1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد کا قابل ستر حصہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 12، 2017۔

  1. ‏اگست 21، 2017 #51
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    یہ حکم میرا نہیں بلکہ آخری نبی ﷺ کا حکم جن کے بارے میں اللہ کا فرمان عالی شان ہے ”وما ینطق عن الھوی“، جن کی مخالفت دنیا و آخرت میں ناکامی کا سبب ہے. اور مخالفت کی صورت میں رسواکن عذاب کی خوشخبری تو خود اللہ عزوجل نے ”فلیحذر اللذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ او یصیبہم عذاب الیم“ کے الفاظ میں سنا دی
    دھیان نہ رہنا یا اسی طرح کوئی اور شرعی عذر پیش آنا یہ سب ثانوی باتیں اور وقتی جواز کی صورتیں ہیں. حالات کے بدلنے سے (وقتی طور پر) حکم بھی بدل جاتا ہے. کبھی کبھار ایک واجب چیز کو ترک کر دینا بھی واجب ہو جاتا ہے. لہذا وقتی اور عارضی چیزوں کو جواز کے طور پر بیان نہیں کیا جائے گا.
    وہ ایسی صورت میں معذور ٹھہرا. ”ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطانا“ اور ”ان اللہ تجاوز عن امتی الخطا والنسیان وما استکرہوا علیہ“ (او کما قال علیہ الصلوۃ والسلام) جیسے فرامین اس پر دال ہیں. اور یہ سب باتیں آپ مجھ سے کئ گناہ بہتر جانتے ہیں.
    گنجائش کو اصل نہیں بنایا جائے گا. اصل حکم یہی رہے گا کہ ٹخنے سے نیچے ازار جائز نہیں. البتہ مجبوری اور ضرورت میں حکم تبدیل ہو سکتا ہے (لیکن پھر کہوں گا کہ اسکو اصل نہیں کہیں گے).
    میرے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آئے گا تو میں ٹراؤزر کو موڑ (فولڈ) لوں گا. اور صحیح معنوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قول ”إِنِّي لَأَتَعَاهَدُ ذَلِكَ مِنْهُ“ کے مصداق بننے کی سعی کروں گا. پھر بھی کسی وجہ سے نہ بچ سکا تو یہ ایک شرعی عذر ہوگا. متکبر تو نہیں کہلاؤں گا لیکن اسکو اصل بھی نہیں بناؤں گا.
    میں نے خود کہا تھا کہ گنجائش ہے لیکن گنجائش کو گنجائش تک محدود رکھیں. اسکو اصل کے ساتھ نہ ملائیں.
    میں نے کوئی سختی نہیں اپنائی. میں نے تو خود کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی صورتحال کسی کے ساتھ پیش آئے تو بہرحال وہ متکبر نہیں گردانا جائے گا.
    جی ہاں احادیث کی روشنی میں نفس اسبال ازار ہی حرام ہے اور میرا موقف وہی ہے. لہذا بنا کسی شرعی عذر کہ کوئی اس اسبال ازار کرتا ہے تو وہ حرام کام کا مرتکب ہوتا ہے.
     
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 21، 2017 #52
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    جزاکم اللہ خیرا تقریبا آپ کی ان باتوں سے کافی حد تک اتفاق ہے. بس میں انکو اصل نہیں سمجھتا.
    ہاں ملون الفاظ کا مقصد سمجھ نہیں سکا. کیونکہ وہ ایک الگ حکم ہے جو کہ عورتوں کے متعلق ہے. اسکو دلیل بنا کر پیش کرنا اور اس سے اسبال ازار کا جواز نکالنا میری سمجھ سے باہر ہے (اگر آپ کا مقصود یہی ہے تو. ورنہ تو کوئی بات ہی نہیں کیونکہ آپ نے صحیح وجہ کی بات کہی ہے). آپ کے نزدیک مرد و عورت کی صلاۃ میں فرق ہے تو بتائیں اگر مرد عورت کی طرح سجدہ کرنے لگے (جس طرح آپ کے نزدیک عورتوں کے لئے کرنے کا حکم ہے) تو کیا کہیں گے؟؟؟
     
  3. ‏اگست 21، 2017 #53
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,243
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    زبردست
     
  4. ‏اگست 21، 2017 #54
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    @عمر اثری
    السلام علیکم

    محترم
    آپ کے دلائل سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لباس کا ٹخنوں سے نیچے ہونا چاہے تکبر ہو یا نہ ہو جائز نہیں ہے ۔ اور اس پر جہنم کی وعید ہے اور اللہ رب العزت روز محشر اس کی طرف رحمت سے نہیں دیکھیں گے۔(کیونکہ وہ حرام مسلسل کا ارتکاب کر تا رہے گا)
    عورتوں کو پردہ کا حکم ہے تو ان کا لباس ٹخنوں سے نیچے ہونا ضروری ہے ان ٹخنوں سے نیچے لباس والی حدیث کی وعید نہیں ہے۔
    تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ مرد کا لباس ٹخنوں سے نیچے ہونا تکبر اور اور عورتوں کا لباس ٹخنوں سے نیچے نہ ہونا حرام ہے۔
    اگر میں درست سمجھا ہوں تو اس کی تصدیق کیجیے۔
     
  5. ‏اگست 21، 2017 #55
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جی بالکل درست. عورتوں اور مردوں میں اس تعلق سے تفریق ہے. (البتہ یہ دیکھیں کہ کیا عورتوں کو ٹخنے سے نیچے ازار کا حکم پردے کی بنا پر ہے یا کچھ اور؟)
     
  6. ‏اگست 21، 2017 #56
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

  7. ‏اگست 21، 2017 #57
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

  8. ‏اگست 21، 2017 #58
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    تو محترم یہ تو پھر آپ کی یہ دلیل کس طرح مؤثر ہے کہ لباس کا بغیر تکبرٹخنے کے نیچے ہونا بھی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ خواتین کو اس کی اجازت دی جارہی ہے۔ تو کیا خواتین میں اس بات کا تکبر کا کبھی کوئی شائبہ نہیں ہوسکتا ۔ صرف مرد ہی ٹخنے سے نیچے لباس کر کے تکبر محسوس کرتے ہیں۔
     
  9. ‏اگست 21، 2017 #59
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    محترم!
    میں نے آپ کے سامنے فرمان نبوی ﷺ نقل کیا ہے. اور یہ مرد و عورت کے لباس کے متعلق مذکورہ تفریق میری بیان کردہ نہیں ہے بلکہ یہ خود اللہ کے رسول ﷺ کی بیان کی ہوئی ہے. لہذا بحیثیت مسلمان میں اس پر آمنا و صدقنا کہتا ہوں. اس میں قیل و قال نہیں کرتا. اور نہ باطل قیاس کرکے آپ ﷺ کے فرمان کو بدلنے کی کوشش کرتا ہوں. میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ مردوں کے لئے ازار ٹخنے سے نیچے رکھنے کو تکبر کہنے اور عورتوں کے لئے ازار ٹخنے سے نیچے رکھنے کو مشروع و مستحب قرار دینے میں اللہ کے رسول ﷺ کی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے. یہ الگ بات ہے کہ میری کم علمی اسکو سمجھنے یا اسکا احاطہ کرنے سے قاصر ہے.
    اب آپ میرے سوال کا جواب دیں. شریعت نے مردوں کے لئے سونا اور ریشم حرام قرار دیا ہے جبکہ عورتوں کے لئے حلال؟ کیا کہیں گے جناب عالی؟ ایک ہی چیز ہے لیکن عورت کے لئے وہ حلال ہے جبکہ مردوں کے لئے حرام؟
    آپ ﷺ نے تو ایک صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ آگ کا انگارہ ہے جبکہ عورتوں کے لئے سونا حلال ہے؟
    معلوم یہ ہوا کہ مرد و عورت کے کچھ احکام باہم مختلف ہیں. لہذا جو قیاس آپ ٹخنے کے متعلق کر رہے ہیں ویسا ہی قیاس کر کے میں سونے کو مردوں کے لئے جائز قرار دوں یا اسے حلال سمجھوں تو آپ ہی بتائیے میرا ٹھکانا جہنم کے علاوہ اور کہاں ہو سکتا ہے؟؟؟؟
     
  10. ‏اگست 21، 2017 #60
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    یہ جواز کی صورتیں آخر آپ کہاں سے اخذ کرتے ہیں؟

    اس کی کوئی وجہ، کوئی علت، کوئی بنیاد بھی تو ہوتی ہوگی؟ یا ہر حکم کو حالات کے بدلنے سے بدلا جا سکتا ہے؟ کیا واجب کو ترک کرنا جو واجب ہوتا ہے اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے یا نہیں؟
    اسی علت کو میں نکالنے کی بات کر رہا ہوں۔ اگر آپ تکبر کی علت نہیں نکالتے تو پھر آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کن کن مواقع پر اسبال جائز ہو سکتا ہے؟

    کیسے معلوم ہوا کہ مجبوری میں حکم تبدیل ہو سکتا ہے؟ حدیث ابو بکر رضی اللہ عنہ میں تو فقط ایک صورت کا بیان ہے۔ اسے اسی صورت کے ساتھ خاص کس بنیاد پر نہیں کیا جائے گا؟

    اس کا مطلب شاید یہ ہوا کہ کبھی آپ نے سوئمنگ نہیں کی (ابتسامہ)۔ بھائی جتنا فولڈ کر لیں پہلی ڈائیو میں ہی پانی کی قوت سے کھل جاتا ہے۔

    یعنی اسے توبہ نہیں کرنی ہوگی؟ معذور کا حکم یہ ہے کہ اس کے حق میں ممنوع چیز حلال ہو جاتی ہے (علی اختلاف الاقسام)۔ کیا اس طرح خنزیر کھانے والا حلال شے کھائے گا؟
    ہم میں یہاں فرق ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ بے دھیانی میں ٹخنے سے نیچے شلوار ہونے پر گناہ بھی نہیں ہوگا کیوں کہ اصل علت نہیں پائی گئی۔ وہ علت جو منصوص ہے۔

    شرعی عذر کے لیے دلیل کیا ہوگی؟ اس حدیث میں تو فقط ایک صورت کا بیان ہے لہذا اجازت اسی صورت میں ہونی چاہیے۔

    جب ہم علت نکالتے ہیں اور پھر اس کے مقابل اس صورت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ یہاں ضرورت کی بنا پر علت تکبر نہیں پائی گئی۔ لیکن جب ہم علت نکالیں گے ہی نہیں تو پھر تو یہ فقط ایک صورت ہوگی۔ یہ تو کہا نہیں جا سکتا کہ یہاں ضرورت کی بنا پر اسبال ہی نہیں پایا گیا کیوں کہ اسبال تو موجود ہے، اس کا گناہ موجود نہیں ہے۔ وہ کیوں نہیں ہے؟ میں کہتا ہوں عدم علت یعنی تکبر نہ ہونے کی وجہ سے۔
    لیکن آپ کیا کہتے ہیں کہ گناہ کیوں موجود نہیں ہے؟

    محترم بھائی! میرا خیال ہے کہ اس سے زیادہ گہرائی میں میں سمجھانے کے لیے نہیں جا سکتا۔ اگر آپ مطمئن نہ ہوں تو پھر اسے فہم کا اختلاف اور اختلاف رائے سمجھیے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں