1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محمد شیخ کا فتنہ

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏نومبر 21، 2017۔

  1. ‏دسمبر 03، 2017 #31
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,896
    موصول شکریہ جات:
    8,138
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    لوگوں کو قرآن و سنت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے ، سلف صالحین کے فہم کے اصول سمجھانے کی ضرورت ہے ، ورنہ ہر دوسرا بندہ آپ کے لیے درد سر بن کر رہ جائے گا ۔
    درخت کی جڑیں مضبوط ہوں ، تو وہ تیز آندھیوں کو بھی برداشت کرلیتا ہے ، لیکن اگر جڑیں نہ ہوں ، تو اس کے ارد گرد سہارے بھی کھڑے کر لیے جائیں ، تو وہ گر جاتا ہے ۔
    شبہات کی آندھیوں سے الجھنے سے پہلے اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔
    جبریل فرشتہ ہے کہ نہیں ؟
    قرآن کیا ہے ؟ توراۃ کیا ہے ؟
    اگر چودہ سو سالہ علمی تاریخ رکھنے والے مسلمانوں کو اس طرح کے سوالوں نے پریشان کردیا ہے ، تو نیٹ گردی کی بجائے ، کتابوں کی ورق گرانی کرنی چاہیے ، یہاں تک کہ انسان کو ایمان کی لذت و حلاوت محسوس ہونا شروع ہوجائے ۔
    میں ایسے لوگوں کو نظر انداز کرتا ہوں ، جو مجھ سے پوچھے ، اسے بھی نظر انداز کرنے کا مشورہ دیتا ہوں ، پھر بھی کوئی اصرار کرے ، تو عرض کرتا ہوں ، قرآن کریم کل رات کو نازل نہیں ہوا ، چودہ صدیوں سے نازل ہوا ہے ، اور اس وقت سے اس میں کچھ چیزیں مسلمات اور حقائق کی حیثیت رکھتی ہیں ، اگر اس نئے مفکر صاحب نے ہمارے چودہ سو سالہ علمی و تحقیقی نقطہ نظر کو زیر بحث لا کر جواب دیا ہے ، تو میں اس کا جواب دیتا ہوں ، اور اگر اس نے ان سب چیزوں کو ایک طرف رکھ کر اپنی منطق جھاڑی ہے ، تو مجھے اپنی ’ فکری روایت ‘ سے الگ ہونے والے شاذ کے ساتھ وقت ضائع کرنے کی کوئی حاجت نہیں ۔
    لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ’ ہماری چودہ سو سال شناخت ہے ‘ اور ’ کوئی اسے مسلسل نظر انداز کرنا چاہتا ہے ‘ یہ باتیں ہمیں معلوم ہونی چاہییں ۔
    مجھے عوام کی فکر ہوئی ، تو میں اپنی روایت اور تاریخ کا لوگوں کو تعارف کرواؤں گا ، ایسے لوگوں کا رد کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 03، 2017
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 03، 2017 #32
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,029
    موصول شکریہ جات:
    310
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    میرا خیال ہے کہ ہمیں آمین بالجہر ، 8 یا بیس رکعت تراویح ، رفع الیدین ، وضع الیدین وغیرہ جیسے فروعی مسائل کو ثابت یا رد کرنے کی بجائے ان فتنوں کے خاتمے کے لیے اپنا زور لگانا چاہیے ۔ ہم ان مسائل میں اختلاف کو برداشت کر کے بھی ایک رہ سکتے ہیں مگر ان جیسے ” شیوخ مجتہدین“ کو نظر انداز کر کے کبھی ایک نہیں ہو سکتے ۔
    اہلِ علم حضرات تو ان شعبدہ با زوں کی چالوں کو بخوبی بھانپ جائیں گے مگر عوام کالانعام کا کیا کیا جائے؟ وہ تو پہلے ہی دین سے دور اور کچھ تو بے زار ہیں ،ان کے پاس نہ تو تفسیرِ قرآن کے مجموعے ، نہ صحاحِ ستہ و اصولِ کافی و شافعی اور نہ ہی تحقیقی و حقیقی مقالات کی کثرت ۔
    آخر کوئی تو وجہ ہے جو ختمِ نبوت و رسالتﷺ کے معاملہ پر، فروعی مسائل میں اختلاف کے با وجود، دیوبندی ، بریلوی ، اہلِ حدیث اور شیعہ سب ایک جھنڈے تلے جمع ہو جاتے ہیں ۔
    تھوری دیر کے لیے ذرا سو چیں وہ کون سے مسائل ہیں جس نے ہمیں ایک ہونے سے روکا ؟اور وہ کون سے فتنے ہیں جن کی وجہ سے ہم ایک ہوئے ہیں ؟یہ آپ مجھ سے نہیں بلکہ اپنے ضمیر سے پوچھیں ۔
    کبھی آپ نے غور کیا کہ ان فروعی مسائل پر دورِ قدیم سے لے کر دورِ جدید تک کتنے صفحات سیاہ اور کتنے مناظرے اور بحث و مباحثے ہو چکے ہیں اس معجزے کے ساتھ کہ یہ مسائل اب بھی تحقیقی مراحل میں زیرِ بحث ہیں ۔
    یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ جب بات ان فروعی مسائل کی آئے تو حدیثوں کی کتابیں بھی نکال لی جاتی ہیں ، جرح و تعدیل کی ضخیم کتابیں بھی دسترس میں آ جاتی ہیں،محدثین و فقہاء کے اقوال بھی چھانٹ چھانٹ کر نکال لیے جاتے ہیں، منظروں و مجادلوں کی محفلیں بھی سج دھج جاتی ہیں، ثالث بھی مقرر کر لیے جاتے ہیں، مخالفین کے اقوال کے اقتباس کے کر انکا
    ” علمی رد“ بھی شروع کر دیا جاتا ہے ، ان کے لیے وقت بھی خصوصاً نکال لیا جاتا ہے۔مگر جب بات دین کی بنیاد جڑ سے اکھیڑ دینے والوں کی آئے ، اسلام کے نام پر کفر و الحاد کو پالنے والوں کی آئے، اسلامی اصولوں کا خود قرآن مجید و سنت سے رد کیا جا ئے تو عوام کو یہ کہہ کر معذرت کر لی جاتی ہےکہ انہیں اسلامی تاریخی کتابوں کی ورق گردانی کرلینی چاہیے اور بس۔
    جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہمارے عوام خصوصاً نوجوان نسل تو پہلے ہی حصولِ جنت اور جہنم سے چھٹکارےکے لیے
    ” سستے اعمال و افعال“ کی لگن میں مگن رہتی ہے اس لیے اگر ہم نے اُن کو اِن (مفسدین و فتنہ پرداز بشکل مجتہدین ِ اسلام) کے حوالے کر دیا تو ان کو یہ امر ماننے میں بھی ذرا تأمل نہ ہو گا کہ رسول ﷺ کی بعثت محض ایک افسانہ تھی ، شریعت و طریقت کی اصطلاحات فقہاء و محدثین کی ایجاد تھی، جہادو قتال کے احکامات محض حصولِ زر و زن کے لیے تھے، حج و زکٰوۃ کا مقصد ضیاعِ دولت و ثروت کے سوا کچھ نہ تھا وغیرہ۔
    یاد رکھیں ان فروعی مسائل میں اختلاف کے با وجود ہر مسلمان کی مغفرت کی اُمید کی جا سکتی ہے لیکن اگر ان فتنوں سے متاثر ہو کر ایک بھی مسلمان راہِ راست سے بھٹک گیا اور اہلِ علم حضرات نے اس کو سنجیدہ نہ لیا تو وہ آخرت کی پکڑ سے کسی صورت بچ نہیں پائیں گے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 03، 2017 #33
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,672
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

  4. ‏دسمبر 03، 2017 #34
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    @اشماریہ بھائی یہ بنیادی نکات ہیں
     
  5. ‏دسمبر 03، 2017 #35
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    ان کو بھی دیکھ لیں
     
  6. ‏دسمبر 03، 2017 #36
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    یہ بھی اس کے نکات میں شامل ہے
     
  7. ‏دسمبر 03، 2017 #37
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,672
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یہ میں نے دیکھے ہیں۔ جتنی ویڈیو سنی ہے اس سے اندازہ ہوا ہے کہ یہ مکمل نہیں ہیں۔ محمد شیخ کی بات کی مکمل ترجمانی نہیں کی گئی ہے۔
    مجھے ویڈیوز دیکھنے یا آڈیوز سننے میں بہت تنگی ہوتی ہے۔ یہ وقت بھی بہت لیتی ہیں اور نکات کو یاد بھی رکھنا پڑتا ہے۔ اگر آپ اسے سن کر ہر بات اور اس کے دلائل تحریر کر دیں تو مجھے بہت آسانی ہو جائے گی۔ ورنہ اس طرح جواب دیتے ہوئے تو شاید عرصہ بیت جائے۔
    @ابن داود بھائی، اگر آپ ویڈیو سن کر اس کے مطابق جواب تحریر فرما سکتے ہوں تو آپ اس کا جواب تحریر فرما دیجیے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 04، 2017 #38
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,140
    موصول شکریہ جات:
    1,052
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    کافی حد تک اتفاق ہے. لیکن ان فروعی مسائل کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جانا چاہئے. البتہ یہ سوچنا چاہئے کہ یہ گھر کا مسئلہ ہے ہم آپس میں حل کر لیں گے لیکن شیخ جیسے فتنوں کے لئے ہم سب کو ایک ہی رہنا چاہئے.
     
  9. ‏دسمبر 04، 2017 #39
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,896
    موصول شکریہ جات:
    8,138
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بات مختصر کرتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا اپنا مزاج ہے ، جو جس کو صحیح سمجھتا ہے لگا ہوا ہے ۔
    مسلکی بحثوں کا ذوق رکھنے والوں نے تو مکتبے بھر دیے ہیں ؟ عالمگیر اور دانشورانہ سوچ رکھنے والوں نے کیاکیا ہے ؟
    کوئی ایسے لوگوں کے ساتھ الجھنا چاہتا ہے ، بڑی اچھی بات ہے ، ہم کسی کو منع نہیں کرتے ۔
    البتہ میں چونکہ ایک مسلکی سوچ رکھنے والے آدمی ہوں ، اس لیے میں نے اپنا نقطہ نظر واضح کردیا ہے ۔
    ہماری نظر میں ایسے لوگوں کو مشہور وہی کرتے ہیں ، جو ان کو منہ لگاتے ہیں ، امت کا درد بہت ہوتا ہے ، لیکن علمی بنیادی مضبوط نہیں ہوتیں ۔ میرے جیسے کسی مسلکی مولوی کے پاس تو ایسے اسکالر دو منٹ نہیں بیٹھ سکتے، کیونکہ اس کے فلسفے میں الجھنے کی بجائے ، قرآن کھول کر رکھیں گے ، حدیث کھول کر رکھیں گے ، کہ ذرا اس کو پڑھیں ، ترجمہ کریں ۔۔۔۔۔۔ سب کچھ وہیں نکھر کر سامنے آجائے گا ، زبان لڑکھڑائے گی ، اور پیشانی پسینہ بہائے گی ۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏دسمبر 04، 2017 #40
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    124
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    اوکے ان شاء اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں