1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

'جہیز' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 21، 2012۔

  1. ‏فروری 21، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    [​IMG]

    مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

    مصنف : علیم خان فلکی (جدہ ، سعودی عرب)

    دور رواں نفسہ نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی، خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں
    وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اس کی امارات دیکھتی ہیں، لڑکی والوں کے ہاں جا کر انکا ذہنی کیلکولیٹر بڑی تیزی سے حساب کتاب مکمل کر لیتا ہے اور وہاں‌ سے کچھ ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں وہ پوری طرح سے آگاہ ہوجاتی ہیں
    ان کے بعد کہیں جا کر لڑکی کی باقی خوبیوں (جن میں اسکا خوش شکل ہونا بھی شامل ہے) کو پرکھا جاتا ہے چنانچہ جس خوش قسمت لڑکی کے پاس دینے کو قیمتی اور‌ڈھیر سارا جہیز ہو نیز خوبصورت بھی ہو وہ تو بیاہی جاتی ہے اور جن بدقسمت لڑکیوں کے پاس یہ سب کچھ موجود نہیں ہوتا وہ سوائے اپنی تقدیر سے گلہ کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔
    ●●●● کوئی تو ملے جو کہے ہاں میں خود دار نہیں ●●●●

    آج تک بے شمار لوگوں سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ کوئی ایسا نہ ملا جس نے یہ کہا ہو کہ ”ہاں ہم نے جہیز کا مطالبہ یا فرمائش کی تھی“ ۔ جتنے ملے سب شرفاء ملے ۔ ہر ایک نے یہی کہا بلکہ فرمایا کہ ”الحمدلله ہم نے ایک پیسہ بھی نہیں لیا ، ہمارے ہاں اس چیز کو سخت معیوب سمجھا جاتا ہے “ ۔
    جب دور دور تک کوئی ایسا شخص نہیں جس نے جہیز مانگا ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرہ کا ہر باپ اور ہر بھائی اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کے لیے پریشان ہے ؟
    جب وہ اور اُن کا سارا گھرانہ ان تمام ہندوانہ رسموں کو نا پسند کرتا ہے تو پھر یہ سب کیونکر ہوا ؟ پوچھئے تو انتہائی شرافت اور فخر سے فرماتے ہیں :
    دراصل یہی وہ اصل کھیل ہے جسے لوگ شرافت و خوداری کا لبادہ اوڑھ کر تہذیب ، رواج یا سسٹم کے نام پر کھیلتے ہیں ۔
     
  2. ‏فروری 21، 2012 #2
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیرا کلیم حیدر بھائی
    الله نوجوانو کو ہدایت دے اور ہمّت بھی عطا کرے آمین
     
  3. ‏ستمبر 21، 2012 #3
    pakdausheezain

    pakdausheezain مہمان
    شمولیت:
    پیغامات:
    0
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    0


    جزاكم الله احسن الجزا
     
  4. ‏ستمبر 21، 2012 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جہیز کا مطالبہ واقعی غلط بات ہے لیکن انسان اپنی خوشی سے بہن یا بیٹی کو ضروریات زندگی کی اشیاء خرید کر دے تو اس بات کی ممانعت میں ابھی تک کتاب و سنت کی رو سے کوئی دلیل سامنے نہیں آئی۔کسی کی ذاتی رائے حجت نہیں بلکہ قرآن و سنت سے دلیل حجت ہے۔
     
  5. ‏ستمبر 21، 2012 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ خوشی کےلیے بھی اس موقع پر کچھ نہیں دینا چاہیے۔اگر آپ بیٹی کی خوشی کو مدنظر رکھنا چاہتے ہیں تو اس کےلیے شادی سے کئی ماہ قبل یا بعد بھی اسی خوشی کے سر پہ ہاتھ پھیرا جاسکتا ہے۔
     
  6. ‏ستمبر 21، 2012 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اور اگر لڑکی کے پاس ضرورت زندگی کا سامان نہ ہو تو پھر وہ گزر بسر کیسے کرے؟شادی کے کئی ماہ قبل اگر لڑکی کے لیے فریج لے کر رکھ لیا جائے تو لڑکے والے یہ دیکھ کر خوش نہیں ہوں گے کہ اسے ابھی سے سامان ملنا شروع ہو گیا ہے؟
    اور اگر کئی ماہ بعد دیا جائے تو سامان تو دے دیا گیا نہ،تو پھر کیا وجہ ہے کہ شروع سے ہی نہ دے دیا جائے؟
     
  7. ‏ستمبر 21، 2012 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اگر کسی کو اپنی بیٹی کی اتنی فکر ہو تو پھر ایسے گھر میں اسے اپنی بیٹی کی شادی ہی نہیں کرا نی چاہیے۔جہاں ضرورت زندگی کا سامان ہی نہ ہو۔ ورنہ خوشی، محبت، پیار اور ضرورت زندگی کا نام لے کر ایسے غریبوں کی بیٹیوں کےلیے مشکلات کھڑی کردینا سمجھ سے بالا تر بات ہے جو ایک یا دو وقت کا کھانا بھی اپنی فیملی کےلیے بڑی مشکل سے پورا کرتے ہیں۔ عجیب فلسفہ ہے ضرورت زندگی سامان میں لوگوں نے خوبصورت مکانات ،فریج، ٹی وی، وی سی آر، ہر طرح کا الیکٹرانک سامان، تین تین چار چار صوفہ سیٹ، درجن درج کرسیاں، ایسا سامان جن کو سال میں ایک بار بھی استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کو بھی ضروریات زندگی کا نام دےرکھاہے۔۔ آج کونسا ایسا گھرانہ ہے جہاں ضروریات زندگی کا سامان موجود نہیں ؟
    اس لیے میرے بھائی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ اس رسم کو بالکل ختم ہی کردینا چاہیے اور اس موقع پر بیٹی کو کچھ بھی ایسی چیز نہیں دینی چاہیے جو عوام الناس کو اس شک ولالچ میں مبتلا کردے کہ اگر ہمارے بیٹے کا نکاح کسی امیر دارانی سے ہوگیا تو وہ جہیز کو خوشی ومحبت کا نام دے کر اپنی بیٹی کو بہت کچھ دیں گے۔
    اس لیے ماقبل پوسٹ میں اشارہ بھی کیا کہ اگر خوشی ومحبت جتانی بھی ہے تو ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جس سے خاص طور پر غریبوں کےلیے کوئی مشکلات کھڑی نہ ہوں
    اوپر آپ نے ضروریات زندگی کا نام لیا اور پھر فریج کو بھی ضروریات زندگی میں شامل کردیا۔میرے بھائی پہلی بات فریج ضروریات زندگی میں شامل نہیں۔ضروریات زندگی میں ایسی چیز آتی ہیں جن کے بغیر آدمی کی زندگی ہی عذاب بن جائے۔(مثلاً کھانا پکانا وکھانا کھانے کا ضروری سامان، سونے بیٹھنے کےلیے جگہ کا نہ ہونا وغیرہ) اس طرح کی چیزوں کو سہولیات زندگی کا نام تو دیا جاسکتا ہے لیکن ضروریات زندگی کانام نہیں۔
    اور دوسرا یہ کہ آپ کی ہی بات کہ محبت اور خوشی کے عوض میں میں نے کہا تھا کہ یوں کرلیا جائے تو خیر کا پہلو زیادہ ہے۔ اگر لڑکے والے لڑکی کے والدین کی طرف سے محبت اور خوشی میں دیے جانے والے سامان کے بارے میں یہ سوچ رکھ بیٹھیں تو پھر لڑکی کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک ٹکہ تک بھی نہ دیں۔
    یہی تو بات ہے عزیز بھائی کہ معاشرہ کی نظروں میں یہ بات بالکل آنی ہی نہیں چاہیے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو یہ کچھ دیا ہے۔ ورنہ لوگ جو دیکھیں گے وہی سمجھیں گے۔ اچھا آپ مجھے بتائیں کہ کسی سلفی العقیدہ آدمی کا کسی دربار کے پاس جا کر جانور وغیرہ اللہ تعالی کےلیے ذبح کرنا درست عمل ہے؟
    نہیں !
    کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا چاہے اس کی نیت خالص اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہے لیکن دیکھنے والے کیا سوچیں گے ؟ اس لیے ہر وہ کام جو بذات خود درست اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو لیکن عوام الناس پر اس کا اثر غلط طور پھیلنے کا خدشہ ہو تو اس کام سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔۔واللہ اعلم
     
  8. ‏ستمبر 21، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  9. ‏فروری 13، 2013 #9
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    معذرت کے ساتھ ویسے بھی جہیز کو ضروریات زندگی کا نام دے کر "زنا کا راستہ آسان کر دیا ہے"
     
  10. ‏فروری 13، 2013 #10
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    [​IMG]

    [​IMG]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں