1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد علی جواد, ‏فروری 01، 2013۔

  1. ‏فروری 18، 2015 #121
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,978
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    مجھے عبد الله بن سبا کے وجود کا انکار نہیں جیسا کہ آپ سمجھ رہے ہیں - میں اہل سنّت کے اس اصول کی بات کررہا ہوں جس کو سامنے رکھ کر وہ عبدالله بن سبا کے وجود کا اثبات کرتے ہیں - اہل سنّت کا اصول کہتا ہے کہ کذاب راوی کی روایت قابل قبول نہیں تو پھر عبد الله بن سبا کی حقیقت سے متعلق "سیف بن عمر تمیمی کذاب راوی" کی بیان کردہ روایات پر کیوں اعتماد کیا جاتا ہے ؟؟؟
     
  2. ‏فروری 19، 2015 #122
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,723
    موصول شکریہ جات:
    8,321
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بالکل غلط بات ہے ، محدثین کا یہ منہج بالکل نہیں ہے ۔ اگر محدثین کا یہ منہج ہوتا تو آپ کو ایسی روایات صحاح کے ضمن میں نظر نہ آتیں ۔
    اور پھر یہ بھی ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ محدثین جن روایات کا معنی و محمل صحیح معلوم نہ ہوسکے ان کو رد نہیں بلکہ ان پر توقف اختیار کرتے تھے ۔ گویا محدثین تحقیقی اعتبار سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد ، اپنے آپ کو ’’ کل خاں ‘‘ سمجھتے ہوئے نہ سمجھ آنی والی باتوں کو رد کرنے کی بجائے اپنے علم و فہم میں قصور کا اعتراف کیا کرتے تھے ۔ علوم حدیث میں موجود ’’ مختلف الحدیث ‘‘ وغیرہ بحث میں ایسی مثالیں موجود ہیں ۔
    بلکہ خود نص نبوی سے یہ بات ثابت ہے ’’ رب حامل فقہ غیر فقیہ ‘‘ اور ’’ فرب مبلغ أوعی لہ من سامع ‘‘ ان الفاظ میں یہ معنی موجود ہے کہ بعض دفعہ روایت کرنے والا الفاظ کےمعنی و مفہوم سے کما حقہ واقف نہیں ہوتا ،لیکن بعد والے اس کو بہتر طور پر سمجھ جاتے ہیں ۔
    کتنی ایسی روایات ہیں ، جن کا معنی کسی ایک عالم دین کو سمجھ نہیں آتا ، یا اس میں اسے کوئی خلاف شرع بات محسوس ہوتی ہے ، لیکن بعد والے اہل علم و فضل اس کا لائق معنی و مفہوم بیان کردیتے ہیں ۔
    اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آپ جو کہہ رہے ہیں تو یہ بھی سمجھ کی غلطی ہے ، جس طرح محدثین راویوں پر اور روایات نقد کرتے ہیں ، اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی روایات پر جرح کیا کرتی تھیں ، گویا ان کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات بیان کرنے میں صحابی کو غلطی لگ جاتی تھی ، جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سنی ہوئی باتوں کی روشنی میں پرکھا کرتی تھیں۔ اور یہ اصول محدثین کے ہاں بھی موجود ہے کہ وہ راویوں کی روایات میں ’’ احفظ ، اوثق ، الزم ‘‘ کا خیال کرتے ہوئے ترجیح دیا کرتے تھے ۔ واللہ اعلم ۔
    اوپر آپ نے اسحاق سلفی صاحب کی تحقیق کا شکریہ کس بنیاد بر ادا کیا ہے ۔؟
    اس میں یہی لکھا ہوا ہے کہ کئی ابن سبا کے بارے میں کئی روایات ایسی ہیں جن میں سیف کا نام و نشان بھی نہیں ہے ۔
    گویا ابن سبا کے وجود کے بارے میں سیف کی روایات پر ہی اعتماد نہیں ہے ۔
    ویسے آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کو ابن سبا کے وجود سے انکار نہیں ، گویا آپ کے نزدیک ابن سبا کا وجود تھا ، آپ کی یہ رائے کس بنیاد پر ہے ۔؟
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  3. ‏فروری 19، 2015 #123
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,226
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ابن سبا،ایک ایسی حقیقت جس کا اعتراف خود شیعہ کو بھی تھا ،اور ہے ،
    درج ذیل سطور میں اہل تشیع کے مستند حوالے اس کے ثبوت میں حاضر ہیں


    عبد الله بن سبأ!! حقيقة أم خيال؟؟

    ان الشائع عند الشيعة أن عبدالله بن سبأ شخصية وهمية لا حقيقة لها , اخترعها اهل السنة من أجل الطعن بالشيعة ومعتقداتهم فنسبوا اليه تأسيس التشيع ليصدوا الناس عنهم وعن مذهب اهل البيت.
    وقد ورد في كتاب أصل الشيعة واصولها 40/41 للكاتب السيد محمد الحسين ال كاشف حيث قال:أما عبدالله بن سبأ الذي يلصقونه بالشيعة أو يلصقون الشيعة به , فهذه كتب الشيعة باجمعها تلعن بلعنه والبراءة منه.
    ولا شك أن هذا تصريح بوجود هذه الشخصية .
    وعبدالله بن سبأ هو احد الاسباب التي ينقم من أجلها اغلب الشيعة على أهل السنة. فهم يقولون انها شخصية ابتدعها اهل السنة لتشويه المذهب الشيعي.
    عن أبي جعفر قال :ان عبد الله بن سبأ كان يدعي النبوة ويزعم أن امير المؤمنين هو الله ( تعالى الله عن ذلك) فبلغ ذلك أمير المؤمنين عليه السلام فدعاه وسأله فأقر بذلك وقال نعم أنت هو, وقد كان قد ألقى في روعي أنت الله وأني نبي , فقال أمير المؤمنين عليه السلام : ويلك قد سخر منك الشيطان, فارجع عنه وتب, فأبى , فحبسه واستتابه ثلاثة ايام , فلم يتب فحرقه بالنار وقال : ان الشيطان استهواه, فكان ياتيه ويلقي في روعه ذلك.
    وعن ابي عبدالله أنه قال: لعن الله عبدالله بن سبأ , انه ادعى الربوبية في امير المؤمنين عليه السلام: وكان والله امير المؤمنين عليه السلام عبدا لله طائعا, الويل لمن كذب علينا, وان قوما يقولون فينا ما لا نقوله في أنفسنا نبرأ الى الله منهم, نبرأ الى الله منهم.
    -معرفه اخبار الرجال للكشي ص 70-71
    وقال الماقاني:عبدالله بن سبأ الذي رجع الى الكفر وأظهر الغلو وقال: غال ملعون, حرقه امير المؤمنين بالنار, وكان يزعم أن عليا اله, وأنه نبي.
    -تنقيح ألمقال في علم الرجال 2/183 ,184
    وقال النوبختي: السبئيه قالوا بامامه علي, وانها فرض من الله عز وجل, وهم أصحاب عبدالله بن سبأ , وكان ممن أظهر الطعن على ابي بكر وعمر وعثمان والصحابة, وتبرأ منهم, وقال: ان عليا عليه السلام أمره بذلك.فاخذه علي فساله عن قوله هذا, فأقر به, فأمر بقتله, فصاح الناس اليه: يا أمير المؤمنين أتقتل رجلا يدعوا الى حبكم أهل البيت, والى ولايتك والبراءة من أعدائك؟ فصيره الى المدائن.

    وحكى جماعه من اهل العلم أن عبد الله بن سبأ كان يهوديا فأسلم, ووالى عليا, وكان يقول وهو على يهوديته في يوشع بن نون بعد موسى عليه السلام بهذه المقالة, فقال في اسلامه في علي بن أبي طالب بمثل ذلك, وهو أول من شهر القول بفرض امامة علي وأظهر البراءه من اعدائه. فمن هنا قال من خالف الشيعة: ان اصل الرفض مأخوذ من اليهودية
    -فرق الشيعة ص 32-44

    وقال سعد بن عبد الله الأشعري القمي في معرض كلامه عن السبئية: السبئية أصحاب عبد الله بن سبأ, وهو عبدالله بن وهب الراسبي الهمداني, وساعده على ذلك عبدالله بن خرسي وابن اسود وهما من أجل الصحايه, وكان أول من أظهر الطعن على أبي بكر وعمر وعثمان والصحابة وتبرأ منهم.
    -المقالات والفرق ص 20

    وذكر ابن ابي حديد أن عبدالله بن سبأ قام الى علي وهو يخطب فقال له:أنت أنت, وجعل يكررها, فقال له علي : ويلك من أنا, فقال : أنت الله. فأمر بأخذه وأخذ قوم كانوا معه على رايه.
    -شرح نهج البلاغة 5/5

    ( قال عبد الله بن سبا لعلي : أنت الاله حقا, فنفاه علي الى المدائن , وقيل انه كان يهوديا فأسلم, وكان في اليهودية يقول في يوشع بن نون وموسى مثل ماقال في علي.
    -الأنوار النعمانية 2/234
    نستفيد من النصوص السابقه الاتي:
    1- اثبات شخصية عبدالله بن سبأ ووجود فرقة تناصره وتنادي بقوله وهذه الفرقه تعرف بالسبئية.
    2- ان بن سبأ هذا مان يهوديا فأظهر الاسلام وهو وان اظهر الاسلام الا ان الحقيقة انه بقلى على يهوديتة واخذ يبث سمومه من خلال ذلك.
    أنه هو الذي أظهر الطعن في ايو يكر وعمر وعثمان والصحاية وكان اول من قال بذلك وهو أول من قال بامامة علي بن ابي طالب وهو الذي قال بان علي وصي النبي وأنه نقل هذا القول عن اليهودية وانه ما قال هذا الا محبة للأهل البيت ودعوه لولايتهم والتبرؤ من أعدائهم وهم الصحابة ومن والاهم بزعمه.
    اذن شخصية عبدالله بن سبا حقيقة لا يمكن تجاهلها او انكارها وورد الاثبات من كتبهم التي يرجعون اليها وكتبنا التي نرجع نحن اليها.
    ومن هذه المصادر
    الغارات للثقفي, رجال الطوسي, الرجال للحلي, قاموس الرجال للتسري, دائرة المعارف, الكنى والالقاب لعباس القمي, حل الاشكال لاحمد بن طاووس, الرجال لابن داود, جامع الرواه للمقدسي, مناقب ال ابي طالب لابن شهر أشوب, مراه الانوار لمحمد بن طاهر العاملي.

    http://www.dd-sunnah.net/forum/showthread.php?t=940
     
    Last edited: ‏فروری 19، 2015
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 19، 2015 #124
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    381
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏فروری 19، 2015 #125
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    چودہ سو سال ہوئے سب ابن سبا کے وجود کو تسلیم کرتے رہے اب اس صدی میں کچھ سنی مصری محققین اور کچھ شیعہ محققین نے یہ حل ڈھونڈا کہ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری لہذا شیعہ عقائد کو ابن سبا سے نسبت کی بجائے
    اس کا سراسر انکار ہی کر دیا جائے

    اس سلسلے میں ان کی دلیل ہے کہ ابن سبا کی روایت ایک راوی سیف بن عمر نقل کرتا ہے جو ضعیف ہے لیکن الذھبی کہتے ہیں

    سيف إخباريا عارفا


    سیف خبر والا جاننے والا ہے


    ابن ھجر کہتے ہیں

    ضعيف في الحديث عمدة في التاريخ


    حدیث میں ضعیف ہے لیکن تاریخ میں عمدہ ہے


    ہماری تحقیق کے مطابق ابن سبا کا تذکرہ صرف سیف بن عمر ہی نہیں کرتا اور بھی کرتے ہیں مثلا ابن ھجر نے اس کا ذکر ان اسناد سے بھی کیا ہے جن میں سیف نہیں ہے- خود کتب شیعہ جو رجال روایت پر ہیں ان میں اس کا ذکر ہے جیسے رجال کشی اس کے علاوہ اہل سنت کی جرح و تعدیل کی کتب میں بہت سے راوی خود کو سبائی کہتے ہیں لہذا فرضی کردار کیسے ہوا

    بہت سے صحابہ کی وفات و انجام کا تذکرہ نہیں ملتا کیا اس بنیاد پر ان کی تمام احادیث اور تاریخی روایات رد کی جائیں گی؟ یہ تو سراسر حماقت ہو گی

    اگر اپ عربی سے واقف ہیں تو اس کتاب کو دیکھ سکتے ہیں

    ابن سباحقیقه لا خیال

    http://islamhouse.com/ar/books/391775/

    ایک اور کتاب بھی ہے
    عبد الله بن سبأ اليهودي اليماني بين الحقيقة والخيال
    د. سامي عطا حسن
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 19، 2015 #126
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    لیں میرے بھائیوں میں حبیب الرحمن کاندھلوی کی کتاب سے کچھ صفحات جو میرے ایک ساتھی نے مجھے سکین کر کے بھیجے ہیں وہ یہاں پوسٹ کر رہا ہوں اب باقی دور دور کی ساری باتیں ترک کر کے ان مشتملات پر بحث کریں تاکہ عنوان کا کچھ حق ادا ہو سکے
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    • one.jpg
      one.jpg
      فائل سائز:
      253.9 KB
      مناظر:
      110
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 19، 2015 #127
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    two.jpg
     
  8. ‏فروری 19، 2015 #128
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    three.jpg
     
  9. ‏فروری 19، 2015 #129
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    four.jpg
     
  10. ‏فروری 19، 2015 #130
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    five.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں