگئے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان کی والدہ ام سلیم ان کو آپ کی خدمت میں لائیں او رکہا کہ یہ لڑکا آپ کی خدمت کریگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیش کش کو قبول فرمایا۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں انس بن مالک کو اپنے والد کا نعم البدل مل گیا چنانچہ وہ خانوادہ نبوت میں پروان چڑھے اور ان امور کو بچشم خود دیکھا جن کا مشاہدہ دوسرے لوگ نہ کرسکے سرور کائنات کے افعال واحوال سے پوری طرح باخبر تھے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تراسی برس زندہ رہے اس عرصہ میں ان کو احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم .کے اخذ واستفادہ اور نشرو اشاعت کا خوب موقع ملامدینہ منورہ کے بعد یہ بصرہ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے چنانچہ کثیر تابعین ائمہ حدیث مثلاً حسن بصری، ابن سیرین، حمید الطویل،ثابت بنانی وغیرہم نے ان سے خوب استفادہ کیا ،حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک ہزار دو سو چھیاسی احادیث منقول ہیں بخاری ومسلم ان میں سے ایک سو اڑسٹھ احادیث رویت کرنے میں متفق ہیں صرف صحیح بخاری میںتراسی احادیث ہیں اور مسلم میں صرف اکہتر۔
    امام بخاری اپنی تاریخ میں قتادہ سے رویت کرتے ہیں کہ جب حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی تو مورق نے کہا آج سے آدہا علم رخصت ہوگیا ان سے دریافت کیا گیا یہ کیوں کر؟ کہنے لگے جب کوئی بدعتی شخص حدیث کے بار میں ہماری مخالفت کرتا تو ہم کہتے آئو اس شخص کے پاس جس نے یہ حدیث خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات بصرہ سے چار میل دور وقوع پذیر ہوئی آپ کو اس جگہ دفن کیا گیا جسے قصرانس کتے ہیں بقول صحیح تو آپ کی وفات ۳۹ھ میں ہوئی۔

    ام امؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا:

    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دختر نیک اختر امہات امؤمنین میں سے ایک ہیں،آپ کی ولادت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے دو سال بعد مکہ میں ہوئی ،احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضو رصلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے ساتھ عقد نکاح کیا ان کی عمر چھ سال تھی جب نو برس کی ہوئیں تو اپنے گھر میں آباد ہوئیں یہ ماہ شوال اور ہجرت کے سال اول کا واقعہ ہے ،ایک قول کے مطابق حضرت عائشہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر سے واپس آکر ہجرت کے دوسرے سال شرف خانہ آبادی بخشا۔
    زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کی حیثیت سے جو شرف صحبت حضرت عائشہ کو میسر تھا وہ آپ کے لے تحصیل علم کے سلسلہ میں بڑا مفید ثابت ہوا ،اس کے ساتھ ساتھ آپ کی ذہانت وفطانت اور فراست رغبت علم نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ،چنانچہ حضرت عائشہ نے احادیث نبویہ اور علوم القرآن میں دسترس حاصل کرلی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہکے مابین جب بھی کسی مسئلہ میں اختلاف رونما ہوتا وتو ان کی جانب رجوع کیا جاتا ، اس میں حیرت واستعجاب کی کوئی بات نہیں کہ کبار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کے چشمہ فیض سے اپنی علمی پیاس بجھائی ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے حدیثیں رویت کیں ،مزید برآں حضرت عائشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انتالیس سال تک بقید حیات رہیں اور لوگ آپ کے بحر علم سے مستفیض ہوتے رہے۔
    بنابریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کثیر الروایۃ ہونا کچھ بھی محل تعجب نہیں ،چنانچہ آپ سے دوہزار دوسو دس احادیث مروی ہیں ، ان میں سے بخاری ومسلم ایک سو چوہتر احادیث رویت کرنے میں متفق ہیں،بخاری چون احادیث رویت کرنے میں منفرد ہیں اورامام مسلم چونسٹھ روایات ،مسروق تابعی کا قول ہے کہ میں نے اکابر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہکو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تقسیم وراثت کے مسائل دریافت کرتے دیکھا ہے ،آپ نے ۷۵ھ میں وفات پائی۔


    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

    نام ونسب عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ بن عبدالمطلب ہے ،یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم چچا زاد بھائی تھے اور ام امؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہبنت حارث کے بھانجے تھے بقول صحیح تو ہجرت سے تین سال قبل پیدا ہوئے ۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ان وقت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر صرف تیرہ برس تھی ۔احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سینہ سے لگا کر یہ دعا فرمائی کہ ’’اے اللہ اسے حکمت سکھا سے‘‘
    چونکہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار اور صغیر السن تھے ،اس لئے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آنے جانے کے بکثرت مواقع حاصل تھے ۔اسی وجہ سے آپ صحابہ میں بڑے کثیر الرواےۃ مشہور تھے۔ مزید برآں آپ کے اندر تحصیل علم کا جو طبعی ذوق پایاجاتا تھا ۔اس نے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی شفقت کامرکز بنادیا تھا چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی ۔یہ تمام عوامل ومحرکات اس جلیل القدر صحابی کی شخصیت پر اثر انداز ہوئے اور ان کے زیر اثر ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ترجمان القرآن حبر الامت کے نام سے مشہور ہوئے اور آپ کو کثیر الرواےۃ صحابہ میں شمار کیا جانے لگا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اٹھاون برس تک زندہ رہے ۔اس طویل مدت میں آپ نے صغار وکبار سے خوب خوب استفادہ کیا ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ رویت کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو میں نے ایک انصاری سے کہا ’’آج کل بکثرت صحابہ بقید حیات ہیں ،آئے ان سب سے کسب فیض کریں ،وہ کہنے لگے ’’تعجب کی بات ہے کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ آپ کے پاس دینی مسائل دریافت کرنے کے لئے آیا کریں گے؟ابن عباسرضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں میں نے اس شخص کو نظر انداز کر کے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے استفادہ کرنے گا اغاز کردیا ۔بسا اوقات ایسا ہوتا کہ کسی شخص کے بارے میں مجھے پتہ چلتا کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث یاد ہے ،چنانچہ جب میں اس کے گھر کے دروازہ پر پہنچتا تو وہ سو رہا ہوتا ،میں اسی حالت میں اپنی چادر کو تکیہ بنائے اس کے دروازہ کے سامنے لیٹ جاتا ،ہوا کے جھونکے آتے اور مجھ پر مٹی اڑاتے ہوئے گزر جاتے ۔گھر کا مالک باہر نکل کر دیکھتا تو کہتا اے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی کیسے تشریف فرما ہوئے؟ آپ نے مجھے کیوں نہ بلا لیا ؟میں اس کے جواب میں کہتا کہ نہیں مجھے ہی آنا چاہیئے تھا ،میں آپ سے ایک حدیث کے بارے دریافت کرنے آیا ہوں۔سابق الذکر انصاری شخص اس وقت بقید حیات تھے اس نے بچشم خود دیکھا کہ لو گ میرے ارد گرد کھڑے مجھ سے دینی مسائل دریافت کررہے ہیں انصاری کہنے لگا ’’یہ نو جوان مجھ سے زیادہ دانشمند نکلا۔
    مندرجہ واقعہ اس حقیقت کی آئینہ داری کرتا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کس قدر ذہین وفطین تھے اورحدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہیں کس قدر والہانہ شغف تھا ،اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں امامت کے درجہ پر فائز تھے اور ان پر ہر وقت حدیث کی نشرواشاعت کی دہن سوار رہتی تھی ۔لوگ آپ کے ارد گرد جمع ہوتے اور آپ سے حدیثیں سنتے تھے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حالت تھی کہ علمی مہارت وحذاقت کے باوجود انہیں جب کسی دقیق دینی مسئلہ سے سابقہ پڑتا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہتے’’ہمیں ایک پیچیدہ مسئلہ سے واسطہ پڑا ہے حل کیجیئے ‘‘پھر جو حل ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیش کرتے اسے قبول فرماتے۔
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ متعدد علوم مثلاً حدیث وفقہ وتاویل وحساب علم الفرائض اور عربیت میں دیگر اصحاب پر فائق تھے ۔آپ کا معمول یہ تھا کہ ایک دن صرف فقہی مسائل بیان کرتے ،ایک دن تاویل وتفسیر کے لئے،ایک دن مغازی کے لئے اور ایک دن ایام العرب بیان کرنے کے لئے مخصوص کررکھاتھا۔ جس عالم کو بھی آپ کی ہم نشینی کا موقع ملا آپ کے علم سے متاثر ہوا اور جو مسئلہ بھی پوچھا اس کا جواب ملا ۔مشہور تابعی طائوس سے سوال کیا گیا کہ آپ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو چھوڑ کر اس نوجوان (ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کے وابستئہ دامن کیوں کر ہوگئے ؟کہنے لگے ‘‘میں نے ستر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہکو دیکھا ہے جب ان کے یہاں کوئی مسئلہ میں نزاع پیدا ہوتا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب رجوع کرتے۔‘‘
    خلاصہ یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم حدیث میں تنہا ایک جماعت کے برابر تھے ۔آ پ کی مرویات کی تعداد ایک ہزار چھ سو ساٹھ ہے۔ ا ن میںسے پچانوے احادیث بخاری ومسلم دونوں نے رویت کی ہیں ۔امام بخاری ایک سو بیس احادیث رویت کرنے میں منفرد ہیں اور امام مسلم انچاس روایات میں۔
    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا حضرت علی کی شہادت سے قبل آپ نے یہ منصب ترک کردیا اور حجاز لوٹ آئے زندگی کے باقی دن آپ نے مکہ میں گزارے ۔وہاں لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم دیتے رہے آپ نے طائف میں ۸۶ھ میں وفات پائی۔

    حضرت عبداللہ بن عمر :

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بچپن ہی میں مشرف با اسلام ہو گیٔے تھے اپنے والد کے ساتھ ہجرت مدینہ کی سعادت حاصل ہوئی ایک قول کے مطابق اپنے والد سے پہلے ہجرت کی غزوئہ احد خندق اورا س کے بعد وقوع پذیر ہونے والے غزوات میں شرکت کی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یرموک ،فتح مصر،اور افریقہ میں شریک ہوئے ۔یہ حدردجہ متبع سنت تھے
    حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،اپنے والد ،اپنے چچا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ہمشیرہ ام امؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نیز حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،بلالرضی اللہ تعالیٰ عنہ ،زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ ،عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،رافع بن خدیج ودیگر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہسے حدیثیں رویتکیں۔عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اغر مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور دیگر بزرگوں نے آپ سے استفادی کیا ،تابعین میں سے آپ کے چاروں بیٹے بلال وحمزہ وسلم وعبداللہ آپ کے آزاد کردہ غلام نافع نیز حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام اسلم اور ان کے دونوں بیٹے زید وخالد اور علاوہ ازیں عروہ بن زبیر اور دیگر اکابر نے آپ سے حدیثیں رویت کیں۔
    زبیر بن بکار فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتے اسے یاد کرلیتے ۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہ ہوتے تو عبداللہ دوسروں سے آپ کے اقوال وافعال کے بارے میں دریافت کرتے ۔امام زہری فرماتے ہیں کہ کوئی شخص ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نظریات کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساٹھ سال تک زندہ رہے۔ اس لئے ان سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہکی کوئی بات پوشیدہ نہ تھی (بیہقی فی الدخل)۔
    امام مالک رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ حضر ت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ساٹھ سال تک بقید حیات رہے،لوگوں کے وفد ان کی خدمت میں حاضر ہو کر دینی مسائل دریافت کیا کرتے تھے ۔حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سے دور رکھا تھا اور ان کی حیثیت اصحاب شورٰی میں صرف ایک مشیر کی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امور سلطنت سے الگ رہے اور صحابہ کے مابین وقوع پذیر ہونے والے فتنوں سے جدارہ کر علم وعبادت کے دامن سے وابستہ رہے۔ ان کا شمار کثیر الروےۃ صحابہ میں ہوتا ہے۔اس کے وجوہ اسباب حسب ذیل ہیں ۔۱۔یہ بہت پہلے اسلام لائے اور طویل عمر پائی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجالس میں باقاعدگی کے ساتھ شریک رہے۔ حد درجہ کے متبع سنت تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں دوسروں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال واقوال کے بارے میں دریافت کیا کرتے تھے یہ جملہ امور اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ علم او خصوصاً حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ حدی درجہ شغف رکھتے تھے۔۲۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار تھے ۔ ان کی ہمشیرہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں ۔ اس لئے ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملنے جلنے کے بکثرت مواقع ملے تھے۔۳۔یہ دنیوی امو ر اور دولت وثروت کے حریص نہ تھے صحابہرضی اللہ تعالٰی عنہکے مابین جو لڑائیاں ہوئیں آپ ان میں غیر جانبدار رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو حدیثیں سیکھنے اور ان کو دوسروں تک پہنچانے کا بڑا وقت ملا۔
    متذکرہ صدر وجوہ واسباب کے پیش نظر آپ کثیر الروےۃ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہمیں شمار ہوتے ہیں آپ سے ایک ہزار چھ سو تیس احادیث منقول ہیں ۔بخاری ومسلم ان میں سے ایک سو ستر احادیث رویت کرنے میں متفق ہیں۔ بخاری اکاسی احادیث رویت کرنے میں منفرد ہیںاور مسلم اکتیس روایات ۔ باقی احادیث دیگر محدثین نے روایت کی ہیں۔
    آپ نے ۳۷ھمیں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے تین ماہ بعد بعمر ستاسی سال وفات پائی۔

    حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ:

    نام نسب عبداللہ بن عمر و بن العاس کنیت ابو محمد اور نسبت قرشی سہمی ہے۔ اپنے والد سے پہلے مشرف باسلام ہوئے۔بڑے عابد زاہد اور کثرت سے تلاوت قرآن کرنے والے تھے ۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ لگائو تھا۔ امام بخاری نے کتاب العلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کیا ہے کہ صحابہرضی اللہ تعالٰی عنہمیں عبداللہ بن عمر وبن العاص کے سوا اور کوئی شخص مجھ سے بڑھ کر حدیثیں نہیں جانتا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھ لیا کرتے تھے ،اور میں لکھتا نہ تھا۔ (صحیح بخاری)
    حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیر سے کہا مجھے پتہ چلا ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص یہاں سے گزر کر حج کو جانے والے ہیں ۔ ان سے مل کر دینی مسائل دریافت کیجئے ۔اس لئے کہ ان کے پاس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بکثرت احادیث محفوظ ہیں ۔ابن سعد مجاہد سے رویت کرتے ہیں کہ میں نے عبدا للہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک صحیفہ دیکھا۔ جب اس کے بارے میں ان سے دریافت کیا گیا تو کہا یہ ’’ صادقہ ‘‘ہے ۔اس میں وہ احادیث محفوظ ہیں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بلا واسطہ سنی تھیں۔ (طبقات ابن سعد)
    ابن سعد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا میں وہ احادیث لکھ لیا کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا ہوں ؟جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی تو میں نے لکھنے کا آغاز کردیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اپنے پاس تحریر کردہ رسالہ کو’’صادقہ‘‘ کہا کرتے تھے ۔
    مندرجہ صدر امور سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہکے یہاں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخذ وتحمل کے متعدد اسباب جمع ہوگئے تھے ۔ جو دوسروں کو میسر نہ آئے تھے مثلاًیہ کہ آپ قدیم الاسلام تھے ۔احادیث نبویہ کو حفظ بھی کرتے تھے اور اپنے قلم کے ساتھ تحریر بھی کرلیا کرتے تھے چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ایک ہزار حدیثیں روایت کیں۔
    اب سوال یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حدیثیں لکھا نہیں کرتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول احادیث کی نسبت کئی گنا ہیں ۔صحیح بخاری کی جو روایات ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہیں اس سے بھی مستفاد ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زیادہ حدیثیں یاد تھیں ۔پھرابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلہ میں کیوں زیادہ ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات کی کثرت اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول احادیث کی قلت کے وجوہ حسب ذیل ہیں۔ ۱۔اسلامی فتوحات کے بعدحضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ تو مصر اور طائف میں قیام پذیر رہے ظاہر ہے کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے طلبہ کی اکثریت عازم مدینہ ہوا کرتی تھی ۔مصر میں طلبہ کی اتنی کثرت نہ تھی۔ بخلاف ازیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہمدینہ میں سکونت گزیں رہ کر اشاعت حدیث اور فتویٰ کا مرکز بنے رہے۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے آٹھ سو تابعین نے حدیثیں روایت کیں ۔جب کہ دیگر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہکو یہ سعادت حاصل نہ ہوئی۔۲۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تعلیم وتدریس کی نسبت زیادہ تر عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے ۔بخلاف ازیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی زندگی اشاعت حدیث کے لئے وقف کر دکھی تھی۔۳۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں دعا فرمائی تھی کہ جو بات سنیں انہیں یار رہے اوربھولنے نہ پائیں۔۴۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملک شام میں اہل کتا ب کی چند کتابیں دستیاب ہوئی تھیں وہ ان کو پڑھتے اور ان کے بعض جملوں کو خوب یاد رکھتے اور دوسروں کو سناتے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ائمہ تابعین آپ سے روایت کرنے میں احتراز کرنے لگے۔
    ان اسباب کے پیش نظر جو احادیث آپ سے مروی ہیں وہ آپ کے علم کی وسعت وکثرت کے مقابلہ میں بہت کم ہیں ۔چنانچہ آپ سے صرف سات سو احادیث منقول ہیں ۔بخاری ومسلم نے ان میں سے بالاتفاق سترہ احادیث روایت کی ہیں ۔ان میں سے بخاری میں آٹھ احادیث ہیں اور مسلم میں بیس روایات۔
    حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بکثرت تابعین نے حدیثیں روایت کی ہیں ۔ مثلاً سعید بن المسیب وعروہ۔عبدالرحمن کے دونوں بیٹوں ابو سلمہ اور حمید نیز مسروق وغیرہم۔آپ نے ۳۶ ھ میں مصر میں وفات پائی۔ اس وقت آپ کی عمر بہتر سال تھی یہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تریپن سال زندہ رہے۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ:

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو عبدالرحمن ہے ان کا نسب ہذیل بن مدرکہ بن الیاس کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ان کی والدہ کا نام ام عبد بنت عبد و د بن سواء ہذیل ہے۔یہ مشرف باسلام ہوئیں اور ہجرت کی سعادت حاصل کی ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدیم الاسلام تھے یہ اس وقت اسلام لائے جب سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہمشرف باسلام ہوئے تھے۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہتاہنوز اسلام نہ لائے تھے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرمایا کرتے تھے۔
    ’’میں چھٹا مسلمان تھا ،ہمارے سوا روئے زمین پر اور کوئی مسلمان نہ تھا‘‘۔
    آپ نے پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت فرمائی ۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں غزوات بدر واحد،خندق،بیعت الرضوان اور دیگر لڑائیوں میں شرکت کی ۔وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی تھے جس نے غزوئہ بدر میں ابو جہل پر حملہ کر کہ اس کا سر کاٹ لیا تھا۔آپ نے غزوئہ یر موک میں بھی شرکت کی سعادت حاصل کی ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کی حفاظت کا شرف ان کے حصے میں آیا تھا ۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہناتے ،جب بیٹھ جاتے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کو بغل میں دبائے رکھتے ۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بڑی کثرت سے آیا جایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے .
    حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالٰی عنہفرماتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے اور کچھ عرصہ قیام کیا ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کی والدہ اس کثرت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں جایا کرتے تھے کہ ہم ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں شمار کرنے لگے۔
    (بخاری ومسلم)

    اسلام میں سبقت کرنے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کو جو دل بستگی تھی اس کی بنا پر ان کا شمار کبار اور فضلاء فقہاء صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ہوتا تھا ۔قرآن کریم اور حدیث وفتوٰی میں یہ دوسرے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر فائق تھے ۔حتیٰ کہ خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماہع علوم قرآنیہ ہونے کی شہادت دی ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم چار صحابہ سیکھو، یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ،سالم مولیٰ ابی حذیفہ اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے۔(بخاری ومسلم)
    نعمت خداوندی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خود حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
    ’’اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کتاب اللہ کی کوئی سورت ایسی نہیں جس کے بارے میں مجھے معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں اتری اور کس ضمن میں اتری ،اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کوئی مجھ سے بڑھ کر قرآن کا کوئی عالم موجود ہے اور اونٹ وہاں تک پہنچا سکتا تو میں سوار ہو کر اس کی خدمت میں حاضر ہوتا۔(صحیح مسلم)
    کبار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہکے علم وفضل کا اعتراف کرتے تھے ۔چنانچہ حضرت عمر نے اہل کوفہ کے نام ایک خط لکھا:
    میں نے عمار کو تمہارا امیر اور عبداللہ بن مسعود کو معلم اور وزیر بنا کر بھیجا ہے ۔یہ دونوں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چیدہ اصحاب اور اہل بدر میں سے ہیں ۔ان کی پیروی کیجیئے۔عبداللہ کو تمہاری طرف بھیج کر میں نے تمہیں اپنی ذات پر ترجیح دی ہے۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت وفضیلت کے اثبات میں حضرت عمر سے بڑھ کر اور کس کی شہادت ہو سکتی ہے۔خصوصاًآپ کا یہ قول کہ ’’تم کو اپنی ذات پر ترجیح دی‘‘قابل غور ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہوہ شخص ہیں جب کے قلب وزبان پر اللہ نے حق کو جاری کردیا تھا۔وہ جب کسی رائے کا اظہار کرتے تو اس کی تائید میں قرآنی آیا ت نازل ہوجاتیں۔صاحب فضیلت کا قدر شناس وہی ہوسکتا ہے جو خود بھی فضیلت کا حامل ہو جب ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہنے وفات پائی تو حضرت ابو درداء نے کہا:
    ’’ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہنے اپنے بعد کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جو ان جیسا ہو۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے شمار لوگوں نے حدیثیں روایت کیں ،صحابہ میں سے مندجہ ذیل کے اسماء قابل ذکر ہیں۔ابو موسیٰ اشعری،عمران بن حصین،ابن عباس،ابن عمر ،جابر ،انس،ابن زبیر ،ابو سعید خدری،ابو ہریرہ، ابو رافع،رضوان اللہ علیہم اجمعین۔تابعین میں سے علقمہ،ابو وائل ،اسود،مسروق،عبیدہ،قیس بن ابی حازم،رحمہم اللہ علیہم اور دیگر اکابر نے استفادہ کیا۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آٹھ سو اڑتالیس احادیث منقول ہیں ۔بخاری ومسلم نے چونسٹھ احادیث بالاتفاق روایت کیں ہیں۔بخاری اکیس احادیث کے روایت کرنے میں منفرد ہیں اور مسلم نے پینتیس احادیث روایت کیں ہیں ۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن صفات سے متصف تھے مثلاًقدامت اسلام اور طویل صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضہ یہ تھا کہ وہ مذکورہ صدر احادیث سے زیادہ احادیث روایت کرتے ۔انہوں نے تمام عصر نبوت کو بچشم خود دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے بھو پور استفادہ کیا۔وہ حدیثیں یاد کرنے کے حریص بھی تھے اس کے ساتھ ساتھ ا ن کا حافظہ بھی بہت قوی تھا۔دنیوی سازوساما ن سے انہیں چنداں دلچسپی نہ تھی۔مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ بہت کم عرصہ تک زندہ رہے اور جس طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہکو حدیثوں کی اشاعت کے لئے طویل مدت ملی تھی ان کو نہ مل سکی ۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۲۳ھ میں ایک قول کے مطابق کوفہ اور دوسرے قول کے مطابق مدینہ میں بعمر ساٹھ سال سے کچھ زائد وفات پائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں