1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد کا قابل ستر حصہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 12، 2017۔

  1. ‏اگست 21، 2017 #61
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اسبال میں عورتوں کے حکم سے میں مطلقا جواز کا قائل نہیں ہوں۔ صحیح وجہ کی بناء پر جواز کا قائل ہوں۔
    البتہ آپ نے جو سوال پوچھا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک مرد اور عورت کی نماز میں فرق سنیت اور استحباب میں ہے۔ اگر مرد عورت والے افعال کرے گا تو یہ غیر مستحب ہوگا۔ لیکن اس بات کا یہاں جوڑ سمجھ نہیں آیا۔
    وہاں ہم دونوں کے لیے الگ الگ دلائل سے سنیت اور استحباب کے قائل ہیں۔ رخصت نہیں ہے۔ یہاں ایک ہی حکم ہے لیکن ایک فریق کو اجازت دی گئی ہے۔ اس کو اجازت کہنے پر دلیل یہ ہے کہ اگر کسی ایسی جگہ جہاں پردے کا مسئلہ نہ ہو، عورت اگر ٹخنے ننگے کرے تو اس پر کوئی ممانعت نہیں ہے۔ لیکن نماز میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں عورت مردوں والے افعال کرے (ھذا ما عندنا مع قطع النظر عن الدلائل)۔
     
  2. ‏اگست 21، 2017 #62
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    پیارے بھائی!
    میں چونکہ کم علم اور نا تجربہ کار ہوں اسلئے اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی صحیح طور سے کر نہیں پاتا. چلیں ایک مثال دیتا ہوں:
    خنزیر کا گوشت حرام ہے. اب کسی کی جان پر بن آئی ہے. اگر وہ اسکو نہیں کھائے گا تو مار دیا جائے گا. تو ایسی صورت میں کیا وہ خنزیر کھا نہیں سکتا؟؟؟ اگر ہاں اور واقعی ہاں تو اسکو کیا کہیں گے؟؟؟ کیا یہ کہیں گے کہ خنزیر حلال ہوگیا؟؟؟ نہیں ہے؟؟؟ اصل تو اب بھی یہی ہے کہ خنزیر حرام ہے. اب جو اس نے خنزیر کا گوشت جان بچانے کی خاطر کھایا ہے اسی کو میں نے وقتی جواز سے تعبیر کیا ہے. شاید آپ کچھ اور سمجھے.
    اسبال ازار کے متعلق بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسبال ازار جائز نہیں ہے. (اب کسی کو کوئی مجبوری ہو تو اسکی بات الگ ہے اور اس پر مجھے کوئی کلام نہیں کرنا ورنہ پھر خلط ملط ہو جائے گا). اور جواز کی بات آپ نے کہی تھی میں نے نہیں. میں وضاحت کر کے تھیک چکا ہوں.
     
  3. ‏اگست 21، 2017 #63
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    علت وجہ بنیاد سب ہوتی ہے کیا میں نے اسکا انکار کیا؟؟؟ میں نے تو فقط ایک بات کہی.
    تکبر علت کہاں سے ہو گئی؟؟؟ پھر مجھے اپنی بات دھرانی پڑے گی؟؟؟ بار بار میں یہ کہ چکا ہوں کہ آپ جو بنیاد یا علت بیان کر رہے ہیں اسکا سرے سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث سے کوئی تعلق نہیں. میں کچھ کہتا ہوں آپ کچھ سمجھتے ہیں اور بات کہیں اور لے جاتے ہیں.
     
  4. ‏اگست 21، 2017 #64
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    آپ ہی خاص نہیں کر رہے. آپ ہی گنجائش گنجائش بول رہے ہیں. میں نے تو کہا کہ اس حدیث میں لٹکنے کا ذکر ہے اور آپ اسے لٹکانے پر بھی محمول کر رہے ہیں. میں تو کتنی بار کہ چکا ہوں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسی صورتحال کسی کے ساتھ پیش آئے تو وہ متکبر نہیں کہلائے گا. جبکہ آپ تکبر کو ہی علت بنا کر یہ کہ رہے ہیں کہ تکبر نہ کرے تو اسبال کر سکتا ہے.
     
  5. ‏اگست 21، 2017 #65
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    واقعتاً نہیں کی. لیکن میں نے کچھ اور بھی لکھا تھا. شاید اس پر آپ کی نظر نہیں پڑی
     
  6. ‏اگست 21، 2017 #66
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کیونکہ وہ جان بوجھ کر اسبال ازار نہیں کرتے تھے. بے خیالی میں چلا جاتا تھا. اور حتی المقدور بچنے کی کوشش کرتے تھے. اور اسی وجہ سے نبی ﷺ نے اسکو تکبر نہیں کہا.
    میں نے عام فہم انداز میں اپنی بات رکھی. لیکن شاید مجھے سمجھانا نہیں آتا. اسی لئے سمجھا نہیں سکا
     
  7. ‏اگست 21، 2017 #67
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وہ صحیح وجہ کہاں سے اخذ کی؟؟؟ اور آپ تو یہ کہتے ہیں:
     
  8. ‏اگست 21، 2017 #68
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    حالانکہ عام فہم زبان میں میں نے اہنی بات رکھ دی تھی. اس سے زیادہ عام فہم. زبان تو مجھے نہیں آتی.
     
  9. ‏اگست 21، 2017 #69
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,281
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم بھائی میرا مقصود بس اتنا تھا کہ مرد و عورت کے احکام جہاں مختلف ہوں انکو مختلف ہی رکھا جائے.
     
  10. ‏اگست 22، 2017 #70
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    632
    موصول شکریہ جات:
    104
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم عمر بھائی
    آپ جو مثال دے رہے ہیں اس میں پہلے ہی وضاحت آگئی ہے ۔ کہ مردوں کے لئے حرام اور عورتوں حلال۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبرانہ لباس کیلئے ایک وعید سناتے ہیں ۔ جس پر سب عمل کرتے ہیں ۔خواتین میں سے صرف ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس پر پردہ میں کمی کی شکایت کرتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو اس سے مستثنٰی کر دیتے ہیں۔

    اب یہاں میرا سوال ہے کہ اگر ام سلمہ رضی اللہ عنہ اس پر سوال نہیں کرتیں تو کیا دونوں کیلئے حکم باقی نہ رہتا۔
    اب میرا نقطہ نظر نہیں سمجھ رہے ہیں یا میری کم علمی اور جہالت ہے کہ میں اپنا مؤقف سمجھا نہیں پارہا ہوں ۔ گناہ کی شدت پر وعید ہوتی ہے۔
    جو تکبرانہ یہ عمل کرتا ہے وہ اللہ رب العزت کی اس صفت کو چیلنج کرتا ہوں ۔ اور میرے ناقص علم کے مطابق اس میں شرک کا شائبہ ہوتا ہے ۔
    کیا صرف ٹخنوں سے نیچا لباس کرنا ہی تکبر ہے؟
    تکبر تو کسی بھی عمل میں ظاہر ہو اس پر یہی وعید ہوگیا یا یہ وعید صرف اس پر مخصوص ہے کہ جو لباس کو نیچے رکھے ؟۔ دوسرے متکبرانہ اعمال پھر اس سے خارج ہوں گے۔ ؟
    وہ رحمتہ العالمین نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو امت کیلئے سراپا رحمت تھے ۔ مسلسل تراویح صرف اس لئے ترک کردی کہ امت پر مشکل نہ ہوجائے ۔صرف لباس کے نیچے ہونے پر (بغیر تکبر) جہنم کی وعید دے رہیں ۔اور ایسی وعید کے اللہ رب العزت روز محشر اس کو رحمت کی نظر سے ہی نہیں دیکھیں گے۔ میرا ذہن اس کو قبول نہیں کررہا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں