1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محفل

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد تاج, ‏جنوری 18، 2019۔

  1. ‏جنوری 18، 2019 #1
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    محفل


    اتوار کا دن تھا ، موسم بھی خوشگوار تھا اس سے پہلے کہ فیملی کے ساتھ کوئی پلان بنتا اک دوست کی فون کال آئی کہ آج شام فلاں دوست کے گھر دعوت ہے وہاں سب سکول و کالج کے دوسست جمع ہو رہے ہیں لہذا تمہیں بھی وہاں آنا ہے۔دوستوں سے ملنی کی خوشی میں فورا حامی بھر دی کہ ہاں میں وقت پر پہنچ جائوں گا۔
    شام کا وقت ہوا ، مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد میں دوستوں کی طرف روانہ ہو ا، یقینا بہت خوش تھا کہ اتنے عرصے بعد اپنے دوستوں سے ملوں گا۔ کچھ دیر سفر کرنے کے بعد میں اپنی منزل پر پہنچ گیا ،گھر میں داخل ہوا تو قہقوں کی آواز میرے کانوں تک گونجنے لگی ، میں سمجھ گیا کہ مجھ سے پہلےہی تمام دوست آچکے ہیں، کمرے میں داخل ہوا تو تمام دوستوں کا رُخ میری طرف ہوا تو باری باری سب کھڑے ہو کر ملنےلگےاور میں بھی گرم جوشی کے ساتھ ان سے ملنے لگا۔ یوں دوستوں کی اک محفل سی سج گئی اور خوب ہنسی مزاح ہونے لگا ، پرانی یادیں تازہ ہونے لگیں ، بچپن کے دن ، سکول و کالج کےدن اور اپنے اساتذہ کی بہت سی باتیں وہاں ہونے لگی۔ دوست آپس میں ایک دوسرے کو جوگت بازی کرنے لگے، کچھ فحاش گوئی بھی ہونے لگی ، ایک دوسرے کو ہنسانے کے لیے جھوٹ قصے اور جھوٹی باتیں کرنے لگے، جس کمرے میں ہم دوست جمع تھے وہ قہقوں سے گونجنے لگا۔ جو دوست جتنا زیادہ بول کر دوسروں کوہنساتا ، فحاش گوئی کرتا یا جھوٹے لطیفے سنا رتا اتنا ہی باقی دوست اس کی باتوں پر داد دیتے اور ایک دوسرے کوکہتے کہ دیکھو ہمارا یہ دوست کتنا خوش اخلاق ہے ، کیسے سب کا دل لگا یا ہوا ہے اس نے ۔ کچھ دیر بعد سب نے مل کر کھانا کھایا اور کھانے کے کچھ لمحے بعد سب نے جانے کی اجازت مانگی یہ کہہ کرکہ پھر ملیں گے۔دل ہی دل میں دوستوں سےمل کر بہت خوش تھا لیکن اس محفل میں کیا صحیح تھا اور کیا غلط میں یہ موازنہ کرنے لگ گیا۔ دوستوں سے ملنے کی خوشی اور اتنے عرصےبعدمل رہے یہاں تک سب کچھ ٹھیک تھا لیکن اس محفل میں جو فحاش گفتگو ، جھوٹ، غیبت ، جاہلانہ قہقے ، لعن طعن وہ سب غلط تھا۔ ایسی محفل سے نہ کچھ سیکھا ، نہ سکھایا اور نہ کچھ حاصل ہوا جو دوست یا محفل اللہ کی یاد نہ دلائے ایسے دوست اور محفل کا کیا فائدہ؟جس محفل میں اللہ کے فرشتے میں نہ بیٹھے ہوں بلکہ شیطان کے چیلے ہوں ایسی محفل میں جانا یا بُلانا کسی بڑے نقصان سے کم نہیں۔
    بہترین محفل وہی ہے جو اللہ کے ذکر سے روشن ہو ، جسے اللہ کے فرشتوں نے گھیرا ہو، جہاں اللہ کے دوست بیٹھے ہوں،جہاں اللہ کی بڑائی بیان کی جاتی ہو، جہاں اللہ کے رحیم ہونے کا دعوی کیا جاتا ہو، جہاں اللہ کی واحدانیت کی قسمیں کھائی جاتی ہوں، جہاں اللہ کے قانون کی بات کی جاتی ہو،جہاں اللہ کی یاد میں آنسو بہانے والے ہوں، جہاں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہوں،جہاں ہر شخص کی بات قرآن و ہر شخص کی بات قرآن و حدیث سے شروع ہو کر قرآن و حدیث پر ختم ہوتی ہو۔ یاد رکھنا یہی محفل بہترین محفل ہے ۔

    حدثنا محمد بن حاتم بن ميمون ، حدثنا بهز ، حدثنا وهيب ، حدثنا سهيل ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏" إن لله تبارك وتعالى ملائكة سيارة فضلا يتتبعون مجالس الذكر،‏فإذا وجدوا مجلسا فيه ذكر قعدوا معهم، وحف بعضهم بعضا باجنحتهم حتى يملئوا ما بينهم وبين السماء الدنيا،‏فإذا تفرقوا عرجوا وصعدوا إلى السماء،‏قال: فيسالهم الله عز وجل وهو اعلم بهم من اين جئتم؟ فيقولون:‏جئنا من عندعبادلك في الارض يسبحونك،‏ويكبرونك، ويهللونك،‏ويحمدونك،‏ويسالونك، قال: وماذا يسالوني؟ قالوا: يسالونك جنتك،‏قال:‏ وهل راوا جنتي؟ قالوا:‏لا اي رب،‏قال:‏فكيف لو راوا جنتي؟ قالوا: ويستجيرونك،‏قال: ومم يستجيرونني؟ قالوا: من نارك يا رب،‏قال وهل راوا ناري؟ قالوا: لا،‏قال: فكيف لو راوا ناري؟ قالوا: ويستغفرونك، قال،‏فيقول: قد غفرت لهم فاعطيتهم ما سالوا واجرتهم مما استجاروا، قال: فيقولون: رب فيهم فلان عبد خطاء إنما مر فجلس معهم،‏قال: فيقول: وله غفرت هم القوم لا يشقى بهم جليسهم "
    سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو سیر کرتےپھرتے ہیں جن کو اور کچھ کام نہیں وہ ذکر الہٰی کی مجلسوں کو ڈھونڈتے ہیں، پھر جب کسی مجلس کو پاتے ہیں جس میں ذکر الہٰی ہوتا ہے وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور ایک کو ایک چھا لیتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پروں سے زمین سے لے کر آسمان تک جگہ بھر جاتی ہے جب لوگ اس مجلس سے جدا ہو جاتے ہیں تو وہ فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور آسمان پر جاتے ہیں، پروردگار عزوجل ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ خوب جانتا ہے، تم کہاں سے آئے؟ وہ عرض کرتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے زمین میں ہو کر وہ تیری پاکی بول رہے ہیں اور تیری بڑائی کر رہے ہیں اور «لا اله الا الله» کہہ رہے ہیں اور تیری تعریف کر رہے ہیں (یعنی«سبحان الله والحمد لله ولا اله الا والله اكبر» پڑھ رہے ہیں اور تجھ سے کچھ مانگتے ہیں، پروردگار فرماتا ہے: مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں. تجھ سے جنت مانگتے ہیں۔ پروردگار فرماتا ہے: کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: انہوں نے تو نہیں دیکھا اے مالک ہمارے! پروردگار فرماتا ہے: پھر اگر وہ میری جنت کو دیکھتے تو کیا حال ہوتا ان کا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ تیری پناہ مانگتے ہیں: پروردگار فرماتا ہے: کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں: تیری آگ سے، اے مالک ہمارے! پروردگار فرماتا ہے: کیا انہوں نے آگ کو دیکھا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: نہیں، پروردگار فرماتا ہے: پھر اگر وہ میری آگ کو دیکھتے تو ان کا حال کیا ہوتا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ تیری بخشش چاہتے ہیں۔ پروردگار فرماتا ہے: (صدقے اس کے کرم اور فضل و عنایت کے) میں نے ان کو بخش دیا اور جو وہ مانگتے ہیں وہ دیا اور جس سے پناہ مانگتے ہیں اس سے پناہ دی، پھر فرشتے عرض کرتے ہیں: اے مالک ہمارے! ان لوگوں میں ایک فلاں بندہ بھی تھا جو گنہگار ہے، وہ ادھر سے نکلا تو ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ پروردگار فرماتا ہے: میں نے اس کو بھی بخش دیا وہ لوگ ایسے ہیں جن کا ساتھی بدنصیب نہیں ہوتا۔
    صحيح مسلم : حدیث نمبر: 6839
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں