1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد علی جواد, ‏فروری 01، 2013۔

  1. ‏فروری 26، 2015 #151
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    حبیب الرحمن کاندھلوی کے بارے میں مختصر جائزہ سے جو چند امور واضح ہوتے ہیں انہیں نقاط کی صورت میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے :
    ۱۔ کاندھلوی صاحب نے اپنی تحقیق کے لیے جو موضوعات منتخب کیے وہ عمومی طور پر اردو داں طبقے کے لیے شدید متنازعہ تصور کیے جاتے ہیں۔
    ۲۔ ان متنازعہ موضوعات کے لیے کاندھلوی صاحب نے انتہا پسندانہ انداز تحقیق اختیار کیا
    ۳۔ کاندھلوی صاحب نے اپنی تحقیق میں جانبدارانہ اندا زتحقیق استعمال کیا
    ۴۔ کاندھلوی صاحب نے بسا اوقات ایسے موضوعات منتخب کیے جس میں تحقیق کی قطعا ضرورت نہیں تھی کہ پچھلے تیرہ سو سال سے وہ مسائل امت مسلمہ کے لیے متفق مسائل میں شمار کیے جاتے ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کی صحت وغیرہ
    ۵۔ کاندھلوی صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ماہر جرح و تعدیل ہیں لیکن چند مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسماء الرجال سے متعلق ان کی معلومات ناقص اور ناواقفیت پر مبنی ہیں۔
    ۶۔ کاندھلوی صاحب نے اپنی تحقیق میں علم روایت کے مقابلے میں علم درایت کو فوقیت دی

    حواشی
    ۱۔ [مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت، جلد اول][انٹر نیٹ دی اسلامک ریسرچ]
    ۲۔ مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت، ص ۲۲
    ۳۔ مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت ،ص ۲۲
    ۴۔ مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت، جلد اول صفحہ نمبر ۲۵۱
    ۵۔ مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت ، جلد ۱، صفحہ نمبر ۴۱۰ ، ۴۴۸
    ۶۔ مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت،جلد دوم،صفحہ نمبر ۱۵۷
    ۷۔ مذہبی داستانیں اور ان کی حقیقت ، جلد دوم ، صفحہ نمبر ۷۴ ،۷۵
    ۸۔ تہذیب ج۹، ص ۵۴، الھدی الساری،ص ۴۸۹، تاریخ بغدادج۲، س۹
     
  2. ‏مارچ 04، 2015 #152
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,978
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم فیض الابرار صاحب -

    بحیرا راہب کے قصّے سے متعلق مجھے کچھ یہ معلومات ملی ہیں -

    بحيرا کی کتاب الفتن کے حوالے سے معروف ہے جس میں Apocalypse of Bahira الفتن کے حوالے سے کتاب بتایا گیا ہے کہ اس کی ملاقات نبی صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی اور اس کو کوہ طور پر مکاشفہ آیا کہ عربوں میں نبی آئے گا. اس کتاب کو شاید عیسائیوں نے تخلیق کیا کیونکہ بحيرا ایک نسطوری عیسائی تھا یعنی کیتھولک چرچ کا مخالف اور اس نے نبی کو عیسایت کے بارے میں معلومات دی تھیں یہ کردار اصل میں نبی صلی الله علیہ وسلم پر عیسائیوں کا بہتان تھا کہ انہوں نے اس راہب سے سیکھا تھا-

    بیان کیا جاتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 12 برس تھے تو آپکے چچا ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر تجارت کی غرض سے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصرٰی پہنچے قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا- ایک عیسائی بنام بحیرا راہب خلاف معملول اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اسکی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کی بناء پر پہچان لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا ” تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لئے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں"

    یہ بات بی قابل ذکر ہے کہ قدیم تاریخی حوالہ جات محمّد بن اسحاق میں درختوں اور پتھروں کا سجدہ کرنے کا کوئی حوالہ نہیں ہے- البتہ مستدرک حاکم میں بیان ہوا ہے کہ بحيرا نے کہا- کوئی درخت اور پتھر ایسا نہ تھا جو سجدہ نہ کرتا ہو اور یہ سجدہ نہیں کرتے سوائے نبی کے- لیکن امام ذھبی رح اس کو کذب بیانی کہتے ہیں-
     
  3. ‏مارچ 05، 2015 #153
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,978
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -
     
  4. ‏مارچ 05، 2015 #154
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,978
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -
     
  5. ‏مارچ 11، 2015 #155
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



    بحیرا راہب کا قصہ


    بحيرا ایک فرضی کردار ہے جس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں لیکن چونکہ

    اس کا قصہ مبالغات پر مبنی ہے لہذا زبان زد عام ہے

    معروف ہے جس میں Apocalypse of Bahira بحيرا کی کتاب الفتن کے حوالے سے کتاب

    بتایا گیا ہے کہ اس کی ملاقات نبی صلی الله علیہ وسلم سے ہوئی اور اس کو کوہ طور پر مکاشفہ آیا کہ عربوں میں نبی آئے گا. اس کتاب کو شاید عیسائیوں نے تخلیق کیا کیونکہ بحيرا ایک نسطوری عیسائی تھا یعنی کیتھولک چرچ کا مخالف اور اس نے نبی کو عیسایت کے بارے میں معلومات دی تھیں یہ کردار اصل میں نبی صلی الله علیہ وسلم پر عیسائیوں کا بہتان تھا کہ انہوں نے اس راہب سے سیکھا تھا

    بیان کیا جاتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 12 برس تھے تو آپکے چچا ابو طالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر تجارت کی غرض سے ملک شام کے سفر پر نکلے اور بصرٰی پہنچے قافلے نے وہاں پڑاؤ ڈالا

    ابن کثیر البداية والنهاية میں لکھتے ہیں

    وذكر ابن عساكر ان بحيرا كَانَ يَسْكُنُ قَرْيَةً يُقَالَ لَهَا الْكَفْرُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ بُصْرَى سِتَّةُ أَمْيَالٍ وَهِيَ الَّتِي يُقَالَ لها
    (دير بحيرا)

    حافظ ابن عَسَاكِرَ نے نے ذکر کیا ہے کہ بحيرا ایک بستی میں رہتا تھا جس کا نام کفر تھا اور اس بستی اور بصرہ میں چھ میل کا فاصلہ ہے اور اس کو دیر بحيرا کہا جاتا ہے


    ایک عیسائی بنام بحیرا راہب خلاف معملول اپنے گرجا سے نکل کر قافلے کے اندر آیا اور اسکی میزبانی کی حالانکہ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں نکلتا تھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کی بناء پر پہچان لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یہ سید العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجے گا۔ ابو طالب نے کہا آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا ” تم لوگ جب گھاٹی کے اس جانب نمودار ہوئے تو کوئی بھی درخت یا پتھر ایسا نہیں تھا جو سجدہ کے لئے جھک نہ گیا ہو اور یہ چیزیں نبی کے علاوہ کسی اور انسان کو سجدہ نہیں کرتیں

    بَحِيرَا کے حوالے سے قدیم حوالہ سیرت محمّد بن اسحاق ہے جس میں درختوں اور پتھروں کا سجدہ کرنے کا کوئی حوالہ نہیں ہے

    واقدی کی کتاب فتوح الشام میں ہے

    ورأيت من دلائله أنه لا يسير على الأرض إلا والشجر تسير إليه


    بَحِيرَا نے ان کی نبوت کے دلائل میں سے دیکھا کہ وہ نہیں گزرتے کسی زمین یا درخت پر جو ان کی طرف نہ بڑھتا ہو


    البتہ مستدرک حاکم میں بیان ہوا ہے کہ بحيرا نے کہا

    لَمْ يَبْقَ شَجَرٌ، وَلَا حَجَرٌ، إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا وَلَا تَسْجُدُ إِلَّا لِنَبِيٍّ


    کوئی درخت اور پتھر ایسا نہ تھا جو سجدہ نہ کرتا ہو اور یہ سجدہ نہیں کرتے سوائے نبی کے


    مستدرک میں اس روایت کی سند ہے کہ ابو موسیٰ الاشعری کہتے ہیں

    حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى


    ذھبی اس روایت پر مستدرک کی تعلیق میں کہتے ہیں أظنه موضوعا فبعضه باطل

    میرا گمان ہے یہ گھڑی ہوئی ہے اور بعض باطل ہے

    سجدہ کرنے کا جوایک حوالہ ملا تھا اس کو ذھبی نے گھڑی ہوئی روایت قرار دے دیا
     
  6. ‏مارچ 11، 2015 #156
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

  7. ‏مئی 20، 2016 #157
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    یہ تعبیر کچھ مناسب نہیں ہے
     
  8. ‏دسمبر 22، 2018 #158
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    میری صرف تین مرتبہ ملاقات ہوئی تھی آخری ملاقات 1990 یا 1991 میں ہوئی تھی سن وفات کا علم نہیں کہ والد صاحب رحمہ اللہ کو جب علم ہوا تھا تو انہوں نے منع کر دیا تھا کہ ابھی ملاقات درست نہیں جب کچھ پڑھ لو تو پھر ملاقاتیں کرتے رہنا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں