1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

مدارس کے نصاب میں اصلاح

'جامعات' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏ستمبر 07، 2016۔

  1. ‏ستمبر 07، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,573
    موصول شکریہ جات:
    937
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    مدارس کے نصاب میں اصلاح
    تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیخ عبدالمعید مدنی
    ’’مدارس کے نصاب میں اصلاح‘‘ کے نام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے۔ ایک ہندوستانی مستشرق نے کچھ شیر خواروں کچھ بگڑے ہوئے دانشوروں اورکچھ ملت کے بہی خواہوں سے انٹرویو لیا ہے۔ کل اٹھارہ انٹرویوہیں جن پر کتاب مشتمل ہے ۔ استشراق چاہے مغرب کا ہو چاہے مشرق کا وہ زہر خند، خندہ دشمنان اور تیر ستم سے زیادہ کچھ ہے نہیں۔ سارے مستشرق بھیڑیا ہوتے ہیں اوربکری کی کھال پہنتے ہیں۔ یہ کتاب بھی تیرستم اورخندہ اعداء سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
    ہندوستان کے دینی مدارس کی حیثیت بس ایسے ہی ہے جیسے کسی بیوہ کا دیا۔ اس کادیا روغن سے خالی ہوتاہے اورپڑوس کے چراغ سے اپنا دیا جلاتی ہے او ربتی سے روغن کا بھی کام لینا چاہتی ہے۔ آندھیوں میں جس طرح ایک بیوہ اپنے دےئے کو بجھنے سے بچاتی ہے اسی طرح ملت اسلامیہ ہند، مدارس کو آندھیوں میں بجھنے سے بچارہی ہے۔ اس حالت میں مدارس کو زندہ رہنے پر داد دینے کے بجائے رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجاکے تھانے میں۔
    مدارس اوراہل مدارس پر ہرطرح کی کرم فرمائیاں ہورہی ہیں۔ سارے عالم کی نگاہوں میں وہ خار کی طرح کھٹکتے ہیں۔ اپنے بھی ان پر طعنہ زن ہیں اور غیر بھی انھیں تباہ کرنے کے درپے ہیں۔
    مدارس میں جو بھی اچھا یا براہے اسے اہل مدارس جانتے ہیں۔ وہی ان کے مسائل کو حل بھی کرنا جانتے ہیں یا چاہتے ہیں لیکن حل نہیں کرپاتے ہیں۔ مگرکسی اجنبی سے وہ کسی تعاون کے خواستگاربھی نہیں ہوتے ہیں حتی کہ انھیں یہ بھی نہیں پسند ہے کہ حکومت ان کے مسائل میں مداخلت کرے۔
    بتلایا گیا ہے کہ انٹرویومدارس میں اصلاح نصاب کے متعلق ہیں مگران کا بڑاحصہ استشراقی فساد کا آئینہ دار ہے۔ انٹرویودینے والے بھی بھانت بھانت قسم کے ہیں۔ مستشرق صاحب نے ایسے ہی لوگوں کا انتخاب کیاہے جن سے پسندکی بات کہلوا سکیں اور جواس طرح ہیں ان سے لمبی گفتگوہوئی اورجہاں دال نہیں گلی ہے وہاں انٹرویوبہت مختصرہوا ہے۔
    قریب قریب سارے انٹرویوسطحی ہیں اوراس بات کی دلیل ہیں کہ انٹرویو دینے والے مدارس کے مسائل سے بے خبرہیں ۔ مولانا وحید الدین خان نے پوچھے گئے سوالات کے جوابات میں بڑی حدتک مدارس کے مسائل کی تفہیم میں سمجھ داری اورگہرائی کا ثبوت دیا ہے۔ بگڑے ہوئے مفکرین کے جوابات میں بڑی حدتک مدارس کے مسائل کی تفہیم میں سمجھ داری اور گہرائی کا ثبوت دیا ہے۔ بگڑے ہوئے مفکرین میں ان کے صاحب زادے ڈاکٹر ظفر الاسلام کا انٹرویوپھوہڑپن کا آئینہ دارہے۔ ان کی کئی تحریریں حال میں زیر نظر آئیں ان کی سطحیت سے طبیعت مکدر ہوگئی وہ توایسے ہیں جیسے بلی کو خواب میں بھی چھیچڑے نظر آتے ہیں۔ انھیں اس کا بڑا دکھ ہے اورشاید دل کا روگ بن گیاہے کہ اہل حدیثوں کو سعودی عرب سے زیادہ فنڈملتاہے اوراس سے ہندوستان میں مسلمانوں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس غصے میں کہیں ایسا نہ کربیٹھیں کہ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر پکارنے لگیں۔ جھولی بھردو میری اللہ والو‘‘ حیرت ہے کہ مجلس مشاورت کا صدرایسی ہلکی بات کرے جس سے بے غیرتی اور بے مروتی کی بو آتی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایک غیرت مند انسان ایسی باتیں اپنی زبان سے ادا کرے گا۔ خیراتی پیسوں کے لیے ایسی بے تابی۔ ایسی باتیں چھوٹ بھیے کہا کرتے ہیں اورواقعہ یہ ہے کہ ان مولوی صاحب کو حقائق کا پتہ ہی نہیں ۔ ان کی یہ بات صرف ایک حاسد کی بات ہے اوربس ۔
    پہلا انٹرویوایک سید صاحب کاہے پتہ نہیں یہ اصلی سید ہیں یا قریشی (قصائی) سیدہیں۔ جس طرح ان کی گفتگورہتی ہے ۔ اس سے تواندازہ ہوتاہے کہ یہ قریشی سید ہیں۔ جناب کا انٹرویوانتہائی درجہ کا پھسپھساہے۔ ہندوستانی مستشرق کے ایک سوال کے جواب میں جناب نے سعودی عرب اورگلف امارتوں کے متعلق ارشاد فرمایا: (ان ملکوں کے حکمراں امریکہ سے تعلق بنائے رکھنے پر خودکو مجبور محسوس کرتے ہیں ۔ ان کی حیثیت خدام کی سی ہے جواپنے آقا کے تئیں کسی قسم کے غصے اور ناراضگی کا اظہارنہیں کرسکتاکیوں کہ وہ پوری طرح اس پر انحصار کرتے ہیں اگرچہ وہ اس کے ساتھ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ اسلامی ممالک ہیں یہ سوفیصد منافقت ہے اس میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں )(ص۱۲)
    امریکہ کی ایک قطبیت کے آگے کسی کی چلتی ہے ۔ عراق پر اس نے زبردستی حملہ کیا اقوام متحدہ اورسیکورٹی کاونسل کسی نے اس کی اجازت نہیں دی۔ پھر بھی حملہ ہوا اور ۳۶ملک اس کی مدد کوپہنچ گئے اورہرملک نے اس کی حمایت کی حتی کہ ایران نے سب سے زیادہ اس حملے میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ خاص کرمسلم ممالک کے مسائل میں کہیں بھی امریکہ کے برخلاف کوئی نہیں جاسکا۔ ایسی حالت میں صرف سعودی عرب اورخلیجی ممالک کو مجرم قرار دینا کیا ہے۔ اور سوفیصد ان کی منافقت کا اعلان کرنا یہ کیاہے۔ انھیں ممالک سے زکاۃ اور خیرات بٹورنے والے سید کے منہ سے اچھا نہیں لگتا کہ ایسا کہیں اور خوداپنے اوپریہی حکم لگالیں۔ سید صاحب ہمیشہ گولر کا پھول کھلانے کے شوق میں رہتے ہیں ۔ علی میاں نے جتنی سرخروئیاں بٹوری تھیں۔ یہ ان کے برعکس ہرجگہ رسوائیوں کو بٹورنے کے عادی ہیں۔ مولوی صاحب ہمیشہ ہوش کھوکر پرجوش تقریر کرنے کے موڈ میں رہتے ہیں۔ اور راہوں میں اجالا بکھیرنے کے بجائے خار زار پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
    ایک انٹرویومیں مستشرق نے آگ لگانے کی کوشش کی ہے وہاں بھی جواب میںیہی کہا گیا ہے ۔سعودی عرب امریکہ کا غلام ہے۔ سعودی حکومت اپنے وظیفہ خوار ملاؤں سے اس طرح کے فتوے جاری کراتی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنے اورامریکہ کے مفادات کی حفاظت کرسکے۔ سعودی عرب کے بعض ملاؤں نے یہ بیان دیا کہ عراق وایران میں موجودہ مرقدوں اور مزارات کو جن کے تئیں اہل تشیع خاص طورپر عقید ت واحترام رکھتے ہیں انھیں بم سے اڑادیا جائے۔ میں شیعہ سنی سمیت تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ اس حربے کو سمجھیں اورایسی حرکتوں میں ملوث نہ ہوں جو مسلمانوں کو توڑنے اور بانٹنے والی ہوں۔ (ص۹۰)
    ہندوستانی مستشرق کا یہ سوال کیا کتاب کے ٹائٹل سے میل کھاتاہے ۔ اورجواب بھی کیا خوب ہے۔ حضرت علی کے ساتھ غداری کرنے والے حضرت حسن اورحضرت حسین اور بے شمار اہل بیت کو مروانے والے تمام اہل بیت کو ہمیشہ ستانے والے آج ان کی قبروں کو مقدس بنائے ہوئے ہیں۔ یہ عجوبہ ہے کہ زندگی میں ستایا جائے اور ماراجائے اورپھر ان کے مرقدوں اورمزارات کو عبادت گاہ بنالیاجائے۔ واقعی کٹھمل شب بیدار کیڑا ہے مگر تہجد گذاروں کا بھی خون پی جاتاہے۔
    سعودی عرب امریکہ کاغلام اور اپنے وظیفہ خواروں سے امریکہ کے مفادات کی رکھوالی کرتاہے۔ سعودی عرب امریکہ کا غلام ہے کہ نہیں لیکن رافضی ایران نے امریکی کی غلامی کا ثبوت عراق اور افغانستان جنگ میں دیدیاہے۔ اورامریکہ کی خفیہ تائید وتعاون پر ہی ایران مشرق اوسط میں پولیس بناجارہا ہے او رخفیہ طورپر امریکہ واسرائیل کے احکام وصول کرتاہے تاکہ اہل سنت کے خطرے سے امریکہ اسرائیل اور ایران تینوں کونجات ملے۔ حزب اللات (حزب اللہ) پورے شرق اوسط میں کس کے اشارے اور تعاون سے قتل وغارت گری کرتاہے۔ حزب اللہ اورعراق بشار الاسد کے ساتھ مل کر شام کے سنیوں کو مارنے میں کس کے اشاروں پر عمل کررہے ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ نے اہل سنت کو تباہ کرڈالا ۔ فلسطینی کیمپوں میں صابراوشاتیلا میں درندگی کس نے دکھلائی؟ افریقہ میں اہل سنت کے اندر ایران کا نفوذ کس کے تعاون سے ہورہاہے؟ عراق میں امریکہ سے کس نے رشوت لے کر ۱۹۹۱ء میں صدام کے خلاف امریکہ کاساتھ دیا۔ یہ حال کی غداریاں ہیں۔ ایران میں اہل سنت کتنا تھے کتنا رہ گئے؟ ایران کے اراجیف اورزہر کو دل ودماغ میں بھرے زہریلی گفتگوکرنے والوں کو کیا معلوم کہ سعودی عرب کے علماء عظام کی عظمت کیا ہے ایران کے سارے ملا اور اس کے دم چھلے ان شاء اللہ علماء سعودی عرب کے پیر کے دھوؤن بھی بننے کے لائق نہیں ہیں۔اوروہ رافضی ملاؤں کی طرح چھیچھوری دوغلی باتیں نہیں کرتے نہ کسی قبر کو بم سے اڑانے کوکہہ سکتے ہیں ایسی باتیں رافضی ملا گھڑتے ہیں اوران کا انتساب پاکباز سعودی علماء سے جوڑتے ہیں۔
    کرم فرمامگر کے آنسوبہارہے ہیں اور اپنی سیاہ تاریخ کو دہرانے کے بجائے اتحاد کی دعوت دے رہے ہیں ایسی منافقانہ اتحاد کی دعوت اور ایسے داعی مرفوض ہیں اس کتاب میں سب سے زیادہ شبیہ بگاڑی گئی ہے اہل حدیثوں کی اورجامعہ سلفیہ کی۔ اپنوں نے بھی بے جا دانشوری کا ثبوت دیا ہے اورغیر وں نے بھی۔
    انٹرویو۱۶سے ایسا لگتاہے جیسے نمبر۱۶صاحب نے جامعہ سلفیہ میں تعلیم حاصل نہیں کی ہے کسی چنڈوخانہ میں وقت گذارا کر آگئے ہیں اوراپنے چنڈوخانے کی باتیں جامعہ سلفیہ پرتھوپ رہے ہیں۔ ایسا لگتاہے جیسے ہندوستانی مستشرق کو انہوں نے آقا کا درجہ دے رکھاہے اور اس کے سامنے سربسجود ہوگئے ہیں اوراس کی رضا کا حصول انکا مقصد حیات بن گیاہے اور اس کی رضا ومحبت حصول کے لئے اپنے دین ایمان اوراپنی پہچان سے بھی دست بردار ہوگئے ہیں۔ اورخشوع وخضوع کے ساتھ انھیں ان تمام باتوں کا اعتراف ہے جن کو وہ چاہتاہے اور ان تمام باتوں سے تبری اختیار کرلی ہے جواسے ناپسند ہے۔
    انٹرویونمبر ۱۸میں بھی بہ تکلف دانشوری زیادہ ہے۔ حقیقت پسندی بہت کم ہے۔ جس دئے سے آگے علم کے راستے روشن ہوئے ایسے دےئے کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی سعی اچھی بات نہیں ہے۔ کفر والحاد کی بستی کی ظاہری چمک ودمک نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے۔ پھرانسان اپنا سب کچھ بھول جاتاہے۔
    جن کو تمام مدارس کا حال معلوم ہے انھیں یہ پتہ ہے کہ جامعہ سلفیہ کی کارکردگی بحیثیت مجموعی ہر اعتبار سے ہندوستان کے تمام مدارس سے کہیں بہتررہی ہے اگر آنکھ کھول کر دیکھیں تواپنے انتظام کھانے کے بندوبست کھلاپن ، نصاب تعلیم، صفائی ستھرائی، تدریس کا بہترین لائبریری سٹ اپ، علمی سرگرمی، کھیل کود، آؤٹ اکٹوٹی وغیرہ ہراعتبار سے دیگر مدارس سے ممتاز ہے۔ میڈیا میں ایسے مدارس کا بڑا ذکر ہوتاہے جہاں دکھاوا زیادہ ہے۔ یا گدی نشینی ہے اورروزی روٹی کا مسئلہ ہے۔ جامعہ سلفیہ کے روشن امکانات کو نااہلی نے ختم کردیا افسوس اس کاہے ۔ اوراب اس سے بڑے اہل حدیث مدارس جیسے سنابل، ابن تیمیہ، جامعہ محمدیہ، دارالسلام عمرآباد اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔
    نصاب تعلیم کے باب میں اہل حدیث مدارس سب سے آگے ہیں ہندوستانی مستشرق کی نگاہ میں یہ چیز نہیں آئی جامعہ سلفیہ سے متعلق انٹرویو کے لیے اسے ایسے لوگ ملے جو دانشوری کی دنیا میں شیرخوارہیں۔
    مدارس گولوگوں کی نگاہوں میں زیروہیں پھر بھی یہی ملت اسلامیہ کی رگ حیات ہیں۔ ۱۸۳۵ء میں جب سے برصغیر میں سیکولر تعلیم کی ابتداہوئی ہے یہی مدارس کے نگہبان اورپشتیبان ہیں اوراب بھی یہی نگہبان اورپشتیان ہیں۔ سیکولر اداروں میں مسلمانوں نے شکم پروری کے سوا کیا کیاہے۔ ساری سہولتیں پانے کے باوجود کوئی کارکردگی نہیں ہے۔ ان سے کسی شعبے میں کچھ بھی نہ ہوسکا۔
    مدارس اسلامیہ میں آپ جتنا کہہ ر ہے ہیں اس سے زیادہ کمیاں ہیں۔ پھر بھی جہاں سب کچھ مل رہاہے اورسارے ذرائع میسر ہیں وہاں کیا ہوسکا۔سیکولرجامعات اوراداروں کے عربی اردو اور دراسات اسلامیہ کے شعبوں ہی کو لے لیں ان میں سارے کے سارے گھربیٹھے داماد بھرے ہیں جواپنے کردار اخلاق نااہلی کے سبب ننگ ملت ہیں۔ دینی مدارس اپنے دائرہ کاراورسہولیات کے حساب سے ہندوستان کے دیگر تمام تعلیمی اداروں سے کہیں زیادہ کامیاب ہیں اوراپنے مقاصدمیں بڑی حدتک کامیاب ہیں۔ رہ گئی با ت کہ ان میں اصلاح اورترقی کے جتنے امکانات ہیں ان کو استعمال کرنا چاہیے توان کے لیے وقت کا اہم مسئلہ ہے بقیہ ساری باتیں مدارس سے متعلق صرف کہنے کی ہیں اور شان تبختر دکھلانے کا ایک طریقہ ہے۔اوربس
    مدارس ومکاتب کا جودائرہ کار ہے اورجو امکانات ہیں اورامکانات کی جو حدبندیاں ہیں ان کو دیکھتے ہوئے اگران سے اتنا مل پائے کہ مسلمانوں کو دین سے آشنا کئے رکھیں تویہی بہت بڑی بات ہے اوراپنے اس مقصد میں وہ ہزار کمیوں کے باوجود کامیاب ہیں اس کے سوا اگر وہ مزید کچھ کرلے جائیں تویہ ان کے لیے نفل کے درجے میں ہوگا۔
    رہ گئی مدارس سے متعلق دانشوری کرنے کی بات توایسی دانشوری جھوپڑوں میں بیٹھ کر ایک بکری کا چرواہا بھی کرسکتاہے۔ اورایسی دوراز کار دانشور یاں دھوپ میں روز سوکھتی اورختم ہوتی رہتی ہیں۔
    مدارس کے مسائل کیاہیں؟وہ کیسے حل ہوں؟ مدارس کے نصاب کیسے ہوں سوسال سے یہ زیر بحث ہیں۔ اورزیر بحث رہیں گے اورہرنصاب زیر بحث رہتاہے لیکن اس کا عملی حل وہی لوگ نکالتے ہیں جو اس فیلڈ میں ہیں اورحل نکلنا ہے چاہے وقت لگے اورامکانات کے باوجود حل نہیں بھی نکلتاہے کامیابی وناکامی ساتھ چلتی ہے۔
    مدارس نہ سیکولر ادارے بن سکتے ہیں۔ نہ روزی روٹی کامسئلہ ان سے جوڑا گیاہے۔ نہ حکومت کی مداخلت اورمعاونت ان کے لئے مفید ہے ۔ جس طرح ملت کا دائرہ ہے اس کے مطابق ان کا پھیلاؤ ہوسکتاہے اوروہی اس کا فطری پھیلاؤہے۔ گلف کے پیسوں سے اس کا پھیلاؤ غیر فطری ہے۔ یہ نقصان دہ ہے اورمستقبل میں مزید نقصان پہنچائے گا۔ گئی گذری حالت میں بھی ملت کے قلعے یہی ہیں پائداری انھیں کو حاصل ہے اوردانشوری فقط حباب آب ہے اور سگریٹ کا دھواں۔ مدارس اوراہل مدارس پر نقد ہو لیکن اس فریم میں جس کا ذکر ہوا۔ بلاوجہ دبلی گھوڑی لال لگام کی سی دانشوری مناسب نہیں۔
    سیکولرہندوستان میں حکومت سیکولر تعلیم کی ذمہ داری لیتی ہے ملت کے ۹۵فیصد طلباء سیکولر اداروں میں سیکولر تعلیم حاصل کرتے ہیں چند فیصدغریب طلباء کو دینیات کی تعلیم صرف اس لئے دی جاتی ہے کہ وہی زکاۃ کے حقدارہیں۔ نیز ملت کی دینی ضروریات دینی مدارس سے فارغ فضلاء ہی پوری کرسکتے ہیں۔ مدارس کے ترجیحی مقاصدمیں یہ داخل ہے کہ علماء وفضلا ء مدارس ملت کی دینی ضرورتیں پوری کریں۔
    دینی مدارس کا دائرہ کار، مالی پوزیشن ملت کی دینی ضرورت سے طے ہوتی ہے پبلک سکٹرمیں دینی مدارس سے ملت کو بقا حاصل ہے۔ اگریہ معمولی سہولیات پرچلنے والے مدارس جدوجہد نہ کریں توسارا دینی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
    دائرہ کار محدود، ضروریات دینیہ سیکولرملک میں مختصر ،افراد کم، قوم اباحیت کی راہ پر ایسے ماحول میں دینی تعلیم کا بھرپور نظام قائم کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اللہ مسلمانوں کو سمجھ دے تاکہ اپنا نفع نقصان سمجھ سکیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں