1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محمدیہ پاکٹ بک

'قادیانیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اپریل 09، 2014۔

  1. ‏مئی 07، 2014 #251
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    لغوی رسول
    ۵ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاکم یمن بنا کر بھیجا پوچھا کہ آپ مقدمات وغیرہ کا فیصلہ کس طرح کریں گے معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کروں گا اگر قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ ملی تو عرض کیا کہ ارشادات کی روشنی میں۔ اس پر سوال کیا۔ اگر حدیث میں بھی کوئی بات تیرے علم میں نہ آئی تو جواب دیا کہ اپنے اجتہاد سے کام لوں گا اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ جس نے رسول کے رسول کو موافق رسول بنایا۔(۲۴۸) مرزا صاحب کہتے ہیں: '' کلام اللہ میں رسل کا لفظ غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے۔ (۲۴۹)
    خلاصہ تحریرات بالا
    یعنی الرسل سے مراد حضور علیہ السلام کے برگزیدہ صحابہ میں وغیرہ۔
    گویا اقوالِ مرزا ہی کی روشنی میں مطلب یہ ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں لفظ رسل مذکور ہے نہ کہ نبی۔ کلام تو ختم نبوت اور رسالت من اللہ میں ہے نہ مطلق رسالت میں جس کے معنی تبلیغ کے بھی ہیں۔ اس طرح تو جمیع علماء امت اور مبلغین بھی رسل ہیں۔
    ------------------------
    (۲۴۸) اخرجہ احمد فی مستدہ ص۲۳۰،ج۵ والدارمی فی السنن ص۷۲،ج۱ المقدمۃ باب الفتیا وما فیہ من الشدۃ وابوداؤد فی السنن ص۱۴۹،ج۲ ص۱۴۹،ج۲ کتاب الاقضیۃ باب اجتھاد الرأی والترمذی فی السنن مع تحفہ ص۲۷۵،ج۲ کتاب الاحکام باب ماجاء فی القاضی
    (۲۴۹) شھادۃ القران ص۲۳ و روحانی ص۳۱۹،ج۶ و تفسیر مرزا ص۲۸۶،ج۸
     
  2. ‏مئی 07، 2014 #252
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ایک اور طرز سے!
    پھر بفرض محال اگر یہ آیت جریان نبوت پر بھی دلالت کرتی ہے تو اس آیت سے تشریعی نبوت کا امکان ثابت ہوتا ہے نہ صرف غیر تشریعی نبوت کا۔ اگر یہاں سے نبوت کا اجرا ثابت ہوتا ہے۔ تو یہ بہائی مذہب کی دلیل ہے کیونکہ وہ اپنے اعتقاد میں قرآن کو منسوخ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب بہاء اللہ کا دور شروع ہوگیا ہے اور اسی آیت سے دلیل پکڑتے ہیں۔(۲۵۰)
    تحقیقی جواب:
    اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْمیں دوامی طور پر رسولوں کے آنے کا وعدہ ہے تو آیت اِمَّا یاتِیَنَّکُمْ مِّنِیْ ھدًی میں دوامی طور پر ہدایتوں کے آنے کا وعدہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آسکتا ہے تو قرآن مجید کے بعد کتاب بھی آسکتی ہے پھر اِمَّا حرف شرط ہے جس کا تحقق ضروری نہیں اور یَاتین مضارع اور مضارع کے لیے استمرار ضروری نہیں جیسے اِمَّا تَزیِنَّ مِنَ الْبَشَر اَحَدًا (اگر کسی بشر کو دیکھے) کیا حضرت مریم علیہ السلام قیامت تک زندہ رہیں گی۔
    قرآن کریم جب مسلمانوں کو مخاطب کرتا ہے تو یایھا الذین امنوا کہہ کر خطاب کرتا ہے مگر یہاں یا بنی آدم علیہ السلام کہا ہے اور مخاطب کیا ہے آدم کی اولین اولاد کو۔ اس جگہ وہی یہودیانہ تحریف کی گئی ہے ناظرین کرام سورہ اعراف کا رکوع دوم شروع نکال کر اپنے سامنے رکھیں صاف حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ مسطور ملے گا کہ خدا نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ شیطان نے ان کو بہکا کر جنت سے نکلوا دیا۔ خدا فرماتا ہے ہم نے آدم علیہ السلام اور اس کی اولاد کو کہا کہ تمہارے لیے اب دنیا کی زندگی میں جنت کا ٹھکانا موقوف۔ دنیا میں جاؤ اس کے بعد اولاد آدم علیہ السلام کو بطور تنبیہ فرمایا کہ دیکھو تمہارے باپ کو شیطان نے دھوکا دیا۔ تم خبردار رہنا اس کے پنجہ میں نہ پھنسنا۔
    اسی ذکر کے اثنا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جگہ بہ جگہ اس قصہ کے نصائح و مطالب بتائے اور کفار مشرکین کو ان کی کرتوتوں اور شیطانی کاموں پر شرمندہ کیا۔ پھر اسی قصہ کو دوہراتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے اولاد آدم علیہ السلام کو بھی یہ نصیحت کی تھی کہ اگر تمہارے پاس میرے رسول آئیں تو ان کا کہا ماننا جو اصلاح اختیار کرے گا اس پر کوئی خوف نہیں اور جو تکذیب کرے گا اصحاب النار میں سے ہے۔
    اسی قصہ کو پارہ اول شروع رکوع ۴ میں از اوّل تا آخر بیان فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو ہم نے انہیں نصیحت کی فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ (۲۵۱) پھر اگر آوے تمہارے پاس میری ہدایت تو جو اس کی اتباع کرے گا۔ اس پر کوئی غم و حزن نہ ہوگا۔ الحاصل اس آیت میں بھی آئندہ نبوت جاری رہنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ ہے۔
    (خدا) وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول بنا کر نہیں بھیجا جائے گا (۲۵۲)
    ----------------------------------------------------------
    (۲۵۰) کتاب الفرائد ص۳۱۴ و ظھور قائم آل محمد ص۲۳۵ مؤلفہ ابو العباس صاحب رضوی شائع کردہ بھائی کراچی، نوٹ: اس بات کو مرزائی محمد علی لاہوری نے بھی، النبوۃ فی الاسلام ص۹۹ میں کر رکھا ہے کہ مذکورہ دلیل بہائیوں کی ہے جس کی قے خوری فریق قادیان نے کر رکھی ہے۔ ابو صھیب
    (۲۵۱) پ۱ البقرہ:۳۸
    (۲۵۲) ازالہ اوہام ص۵۸۶ و روحانی ص۴۱۶،ج۳
     
  3. ‏مئی 07، 2014 #253
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اعتراض:
    اس میں سب جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے زمانہ کے لوگ مخاطب ہیں جیسا کہ:
    یَا بَنِیٓ اٰدَمَ خُذُوْا ازِیْنتکُمُ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ۔ (اعراف، ع۲)
    '' اے اولادِ آدم علیہ السلام پر مسجد (یا نماز) میں اپنی زینت قائم رکھو۔'' (۲۵۳)
    اس آیت میں مسجد کا لفظ آگیا ہے۔ اور یہ لفظ صرف امتِ محمدیہ کے عبادت گاہ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
    الجواب:
    دیکھو! محض ایک خیال پر کس قدر عظیم الشان عمارت کھڑی کردی گئی ہے حالانکہ لفظ مسجد کا استعمال امم سابقہ میں بھی بروئے قرآن شریف ثابت ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا:
    قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰی اَمْرِھِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْھِمْ مَّسْجِدًا۔ (۲۵۴)
    اصحاب کہف کے بعد جھگڑا ہوا کہ ان کی یادگار میں کیا بنایا جائے تو فریق غالب نے یہ مشورہ دیا کہ ان کی یادگار میں ایک مسجد بنائی جائے پس ثابت ہوا کہ مسجد کا لفظ پہلے بھی مروج تھا۔
    -----------------------
    (۲۵۳) احمدیہ پاکٹ بک ص۴۶۳
    (۲۵۴) پ۱۵ کھف ۲۱
     
  4. ‏مئی 07، 2014 #254
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پانچویں تحریف:
    اِھْدِنَا الصِّراطَ الْمُسْتَقِیم صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ(۲۵۵) سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کے جاری رہنے کی دلیل پکڑی ہے وہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر باطل ہے:
    ۱۔ اول یہ استنباط خلاف نص یعنی خاتم النبیین ختم کرنے والا نبیوں کا(۲۵۶) اور خلاف احادیث صحیحہ ہے اور جو استنباط خلافِ نص ہو وہ باطل ہوتا ہے۔
    ۲۔ دوم اس لیے کہ آیت زیر بحث یعنی صِراطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میں منعم علیہم کی راہ پر چلنے کی دعا ہے نہ کہ نبی بننے کی، جس کے یہ معنی ہیں کہ ان کی ہدایتوں پر عمل کریں، اور ان کے طریق عمل کو نمونہ بنائیں، جیسا کہ فرمایا: لَقَدَ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (۲۵۷) ۔ یعنی تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، قابل اقتداء نمونہ عمل ہیں، اگر انبیاء کے راستے کی پیروی کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ہم نبی بن جائیں تو کیا خدا کے راستے کی پیروی سے خدا بھی بن سکیں گے؟
    دیکھیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے:
    وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیما فَاتّبِعُوْہُ(۲۵۸) یعنی یہ میرا سیدھا رستہ ہے اس کی پیروی کرنا۔
    ۳۔ تیسری وجہ استدلال کے باطل ہونے کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نبوت کا حاصل ہونا دعاؤں اور التجاؤں پر نہیں رکھا، بلکہ وہ خود اپنے انتخاب سے جسے چاہتا رہا ہے ، نبی بناتا رہا ہے۔
    وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْا اَنْ یُّلقٰی اَلَیْکَ الْکِتَابُ اِلاَّ رَحْمَۃً مِنْ رَّبِکَ۔(۲۵۹)
    یعنی اے نبی تجھے کوئی امید نہ تھی کہ تجھ پر کتاب نازل کی جائے گی۔ ہاں صرف خدا کی رحمت سے۔
    اسی طرح سورہ قصص میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی رسالت محض خدا کے فضل سے بغیر دعا یا سابقہ کوشش کے ملنے کا ذکر ہے۔
    منکرین کہتے ہیں کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہ کچھ نہ ملے۔ جو خدا کے رسولوں کو ملتا رہا ہے، اس کے جواب میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے، اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ(۲۶۰) یعنی خدائے تعالیٰ اپنی رسالت کے موقع کو خوب پہچانتا ہے۔ کسی کی آرزو اور خواہش کا اس میں دخل نہیں۔
    غور طلب نتائج
    ۱۔ اھدنا الصراط المستقیم یہ دعا نبی کریم نے بھی مانگی بلکہ یہ دعا مانگنا آپ نے ہی امت کو سکھایا، لیکن یہ دعا آپ نے اس وقت مانگی، جب آپ نبی منتخب ہوچکے تھے اور آپ پر قرآن مجید اترنا شروع ہوگیا تھا، ظاہر ہوا کہ آپ اس دعا سے نبی نہیں بنے پھر اس دعا کا فائدہ کیا؟
    ۲۔ اسلام نے عورتوں پر یہ دعا ممنوع نہیں کی لیکن ایک عورت بھی نبیہ نہیں ہوئی۔
    ۳۔ نعمت بادشاہت ہے اور نبوت، مرزا صاحب بادشاہ نہیں ہوئے، ان کی دعا صرف آٹھ آنے قبول ہوئی (چیرز)
    ۴۔ نبوت باشریعت بھی نعمت ہے بلکہ ڈبل نعمت مگر امت اس نعمت سے کیوں محروم ہے، اگر کہو کہ اب جدید شریعت یا کتاب اس لیے نازل نہیں ہوسکتی کہ شریعت قرآن شریف پر آکر کامل ہو چکی ہے ، تو اس طرح اب کوئی نبی یا رسول نہیں آسکتا، اس لیے کہ نبوت و رسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کامل ہوچکی ہے۔
    ----------------------------------------------------

    (۲۵۵) احمدیہ پاکٹ بک ص۴۶۶
    (۲۵۶) ازالہ اوہام ص۶۱۴ و روحانی ص۴۳۱،ج۳ و تفسیر مرزا ص۵۲،ج۷
    (۲۵۷) پ۲۱ احزاب:۳۱
    (۲۵۸) پ۸ الانعام:۱۵۳
    (۲۵۹) پ۲۰ قصص:۸۶
    (۲۶۰) پ ۸ الانعام:۱۲۴
     
  5. ‏مئی 07، 2014 #255
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مرزا صاحب کا فرمان
    '' پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔'' (۲۶۱)
    معلوم ہوا کہ اس آیت میں نبوت طلب کرنے کی تعلیم نہیں بلکہ محض '' صحابی'' کا درجہ چاہنے کی تلقین ہے۔
    چھٹی تحریف:
    یٰایُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (مؤمنون، ع۳) اے رسولو! پاک کھانے کھاؤ، اور نیک کام کرو، یہ جملہ اسمیہ ہے جو حال اور مستقبل پر دلالت کرتا ہے، اور لفظ رسل صیغہ جمع کم از کم ایک سے زیادہ رسولوں کو چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اکیلے رسول تھے، آپ کے زمانہ میں کوئی اور رسول نہ تھا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول آئیں گے، ورنہ کیا خدا وفات یافتہ رسولوں کو حکم دے رہا ہے کہ اٹھو کھانے کھاؤ۔(۲۶۲)
    الجواب:
    اس جگہ تو پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر اپنی عادت خصوصی '' یہودیانہ تحریف'' کا ثبوت دیا ہے، سورۂ مومنون میں دوسرے رکوع سے اس آیت تک انبیاء سابقہ کا ذکر تفصیل وار کیا ہے، سب کے آخر حضرت مسیح کا ان لفظوں میں کہ وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ اٰیَۃً وَّ اٰوَیْنٰھُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ یٰاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ واعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ وَاِنَّ ھٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ فَتَقَطَّعُوْآ اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ۔ (۲۶۳) الایۃ ہم نے مریم و ابن مریم کو اپنی قدرت کا ایک نشان بنایا، اور ان دونوں کو ایک اونچے ٹیلہ سرسبز و شاداب پر جگہ دی۔ (اس جگہ تک رسولوں کا ذکر ہے، آگے ایک لفظ محذوف ہے، یعنی ہم نے ان سب رسولوں کو یہ حکم دیا تھا) کہ اے رسولو! ستھرے کھانے کھاؤ اور اچھے عمل کرو، میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو، یہ سب لوگ ہیں امت تمہاری دین واحد پر، اور میں تمہارا رب ہوں، مجھ سے ڈرو مگر باوجود اس تاکید کے انبیاء کے متبعین نے) پھوٹ ڈال دی، دین الٰہی میں، اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا، ہر فرقہ اپنی اپنی جگہ شاداں و فرحاں ہے (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) (فَذرْھُمْ فِیْ عَمْرَتِھِمْ حَتّٰی حِیْنٍ )'' چھوڑ دے ان کو اس مدہوشی میں وقت مقرر تک۔'' (۲۶۴)
    یہ آیات اپنے مطلب کو صاف ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ امر ہر ایک رسول کو اپنے وقت پر ہوتا رہا ہے۔ خاص کر پچھلی آیات نے بالکل کھول دیا کہ یہ ذکر پہلی امتوں کا جنھوں نے دین الٰہی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، باوجود اس صراحت کے میں جھوٹے کو گھر تک پہنچانے کے لیے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث صحیح اس بارے میں پیش کیے دیتا ہوں تاکہ سیہ روئے شودہر کہ دروغش باشد۔
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِن اللّٰہَ طَیِّبٌ لاَّ یَقْبَلُ اِلاَّ طَیِّبًا وَاِنَّ اللّٰہ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَ بِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ یٰآیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ۔(۲۶۵)
    '' ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تحقیق اللہ پاک ہے، اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا، لاریب اللہ تعالیٰ نے مومنین کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے انبیاء کرام کو دیا تھا کہ اے رسولو! کھاؤ پاک چیزیں اور عمل صالح کرو، (ایسا ہی مسلمانوں کو) کہا اللہ تعالیٰ نے اے ایمان والو کھاؤ اس پاک رزق سے جو میں نے تمہیں عطا فرمایا۔''
    حضرات اب تو آپ خوب اچھی طرح جان گئے ہوں گے کہ یہ مرزائی قطعاً خدا و رسول کے دشمن اپنی اغراض نفسانیہ کے ماتحت قرآن پاک کو بگاڑنے والے دجال کی امت ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں تیس کے قریب دجال و کذاب پیدا ہوں گے۔ کلھم یزعم انہ نبی اللّٰہ وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی وہ سب کے سب دعویٰ نبوت کریں گے حالانکہ میں نبیوں کو بند کرنے والا ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
    -------------------------------------------------
    (۲۶۱) تحفہ گولڑویہ ص۷۶ و روحانی ص۲۱۸،ج۱۷ و تفسیر مرزا ص۳۴۲،ج۱
    (۲۶۲) احمدیہ پاکٹ بک ص۴۶۷
    (۲۶۳) پ۱۸ المؤمنون:۵۰ تا ۵۳
    (۲۶۴) ایضاً ۵۴
    (۲۶۵) اخرجہ مسلم فی الصحیح ص۳۲۶،ج۱ کتاب الذکوٰۃ باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف ومشکوٰۃ ص۲۴۱ کتاب البیوع باب الکسب وطلب الحلال
     
  6. ‏مئی 07، 2014 #256
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    ساتویں تحریف:
    قرآن میں ہے {وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا تَنْکِحُوْا اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا} تمہارے لیے یہ مناسب نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو ایذا دو۔ اور نہ یہ مناسب ہے کہ تم رسول کی وفات کے بعد اس کی بیویوں سے شادی کرو۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول تھے، جب فوت ہوئے آپ کی بیویوں کے ساتھ کسی نے شادی نہ کی، اب اگر سلسلہ نبوت بند ہوگیا تو نہ کوئی نبی آئے گا نہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیویاں زندہ رہیں گی، نہ اُن کے نکاح کا سوال زیر بحث آئے گا۔ اب اگر اس آیت کو قرآن سے نکال دیا جائے کونسا نقص لازم آتا ہے لیکن قرآن قیامت تک کے لیے واجب العمل ہے۔ اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ جاری ہے اور قیامت انبیاء کی ازواج مطہرات ان کی وفات کے بعد بیوگی ہی کی حالت میں رہیں گی۔ (۲۶۶)
    نوٹ: یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہیں بلکہ عام ہے کیونکہ اس میں ''الرسول، النبی'' کا لفظ نہیں کہ آنحضرت مراد ہوں بلکہ رسول اللہ کا لفظ ہے جو نکرہ ہے اور اس میں ہر رسول داخل ہے۔ (۲۶۷)
    الجواب:
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول تھے، مُحَمَّدٌ رسول اللّٰہ(۲۶۸) آپ پر آیت نازل ہوتی ہے، صحابہ کرام کی جماعت مخاطب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ مانتے تھے، اللہ تعالیٰ صحابہ کو آداب الرسول سے مطلع فرماتا ہے کہ تمہیں نہ تو یہ مناسب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچاؤ اور نہ یہ کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرو، جملہ مخاطبین اس حکم کی مراد سمجھتے ہیں اور سمجھتے بھی کیوں نہ ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود تھے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ایسا ہی عمل میں لایا جاتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات سے باوجود یہ کہ بعض ابھی نوجوان تھیں، شادی نہیں کی گئی، پس اس آیت کو کسی آیندہ رسول کے متعلق بھی قرار دینا سراسر تحریف فی القرآن ہے، کیونکہ خدا :
    '' وعدہ کرچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی رسول (جدید) نہیں بھیجا جائے گا۔''(۲۶۹)
    اور جو یہ کہا گیا ہے کہ '' رسول اللہ'' نکرہ ہے یہ قائل کی جہالت نادانی اور علوم عربیہ سے نابلد محض ہونے کی دلیل ہے، اس جاہل اجہل کو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ ''الرسل، النبی'' سے ہی خصوصیت نہیں ہوتی، بلکہ اسم اضافت سے بھی معرفہ ہوجاتا ہے، دیکھو ''غلام'' کا لفظ نکرہ ہے مگر جب غلام زید کہا جائے گا تو (معرفہ) ہوجائے گا، بعینہٖ یہاں رسول کا لفظ مضاف ہے اور اللہ کا لفظ مضاف الیہ۔ یعنی اللہ کا رسول اور اللہ کا لفظ معرفہ ہے، پس یہاں لفظ رسول اللہ نکرہ نہیں معرفہ ہے والمضاف الی المعرفۃ معرفۃ فتدبر۔
    مجھے خطرہ ہے کہ یہ مرزائی جاہل کہیں احادیث نبویہ سے بھی یہ کہہ کر کھلا انکار نہ کردے کہ کتب احادیث میں عموماً '' قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ '' وارد ہوا ہے، پس یہ خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں نہیں بلکہ ''رسول اللہ نکرہ ہے اس میں ہر رسول داخل ہے۔''
    باقی رہا یہ کافرانہ اعتراض کہ اب اس آیت کو قرآن سے نکال دیا جائے تو کیا حرج ہے؟
    سو جواب یہ ہے کہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کی مظہر و مثبت ہے، پس آپ ہی کہہ دیں کہ حضور کی فضیلت کی دلیل کو مٹانے والا کس لقب کا حق دار ہے، نیز حرج صرف اتنا ہی ہے کہ قرآن پاک میں ایسی ناپاک حرکت کرنے والا بموجب فتویٰ قرآن { یحرفون الکلم عن مواضعہ}(۲۷۰) دین و ایمان سے بے نصیب ہو کر یہود پلید کا ساتھی ہو جائے گا اور کچھ نہیں، تمہیں یہ منظور ہے تو کر دیکھو، مگر یاد رکھو کہ قرآن کی حفاظت کا جس نے ذمہ لیا ہوا ہے وہ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامِ ہے۔
    --------------------------------------------------------------
    (۲۶۶) اولاً مولوی نور الدین جانشین اول مرزا قادیانی جو کہ بلاشبہ علوم رسمیہ کا ایک فاضل اور قرآن و حدیث پر گہری نظر رکھنا تھا، لکھتا ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ فعل سے فاعل مشتق ہو جاتا ہے پ۱۵ سورہ بنی اسرائیل میں پڑھیے (فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما، بنی اسرائیل آیت:۲۴) حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے پس وہ مخاطب نہیں ہیں، حقائق الفرقان ص۳۵۱،ج۲ ۔اس اصول کا اقرار مرزا محمود نے اپنی تفسیر کبیر ص۱۸۰،ج۶ میں کیا ہے الغرض مذکورہ آیت میں زمانہ مستقبل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع مراد ہیں نہ کہ کوئی اور نبی آنے والا ہے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو حدیث نبوی کے علاوہ خود قادیانی مفسرین نے تسلیم کرلی ہے۔ ثانیاً رہا ملک صاحب کا یہ کہنا کہ اگر ''النبی'' کا لفظ ہوتا تو تب اس آیت سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہوتے الخ حالانکہ ملک صاحب کی نقل کردہ آیت کی ابتدا ہی ' یایھا الذین اٰمنوا لاتد خلوا بیوت النبی' کے الفاظ سے ہوتی ہے اور اسی آیت کے آخر میں ' لا تنکحوا ازواجہٗ'کا حکم دیا گیا ہے۔ اورہ کی ضمیر ' النبی' کی طرف لوٹتی ہے۔ کیوں ملک صاحب اب تو آپ کے دل کی مراد بھر آئی ہے اور اسی آیت سے آپ کا مطالبہ پورا کردیا گیا ہے۔
    ثالثاً: امر واقعہ یہ ہے کہ سورہ احزاب کی آیت ۵۳ میں جہاں مومنوں کو آداب النبی کی تعلیم دی جا رہی ہے وہاں ایک زبردست پیشگوئی ہے وہ یہ کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ان حالات میں ہوگی جب کہ ان کی ازواج مطہرات میں سے بعض جوان ہوں گی (چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا اور حضرت عائشہr کی عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اٹھارہ سال تھی) لہٰذا امت اسلام کو حکماً کہہ دیا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی بیوں سے شادی نہ کرنا، یہ تو ایک زبردست پیشگوئی ہے جو قرآن اور صاحب قرآن حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی واضح دلیل ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کی جو پیشگوئیاں پوری ہوچکی ہیں، ان آیات کو قادیانی حضرات نے قرآن سے نکال دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کا دل اندھا ہو جائے تو پھر وہ اسی طرح کی بہکی بہکی دلیلیں جمع کرتا ہے۔ ابو صہیب
    (۲۶۷) احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۰،ج۴۷۱
    (۲۶۸) پ۲۶ فتح: ۲۹
    (۲۶۹) ازالہ اوہام ص۵۸۶ و روحانی ص۴۱۶،ج۳ و تفسیر مرزا ص۶۲،ج۳
    (۲۷۰) پ۵ النساء : ۴۶
     
  7. ‏مئی 07، 2014 #257
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    آٹھویں تحریف:
    مرزائی پیش کرتے ہیں :
    وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِمَّا جَائَ کُمْ بِہٖ حَتّٰی اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ مِنْ بَعْدِہٖ رَسُوْلاً۔ (سورہ مومن:پارہ۲۴)
    '' یعنی (اے باشندگان مصر) تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام اس سے پہلے روشن دلائل لے کر آئے پس تم اس سے جو وہ لے کر آئے شک ہی میں رہے حتیٰ کہ جس وقت وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا تعالیٰ اس کے بعد ہرگز کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔''
    اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفار مصر حضرت یوسف پر نبوت کو ختم سمجھتے تھے اس سے ثابت ہوا کہ ختم نبوت کا عقیدہ کفار کا ہے اور جو نبوت کو بند سمجھے وہ کافر ہے۔ (۲۷۱)
    الجواب:
    یہ ان لوگوں کا مقولہ ذکر کیا گیا ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت پر ایمان نہ لائے تھے جیسا کہ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَکٍّ(۲۷۲) سے ظاہر ہے، انھوں نے ازروئے کفر کہا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں، تو چھٹکارا ہوا، اب خدا کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔
    یہ خدائی فیصلے کا ذکر نہیں ہے اور ان کا یہ قول اس لیے بھی غلط تھا کہ اس وقت خدا کے علم میں سلسلہ نبوت میں سینکڑوں نبی باقی تھے۔ تو ان کفار کا اس وقت کا قول غلط ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس وقت جب خدا تعالیٰ نے اپنے فیصلہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت خاتم النبیین فرما دیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا کہ نبوت اور رسالت میرے بعد منقطع ہوچکی ہے۔ (معاذ اللہ) یہ سب غلط ہے۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فرعون اور آل فرعون سلسلہ رسالت کے منکر تھے، بلکہ فرعون کی قوم اس کو الٰہ سمجھتی تھی، اور خدا کی منکر تھی، پس جو رب العالمین کا انکار کرے وہ رسالت و نبوت کا قائل کیونکر ہوسکتا ہے، کہتے ہیں کہ ایک عیسائی مشنری ایک ایرانی دہریہ کے ہاں گیا، اور اس کو کہنے لگا کہ یسوع مسیح خدا کا بیٹا ہے۔ اس پر ایمان لاؤ تاکہ تم کو نجات ملے، ایرانی دہریہ خاموشی سے اس کے وعظ کو سنتا رہا، جب مشنری نے اپنا وعظ ختم کیا تو اس دہریہ نے جواب دیا کہ من پدرش قبول ندارم و توپسرش پیش میکنی میں تو اس کے باپ کو نہیں مانتا اور تو بیٹا پیش کر رہا ہے۔ یہی حال مرزائیوں کا ہے، قوم فرعون تو سرے سے خدا کا انکار کرتی تھی، وہ اس رب العزت کے رسولوں کو کیسے مان سکتی تھی، پس اہل اسلام کو آل فرعون پر قیاس کرنا بالکل غلط دلیل ہے۔
    نیز حضرت یوسف علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کبھی یہ وحی نہیں کی تھی کہ تو خاتم النبیین ہے اور نہ حضرت یوسف علیہ السلام نے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کا کبھی دعویٰ ہی کیا، اس کے عکس قرآن میں خدا کا قطعی فیصلہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف الفاظ احادیث میں موجود ہیں کہ آپ کے بعد ہر قسم کی نبوت ختم ہوچکی۔
    سنو! مرزا صاحب فرماتے ہیں:
    '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا قائل ہوں اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور آں جناب کے بعد اس امت کے لیے کوئی (جدید) نبی نہیں آئے گا۔'' (۲۷۳)
    ----------------------------------------------------
    (۲۷۱) احمدیہ پاکٹ بک ۴۷۲، نوٹ: اجرائے نبوت کی یہ دلیل بھی بہائیوں کی ایجاد ہے جیسا کہ الابقان ص۱۴۰ اور ظہور قائم آل محمد ص۲۲۷ میں ان آیات سے اجرائے نبوت پر استدلال کیا گیا ہے، اور مؤلف مرزائی پاکٹ بک اور دیگر قادیانیوں نے انہیں کی قے خوری کی ہے۔ ابو صہیب
    (۲۷۲) پ۲۴ المومن : ۳۵
    (۲۷۳) نشان آسمانی ص۳۰ و روحانی ص۳۹۰،ج۴
     
  8. ‏مئی 07، 2014 #258
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نویں تحریف:
    وَاِنَّھم ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ (الجن، ع۱)
    '' قوم جناب کا بھی ظن تھا کہ اب کوئی نبی نہ ہوگا، حالانکہ آنحضرت آگئے۔'' (۲۷۴)
    اس کا جواب بھی اُوپر گزر چکا ہے یعنی ظن اور نصوص قرآنیہ میں فرق نہ کرنے والا خود جاہل ہے، یہ محض جنات کا غلط عقیدہ تھا، یہ خدائی فیصلہ نہیں تھا۔
    دسویں تحریف:
    میں نے متعدد آیات پیش کی ہیں کہ جب دنیا میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، تب رسول آتا ہے۔(۲۷۵)
    الجواب:
    پہلی شریعتیں وقتی اور خاص خاص موقعوں کے لیے تھیں چنانچہ حالات کے موافق احکام نازل ہوتے رہے مگر اسلام کامل و اکمل ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دین کمال کو پہنچ گیا، قرآن نے ہدایت و رشد کے تمام پہلوؤں کو کمال بسط اور تمام ضروری تفصیلات کے ساتھ دنیا میں روشن کردیا ہے اب کسی نئے حکم یا نبی کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں، باقی رہا اصلاح و تبلیغ کا کام، سو یہ کام صالحین امت اور علمائے دین کے سپرد ہے۔
    وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔(۲۷۶)
    '' یعنی تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو لوگوں کو بھلائی اور نیکی کی طرف بلائے، اچھے کام کرنے کو کہے، اور برے کاموں سے روکے۔''
    مزید تفصیل براہین احمدیہ (ص۱۰۹) سے (ص۱۱) تک ملاحظہ ہو، جس کا اقتباس ہم نقل بھی کر آئے ہیں۔(۲۷۷)
    -----------------------------------------------------
    (۲۷۴) احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۲
    (۲۷۵) ایضاً ص۴۷۳
    (۲۷۶) پ۴ اٰل عمران ۱۰۴
    (۲۷۷) دیکھئے باب ھذا کا حاشیہ ۱۲
     
  9. ‏مئی 07، 2014 #259
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    گیارہویں تحریف:
    مرزائی پیش کرتے ہیں:
    { وَمَا کُنَّا مُعذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً }
    جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں ہم عذاب نازل نہیں کرتے یعنی بموجب قرآن نزول آفات سماوی و اراضی سے پہلے حجت پوری کرنے کو رسول آنا ضروری ہے موجودہ عذاب اس ضرورت پر گواہ ہے۔ (۲۷۸)
    الجواب:
    آیت کا مفہوم تو صرف اس قدر ہے کہ اللہ کے رسول اگر حجت پوری کرتے ہیں، مگر منکرین مخالفت کرتے ہیں جس کی وجہ سے عذاب نازل ہوتا ہے چونکہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہان اور سب وقتوں اور امتوں کے لیے '' ایک ہی نبی'' (۲۷۹)ہیں۔ اس لیے یہ تمام عذاب اسی رسالت کاملہ کی مخالفت کا باعث ہے۔
    نیز جو عذاب مرزا صاحب کے دعویٰ کرنے سے پہلے دنیا پر آئے وہ کس کے انکار کی وجہ سے آئے، اگر وہ آنحضرت کی مخالفت کی وجہ سے تو اس زمانہ کے عذابوں کو کیوں نہ آپ ہی کی مخالفت کا نتیجہ قرار دیں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی حد مقرر کی ہے کہ تیرہ سو سال تک جو عذاب آئے گا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے آئے گا اور اس کے بعد کسی اور رسول کے انکار کی وجہ سے؟ اور اگر موجودہ عذاب مرزا صاحب کے انکار کی وجہ سے آرہے ہیں تو اس کی کوئی حد مقرر ہونی چاہیے کہ ان کی وجہ سے کتنے عرصہ تک عذاب آئے گا۔
    ثابت ہوا کہ موجودہ عذاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے ہے، مذکورہ بالا آیت کسی نئے نبی کو نہیں چاہتی، کیونکہ آنحضرت کافۃ الناس کے لیے نبی ہیں، اور آپ کے آنے سے حجت پوری ہوگئی۔
    ---------------------------
    (۲۷۸) احمدیہ پاکٹ بک ص۴۷۶
    (۲۷۹) چشمہ معرفت ص۱۶ و روحانی ص۳۸۸، ج۲۳ مفہوم
     
  10. ‏مئی 14، 2014 #260
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    بارہویں تحریف:
    { ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرً نِّعْمَۃً اَنْعَمَھَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ }
    '' یعنی اللہ تعالیٰ جس قوم پر کوئی نعمت کرتا ہے اور اس سے وہ نعمت دور نہیں کرتا، جب تک وہ قوم اپنے حالات کو نہ بدلے، اگر اس امت پر خدا تعالیٰ نے یہ نعمت نبوت بند کردی ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ یہ امت بدکار ہوگئی ہے۔'' (۲۸۰)
    الجواب:
    اس آیت میں اس نعمت نبوت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ دیگر دنیوی نعمتوں کا ذکر ہے، جو آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوسکتا ہے، اس آیت کے پہلے بھی اور بعد بھی فرعونیوں وغیرہ کا ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو کئی قسم کی نعمتیں بخشی تھیں، لیکن انھوں نے نافرمانی کی تو خدا تعالیٰ نے اس پر تباہی ڈالی، کہاں نبوت اور کہاں دنیا کی نعمتیں خوشحالی حکومت وغیرہ۔
    سوال:
    نبوت ایک نعمت ہے، امت محمدیہ اس سے محروم کیوں ہوگئی؟
    الجواب:
    نزول کتاب اور نبوت شریعی بھی لامحالہ ایک اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اگر آپ کے بعد کوئی نئی شریعت یا جدید کتاب نہیں نازل ہوسکتی تو وہی اعتراض آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد دنیا فیض شریعت سے محروم کردی گئی۔ کیونکہ جس طرح انبیاء علیہ السلام آتے رہے، اسی طرح شریعت بھی وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی۔ اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انعام شریعت بہ نسبت انعام نبوت کے بہت بڑا ہے، اگر آپ ہم کو الزام دیتے ہو تو تم پر بھی وہی الزام عائد ہوتا ہے، الغرض نزول کتاب و نبوت تشریعی بھی ایک نعمت ہے، جب یہ نعمت باجود بند ہونے کے امت میں نقص پیدا نہیں کرتی تو اس طرح اگر مطلق نبوت نعمت ہو تو ختم ہونے کی صورت میں کوئی نقص لازم نہیں آئے گا، کیونکہ نعمت اپنے وقت میں نعمت ہے۔ مگر غیر وقت میں نعمت نہیں، جیسے بارش اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے مگر یہی بارش دوسرے وقت عذاب ہو جاتی ہے، ہم تو اس چیز کے قائل ہیں کہ وہ نعمت پورے کمال کے ساتھ انسانوں میں پہنچا دی گئی، ہم نعمت سے محروم نہیں ہیں، بلکہ وہ اچھی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔ جس طرح سورج کے نکلنے سے کسی چراغ کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد نبی کی ضرورت نہیں۔
    ----------------------------------------------------------
    (۲۸۰) بقائے نبوت فی خیر امت ص۳۰ مؤلفہ میر قاسم علی قادیانی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں