1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد علی جواد, ‏فروری 01، 2013۔

  1. ‏فروری 19، 2015 #131
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    six.jpg
     
  2. ‏فروری 19، 2015 #132
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    seven.jpg
     
  3. ‏فروری 19، 2015 #133
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    eight.jpg
     
  4. ‏فروری 19، 2015 #134
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    nine.jpg
     
  5. ‏فروری 19، 2015 #135
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ten.jpg
     
  6. ‏فروری 19، 2015 #136
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    eleven.jpg
     
  7. ‏فروری 19، 2015 #137
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    اہل سنت اور شیعہ کتب کے مطابق ابن سبا کے پیرو کاروں کو علی رضی الله عنہ نے اگ میں زندہ جلوا دیا خود ابن سبا بھی شاید انہی میں سے ہو

    بخاری کی حدیث میں ہے جب یہ خبر ابن عباس کو ملی تو انہوں نے کہا

    لو كنت أنا لم أحرقهم، لنهى رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “لا تعذبوا بعذاب الله”

    اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کونکہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے منع کیا ہے کہ الله کے عذاب سے عذاب دیا جائے


    علی رضی الله نے اس پر ایک شعر کہا

    لما رأيت الأمر أمراً منكراً *** أوقدت ناري ودعوت قنبرا


    جب میں امر منکر دیکھا میں نے اگ بھڑکائی اور قنبر کو پکارا



    قبنر علی کا غلام تھا جس کو انہوں نے یہ حکم دیا

    ابن سبا کے غالی اگ میں جل رہے تھے اور پکار رہے تھے

    لا یعذب بالنار الا رب النار

    اگ کا عذاب نہیں دیتا مگر اگ کا رب

    گویا آخری وقت تک غالی علی کی الوہیت کا عقیدہ رکھتے تھے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 19، 2015 #138
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    سیف بن عمر کو محدثین ضعیف کہتے ہیں لیکن حدیث کی روایت میں جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے اس میں الذھبی اور ابن حجر کی رائے میں یہ قابل قبول ہیں
    ابن حبان نے ان پر موضوع روایات بیان کرنے کا الزام لگایا ہے اس پر تقریب التہذیب میں ابن حجر کہتے ہیں

    «أفحش ابن حبان القول فيه

    اس قول میں ابن حبان نے فحش کہا


    گویا ابن حجر کے نزدیک ابن حبان کی رائے افراط پر مبنی ہے

    تاریخ میں واقدی اور محمّد بن اسحاق کے اقوال بھی لئے جاتے ہیں ابن اسحاق کو امام مالک دجال کہتے ہیں اور واقدی کو کذاب کہا جاتا ہے لیکن چونکہ ٩٠ فی صدی تاریخ انہی لوگوں سے مروی ہے لہذا ان کی روایت تاریخ میں مانی جاتی ہے اسی طرح سیف بن عمر کی روایات کمزور ہونے کے باوجود تاریخ میں قبول کی جاتی ہیں
     
  9. ‏فروری 20، 2015 #139
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,978
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    جن روایت کے معنی محدثین پر واضح ہوتے تھے کیا ان کے بارے میں بھی وہ توقف اختیار کرتے تھے؟؟؟ جیسے یہ روایت-

    اقض بینی وبین ھذا الکاذب الآثم الغادر الخائن۔ (مسلم ، رقم ۴۵۷۷)


    اس روایت کے بارے میں تو امام نووی واضح طور فرما رہے ہیں کہ :
    ھذا اللفظ الذی وقع لا یلیق ظاہرہ بالعباس وحاش لعلی ان یکون فیہ بعض ھذہ الاوصاف فضلا عن کلھا ولسنا نقطع بالعصمۃ الا للنبی ولمن شھد لہ بہا لکنا مامورون بحسن الظن بالصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم اجمعین ونفی کل رذیلۃ عنھم واذا انسدت طرق تاویلھا نسبنا الکذب الی رواتھا۔(النووی، شرح صحیح مسلم ۱۲/ ۷۲ )


    ’’اس روایت میں واقع یہ الفاظ بظاہر حضرت عباس سے صادر نہیں ہو سکتے ، کیونکہ یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ سیدنا علی کی ذات میں ان میں سے کوئی ایک وصف بھی پایا جائے، چہ جائیکہ تمام اوصاف۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے علاوہ جن کے بارے میں آپ نے جھوٹ سے محفوظ ہونے کی شہادت دی ہے، ہمارا کسی کے بارے میں بھی معصوم ہونے کا عقیدہ نہیں ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ صحابہ کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور ہر بری بات کی ان سے نفی کریں۔ چونکہ روایت میں تاویل کی کوئی گنجایش نہیں ، اس لیے ہم اس روایت کے راویوں کو ہی جھوٹا قرار دیں گے۔

    لیکن علماء پرستی کے چکر میں آپ کا فہم یہ کہہ رہا ہے کہ : روایت تو صحیح ہے لیکن الفاظ کا مطلب ھذا الکاذب الآثم الغادر الخائن وہ نہیں جو ہم سمجھ رہے ہیں- ؟؟؟ جب کہ دوسری طرف قرون اولیٰ کے محدث مسلم کی اس روایت کو صرف اس بنا پر رد کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں : ونفی کل رذیلۃ عنھم واذا انسدت طرق تاویلھا نسبنا الکذب الی رواتھا -چونکہ روایت میں تاویل کی کوئی گنجایش نہیں ، اس لیے ہم اس روایت کے راویوں کو ہی جھوٹا قرار دیں گے۔
    کاش اہل سنّت، روایات کو پرکھنے کے دوران اس آیت کے معنی کو بھی مد نظررکھیں:

    اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ سوره توبہ ٣١
    انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا اپنا رب بنا لیا-
     
  10. ‏فروری 20، 2015 #140
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,978
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    شاید کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ طبری نے سیف بن عمر سے جو روایات لی ہیں وہ بعد کے مورخین نے من و عن قبول کرلی -

    سیف کی احادیث تاریخ طبری کے ذریعےدیگر تاریخی کتابوں میں کس طرح سرایت کر گئیں

    ابن اثیر نے اپنی تاریخ الکامل کے مقدمے میں لکھا: میں نے اس کتاب میں وہ چیزیں بیان کی ہیں جو کسی دوسری کتاب میں بیان نہیں ہوئیں۔ میں نے اسکی ابتداء امام ابن جریر طبری کی تاریخ کبیر سے کی کیونکہ سب اسی کتاب پر بھروسہ کرتے ہیں اور اختلاف کی صورت میں اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس کتاب سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیگر مشہور تواریخ کا مطالعہ کیا اور تاریخ طبری سے جو باتیں مجھے نہیں مل سکیں انہیں ان تواریخ سے لے کر طبری سے حاصل شدہ معلومات پر ان کا اضافہ کیا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں