1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد بھی بکتے ہیں جہیز کے لیے

'جہیز' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏فروری 21، 2012۔

  1. ‏فروری 13، 2013 #11
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    زنا کا راستہ آسان کرنے کی اور کئی وجوہات ہیں، جو لوگ بالکل اپنی بیٹی یا بہن کی شادی اس لیے نہیں کرتے جب تک وہ پانچ دس لاکھ کا سامان نہیں دیں گے شادی نہیں کریں گے تو پھر زنا کا راستہ آسان ہوتا ہے۔
    چند باتیں غور طلب ہیں:
    (1) لڑکے والے لڑکی والوں سے سامان کا مطالبہ نہیں کر سکتے کہ لڑکی اپنے گھر سے اتنا سامان لے کر آئے۔
    (2) اگر اس اصول کو لاگو کر دیا جائے کہ اپنی بہن یا بیٹی ایسے شخص کو دے ہی نہ جس کے پاس ضروریات زندگی کا سامان نہ ہو تو فتنہ کھڑا ہو سکتا ہے، ایک موحد شخص ہے لیکن غریب ہے دوسرا شخص مالدار ہے لیکن مشرک ہے، مشرک کہتا ہے کہ لڑکی والوں کو سامان دینے کی ضرورت نہیں میں خود سارا کچھ لے لوں گا تو کیا یہ رشتہ کر دیا جائے گا؟ بالکل نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک موحد شخص تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دی حق مہر میں دینے کے لیے بھی اس وقت کچھ نہیں تھا، تو کیا یہ شادی نہیں ہوئی تھی؟
    (3) ایک شخص غریب ہے شادی کی عمر کو پہنچ گیا ہے لیکن اس کے گھر والے کہتے ہیں پہلے اتنا کماؤ کہ گھر کو سامان سے بھر دو تب تمہاری شادی کریں گے اور وہ بیچارہ کماتے کماتے بوڑھا ہو جاتا ہے تب کیا زنا کا راستہ آسان نہیں ہو گا؟
    (3) جہیز کو ہر حال میں ضروری سمجھنے والے اور جہیز کو بالکل نہ دینے کے قائل دونوں افراط و تفریط کا شکار ہیں۔
    (4) ایک بھائی ہے وہ اپنی بہن کی شادی ایک ایسے شخص سے کر رہا ہے جو بالکل غریب ہے لیکن وہ جہیز کا مطالبہ بالکل نہیں کر رہا، بھائی کہتا ہے کہ میں اپنی بہن کو شادی پر ہر زندگی کی ضروریات کا ہر سامان دوں گا تو میرے خیال میں یہ غلط نہیں ہے، اگر اس بات کہ غلط ہونے میں کوئی دلیل ہے قرآن و سنت سے تو پیش کی جائے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کے شروروفتنے سے محفوظ رکھے آمین
     
  2. ‏فروری 13، 2013 #12
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    تو کیا یہ باتیں ہمارے معاشرہ میں نہیں ہے ؟؟؟چاہے وہ کوئی بھی ہو!!!!!
    جی بھائی آپ نے درست فرمایا لیکن بعض لوگ دُنیا کی چمک بلکہ پیسے کی چمک کے آگے قرآن و حدیث کو بُھول جاتے ہیں کیوں کہ اُنہوں نے اپنے رشتے داروں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
    سبحان اللہ کیا دُور یاد دلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔کاش ایسا آج کثرت سے ہوتا ہو!!!!
    جی بالکل ہوگا کیوں کہ جب حق باقی نہیں رہتا تو پھرظُلم ہوتا ہے
    ضرورت زندگی سامان میں لوگوں نے خوبصورت مکانات ،فریج، ٹی وی، وی سی آر، ہر طرح کا الیکٹرانک سامان، تین تین چار چار صوفہ سیٹ، درجن درج کرسیاں، ایسا سامان جن کو سال میں ایک بار بھی استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کو بھی ضروریات زندگی کا نام دےرکھاہے۔۔ آج کونسا ایسا گھرانہ ہے جہاں ضروریات زندگی کا سامان موجود نہیں ؟
    دراصل یہی وہ اصل کھیل ہے جسے لوگ شرافت و خوداری کا لبادہ اوڑھ کر تہذیب ، رواج یا سسٹم کے نام پر کھیلتے ہیں ۔
    اس لیے میرے بھائی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ اس رسم کو بالکل ختم ہی کردینا چاہیے اور اس موقع پر بیٹی کو کچھ بھی ایسی چیز نہیں دینی چاہیے جو عوام الناس کو اس شک ولالچ میں مبتلا کردے کہ اگر ہمارے بیٹے کا نکاح کسی امیر دارانی سے ہوگیا تو وہ جہیز کو خوشی ومحبت کا نام دے کر اپنی بیٹی کو بہت کچھ دیں گے۔
    اس لیے ماقبل پوسٹ میں اشارہ بھی کیا کہ اگر خوشی ومحبت جتانی بھی ہے تو ایسے طریقے اختیار کیے جائیں جس سے خاص طور پر غریبوں کےلیے کوئی مشکلات کھڑی نہ ہوں
    اوپر آپ نے ضروریات زندگی کا نام لیا اور پھر فریج کو بھی ضروریات زندگی میں شامل کردیا۔میرے بھائی پہلی بات فریج ضروریات زندگی میں شامل نہیں۔ضروریات زندگی میں ایسی چیز آتی ہیں جن کے بغیر آدمی کی زندگی ہی عذاب بن جائے۔(مثلاً کھانا پکانا وکھانا کھانے کا ضروری سامان، سونے بیٹھنے کےلیے جگہ کا نہ ہونا وغیرہ) اس طرح کی چیزوں کو سہولیات زندگی کا نام تو دیا جاسکتا ہے لیکن ضروریات زندگی کانام نہیں۔
    اور دوسرا یہ کہ آپ کی ہی بات کہ محبت اور خوشی کے عوض میں میں نے کہا تھا کہ یوں کرلیا جائے تو خیر کا پہلو زیادہ ہے۔ اگر لڑکے والے لڑکی کے والدین کی طرف سے محبت اور خوشی میں دیے جانے والے سامان کے بارے میں یہ سوچ رکھ بیٹھیں تو پھر لڑکی کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو ایک ٹکہ تک بھی نہ دیں
    یہی تو بات ہے عزیز بھائی کہ معاشرہ کی نظروں میں یہ بات بالکل آنی ہی نہیں چاہیے کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو یہ کچھ دیا ہے۔ ورنہ لوگ جو دیکھیں گے وہی سمجھیں گے۔ اچھا آپ مجھے بتائیں کہ کسی سلفی العقیدہ آدمی کا کسی دربار کے پاس جا کر جانور وغیرہ اللہ تعالی کےلیے ذبح کرنا درست عمل ہے؟
    نہیں !
    کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا چاہے اس کی نیت خالص اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کی ہے لیکن دیکھنے والے کیا سوچیں گے ؟ اس لیے ہر وہ کام جو بذات خود درست اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو لیکن عوام الناس پر اس کا اثر غلط طور پھیلنے کا خدشہ ہو تو اس کام سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔۔واللہ اعلم
    آمین یا رب العالمین
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏فروری 13، 2013 #13
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    فریج زندہ رہنے کے لیے ضروری نہیں، لیکن آج یہ اس سہولت کی کتنی اہمیت ہے۔
    زندہ تو آپ پنکھا چلائے بغیر بھی رہ سکتے ہیں تو گرمیوں میں سخت دوپہر کو پنکھا نہ چلایا کریں۔ بلکہ جس لڑکی سے شادی کریں اسے بھی کہہ دیں کہ ہم پنکھا نہیں چلائیں گے بلکہ رات کو اپنے کمرے کا بلب بھی آن نہیں کیا کریں گے کیونکہ یہ پنکھا اور بلب کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں؟ کیا ایسا کریں گے، مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔
    بات یہ ہے کہ آج یہ سہولیات بھی اللہ کی نعمتیں ہیں ہمارے لیے، اگر کسی کے گھر میں فریج نہیں ہو گا تو وہ گرمیوں میں آٹھ دس روپے کلو برف خرید کر ٹھنڈا پانی تو پیے گا، تو کیا اس سے اچھا نہیں ہے کہ آدمی کی اپنی چیز ہو۔

    نہیں
    اس لیے کہ جہاں شرک ہوتا ہو وہاں اللہ کے لیے ذبح کرنے کی ممانعت اسلام میں ہے۔
    جہاں تک ہے سامان دینے کی بات تو کوئی نمود و نمائش کر کے دیتا ہے کہ لوگ کہیں اپنی بیٹی یا بہن کو کتنا دے رہا ہے تو یہ بالکل غلط ہے۔ لیکن اگر کسی کو ضرورت ہو اور وہ پھر بھی نہ دے لوگوں کے لیے تو کیا یہ درست ہے۔

    لوگ کبھی خوش نہیں ہوتے، میں آپ کو ایک بات بتاؤں میں نے ایک واقعہ سنا ہے یہاں ہمارے شہر میں ایک امیر آدمی نے اپنی بیٹی کو بہت سارا سامان دیا، جب اس کی شادی ہو گئی تو ایک دن اسے کسی ایک چیز کی ضرورت پڑی جو اس کے سامان میں نہیں تھی، شاید دینا بھول گئے ہوں گے تو فورا اس لڑکی کی ساس نے کہا کہ "تمہارے گھر والوں نے فلاں چیز نہیں دی تمہیں؟ (سنوانے کے انداز میں)
    اب بتائیں کیا لوگ کہیں خوش ہوتے ہیں۔ لیکن میں یہ بھی نہیں کہتا کہ جہیز ہر صورت میں درست ہے اور لازمی دینا چاہیے جہیز دینے کی قباحتیں بھی بہت ہیں۔
    بہرحال ہر شخص کی اپنی اپنی صورتحال ہے۔ آج فتنوں کا دور ہے آج کے دور میں ایمان بچ جائے اور عقیدے کی درستگی ہو تو بڑی بات ہے۔ اسی لیے میں نے دعا کی ہے
    اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کے شروروفتنے سے محفوظ رکھے آمین
     
  4. ‏فروری 13، 2013 #14
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    جگہ جگہ کی بات ہے اور حالات کی بھی ،،،،،پہلے وقتوں میں جب دیہاتوں میں لوگ رہتے تھے تو نہ تو اُس وقت بجلی ہوتی تھی اور نہ کوئی سپیشل سہولت لوگ سادگی سے شادی کرتے تھے اور زندگی گزارتے تھے اور اُس وقت کے لوگوں میں اور آج کے دُنیا دار لوگوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔۔۔۔پہلے وقتوں میں لوگ سادہ دل ہوا کرتے تھے اور آج کے مطلب پرست !!!!! بیویاں بھی وفا شعار ہوتیں تھیں اور آج اللہ معاف کرے ساری عمر مردوں کی زندگی میں کیڑے نکالتی رہتی ہیں۔۔۔۔ویسے بھی آج مردوں کو پیسوں سے ناپا جاتا ہے۔۔۔۔معاشرے میں بہت بہت کم لوگ صیحح معنوں میں دین داری کے نام پر رشتہ دیتے ہیں۔۔۔اللہ معاف کرے۔۔۔پہلے وقتوں والی اب بات نہیں رہی۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کے شروروفتنے سے محفوظ رکھے آمین
     
  5. ‏فروری 13، 2013 #15
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آمین
    آپ نے صحیح کہا ہے۔
     
  6. ‏فروری 14، 2013 #16
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    شادی نہ ہونا یا تاخیر یا رکاوٹ کی وجہ صرف جہیز ہی نہیں ہو سکتا ھے چند ایک ایسے لالچی ہوں مگر ہو کوئی نہیں، شادی میں تاخیر/رکاوٹ پر دوسرے بھی دنیاوی مسائل ہیں۔

    اپنی فیملی میں شادی پر دونوں فیملیوں ایک دوسرے کے حالات سے آگاہ ہوتی ہیں اس لئے اس میں بہت تعاون حاصل ہوتا ھے۔

    جو شادیاں غیروں میں کی جاتی ہیں اس پر وہ پہلے ہی کچھ میٹنگز میں ایک دوسرے کے بارے میں علم ہو جاتا ھے کہ دونوں طرفین ہم پلہ ہیں یا کم و زیادہ۔ یہاں اگر پرکھ میں کوتاہی ہو جائے تو حادثات اندیشہ ہوتا ھے۔ پہلے جب غیروں میں رشتہ کرنے جاتے تھے تو اس پر اپنی برادری کے بڑے بزرگوں کو بھی ساتھ لیا جاتا تھا اور ان کی رائے افضل شمار ہوتی تھی مگر اب ایسا نہیں ہوتا جس نے اپنے بیٹا یا بیٹی کی شادی کرنی ہوتی ھے وہ خود ہی جاتے ہیں اور خود ہی پسند کر کے پھر شادی کے قریب ہی اپنی برادری میں بڑوں کو آگاہی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے اسے چھپا کے رکھتے ہیں خرابی یہاں پیدا ہوتی ھے۔

    والسلام
     
  7. ‏فروری 15، 2013 #17
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں۔۔۔
    کیا میں نے کچھ غلط کہا؟؟؟۔۔۔
     
  8. ‏مارچ 12، 2013 #18
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    نہیں بھائی آپ نے غلط نہیں کیا۔۔ لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر خوشی سے والدین اپنی اولاد کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو دے دیں اس میں کوئی حرج نہیں اور وہ دلیل حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کودیئے جانے والے سامان سے پکڑتے ہیں۔۔ تو ان کو اپنی معلومات اپ ڈیٹ کرنے کی سخت ضرورت ہے۔۔
    ان سے میرا سوال ہے کہ جو نبی کریمﷺ نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو سامان دیا تھا وہ کس کے پیسوں سے خریدا تھا ؟
     
  9. ‏مارچ 12، 2013 #19
    ابراہیم بھائی

    ابراہیم بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 03، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    814
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    حضرت علی ؓ کے پیسوں سے ۔۔۔
    کیا میں نے صحیح جواب دیا ؟؟؟
     
  10. ‏مارچ 13، 2013 #20
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    تو کیا جو کوئی بھی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو دیئے جانے والے سامان سے دلیل پکڑتا ہے اور کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لخت جگر کو سامان دیاتھا۔۔ اور اس سے دلیل پکڑ کر خوشی اور رضا میں کچھ سامان دینے کی بات کرتا ہے تو کیا ایسا شخص ان لوگوں کےلیے خود کشی کاسامان مہیا نہیں کررہا جن کے پاس اپنی بیٹیوں کےلیے خوشی کے ساتھ بھی دینے کےلیے کچھ نہیں۔؟ اور ایسے لوگوں کی بیٹیاں کنوارہ پن ساتھ لیے رخصت ہوجایا کرتی ہیں۔
    میرے خیال میں (واللہ اعلم) جو لوگ جہیز جیسی لعنت پر تھوڑے سے بھی متساہل ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کےلیے ( جو محنت ومزدوری کرکے دو وقت کا کھانا بھی بڑی مشکل سے اپنے اہل وعیال کےلیے پورا کرتے ہیں۔) موت کا سامان مہیا کرتے ہیں۔
    اصول فقہ کا قاعدہ ہے کہ
    " ما لايتم الواجب إلا به فهو واجب " ............ مزید تفصیل
    جہیز والے مسئلہ پر اسی قاعدہ کے مفہوم مخالف کو اگر فٹ کیاجائے تو پھر یوں بنے گا کہ کسی بھی طرح بیٹی والوں کی طرف سے دیا جانے والا سامان حرام ہے۔۔بعض احباب اٹھیں گے اور کہیں گے کہ اس حرام کی قرآن وحدیث سے کیادلیل ہے؟ تو ان کےلیے عرض ہے کہ جواز کی کیا دلیل ہے؟۔۔ الزام سوال
    حرام اس لیے کہا ہے کیونکہ اس فعل سے بہت ساری صنف نازک کی زندگیوں کے ساتھ گھر کے گھر تباہ برباد ہوجاتے ہیں۔۔ تجربہ کےلیے معاشرہ پر نظر دوڑائیں تو حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں