1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد اور عورت کی نماز میں فرق کے دلائل

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ ابن آدم, ‏دسمبر 12، 2014۔

  1. ‏مارچ 21، 2016 #41
    ابو خبیب

    ابو خبیب مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2016
    پیغامات:
    55
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    18


    اسے پہلے کہ میں اس روایت (مجاھد رحمه الله کے قول) پر تبصرہ کروں_____________
    تقی عثمانی دیوبندی صاحب وغیرہ کے مصدقہ فتویٰ میں لکھا ہوا ہے کہ:
    “اور ایک تابعی کا عمل اگر چہ اصول کے مخالف نہ بھی ہو تب بھی اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا" .
    [مجموعہ رسائل ۹۹/۲و تجلیات صفدر ۱۱۳/۵]

    جناب ظفر احمد تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں کہ:
    [فإن قول التابعي لا حجة فیه]
    بے شک تابعی کے قول میں کوئی حجت نہیں ہے" .
    [اعلاء السنن ج ۱ ص ۲۴۹]

    مصنف ابن ابي شيبة : 2704
    حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : نا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ " كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ بَطْنَهُ عَلَى فَخِذَيْهِ إِذَا سَجَدَ كَمَا تَصْنَعُ الْمَرْأَةُ


    لیث بن ابي سلیم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے______قال البوصیری :”ھذا إسناد ضعیف ، لیث ھو ابن أبي سلیم ضعفه عند الجمھور". [سنن ابن ماجہ : ۲۰۸ مع زوائد البوصیری]


    امام يحيى بن معين کہتے ہیں : منكر الحديث، ومرة: ضعيف إلا أنه يكتب حديثه، ومرة: أضعف من عطاء ويزيد، ومرة: ليس به بأس، وعامة شيوخه لا يعرفون، ومرة: ليس حديثه بذاك ضعيف،
    امام ابن حجر اور الدارقطني نے بھی ضعیف کہا__________؛؛؛

    لیثِ مذکور پر جرح کے لئے دیکھئے التھذیب التھذیب و کتب اسماء الرجال اور سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب: “احسن الکلام” [ج۲ ص ۱۲۸ طبع بار دوم، عنوان تیسرا باب، آثار صحابہ و تابعین وغیرہم]

    لیث بن ابی سلیم مدلس ہے ۔ [مجمع الزوائد للبیهقي ج ۱ ص ۸۳، کتاب مشاہیر علماء الامصار لإبن حبان ص ۱۴۶ ت:۱۱۵۳]
    اور یہ روایت معنعن ہے لہذا مجاھد کا یہ قول ضعیف و مردود ہے__________؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
     
  2. ‏مارچ 21، 2016 #42
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! جرح کی نوعیت کو بھی مد نظر رکھیں۔
     
  3. ‏مارچ 21، 2016 #43
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! میں نے کسی بھی دینی مدرسہ سےتعلیم حاصل نہیں کی۔ علم ”علماء“ سے یا بنیادی کتب سے حاصل کرتا ہوں۔ عالم کے اختلافی مسائل بھی نصوص میں دیکھتا ہوں۔
    ہاں البتہ کسی تحریر کو سمجھنے کے لئے اپنی عقل پر بھروسہ کرتا ہوں یا پھر ایسے فہیم عالم پر جس کا فہم نصوص کے مطابق ہو ٹکراتا نہ ہو۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 21، 2016 #44
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    تو بھائی اس کی نشاندہی کریں تاکہ اصلاح ہوسکے اور آپ میرے محسن ہوں گے۔ اصلاح مثبت انداز میں ہو تو احسن اگر منفی انداز میں ہوگی تب بھی میرے حق میں وہ یقینا مفید ہی ہے۔
     
  5. ‏مارچ 21، 2016 #45
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    بھائی بڑی سخت گفتگو کرتے ہو ۔
    یہ جو آپ نے لکھا ہے
    اس کے بارے میں تو رائے دے دیں ۔
    ۔صحیح مسلم رقم ۲۴۰(۴۹۸)
    وَيَنْهَى أَنْ يَفْتَرِشَ
    الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ
    یہ حدیث میں تعین ۔رجل یعنی مرد کی ہے کہ مرد ایسا کرے اس تخصیص کا کیا معنی ہے ۔
     
  6. ‏مارچ 21، 2016 #46
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    بھائی وہ کاپی پیسٹ کر رہے ہیں۔ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
     
  7. ‏مارچ 21، 2016 #47
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    ایسے جملوں سے پرہیز ہی کریں ۔ ایسے جملے طنز میں آتے ہیں ۔ اس سے دوسرے بھائی میں مزید سختی ہی آسکتی ہے ۔
    ایسی حالت میں ہر مسلک والا پھر ’’جواب‘‘ تلاش کرتا ہے ۔ جو کہ مناسب نہیں ۔
    کیونکہ ہماری کوئی جنگ نہیں ہو رہی کہ ایک دوسرے کو چپ کرانا ہے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 21، 2016 #48
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏مارچ 23، 2016 #49
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    لا يحل لرجل أن يهجر أخاه المسلم فوق ثلاث ، يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ) رواه البخاري ( 5727 ) ومسلم ( 2560 )

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الإِثْنَيْنِ ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلاَّ رَجُلاً كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا. (مسلم: 2565)
     
  10. ‏مارچ 23، 2016 #50
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    مجھے ابھی تک اس کا کوئی حل موصول نہیں ہوا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں