1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محرم الحرام کے فضائل ومسائل اور صومِ عاشوراء

'بدعی اعمال' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏ستمبر 05، 2019۔

  1. ‏ستمبر 05، 2019 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محرم الحرام کے فضائل ومسائل اور صومِ عاشوراء

    مبشر حسین لاہوری
    محدث میگزین ،شمارہ 268 ،1پریل 2003 ،صفر 1424ھ

    محرم الحرام ہجری تقویم کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی اکرمﷺکے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گویا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتدا محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہِ محرم کے جو فضائل و مناقب صحیح احادیث سے ثابت ہیں، ان کی تفصیل آئندہ سطور میں رقم کی جائے گی اور اس کے ساتھ ان بدعات و خرافات سے بھی پردہ اُٹھایا جائے گا جنہیں اسلام کا لبادہ اوڑھا کر دین حق کا حصہ بنانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں۔

    1. محرم، حرمت و تعظیم والامہینہ ہے

    قرآن مجید میں ہے کہ ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ‌ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ‌ شَهرً‌ا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ ۚ ذ‌ٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ ۚ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم...٣٦﴾... سورة التوبة

    ''اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے چار مہینے ادب و احترام کے لائق ہیں، یہی درست دین ہے لہٰذا ان مہینوں میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔''

    یعنی ابتدائے آفرینش ہی سے اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے مقرر فرما رکھے ہیں۔ جن میں چار کو خصوصی ادب و احترام اورعزت و تکریم سے نوازا گیا۔ یہ چار مہینے کون سے ہیں، ان کی تفصیل صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: ''زمانہ اپنی اسی حالت پر واپس لوٹ آیا ہے کہ جس پر وہ اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی۔ سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں، تین تو لگاتار ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا مضر قبیلے کا ماہِ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔'' (بخاری:کتاب التفسیر، سورۃ التوبہ ؛۴۶۶۲/ مسلم: کتاب القسامہ، باب تغلیظ تحریم الدماء ؛ ۱۶۷۹)

    مذکورہ حدیث میں دو باتیں قابل توجہ ہیں: ایک تو یہ کہ محرم بھی حرمت والے مہینوں میں شامل ہے اور دوسری یہ کہ زمانہ اپنی سابقہ حالت و ہیئت پر واپس لوٹ آیا ہے۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ دورِ جاہلیت میں بھی لوگ حرمت والے مہینوں کا احترام کرتے اور جنگ و جدل، قتل و غارت گری اور خون ریزی وغیرہ سے اجتناب کرتے تھے۔ البتہ اگر کبھی حرمت والے مہینے میں انہیں جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ اپنے طور پر مہینوں کی تقدیم و تاخیر کرلیتے۔ اگر بالفرض محرم کا مہینہ ہے تو اسے صفر قرار دے لیتے اور (محرم میں اپنے مقصد پورے کرنے کے بعد) اگلے ماہ یعنی صفر کو محرم قرار دے کر لڑائی جھگڑے موقوف کردیتے۔ قرآن مجید نے اس عمل کو نسیئ قرار دے کر زیادتِ کفر سے تعبیر فرمایا۔ (التوبہ:۳۷)

    جس سال نبی اکرم ﷺ نے حج فرمایا، اس سال ذوالحجہ کا مہینہ قدرتی طور پراپنی اصلی حالت پر تھا۔ اس لئے آپؐ نے مہینوں کے اَدل بدل کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ زمانہ گھوم گھما کر اپنی اصلی حالت پر واپس لوٹ آیا ہے۔ یعنی اب اس کے بعد مہینوں کی وہی ترتیب جاری رہے گی جسے اللہ تعالیٰ نے ابتداے آفرینش سے جاری فرما رکھا ہے۔

    دونوں باتوں کا حاصل یہی ہے کہ محرم ادب و احترام والامہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ادب و احترام والا بنایا جبکہ اس کے آخری رسولؐ نے اس کی حرمت کو جاری رکھا اور عرب کے جاہل بھی اس کا اس قدر احترام کرتے کہ احترام کے منافی کسی عمل کے جواز کے لئے کم از کم اتنا حیلہ ضرور کرلیتے کہ فرضی طور پر حرمت والے مہینے کو کسی دوسرے غیر حرمت والے مہینے سے بدل لیتے۔

    حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے یہ بات از خود سمجھ آجاتی ہے کہ ماہِ محرم کی حرمت و تعظیم کا حضرت حسین کے واقعہ شہادت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں جو اس مہینے کی حرمت کی کڑیاں واقعہ کربلا اور شہادتِ حسین ؓسے ملاتے ہیں۔ اس لئے کہ ماہِ محرم کی حرمت تو اس دن سے قائم ہے جس دن سے یہ کائنات بنی ہے۔ جیسا کہ سورئہ توبہ کی گذشتہ آیت: ﴿يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ﴾ سے واضح ہے۔

    علاوہ ازیں سانحہ کربلا، قطع نظر اس سے کہ اس میں حضرت حسین کی مظلومانہ شہادت ہوئی، کا دین اسلام سے اس معنی میں کوئی تعلق نہیں کہ اس میں دین کی حفاظت کا کوئی مسئلہ درپیش تھا بلکہ اوّل تو دین اسلام حضرت حسین کے واقعہ شہادت سے کئی عشروں پہلے ہی نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں مکمل ہوچکا تھا،جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے:﴿اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَ‌ضيتُ لَكُمُ الإِسلـٰمَ دينًا...٣﴾... سورة المائدة

    اور دوم یہ کہ دین کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھا رکھا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ‌ وَإِنّا لَهُ لَحـٰفِظونَ ٩﴾... سورة الحجر" معلوم ہوا کہ یہ تصور جہالت ولاعلمی پر مبنی ہے کہ ماہِ محرم کا ادب و احترام شہادتِ حسین کا مرہونِ منت سمجھا جائے بلکہ شہادتِ حسین سے پہلے اسی ماہ کی یکم تاریخ کو عمر فاروقؓ جیسے خلیفہ راشد کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آچکا تھا۔ مگر اس وقت سے آج تک کبھی حضرت عمرؓ کا واقعہ شہادت اس انداز سے پیش نہیں کیا گیا۔

    حالانکہ اگر کسی بڑے آدمی کی موت یا شہادت کسی مہینے کے ادب و احترام کی علامت ہوتی تو عمرفاروقؓ جیسے صحابی ٔرسول اپنے علمی، دینی، روحانی اور خلیفہ ثانی ہونے کے حوالے سے اس بات کے حضرت حسین سے بھی زیادہ مستحق ہوتے کہ ان کی شہادت پر وہ سب کچھ کیا جاتا جو حضرت حسین کی شہادت پرکیا جاتا ہے۔
    مزید برآں حضرت عثمانؓ، حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ اور دیگر اکابر و جلیل القدر صحابہ کرام کی شہادتیں بدرجہ اولیٰ یہ استحقاق رکھتی ہیں مگر اہل ِسنت ان تمام شہادتوں پر نوحہ وماتم اور مجالس عزا وغیرہ کا اہتمام اس لئے نہیں کرتے کہ اسلام ان چیزوں کی اجازت نہیں دیتا اور جو ایسا کرتا ہے اس کا دین و ایمان خطرے میں ہے اور اسلام کا نوحہ وماتم سے کوئی تعلق نہیں۔

    محرم کی بے حرمتی

    ویسے تو جنگ و جدل، قتل و غارت گری، خونریزی اور فتنہ و فساد کی کسی بھی مہینے، ہفتے اور دن میں اجازت نہیں تاہم حرمت والے مہینوں میں فتنہ و فساد کی ہرممکنہ شکل سے اجتناب کرنے کا تاکیدی حکم ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ ماہِ محرم کی حرمت کو اتنا ہی پامال کرتے ہیں جتنا کہ اس کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی گئی۔

    ماہ محرم کی حرمت کی پامالی کی ایک صورت تو یہ ہے کہ حضرت حسین کے واقعہ شہادت پر نالہ و شیون اور نوحہ و ماتم کیا جاتا ہے۔ اپنے جسم کو از خود سخت تکلیفیں دی جاتی ہیں۔ تیز دھاری آلات سے جسم کو زخمی کیا جاتا ہے۔ شہادتِ حسین کے رنج و غم میں آہ و بکا کا ایسا عجیب وحشیانہ اور خوفناک منظر برپا کیا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ! اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ کسی کی وفات یا شہادت پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار نہ کیا جائے لیکن یہ اظہار شرعی حدو د میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے جبکہ نوحہ و ماتم کرنے والے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
    «ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوٰی الجاهلية»

    '' وہ شخص ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے، گریبان چاک کئے اور دورِ جاہلیت کے بین کئے۔'' (بخاری: کتاب الجنائز، باب لیس منامن ضرب الخدود؛۱۲۹۷)

    ماہِ محرم کی حرمت کی پامالی کی ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہ آپس میں نہ صرف یہ کہ دست و گریبان ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہیں۔ تقریباً ہر سال ماہ محرم میں کسی نہ کسی 'مسجد' یا 'امام بارگاہ' میں معصوم لوگ دہشت گردی کی کارروائی کا شکار ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ کہ اسلام تو عام دنوں میں بھی خونریزی، دہشت گردی اور فتنہ و فساد کی کسی بھی شکل کو پسند نہیں کرتا پھر بھلا ماہِ محرم میں اسے کیسے پسند کرسکتا ہے؟ اس لئے اسلام سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی کسی بھی دہشت گردی کی کاروائی سے کلی اجتناب کیا جائے۔ ویسے بھی یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر کوئی شخص فی الواقع کفروشرک اور ارتداد کا مرتکب ہو رہا ہو اور واقعی وہ قتل کی سزا کا مستحق ہوچکا ہو تو تب بھی ایسے شخص یا گروہ کو سزاے قتل دینے کی مجاز صرف حکومت ِوقت ہے۔ ہر کہ ومہ کو اسلام یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرنا شروع کردے!

    یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بعض دفعہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں دشمن عناصر قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ مسلمانوں کے مسلکی و گروہی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی فرقے کے لوگوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنا کر دوسرے فرقے پر اس کا الزام لگا دیتے ہیں۔ پھر دوسرا فرقہ تحقیق کئے بغیر محض جوشِ انتقام میں مخالف فرقے کو نشانہ بناتا ہے اور اس طرح تخریب کاری کا ایک غیر متناہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس لئے امن و امان کے قیام کے لئے ہمیں ان تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کی نگاہ میں خونِ مسلم کی حرمت انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے۔

    2. محرم کے روزوں کی فضیلت

    رمضان المبارک کے روزے سال بھر کے دیگر تمام روزوں سے افضل ہیں۔ البتہ رمضان کے ماسوا محرم کے روزوں کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے جیسا کہ درج ذیل صحیح احادیث سے ثابت ہے :

    1. حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «أفضل الصيام بعد رمضان: شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة:صلاة الليل» (مسلم: کتاب الصیام: باب فضل صوم المحرم؛۱۱۶۳)

    ''رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔''

    2. صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ
    «أي الصلاة أفضل بعد المکتوبة وأي الصيام أفضل بعد شهر رمضان؟»
    ''فرض نمازوں کے بعد کون سی نمازسب سے افضل ہے اور رمضان المبارک کے بعد کون سے روزے سب سے افضل ہیں؟ تو آپؐ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث (مسلم؛ ۱۱۶۳) میں مذکور ہے۔''

    3. حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے ایک آدمی نے عرض کیا: '' اے اللہ کے رسولؐ! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں، میں روزے رکھنا چاہوں تو آپؐ کس مہینے کے روزے میرے لئے تجویز فرمائیں گے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہے تو محرم کے مہینے میںروزے رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) قبول فرمائیں گے۔'' (ترمذی: کتاب الصوم، باب ماجاء فی صوم المحرم ؛ ۷۴۱)

    واضح رہے کہ امام ترمذی نے اس روایت کو 'حسن' قرار دیا ہے جبکہ اس کی سند میں عبدالرحمن بن اسحق نامی راوی کو جمہور محدثین نے ضعیف قرا ردیاہے۔ لہٰذا سنداً یہ روایت ضعیف ہے۔ تاہم محرم کا 'شہراللہ' ہونا اور اس کے روزوں کا رمضان کے سوا دیگر مہینوں کے روزوں سے افضل ہونا دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔

    3. یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت

    1. حضرت ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «وصيام يوم عاشوراء أحتسب علی الله أن يکفر السنة التي قبله» '' مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔'' (مسلم : کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام؛ ۱۱۶۲)

    واضح رہے کہ " عاشوراء "عشر سے ہے جس کا معنی ہے دس ۱۰ ؛ اور محرم کی دسویں تاریخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔ البتہ مذکورہ فضیلت دسویں تاریخ کے روزے کی ہے یا نویں کی، اس میں اہل علم کا شروع سے اختلاف چلا آتا ہے۔ مزید تفصیل آگے آرہی ہے...

    2. ام المومنین سیدہ عائشہؓ صدیقہ سے مروی ہے کہ ''قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم ﷺ بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپؐ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپؐ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔'' (بخاری: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورا ؛۲۰۰۳/ مسلم: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ؛۱۱۲۵)

    3. حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں لوگ یومِ عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اللہ کے رسولؐ اور مسلمان بھی اس دن روزہ رکھتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    «إن عاشوراء يوم من أيام الله فمن شاء صامه ومن شاء ترکه»
    ''عاشورا اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک (معزز) دن ہے لہٰذا جو اس دن روزہ رکھنا چاہے، وہ روزہ رکھے اور جونہ رکھنا چاہے وہ نہ رکھے۔'' (مسلم:ایضاً؛ ۱۱۲۶)

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دورِ جاہلیت میں قریش دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہر سال ماہِ محرم کی اس تاریخ کو بیت اللہ کو غلاف پہنایا کرتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری میںحضرت عائشہؓ ہی سے مروی ایک حدیث میںہے (بخاری؛۱۵۸۲) لیکن اس پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش غلافِ کعبہ کے لئے یہی دن کیوں خاص کرتے تھے؟ تو اس کا جواب (اور پہلے سوال ہی کا دوسرا جواب) یہ ہوسکتا ہے جو حضرت عکرمہؓ سے مروی ہے کہ
    ''دورِ جاہلیت میں قریش نے ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کیا جو ان پر بڑا گراں گزرا تو ان سے کہا گیا کہ تم لوگ عاشورا کا روزہ رکھو یہ تمہارے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ پھر اس وقت سے قریش عاشوراء کا روزہ رکھنے لگے۔'' (فتح الباری: ۴؍۷۷۳، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء)

    4. حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ''جب اللہ کے رسول ﷺ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپؐ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا (افضل) دن ہے اور یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات بخشی (اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت بحیرئہ قلزم میں غرقاب کیا) تو حضرت موسیٰ ؑ نے (بطورِ شکرانہ) اس دن روزہ رکھا (اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ ؑ کے (شریک ِمسرت ہونے میں) تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپؐ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔'' (بخاری: ایضاً ؛ ۲۰۰۴/مسلم؛۱۱۳۰)

    5. حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ''میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسولؐ دنوں میں سے دسویں محرم (یوم عاشورائ) کے اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے کو افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔'' (بخاری، ایضاً؛۲۰۰۶/ مسلم ایضاً؛۱۱۳۲)

    6. حضرت ابوموسیٰ ؓ سے مروی ہے کہ ''عاشورا کے روز یہودی عید مناتے مگر آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھا کرو۔'' (بخاری ؛۲۰۰۵/ مسلم ؛۱۱۳۱)

    7. ابوموسیٰ ؓ سے مروی مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ ''اہل خیبر عاشوراء کے روز، روزہ رکھتے اور ا س دن عید مناتے اور اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس اور زیورات پہناتے مگر اللہ کے رسولؐ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھو۔'' (مسلم؛۲۶۶۱)

    8. حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے قبیلہ بنواسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں جاکر یہ اعلان کرے کہ

    ''جس نے کچھ پی لیا ہے، وہ اب باقی دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے کچھ نہیں کھایا، وہ روزہ رکھے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔'' (بخاری؛۲۰۰۷/ مسلم؛۱۱۳۵)

    9. حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ

    ''اے اللہ کے رسولؐ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں۔ (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپؐ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپؐ نے فرمایا کہ «فإذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع» آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو روزہ رکھیں گے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسولؐ انتقال فرما گئے۔'' (مسلم؛۱۱۳۴)

    10. مسلم کی ایک روایت کے لفظ یہ ہیں کہ «لإن بقيت إلی قابل لأصومن التاسع»

    ''اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور نو کا روزہ رکھوں گا۔'' (مسلم: ایضاً)

    روزہ نو محرم کو یا دس کو؟

    عاشورا کے روزے کے بارے میں اہل علم کا شروع سے اختلاف چلا آتا ہے کہ یہ روزہ نو تاریخ کو رکھا جائے یا دس کو ؛ یا نو اور دس دونوں کے روزے رکھے جائیں؟ وجہ ِاختلاف صحیح مسلم کی مندرجہ بالا حدیث (نمبر۹) ہے جس میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کے پیش نظر آنحضرتؐ نے فرمایا کہ ''آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو تاریخ کا روزہ رکھوں گا۔''

    بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اگرچہ آنحضرتؐ کو عملی طور پر نو کا روزہ رکھنے کا موقع نصیب نہ ہوسکا تاہم آپؐ کا یہ فرمان دسویں محرم کے روزے کے لئے بطورِ ناسخ ہے اور اب صرف اور صرف نو ہی کا روزہ رکھنا چاہئے۔ جبکہ بعض اہل علم اس کے برعکس اس موقف کے حامل ہیں کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اصل فضیلت والا دن تو دسویں محرم کا ہے۔ جبکہ یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ نویںمحرم کا روزہ بھی شامل ہوجائے گا اور اس طرح دونوں صورتوں یعنی فضیلت ِعاشوراء اور مخالفت ِیہود و نصاریٰ پر عمل ہوجائے گا۔ لہٰذا نو اور دس دونوں تاریخوں کے روزے از بس فضیلت کے لئے ضروری ہیں۔ ہمارے خیال میں اس مسئلہ میں وسعت پائی جاتی ہے، اس لئے مندرجہ دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صو رت کے ساتھ ہی اسے خاص کردینا اور اس کے برعکس دوسری کو غلط قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں کے الگ الگ مضبوط دلائل موجود ہیں ،
    مثلاً:

    صرف نو کا روزہ رکھنے کی دلیل صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے کہ آئندہ سال میںزندہ رہا تو نو کا روزہ رکھوں گا۔ اب حدیث کے ظاہری الفاظ کا یہی تقاضا ہے کہ نو ہی کا روزہ رکھا جائے باقی رہی یہ بات کہ اصل فضیلت تو دسویں محرم کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فضیلت کا معیار شریعت ہے۔ اگر شریعت دس کی بجائے نو کو باعث ِفضیلت قرار دے دے تو پھر نو ہی کی فضیلت سمجھی جائے گی اور یہی وجہ ہے کہ جب حکم بن اَعرج نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے یومِ عاشورا کے روزے کا سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ''جب محرم کا چاند دیکھ لو تو دن گننا شروع کردو اور نویں تاریخ کو روزہ کے ساتھ صبح کرو۔'' سائل نے پوچھا:'' کیا اللہ کے رسولؐ اسی دن روزہ رکھتے تھے؟'' تو ابن عباسؓ نے جواب دیا: ہاں!'' (مسلم: کتاب الصیام، باب اَی یوم الصیام فی عاشورائ؛۱۱۳۳)

    اگرچہ آنحضرتؐ دسویں محرم کو روزہ رکھتے رہے مگر عبداللہ بن عباسؓ نے نویں محرم کے روزے کی نسبت اللہ کے رسولؐ کی طرف اس لئے کردی کہ آنحضرتؐ یہ فرما چکے تھے کہ آئندہ سال میں نو کا روزہ رکھوں گا۔ گویا اب نویں کو ہی کو سنت سمجھا جائے گا، اگرچہ عملی طور پر حضور کو یہ موقع نہیں مل سکا کہ آپؐ نو کا روزہ رکھتے۔

    دس کا روزہ رکھنے والوں کی پہلی دلیل تو یہی ہے کہ اصل فضیلت والا دن دس محرم ہے اور اسی دن آنحضرتؐ اور صحابہ کرامؓ روزہ رکھتے رہے۔تاہم اللہ کے رسولؐ کا یہ فرمان کہ آئندہ سال میں نو کا روزہ رکھوں گا، اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ میں دس کا روزہ چھوڑ دوں گا۔ بلکہ آپؐ کی مراد یہ تھی کہ دسویں کے ساتھ نویں کا بھی روزہ رکھوں گا تاکہ یہود و نصاریٰ کی بھی مخالفت ہوسکے۔ اور عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ایک روایت سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے فرمایا: «صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود» (السنن الکبری للبیہقی : ص۲۷۸؍ ج۴)

    ''نو اور دس (دونوں کا) روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ ''

    شیخ احمد عبدالرحمن البنائؒ نے اس موقوف روایت کی سند کو صحیح قرار دیاہے۔
    (الفتح الربانی :۱؍۱۸۹، مصنف عبدالرزاق؛۷۸۳۹، طحاوی:۲؍۷۸)

    اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی یہ حدیث بھی ذکرکی جاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «لإن بقيت لآمرن بصيام يوم قبله أو يوم بعد يوم عاشوراء»
    '' اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو میں یہ حکم ضرور دوں گا کہ دسویں محرم سے پہلے یا اس کے بعد (یعنی گیارہویں محرم) کا ایک روزہ (مزید) رکھو۔''

    یہ روایت مسندحمیدی (۴۸۵) اور سنن کبریٰ از بیہقی (۴؍۲۸۷) میں موجود ہے مگر اس کی سند میں ابن ابی لیلی (جن کا نام محمد بن عبدالرحمن ہے) ضعیف راوی ہے۔ جبکہ امام ابن عدی نے یہ روایت 'الکامل' (۳؍۹۵۶) میں درج کی ہے اور اس کی سند میں داود بن علی نامی راوی کو ضعیف قرار دیاہے۔

    ایک تیسری صورت

    بعض اہل علم مندرجہ بالا اختلاف سے بچتے ہوئے ایک تیسری صورت یہ پیش کرتے ہیں کہ نو، دس اور گیارہ تینوں تاریخوں کے پے در پے روزے رکھ لئے جائیں۔ بطورِ دلیل عبداللہ بن عباسؓ سے مروی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

    «''صوموا يوم عاشوراء وخالفوا فيه اليهود وصوموا قبله يوما أو بعده يوما» ''یومِ عاشورا کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ (اس مخالفت کا طریقہ یہ ہے کہ) یوم عاشورا (دس محرم) کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھو۔''

    یہ روایت مسنداحمد (۱؍۲۴۱)، ابن خزیمہ (۲۰۹۵) ، الکامل (۳؍۹۵۶)، السنن الکبریٰ للبیہقی (۴؍۲۸۷) وغیرہ میں موجود ہے مگر اس کی سند میں بھی ابن ابی لیلیٰ اور داود بن علی نامی دو راوی ضعیف ہیں لہٰذا یہ قابل حجت نہیں۔

    واضح رہے کہ مذکورہ روایت میں 'أو' (قبلہ یوما 'أو' بعدہ یوما) بمعنی 'یا' ہے۔ جبکہ بعض طرق میں یہاں 'و' بمعنی 'اور' ہے۔جس کے پیش نظر بعض اہل علم نے تین دن (۹،۱۰،۱۱) کے روزے رکھنے کا رجحان ظاہر کیا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری:۴؍۷۷۳) مگر محل استشہاد روایت ہی ضعیف ہے، اس لئے یہ موقف کمزور ہے۔

    احتیاط کا تقاضا

    مذکورہ اختلافی مسئلہ میں اگر احتیاط کا پہلو مدنظر رکھا جائے تو پھر یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے کیونکہ اگر شریعت کی منشا نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنے میں ہوئی تو اس پر عمل ہوجائے گا اور اگر نو کا روزہ رکھنے میں ہوئی تو تب بھی نو کا روزہ رکھا جائے گا اور دس کا روزہ اضافی نیکی قرار پائے گا۔ علاوہ ازیںاس طرح یوم عاشوراء کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کی مخالفت دونوں ہی پر عمل بھی ہوجائے گا جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ رقم طراز ہیں کہ
    «
    وقال بعض أهل العلم: قولهؐ في صحيح مسلم لإن عشت إلی قابل لأصومن التاسع، يحتمل أمرین أحدهما أنه أراد نقل العاشر إلی التاسع والثاني أراد أن يضيفه إليه في الصوم فلما توفي قبل بيان ذلك کان الاحتياط صوم اليومين» (فتح الباری: ایضاً)


    ''بعض اہل علم کے بقول صحیح مسلم میں مروی اس حدیث نبوی کہ ''اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو کا ضرور روزہ رکھوں گا۔'' کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں: ایک تو یہ کہ آنحضرتؐ کی مراد یہ تھی کہ یوم عاشوراء کے روزہ کے لئے دس کی بجائے نو کا روزہ مقرر کردیا جائے اور دوسرا یہ کہ آپؐ دس کے ساتھ نو کا روزہ بھی مقرر فرمانا چاہتے تھے۔ (اب اگر آنحضرتؐ اس کے بعد اگلے محرم تک زندہ رہتے تو آپؐ کے عمل سے مذکورہ دونوں صورتوں میں سے ایک صورت ضرور متعین ہوجاتی) مگر آپؐ کسی صورت کو متعین کرنے سے پہلے وفات پاگئے تھے، اس لئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے۔''

    واضح رہے کہ بغرضِ احتیاط نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ صرف نو کا روزہ رکھنے والوں کے خلاف فتویٰ بازی کی جائے بلکہ صرف نو کے روزہ کی گنجائش بھی بہرحال موجود ہے۔ (واللہ اعلم)

    محرم میں روزوں کے منافی اُمور

    گذشتہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماہِ محرم میں روزے رکھنا مسنون اور افضل ترین عمل ہے حتیٰ کہ رمضان المبارک کے بعد ماہِ محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے اور محرم میں بھی نویں اور دسویں کا روزہ دیگر دنوں کے روزوں سے افضل ہے، لیکن افسوس کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ شروع ہوتا ہے، روزوں کے منافی اُمور کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ شہادتِ حسین کی یاد میں دودھ، پانی یا مشروبات کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں، دیگیں پکا کر لوگوں میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے، خوش ذائقہ ماکولات و مشروبات کا اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں اور جوں جوں دسویں محرم کا دن قریب آتا ہے، توں توں ان امور کے دائرہ میں وسعت اور تیزی آتی چلی جاتی ہے۔ گویا محرم اور یوم عاشوراء کے موقع پر آنحضرتؐ جتنا اہتمام روزے کا فرمایا کرتے اور صحابہ کرامؓ کو اس کی ترغیب دلاتے، دورِ حاضر کے مسلمان ماہِ محرم میں اتنا ہی اس کے منافی دعوتوں اور ضیافتوں کا اہتمام کرنے لگے ہیں اور پھر اسے یقینی بنانے اور مسلسل قائم رکھنے کے لئے سرکاری طور پر ملک بھر میں چھٹی بھی منائی جاتی ہے۔

    چنانچہ ایک طرف تو بعض لوگ مذکورہ اُمور کی شرعی حیثیت کی چھان پھٹک کئے بغیر ہر اس رسم، رواج اور طریقے کی اتباع شروع کردیتے ہیں جسے کسی قوم، قبیلے یا فرقے میں خاصا مقام اور شہرت حاصل ہو جبکہ دوسری طرف بعض لوگ مذکورہ اُمور کے ثبوت کے لئے شرعی و عقلی دلائل بھی پیش کرنے لگتے ہیں مثلاً یہ کہ

    1. یزید کے لشکروں نے شہداے کربلا کا پانی بند کردیا تھا، اس لئے شہداے کربلا سے اظہارِ محبت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے نام پر پانی ہی نہیں بلکہ اچھے اچھے مشروبات کی بھی سبیلیں لگائی جائیں۔

    2. شہداے کربلا کی اَرواح کے ایصالِ ثواب کے لئے ماکولات و مشروبات کا اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفلیں قائم کرنی چاہئیں۔

    3. یہ (من گھڑت) روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ

    ''جس شخص نے عاشوراء کے روز اپنے اہل و عیال (کے رزق کے معاملہ) پر فراخی وکشادگی کی، اللہ تعالیٰ سال بھر اس پر کشادگی فرماتے رہیں گے۔''

    اگر قرآن و سنت کی تعلیمات کا غیر جانبدرانہ جائزہ لیا جائے تو مذکورہ اُمور کے جواز کی نہ کوئی گنجائش ملے گی اور نہ ہی کوئی معقول وجہ...!

    1. اوّل تو اس لئے کہ ماہِ محرم میں روزے رکھنا مسنون ہے جبکہ ماکولات و مشروبات کے اہتمام سے نہ صرف روزوں کی مسنون حیثیت مجروح ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک بدعت بھی رواج پاتی ہے۔

    2. دوم اس لئے کہ شہداے کربلا یا دیگر فوت شدگان کی ارواح کو ثواب پہنچانے کے لئے فاتحہ خوانی کی یہ صورتیں قرآن و سنت اورعمل صحابہ سے ثابت ہی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان صو رتوں کو دین کا حصہ اور اجروثواب کا ذریعہ سمجھ کر قائم کرنا بدعت نہیں تو پھر کیا ہے؟

    3. رہی یہ بات کہ شہداے کربلا کا پانی بند کیا گیا تھا تو یہ قصہ ہی جھوٹا اور بے سند ہے جبکہ خود شیعہ ہی کی بعض کتابوں سے اس کے برعکس یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسینؓ کو جب قافلے کے لئے پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ زمین کھودتے اور فوراً میٹھے پانی کا چشمہ بہہ نکلتا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: جلاء العیون باب ۵ ص۴۵۹، ناسخ التواریخ ص۳۲۶ ج۲، تصویر کربلا از سید آلِ محمد، ص۳۱)

    اگر بالفرض بندشِ آب کے قصہ کو درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر چاہئے تو یہ تھا کہ حضرت حسین سے اظہارِ محبت کے لئے ماہ محرم میں اتنے دن پیاسا رہنے کا مظاہرہ کیا جاتا جتنے دن ان سے پانی روکے رکھا گیاتھا !

    4. ماکولات و مشروبات کے خصوصی اہتمام کی جو روایت بطورِ دلیل پیش کی جاتی ہے وہ محدثین کے ہاں بالاتفاق جھوٹی (موضوع) روایت ہے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ

    ''عاشورا کے روز فضائل کے سلسلہ میں اہل و عیال پر فراخی و کشادگی اور مصافحہ و خضاب وغسل کی برکت وغیرہ کے متعلق جو روایتیں بیان کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس دن ایک خاص نماز پڑھنی چاہئے ... یہ سب رسول اللہ ﷺ پر کذب و افترا ہے۔ محرم میں عاشوراء کے روزے کے سوا کوئی عمل بسند صحیح ثابت نہیں۔'' (منہاج السنۃ: ۴؍۱۱)

    مذکورہ مسئلہ کی مزید تفصیل اور من گھڑت روایات کی تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو الموضوعات لابن جوزی (۲؍۲۰۳)، اللآئی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعۃ (۲؍۹۴) الموضوعات الکبریٰ (ص۳۴۱) اور مجموع الفتاویٰ (۲؍۳۵۴)

    5. یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سانحۂ کربلا کے رنج و غم میں رافضی وغیرہ اس انتہا کو پہنچ گئے کہ نوحہ و ماتم سے دور جہالت کی ان قبیح رسومات کو زندہ کرنے لگے کہ جن سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔جبکہ ناصبی اور خارجی قسم کے لوگ رافضیوں کی عداوت میں سانحۂ کربلا پر خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ایام میں ماکولات و مشروبات کا انتظام کرنے لگے۔ پھر ایصالِ ثواب اور سوگ کے نام پر یہ دونوں باتیں دیگر مسلمانوں میں بھی بڑی تیزی سے سرایت کرگئیں۔

    حالانکہ راہِ اعتدال یہی ہے کہ ان تمام بدعات و خرافات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے واقعہ کربلا کو مسلمانوں کے لئے عظیم سانحہ اور حادثہ فاجعہ قرار دیا جائے۔اور حضرت حسینؓ اور یزید کے سیاسی اختلافات اللہ کے سپرد کرکے دونوں کے بارے میں خاموشی کی راہ اختیار کی جائے۔

    اس سلسلے میں' محدث' میں شائع شدہ درج ذیل مضامین ملاحظہ کریں

    یوم عاشوراء کی شرعی حیثیت شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ شمارہ۲۳۴ اپریل ۲۰۰۰ء

    محرم الحرام ، غلطی ہائے مضامین ! حافظ صلاح الدین یوسف شمارہ۲۳۴ اپریل ۲۰۰۰ء

    سانحۂ کربلا اور غزوہ قسطنطنیہ عبد الرحمن عزیز الہ آبادی شمارہ۲۲۴ مئی ۱۹۹۹ء

    سانحۂ کربلا کے بارے میں افراط وتفریط مولانا ارشاد الحق اثری شمارہ۲۲۷ اگست ۱۹۹۹ء

    محرم الحرام کی شرعی حیثیت پروفیسرسعید مجتبیٰ سعیدی شمارہ ۱۶۶ اگست ۱۹۸۸ء

    محرم الحرام کے فضائل اور یوم عاشوراء مولانا عبد السلام رحمانی ؒ شمارہ ۱۱۵ نومبر ۱۹۸۳ء

    محرم الحرام کی شرعی وتاریخی حیثیت شیخ الحدیث محمد کنگن پوریؒ شمارہ ۱۴ مارچ ۱۹۷۲ء
     
  2. ‏ستمبر 05، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مُحرّم اور عاشوراء صحیح احادیث کی روشنی میں!

    شیخ سہیل حسن
    محدث میگزین ،شمارہ 247 ،اپریل 2001 ،محرم 1422ھ

    محرم کی فضیلت
    اللہ تعالی قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں
    ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ‌ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ‌ شَهرً‌ا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ ۚ ذ‌ٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ ۚ فَلا تَظلِموا فيهِنَّ أَنفُسَكُم....٣٦ ﴾...... سورة التوبة
    "بے شک شریعت میں مہینوں کی تعداد ابتداءِ آفرینش سے ہی اللہ تعالیٰکے ہاں بارہ ہے ۔ ان میں چارحرمت( اَدب )کے مہینے ہیں۔ یہی مستقل ضابطہ ہے تو ان مہینوں میں(قتالِ ناحق) سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو" تفسیر جامع البیان، ص ۱۶۷ میں ہے :
    «فإن الظلم فيها أعظم وزرا فيما سواه والطاعة أعظم أجرا»
    یعنی" ان مہینوں میں ظلم و زیادتی بہت بڑا گناہ ہے او ران میں عبادت کا بہت اجر وثواب ہے"
    تفسیر خازن، جلد۳ ص ۷۳ میں ہے کہ ان مہینوں کا نام حرمت والے مہینے اس لئے پڑ گیا کہ عرب دورِ جاہلیت میں ان کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور ان میں لڑائی جھگڑے کو حرام سمجھتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے یا بھائی کے قاتل کو بھی پاتا تواس پر حملہ نہ کرتا۔ اسلام نے ان کے عزت و احترام کو مزید بڑھایا۔ نیز ان مہینوں میں نیک اَعمال اور اللہ کی اطاعت ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کو برائیوں سے سخت ہے۔ لہٰذا ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں ۔
    اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایامِ تشریق میں مقامِ منیٰ میں حجة الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : لوگو! زمانہ گھوم پھر کر آج پھر اسی نقطہ پر آگیا ہے جیسا کہ اس دن تھا جب کہ اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیق فرمائی تھی۔ سن لو، سال میں بارہ مہینے ہیں جن میں چارحرمت والے ہیں، وہ ہیں : ذوالقعدہ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب ۔"
    حضرت قتادہ نے فرمایا: "ان مہینوں میں عمل صالح بہت ثواب رکھتا ہے اور ان مہینوں میں ظلم وزیادتی بہت بڑا گناہ ہے ۔"
    صحیح بخاری کتاب التفسیر میں حضرت ابوبکر  سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    " بے شک زمانہ گھوم کر پھر اسی نقطہ پر آگیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کئے تھے۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں جس میں تین لگاتار ہیں: ذی قعد، ذی الحجہ اور محرم ، چوتھا رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے"۔
    ان حرمت والے مہینوں میں کسی قسم کی برائی اور فسق و فجور سے کلی طور پراجتناب کرنا اور ان کے احترام کوملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے ۔یوں تو چاروں مہینے برکت و فضیلت سے بھر پور ہیں، لیکن ہم یہاں صرف ماہِ محرم کا تذکرہ کریں گے۔ ماہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں دس تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کا دن قرار دیا اور اسے سال بھر کے لئے کفارئہ گناہ ٹھہرایا ہے۔
    محرم کے روزے
    حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں ، جواللہ کا مہینہ ہے اورفرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔" (صحیح مسلم: کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم / مشکوٰة ص:۱۷۸)
    اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور جو محرم کے روزے رکھے۔ اسے ہر روزہ کے عوض تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔"
    اس روایت کو امام طبرانی  نے کتاب الصغیر میں ذکر کیا ہے۔ یہ روایت غریب ہے، اس کی سند اگرچہ اعلیٰ پائے کی نہیں پھربھی قابل قبول ہے۔ (الترغیب والترہیب: ص۳۳۷)
    ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ رمضان کے بعد میں کس ماہ میں روزے رکھوں۔ آپ نے فرمایا: محرم کے روزے رکھ کیونکہ وہ اللہ کامہینہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تھی اور ایک اور قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ (الترغیب والترہیب:ص ۲۳۶)
    عاشوراء محرم کا روزہ
    ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کے متعلق اگرچہ عمومی طور پر صحیح احادیث وارد ہیں لیکن خصوصی طور پر 'یومِ عاشوراء' یعنی دس محرم کے روزے کے متعلق کثرت سے اَحادیث آئی ہیں جن سے اس دن کے روزہ کی فضیلت واضح ہوتی ہے ۔ اس سلسلہ میں وارد احادیث ملاحظہ فرمائیں :
    ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشوراء کے روزہ کی فضلیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ "اس سے ایک سالِ گذشتہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔" (مسلم : ج۱ ،ص ۳۶۸)
    حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ "آپ چار چیزیں نہ چھوڑا کرتے تھے، ان میں سے ایک عاشوراء کا روزہ ہے۔" (سنن النسائی)
    ابن عباس فرماتے ہیں کہ "میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی دن کے روزے کا دوسرے عام دنوں کے روزوں پر افضل جاننے کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح یوم عاشوراء اور ماہِ رمضان کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے"۔ (بخاری ، مسلم)
    حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روزے کا حکم فرماتے تھے اور اس کی ترغیب دیتے تھے اور اس کا خیال رکھتے تھے اور تاکید فرماتے تھے لیکن جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم فرمایا اور نہ ہی اس سے منع کیا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے اس کا خیال رکھا"۔(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل یومِ عاشورہ، مشکوٰة : ۱۸۰)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے عاشوراء کا روزہ فرض تھا لیکن فرضیت ِرمضان کے بعد اس کی فرضیت ختم ہو گئی، اب عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
    بخاری مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ عاشوراء کے روز رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام اجمعین  کو فرمایا کہ "آج کا روزہ رکھنا کسی کے لئے ضروری نہیں، میں آج روزے سے ہوں۔ جو شخص چاہتا ہے روزہ رکھے اور اگر روزہ نہ رکھا جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں "۔
    ابن عمر  بیان کرتے ہیں کہ "اہل جاہلیت اس دن روزہ رکھتے تھے۔ فرضیت ِرمضان سے قبل مسلمان بھی روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہ ا نے بھی اس کا روزہ رکھا ۔" پھر فرمایا کہ
    "ایام اللہ میں سے یہ بھی ایک عام دن ہے، جو کوئی اس دن روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے"(رواہ مسلم عن ابی قتادہ)
    اُمّ المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    "اب جو شخص چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے"۔(صحیح بخاری)
    عاشوراء کے ساتھ ۹ یا ۱۱/ محرم کا روزہ
    بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مشابہت سے بچنے کے لئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کاارادہ ظاہر فرمایا تھا"۔چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے ، ابن عباس اس حدیث کے راوی ہیں کہ
    " جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو رکھنے کا حکم دیا تو لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو ایسا دن ہے جس کی یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ آئندہ سال ان شاء اللہ ہم دس محرم کے ساتھ نو محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔اگلا سال آنے سے قبل آپ ا وفات پاگئے"۔ (صحیح مسلم/ مشکوٰة: ص ۱۷۹)
    ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ" یہود دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔ تم ان کی مخالفت کرو اور اس کے ساتھ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھو"۔
    ابن ہمام نے فرمایا کہ "مستحب امر یہ ہے کہ دس تاریخ سے ایک دن پہلےروزہ رکھا جائے پس اگر صرف ایک روزہ رکھا تو مکروہ ہے۔ "
    اُمّ الموٴمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے روزے کا حکم فرماتے ہیں مگر جب رمضان فرض ہوگیا تو فرماتے تھے جو شخص چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے"۔(صحیح بخاری)
    اور مسنداحمد کی ایک روایت میں ۱۱/ محرم کا ذکر بھی ملتا ہے یعنی ۹ محرم یا ۱۱/ محرم۔
    عاشوراء کا روزہ اور یہود
    حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو قومِ یہود کو عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ جناب رسالت ِمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ بڑاعظیم دن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ان کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کوغرق کیا تھا۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام اس دن شکر کا روزہ رکھا پس ہم بھی ان کی اتباع میں اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ کے زیادہ قریب اورحقدارہیں۔ سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا"۔ (مشکوٰة المصابیح، ص:۱۸۰، صحیح بخاری باب صوم یومِ عاشورہ)
    یوم عاشوراء اور عرب
    عاشوراء کے دن کی فضیلت عرب کے ہاں معروف تھی، اس لئے وہ بڑے بڑے اہم کام اسی دن سرانجام دیتے تھے مثلاً روزہ کے علاوہ اسی روز خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مکی دور میں یومِ عاشوراء کے روزوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ
    "قریش کے لوگ جاہلیت کے زمانہ میں روزہ رکھا کرتے تھے پھر جب آپ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا روزہ فرض ہوا تو آپ نے عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا اور فرمایا جس کا جی چاہے، اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔" (صحیح بخاری)

    ماہِ محرم میں روزے کے سوا اور کوئی عمل ثابت نہیں۔ اس کے علاوہ جو اعمال و رسوم کئے جاتے ہیں شریعت سے ان کا دور سے بھی تعلق نہیں۔ خیبر کے لوگ اس دن اچھے لباس کا اہتمام کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا تھا چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعریسے روایت ہے کہ
    "اہل خیبر یوم عاشوراء کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔ اسی دن لوگ روزے رکھتے تھے اور اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تھے اور اس دن اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس اور زیورات پہناتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم اس دن صرف روزہ رکھو"۔ (صحیح مسلم)
    حاصل یہ ہے کہ اللہ ارحم الراحمین اور نبی رحمت للعالمین نے امت ِمسلمہ کوماہِ محرم خصوصاً یومِ عاشوراء کی فیوض و برکات سے مطلع کردیا ہے تاکہ ہم شریعت کی ہدایا ت کے مطابق عمل کرکے سعادتِ دارین حاصل کرسکیں مگر بعض بے علم لوگوں نے ان ثابت شدہ ہدایات پر قناعت نہیں کی بلکہ یومِ عاشوراء کے فضائل میں بے شمار موضوع و مہمل حدیثوں کو گھڑ لیا اور اس کے ذریعے خاص و عام سبھی کو گمراہ کیا۔

    ماہ ِ محرم کی بدعات
    ہم نے ماہِ محرم سے بہت سے غلط رواج وابستہ کرلئے ہیں، اسے دکھ اور مصیبت کامہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کے لئے سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ رونا پیٹنا، تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزا وغیرہ منعقد کرنا یہ سب کچھ کارِ ثواب سمجھ کر او رحضرت حسین  سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ سب چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کے صریح خلاف ہیں۔ شیعہ حضرات کی دیکھا دیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ مثلاً اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب و آلام کے دور کی ابتدا کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتا ہے اور لوگ اعمالِ مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں مثلاً بعض لوگ خصوصیت سے عاشوراء کے روز بعض مساجد و مقابر کی زیارتیں کرتے اور خوب صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اس دن اہل و عیال پر فراخی کرنے کو سارے سال کے لئے موجب ِبرکت سمجھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیا ماہِ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟
    شہادت ِحسین اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جس کی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونماہوئے ہیں جن میں سے اگرچہ چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور خدا کا شکر بجا لانا چاہئے جیسا کہ نبی اکرم ا نے حضرت موسی  کی اقتدا میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰ  کو فرعون سے نجات دی تھی۔ نیز اگر اتفاق سے شہادت ِ حسین کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہوگیا تو بعض دیگر جلیل القدر صحابہ  کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے۔ مثلا سطوت ِاسلام کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب  اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت ِنماز میں ابولو ٴ لو ٴ فیروزنامی ایک مجوسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے، اس لئے شہادتِ حسین کا دن منانے والوں کو ان کا بھی دن منانا چاہئے... لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو سال کا کوئی ہی ایسا دن باقی رہ جائے جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا حادثہ رونما نہ ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوار ایام منانے اور ان کے انتظام میں لگے رہیں گے۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اہل بیت ، صحابہ  اور سلف صالحین پر ایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ کیا شہادتِ حمزہ  ، شہادتِ عمر،  شہادتِ عثمان ذوالنورین ، شہادتِ علی اور شہادت عبداللہ بن زبیرکے لرزہ خیز واقعات سننے کی تاب کسی کو ہے؟ تو بتائیے کس کس کا دن منایا جائے ؟؟

    اچھے یا بُرے دن منانے کی شرعی حیثیت
    اسلام نے واقعاتِ خیرو شر کو ایام کا معیارِ فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایاہے اور قرآن مجید میں کفار کے اس قول کی مذمت بیان کی ہے:
    ﴿وَما يُهلِكُنا إِلَّا الدَّهرُ‌.......٢٤ ﴾..... سورة الغاثية یعنی " ہمیں زمانہ کے خیروشر سے ہلاکت پہنچتی ہے"
    اور حدیث میں ہے:
    "زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ بُرا بھلا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے" (بخاری و مسلم)
    یعنی خیروشر کی وجہ لیل و نہار نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کار سازِ زمانہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اچھے یا بُرے دن منانے کی کوئی اصل ہی تسلیم نہیں کی جیسا کہ آج کل محرم کے علاوہ بڑے بڑے لوگوں کے دن یا سالگرہ وغیرہ منائی جاتی ہیں۔
    نوحہ اور ماتم ...بزرگانِ ملت کی تعلیم کے خلاف اور ان کے مشن کی توہین ہے!
    ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر و استقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں۔ ان کے خلفا اور ورثا بھی ان کے نقش قدم پر چلے۔ نہ کسی نے آہ و فغاں کیا، نہ کسی نے ان کی برسی منائی، نہ چہلم۔ نہ روئے نہ پیٹے، نہ کپڑے پھاڑے، نہ ماتم کیا اور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال سال بعد تیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں لیکن یہ سب حرکتیں اور رسوم و رواج نہ صرف روحِ اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی تلقین و ارشاد کے خلاف ہیں بلکہ ان بزرگوں کی توہین اور غیر مسلموں کے لئے استہزا ء کا سامان ہیں۔ اسلام تو ہمیں صبر و استقامت کی تعلیم دیتا ہے اور ﴿وَبَشِّرِ‌ الصّـٰبِر‌ينَ﴾ (صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو) کا مژدہ سناتا ہے :
    ﴿الَّذينَ إِذا أَصـٰبَتهُم مُصيبَةٌ قالوا إِنّا لِلَّهِ وَإِنّا إِلَيهِ ر‌ٰ‌جِعونَ ١٥٦ ﴾...... سورة البقرة "وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں"
    نوحہ اور ماتم کی مذمت (زبانِ رسالت سے)
    نوحہ اور ماتم کی مذمت کے سلسلہ میں اگرچہ قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث ِنبوی سے استدلال کیا جاسکتا ہے بلکہ شیعہ حضرات کی بعض معتبر کتابوں سے ان کی ممانعت ثابت کی جاسکتی ہے لیکن اختصار کے پیش نظر ہم صرف دو فرمان نبوی پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:
    1۔ «قال رسول الله ﷺ ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوی الجاهلية» (بخاری و مسلم) "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رخسار پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے"
    2۔ «قال رسول الله ﷺ انا بريء ممن حلق وصلق وخرق» (بخاری و مسلم)
    "جو شخص سرمنڈوائے، بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے، میں اس سے بیزار ہوں"
    لیکن اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اسی دن ۱۰/محرم کو امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حضرت حسین ۶۱ہجری کو کربلا کے میدان میں مظلوم شہید کئے گئے۔ اس واقعہ کا روزے کی فضیلت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ روزے کی فضیلت بہت پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک سے ثابت اور محقق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ تمام اہل اسلام کو کتاب و سنت پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین ثم آمین)
    دس محرم کی فضیلت پر موضوع احادیث
    عموماً اکثر مسلمان صومِ عاشوراء کے بارے میں ان احادیث پر ہی تکیہ کرتے ہیں جو صحیح سند کے ساتھ ثابت ہیں، بے بنیاد و من گھڑت روایات پر عمل سے دور ہی رہتے ہیں مگر تعجب انگیز امر یہ ہے کہ عاشوراء کے سلسلے میں عوام تو درکنار، کئی ایک علماء اپنے خطبات اور تقریروں میں ایسی احادیث اور روایت کا ذکر کرتے ہیں جو اصلاً بے بنیاد اور باطل ہیں۔ اس موقع پر ہمارا دینی فریضہ ہے کہ حتیٰ المقدور ہم اصل کو نقل سے علیحدہ کردیں۔ یہاں ہم عاشوراء سے متعلق مشہور کردہ چند احادیث کا ذکر کریں گے۔ نیز اس پر محدثین اور فقہاء کی آراء بھی ذکر کریں گے تاکہ ہر مسلمان سنت اور غیر سنت میں فرق کرسکے۔
    ٭ یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ
    «من اکتحل بالاثمد يوم عاشوراء لم تدمع عينه أبدا»
    "جس نے یوم عاشوراء کو سرمہ لگایا، اس کوکبھی آنکھ کا درد لاحق نہیں ہوگا"
    ابن قیم نے المنار میں کہا ہے کہ سرمہ اور عطر لگانے والی احادیث کذابین کی اختراع ہیں۔امام سخاوی نے المقاصد الحسنة میں حاکم اور بیہقی کے اَقوال نقل کئے ہیں۔ حاکم نے کہا کہ یہ حدیث منکر بلکہ موضوع ہے۔ ابن جوزی نے اسی سند کے ساتھ 'موضوعات' میں اس کا ذکر کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یومِ عاشوراء کو سرمہ لگانانبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں بلکہ یہ بدعت ہے جس کو قاتلین حسین نے رواج دیا ہے۔ ملا علی قاری نے بھی الأسرار المرفوعة میں اسی رائے کی موافقت کی ہے اور سیوطی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس کی ایک اور سند بھی نقل کی ہے جو ضعف پر مبنی ہے۔ امام شوکانی  نے الفوائد المجموعة للحاکمکی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حاکم کہتے ہیں کہ ابن عباس سے شروع ہونے والی اس حدیث کی سند میں جبیر ہے اور میں جبیر کے معاملے میں براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔
    ٭ دوسری حدیث جو بیان کی جاتی ہے ، یوں ہے کہ
    «من وسع علی عياله يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنة» "جوشخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر فراخی سے خرچ کرے گا، اللہ تعالیٰ سال بھر اس کو فراخی عطا فرمائے گا"
    ابن قیم نے 'المنار' میں اس کا ذکر کیا ہے اور کہا کہ امام احمد کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ عاشوراء کے دن سرمہ لگانے، زینت کرنے اور نوافل ادا کرنے اور وسعت ِرزق والی تمام احادیث باطل ہیں، ان میں سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں۔
    ٭ تیسری حدیث یوں ہے کہ
    «من صام يوم عاشوراء کتب الله له عبادة ستين سنة»
    "یوم عاشوراء کو جس نے روزہ رکھا، اس کو ساٹھ سال کی عبادت کا ثواب دیا جائے گا"
    ابن قیم نے 'المنار' میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ حدیث باطل ہے جس میں حبیب بن ابی حبیب ہے جو حدیث وضع کیا کرتا تھا۔
    اسی طرح امام شوکانی نے اسی مفہوم کی ایک روایت الفوائد المجموعة میں نقل کی ہے جو یوں ہے : «من صام یوم عاشوراء أعطي ثواب عشرة اٰلاف ملك» "یومِ عاشوراء میں روزہ رکھنے والے کو دس ہزار فرشتوں کا ثواب دیا جائے گا"۔ امام شوکانی کہتے ہیں کہ یہ موضوع حدیث ہے۔
    ایک اور روایت انہوں نے نقل کی ہے جس کے الفاظ یوں ہیں کہ : «ان الله افترض علی بني إسرائيل صوم يوم في السنة وهو يوم عاشوراء فصوموا ووسعوا علی أهليکم فيه»
    "اللہ تعالیٰ نے قومِ بنی اسرائیل پر سال میں ایک دن روزہ فرض کیا تھا اور وہ دن عاشوراء کا ہے۔ لہٰذا تم اس میں روزہ رکھو اور اپنے اہل و عیال پر فراخی سے خرچ کرو"
    اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام شوکانی نے اس کو بھی موضوع قرار دیا ہے۔
    آخر میں ہم شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ کی ۹۹۹ھ میں لکھی گئی کتاب "موٴمن کے ماہ وسال"سے چند مزید ضعیف احادیث کا ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ موضوع مکمل ہوجائے:
    (۱) مسند فردوس اور دیلمی کے حوالے سے حضرت علی  کی ایک روایت ذکر کی جاتی ہے
    "انہوں نے کہا کہ تمام انسانوں کے سردار رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور رومیوں کے سردار حضرت صہیب رومی ہیں اور ایرانیوں کے سردار حضرت سلمان فارسی ہیں اور حبشیوں کے سردار حضرت بلال ہیں ، پہاڑوں کا سردار طورِ سینا ہے ، درختوں کا سردار سدرة المنتہیٰ ہے ،مہینوں کا سردار ماہِ محرم ہے ، دنوں کا سردار جمعہ ہے اور تمام کلاموں کا سردار قرآن کریم ہے ۔قرآن کریم کا خلاصہ سورئہ بقرہ ہے اور سورئہ بقرہ کا مغز آیت الکرسی ہے ۔ آیت الکرسی میں پانچ خصوصی کلمے ہیں او رہر کلمے میں پچاس برکتیں ہیں۔"
    یہ روایت موضوع ،من گھڑت اور بے سند ہے ۔ کیونکہ دوسری روایاتِ صحیحہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے سردار اور رمضان مہینوں کا سردار ہے۔
    (۲) بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں محرم کے دن سرمہ لگانے سے سال بھر آنکھیں نہیں آتیں، دسویں محرم کے نہانے سے سال بھر بیماری نہیں آتی ، دسویں محرم کو اپنے بال بچوں پر فراخی کرنے والے کواللہ سال بھر وسعت وفراخی دیتا ہے۔ اس دن کی نماز افضل وبرتر ہے ۔دسویں محرم حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی تھی۔حضرت نوح کی کشتی اسی دن کو ہِ جودی پر ٹھہری ۔ اسی دن حضرت ابراہیم کو آتش نمرود سے نجات ملی ۔ اسی دن حضرت اسمٰعیل کے ذبح کے وقت آسمان سے دنبہ آیا اور فدیہ بنا ۔ اسی دن حضرت یوسف ، حضرت یعقوب کو دوبارہ ملے ۔ یہ ساری روایات موضوع بے سروپا اور خو دساختہ ہیں۔
    (۳) حضرت مجد الدین لغوی صاحب القاموس نے حاکم کے حوالے سے لکھا ہے کہ دسویں محرم کو روزے کے سوا دیگر تمام کام مثلاً دسویں تاریخ کی فضیلت کا عقیدہ رکھنا، اس دن جی کھول کر خرچ کرنا،خضاب ، تیل یا سرمہ لگانا اور خصوصی کھانا یا کھچڑا پکانا ثابت شدہ نہیں او ر اس سلسلے میں مروی تمام احادیث موضوع ، خود ساختہ او ربہتان طرازی کے مترادف ہیں۔
    (۴) ایک حدیث حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کر کے اس طرح روایت کی جاتی ہے :
    ۱... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا اس کے لیے اللہ نے ساٹھ سال کی عبادت لکھ دی جس میں نماز، روزے بھی شامل ہیں۔
    ۲... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ نے دس ہزار فرشتوں کی عبادت کا ثواب دیا۔
    ۳... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ نے ہزار حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کا ثواب دیا۔
    ۴...جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ دس ہزار شہیدوں کا ثواب دیتا ہے۔
    ۵... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اسے اللہ تعالیٰ سات آسمانوں جتنا ثواب دیتا ہے۔
    ۶...جس نے دسویں محرم کو کسی بھوکے کو کھانا کھلایا گویا اس نے پوری امت ِمحمدیہ کے فقیروں کو کھانا کھلایا ۔
    ۷...جس نے دسویں محرم کو کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کے ہر بال کے عوض ہاتھ پھیرنے والے کو جنت میں بلند مراتب دیئے جائیں گے ۔
    ۸...دسویں محرم کو ہی اللہ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا۔
    ۹... دسویں محرم کو ہی اللہ نے جبریل ،فرشتوں، حضرت آدم اور ابراہیم علیہم السلام کو پیداکیا۔
    ۱۰... دسویں محرم ہی کو اللہ نے لوح وقلم پیدا کیے۔
    ۱۱...دسویں محرم کو ہی حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا اور آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی۔
    ۱۲... دسویں محرم کے دن ہی حضرت اسماعیل کو اللہ کے رستے میں قربان کیا گیا اور اللہ نے دنبے کی شکل میں ان کا فدیہ دیا۔
    ۱۳... اسی تاریخ کوفرعون کو اللہ نے دریائے نیل میں غرق کیا۔
    ۱۴... اسی تاریخ کو اللہ نے حضرت اِدریس  کو بلند درجات دیئے۔
    ۱۵...اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔
    ۱۶...دسویں محرم کو ہی حضرت داود کی بھول چوک معاف کی گئی۔
    ۱۷... دسویں محرم کو ہی اللہ تعالی عرشِ معلی پر بیٹھا۔
    ۱۸... دسویں محرم کو ہی قیامت آئے گی۔
    یہ تمام مذکورہ احادیث موضوع ، خود ساختہ، بے سند اور افترا پردازی کے مترادف ہیں ۔ علامہ ابن جوزی نے بھی ان کو 'موضوعا ت' میں درج کیا ہے۔
    (۵) اسی طرح کچھ احادیث اس طرح بیان کی جاتی ہیں کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ رکھو کیونکہ
    ۱... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت آدم کی توبہ قبول کی۔
    ۲...یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت ادریس  کو بلند درجات عطا فرمائے۔
    ۳...یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت ابراہیم کو آتش نمرود سے نجات دی۔
    ۴... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت نوح کو کشتی پر سے اتارا۔
    ۵... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے حضرت موسی پر تورات نازل کی ۔
    ۶... یہی وہ دن ہے جس میں اللہ نے اسمٰعیل  کو ذبح کرنے کی بجائے دنبے کا فدیہ دیا تھا۔
    ۷... اس دن اللہ نے حضرت یوسف  کو جیل سے چھٹکارا دلایا تھا۔
    ۸... اسی دن اللہ نے حضرت یعقوب  کو ان کی قوتِ بینائی واپس کی تھی۔
    ۹... اس دن اللہ نے حضرت ایوب سے مصیبتیں اور پریشانیاں دور کی تھیں۔
    ۱۰... اسی دن اللہ نے حضرت یونس  کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا تھا۔
    ۱۱... اسی دن اللہ نے دریاکو چیر کر بنی اسرائیل کے لیے راستہ بنایا تھا۔
    ۱۲... اسی دن حضرت موسی نے دریائے نیل عبور کیا تھا۔
    ۱۳...اسی دن حضرت یونس کی قوم کو توبہ کرنے کی توفیق ہوئی تھی۔
    ۱۴... اسی دن حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کیے گئے۔
    ۱۵... اور جو اس دن روزہ رکھے گا، اس کے لیے چالیس سال کے گناہوں کاکفارہ ہو جائیگا ۔
    یہ ساری احادیث موضوع ، خود ساختہ ، گھڑی ہوئی او رناقابل اعتبار ہیں۔
    (۶) کچھ احادیث اس طرح بیان کی جاتی ہیں کہ
    ۱... سب سے پہلا دن دسویں محرم ہے جس میں اللہ نے دسویں محرم کا دن پیداکیا۔
    ۲... سب سے پہلا دن دسویں محرم ہے جس میں اللہ نے آسمان سے بارش برسائی۔
    ۳... جس نے دسویں محرم کا روزہ رکھا، اس نے گویا زمانے کا روزہ رکھا۔
    ۴... جس نے دسویں محرم کو شب بیداری کی تو اس نے گویا ساتوں آسمانوں کی مخلوق کے برابر اللہ کی عبادت کی ۔
    ۵...اس دن تمام انبیاء اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا۔
    ۶... جس نے دسویں محرم کو چار رکعات اس ترتیب سے پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورة الفاتحہ ایک دفعہ ، سورة اخلاص پچاس دفعہ پڑھی تو اللہ نے اس کے ماضی ومستقبل کے پچاس پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے اور ملاءِ اعلی میں اس کے لیے ایک ہزار نوری منبر بنا دیئے۔
    ۷... جس نے دسویں محرم کو ایک گھونٹ شربت پلایا تو اس نے گویا اللہ کی ایک لمحے کے لیے بھی نافرمانی نہیں کی۔
    ۸... دسویں محرم کو جس نے اہل بیت کے مسکینوں کو پیٹ بھر کر کھلایا تو وہ پل صراط سے بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا۔
    ۹... دسویں محرم کو جس نے کچھ بھی خیرات کی تو گویا اس نے سال بھر اپنے در سے کسی سائل کو واپس نہیں کیا۔
    ۱۰... دسویں محرم کو جس نے غسل کیا تو وہ مرضِ موت کے سوا کبھی بیمار نہ ہو گا۔
    ۱۱... دسویں محرم کو جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا تو گویا اس نے دنیا جہاں کے تمام یتیموں کے ساتھ بھلائی کی ۔
    ۱۲...دسویں محرم کو جس نے بیمار کی تیماداری کی تو گویا اس نے تمام اولادِ آدم کی تیمار داری کی ۔
    یہ ساری روایات اور احادیث موضوع، خود ساختہ اور بعض لوگوں کی اپنی طرف سے تراشی ہوئی ہیں۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ
    "ان میں بعض روایات کے سلسلہ رواة میں بعض صحیح اور ثقہ راویوں کا نام بھی ملتا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ احادیث بنانے والوں نے احادیث گھڑ کر ان کو ثقہ راویوں کے نام منسوب کر دیا ہے تا کہ کچھ لوگ غلط فہمی میں ان کی صحت پر یقین کر لیں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کہ دسویں محرم کے دن سوائے روزہ رکھنے کے اورکوئی کام مسنون نہیں اور دسویں محرم کی فضیلت میں یہ سب روایات خو د ساختہ ہیں...ماسوائے ان روایات کے جو مستند ذرائع سے ثابت ہیں" ٭٭
    اسی موضوع کے مکمل مطالعہ کیلئے محدث میں شائع شدہ یہ مضامین ضرور پڑھیں: (۱) محرم الحرام، غلطی ہائے مضامین مت پوچھ! از حافظ صلاح الدین یوسف، محدث: اپریل ۲۰۰۰ء (۲) یومِ عاشوراء کی شرعی حیثیت از علامہ ابن تیمیہ ، محدث: اپریل ۲۰۰۰ء (۳) سانحہ کربلا میں افراط وتفریط از مولانا عبد الرحمن عاجز ، محدث: مئی ۱۹۹۹ء(۴) محرم کی شرعی حیثیت :مارچ ۱۹۷۲ء

    ٭٭٭٭٭
     
  3. ‏ستمبر 05، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791


    [​IMG]
    نواب صدیق حسن خان

    محدث میگزین ،شمارہ 247 ،اپریل 2001

    یومِ عاشورہ:

    اس مہینہ میں یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ بخاری و مسلم میں ابنِ عباس کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس دن کے علاوہ کسی دوسرے دن کو افضل کر کبھی روزۂ نفلی نہیں رکھا اور ماہِ رمضان کے علاوہ کبھی پورے مہینہ بھر روزے نہیں رکھے۔ بخاری و مسلم ہی کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ عاشورہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو فرمایا کہ ''آج کا روزہ رکھنا کسی کے لئے ضروری نہیں۔ میں آج روزے سے ہوں۔ جو شخص چاہتا ہے، روزہ رکھے اور اگر روزہ نہ رکھا جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔'' ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہلِ جاہلیت اس دن روزہ رکھتے تھے۔ فرضیتِ رمضان سے قبل مسلمان بھی روزہ رکھتے رہے اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اس دن کا روزہ رکھا۔ پھر فرمایا کہ ''ایام اللہ میں سے یہ بھی ایک عام دن ہے۔ جو کوئی اس دن روزہ رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے ۔'' ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ''عاشورہ کے دن کا روزہ سالِ گزشتہ کا کفارہ ہوتا ہے۔''

    ایک نہیں دو (۲) روزے:

    صحیح مسلم میں یہ بھی ذِکر ہے کہ جب نبی ﷺ نے یومِ عاشورہ کا روزہ رکھا تو لوگوں نے بیان کیا کہ یہود و نصاریٰ بھی اس دن کی تعظیم کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ ''آئندہ سال ہم دہم محرم کے ساتھ نہم محرم کا بھی روزہ رکھیں گے۔'' ایک اور روایت میں ذِکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ''یہود دہم محرم کا روزہ رکھتے ہیں تو ان کی مخالفت کو اور اس کے ساتھ نہم تاریخ کا بھی روزہ رکھو۔''

    ماتم۔ بدعتِ مکفرہ:

    اس مہینے میں جس طرح روافض ماتم کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی بدعت ہے جسے بدعتِ مکفرہ (کافر بنا دینے والی بدعت) کہا جاتا ہے۔

    فضیلتِ محرم:

    ماہِ محرم کی فضیلت کے متعلق جو چند حدیثیں بیان کی جاتی ہیں، ان کے متعلق صاحبِ سفر السعادۃ کی تحقیق یہ ہے کہ ان میں صرف یومِ عاشورہ کے روزے والی حدیثیں صحیح ہیں، باقی سب حدیثیں موضوع اور مفتری ہیں۔ امام ابن قیمؒ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس امر کی تصریح کی ہے۔ اہل و عیال پر توسّعِ رزق والی حدیث کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ''اس بارہ میں صحیح سند والی کوئی حدیث نہیں آتی۔'' امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ عقبہؓ نے کہا ہے کہ اس کی سند میں ''لین'' ہے۔ ابن حبانؒ نے اسے ''حسن'' قرار دیا ہے۔ بیہقیؒ (جس نے یہ روایت بیان کی ہے) نے بھی اسے ضعیف کہا ہے۔
    یومِ عاشورہ:

    اس مہینہ میں یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ بخاری و مسلم میں ابنِ عباس کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس دن کے علاوہ کسی دوسرے دن کو افضل کر کبھی روزۂ نفلی نہیں رکھا اور ماہِ رمضان کے علاوہ کبھی پورے مہینہ بھر روزے نہیں رکھے۔
    حواشی و حوالہ جات
    [1] رواہ مسلم عن ابی قتادۃ

    [1] عاشوراء کے علاوہ ماہِ محرم کے عام دنوں میں روزوں کی فضیلت بھی صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ اسی شمارہ میں شائع شدہ مضمون بعنوان ’’ماہ محرم کی شرعی اور تاریخی حیثیت‘‘ میں وضاحت سے ذِکر ہے۔ البتہ مکمل ماہ کے روزے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے ثابت نہیں۔ باقی حدیثوں سے مراد غالباً وہ ہیں جو عاشوراء کے روز آپس میں مصافحہ، سرمہ، خضاب اور غسل کی برکات، بعض مسجدوں اور قبروں کی زیارت اور اس دن کی مخصوص نماز وغیرہ کی فضیلت کے بارے میں گھڑ لی گئی ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو منہاج السنہ جلد ۴ ص ۱۱ اور الفتاوی الکبریٰ جلد ۲ ص ۲۵۴ لابن تیمیہؒ (مدیر)

    [1] الفاظ یہ ہیں: «مَنْ اَوْسَعَ عَلٰي عِيَالِه وَاَھْلِه يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ اَوْسَعَ اللهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَةٍ رَوَاهُ الْبَيْھَقِيُّ مِنْ طُرُقٍ وَقَالَ الْبَيْھَقِيُّ ھٰذِهِ الْاَسَانِيْدُ وَاِنْ كَانَتْ ضَعِيْفَةً فَھِيَ اِذَا ضَمَّ بَعْضُھَا اِلٰي بَعْضٍ اَخَذَتْ قُوَّةً وَاللهُ اَعْلَمُ» لیکن ہر سند سخت کمزور ہو تو کثرت سے کیا ہوتا ہے۔ دراصل بات ابن تیمیہؒ کی صحیح ہے۔ (محمد داؤد رازؔ)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں