1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد کا قابل ستر حصہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 12، 2017۔

  1. ‏اگست 22، 2017 #71
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    محترم بھائی!
    مجھے لگتا ہے کہ میں کافی وضاحت کر چکا ہوں. آپ کا ذہن اسکو قبول نہیں کرتا تو اسمیں میرا قصور نہیں. قصور آپ کا ہے. شرعیت کو پرکھنے کا معیار عقل نہیں. اس سے زیادہ میں وضاحت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 22، 2017 #72
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    عمربھائی آپ کو بہت شکریہ آپ نے اپنے تئیں محنت اور وقت لگا کر اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی۔
    اللہ کے آپ کے علم نافع میں اضافہ فرمائے۔
     
  3. ‏اگست 22، 2017 #73
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,321
    موصول شکریہ جات:
    2,179
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    عادتاً شلوار ٹخنوں سے نیچے کرنا
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    طیب فا رو ق بذر یعہ ای میل سوال کر تے ہیں کہ حد یث میں بطور تکبر شلو ار ٹخنو ں سے نیچا کر نے کی مما نعت ہے اگر کو ئی عا دتاً ایسا کرتا ہے تو اس کی کیا حیثیت ہے ؟ نیز اسے کس حد تک اونچا رکھنا چا ہیے جو عورتیں اپنا کپڑا ٹخنوں سے اوپر رکھتی ہیں ان کے متعلق شر یعت کا کیا حکم ہے حدیث میں شلوا ر کے بجا ئے تہبند کا ذکر ہے کیا یہ حکم عا م ہے یا تہبند کے سا تھ خا ص ہے ؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    بلا شبہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ اللہ تعا لٰی اس شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر اور غرور کر تا ہوا اپنے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکا تا ہے ۔(صحیح بخا ری ؒ:کتا ب اللبا س )
    "خیلا ء "کے لفظ سے یہ مطلب نہ لیا جا ئے کہ تکبر کے بغیر عا دت کے طو ر پر ٹخنوں سے کپڑا نیچے کر نا جا ئز ہے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹخنوں سے نیچے لٹکا نے کو ہی تکبر کی علا مت قرار دیا ہے جو کہ اللہ تعا لیٰ کو پسند نہیں حدیث میں ہے اپنی چا در کو ٹخنوں سے نیچے کر نے سے اجتنا ب کرو کیوں کہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعا لیٰ مخلو ق سے تکبر کو پسند نہیں کر تے ۔(ابو داؤد :کتا ب اللبا س )
    اس حدیث میں تکبر اور غیر کی بنا پر ٹخنوں سے نیچے کپڑا کر نے والے کے لیے دو الگ الگ سزاؤں کا بیا ن ہے حا فظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقا م پر بڑی عمدہ بحث کی ہے جو قا بل ملا حظہ ہے ۔(فتح البا ری :10/257)
    اس سلسلہ میں حضڑت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روا یت فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے وہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیا ن کر تے ہیں کہ مؤمن کی چا در نصفپنڈلی تک ہو تی ہے پنڈلی اور ٹخنوں کے در میا ن چا در رکھنے میں کو ئی حر ج نہیں ہے اور جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہے وہ آگ کا حصہ ہے اور جس نے تکبر اور غرور کر تے ہو ئے کپڑا نیچے لٹکا یا قیا مت کے دن اللہ تعا لیٰ اسے نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا ،(ابو داؤد :کتا ب اللبا س )

    اپنے کپڑے کو اس حد تک اونچا رکھنا چا ہیے اس کے متعلق متعدد احادیث میں نصف پنڈلی تک اونچا رکھنے کی حد مقرر کی گئی ہے چنانچہ کعب احبا ر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے او صا ف بیان کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لو گ حما د یعنی اللہ کی بکثر ت حمدو ثنا کر نے والے ہو ں گے وہ یوں کہ اوپر چڑھتے وقت اللہ اکبر کا نعر ہ بلند کر یں گے اور بیچے اتر تے وقت اللہ کی تعریف کر یں گے اور اپنی چا دروں کو نصف پنڈلی تک رکھیں گے ،(دارمی :1/5)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلما ن کی پہچا ن یہی بتلا ئی ہے کہ اس کی
    اس و عید سے چا ر صورتیں مستثنیٰ چا در نصف پنڈلی تک رہتی ہے ۔(ابو داؤد )ہیں ۔
    (1)کسی کی تو ند بڑھی ہو ئی ہے یا جسم کے نحیف ہو نے کی وجہ سے کمر میں جھکا ؤ ہے کو شش کے با و جو د چا در نیچے ہو جا تی ہے ایسی حا لت میں اگر چا در ٹخنوںسے نیچے ہو جا ئے تو مواخذہ نہیں ہو گا ۔
    (2)بعض دفعہ انسا ن گھبرا ہٹ کے عا لم میں اٹھتا ہے اور جلدی جلدی چلتے ہو ئے بے خیا لی میں چا دد ٹخنوں سے نیچے آجا تی ہے اللہ تعا لیٰ سے امید ہے کہ صورت اس سخت و عید کے تحت نہیں ہو گی ۔
    (3)ٹخنو ں یا پا ؤں پر زخم ہوا اور اسے ڈھا پنے کے لیے کو ئی اور کپڑا نہ ہو تو مکھیوں اور گر د و غبا ر سے بچا نے کے لیے اپنی چا در کو ٹخنوں سے نیچے کیا جا سکتا ہے ۔
    (4)عورتیں بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہیں چنانچہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سخت و عید سنا ئی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوا ل کر نے پر آپ نے وضا حت فر ما ئی کہ عورتیں ایک ہا تھ تک کپڑا نیچے لٹکا سکتی ہیں
    (ترمذی :ابوا ب اللبا س )
    اگر عورت اس کے با و جو د اپنا کپڑا اوپر رکھتی ہے جس سے قا بل ستر حصہ ننگا ہو تا ہو تو وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے جر م کا ارتکا ب کر تی ہے
    یہ سخت و عید صرف چا در کے سا تھ خا ص نہیں ہے بلکہ ہر قسم کے کپڑے سے متعلق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فر ما ن ہے کہ کپڑا نیچے لٹکا نے کا حکم چا در قمیص اور پگڑی وغیرہ کے لیے عا م ہے ۔ (ابو داؤد : کتا ب اللبا س )
    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم چا در کے متعلق دیا ہے وہی قمیص کے متعلق ہے نیز راوی حدیث حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ محا ر ب بن دثا ر سے دریا فت کیا کہ آپ نے چا در کا ذ کر کیا تھا انہوں نے جوا ب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق طو ر پر کپڑے کا ذکر کیا ہے چا در وغیرہ کا خصوصیت کے ساتھ تو ذکر نہیں کیا ،(صحیح بخا ری کتا ب اللبا س )
    لہذا شلو ار وغیرہ کے با رہ میں بھی وہی حکم ہے جو چا در اور تہبند کا ہے
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج1ص470


    محدث فتویٰ


    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچےلٹکانا
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کے بارے میں کیا حکم ہے جب کہ وہ تکبر کی وجہ سے ہو یا بغیر تکبر کے ہواوربچےکو جب اس کے گھر والے مجبورکردیں یا عادت ہی اس طرح ہو تواس کا کیا حکم ہے ؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    اس کاحکم یہ ہے کہ مردوں کے لئے کپڑے کوٹخنوں سے نیچے لٹکاناحرام ہے کیونکہ نبی کریمﷺنے فرمایا ہے:
    ‘‘تہبند کا وہ حصہ جو ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں ہوگا۔’’ (صحیح بخاری) اورصحیح مسلم میں حضرت اابوذررضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا‘‘تین قسم کے آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالی روزقیامت نہ کلام فرمائے گا،نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھے گااورنہ انہیں پاک کرے گااوران کےلئے دردناک عذاب ہوگاوہ تین قسم آدمی یہ ہیں (۱) اپنے تہبند کو ( ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے والا (۲) کوئی چیز دے کر احسان جتلانے والااور (۳) جھوٹی قسم کھاکراپناسودابیچنے والا’’
    یہ دونوں اوران کے ہم معنی دیگر احادیث عام ہیں اورسب کو شامل ہیں خواہ کوئی ازراہ تکبر اپنا کپڑا لٹکائے یا کسی اورسبب کی وجہ سے ،کیونکہ نبی ﷺنے یہ حکم عام اورمطلق بیان فرمایاہے اوراسے کسی قید کے ساتھ مقید نہیں کیا اوراگرکپڑا زراہ تکبر ٹخنوں سے نیچے لٹکایاہوتوگناہ اوربھی زیادہ اوروعید اوربھی زیادہ شدید ہے کہ نبی ﷺکا ارشادہے ‘‘جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے،اللہ تعالی روزقیامت اس کی طر دیکھے گا نہیں ۔’’یہ گمان کرناجائز نہیں کہ رسول اللہ ﷺنے تکبر کی وجہ سے کپڑے کے لٹکانے سے منع کیا ہے کیونکہ نبی ﷺنے اسے مذکورہ بالادونوں احادیث میں کسی بھی قید کے ساتھ مقید نہیں فرمایاجیساکہ ایک اورحدیث میں بھی اسے مقید نہیں کیا اوروہ یہ کہ آپؐ نے بعض صحابہ سے فرمایاکہ‘‘کپڑے کو نیچے لٹکانے سے بچوکیونکہ یہ تکبر ہے ۔’’تواس میں آپﷺنے کپڑے کونیچے لٹکانے ہی کو تکبر قراردیا،کیونکہ اکثر وبیشترتکبر ہی کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ہے،جو شخص ازراہ تکبر نہ لٹکائے تواس کا یہ عمل وسیلہ تکبر ہے اوروسائل کا حکم بھی وہی ہوتا ہے جومقاصد کا ہوتا ہے ،پھر اس میں اسراف بھی ہے اورکپڑا نجاست وگندگی سے آلودہ بھی ہوتا ہے ۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے جب ایک نوجوان کو دیکھا جس کا کپڑازمین پر لگ رہا تھا توآپ نے اس سے فرمایا‘‘اپنا کپڑا زمین سے اونچاکرلو،اس سے رب راضی ہوگااورتمہاراکپڑا پاک صاف رہے گا۔’’
    نبیﷺنے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ سے جو یہ فرمایا،جب انہوں نے یہ عرض کیا یا رسول اللہ!میرا تہبندڈھیلاہوکر لٹک جاتاہےلیکن میں اسےاوپررکھنےکی کوشش کرتاہوں،توآپ نےفرمایا‘‘تم ان لوگوں میں سےنہیں ہوجوتکبرکی وجہ سےایساکرتےہیں۔’’توآپ کی اس سےمرادیہ تھی کہ جس شخص کاکپڑاڈھیلاہوکرلٹک جائےاوروہ کوشش کرکےاسےاورپراٹھالےتواس کاشماران لوگوں میں سےنہیں ہوگاجوازراہ تکبراپنےکپڑےنیچےلٹکاتےہیں کیونکہ اس نےاپنےکپڑےکوخودنیچےنہیں لٹکایابلکہ کپڑاخودبخودڈھیلاہوکرلٹک گیااوراس نےاسےاوپراٹھالیاتوبےشک اس طرح کاشخص معذورہے۔
    جوشخص جان بوجھ کراپنےکپڑےکوٹخنوں سےنیچےلٹکائےخواہ وہ عباہویاشلوار،قمیص ہویاتہبند،وہ اس وعیدمیں داخل ہےاوروہ اپنےکپڑوں کونیچےلٹکانےکی وجہ سےمعذورنہیں ہےکیونکہ وہ احادیث صحیحہ جوکپڑوں کونیچےلٹکانےسےمنع کرتی ہیں وہ اپنےمنطوق،معنی اورمقاصدکےاعتبارسےعام ہیں لہٰذاہرمسلمان پرواجب ہےکہ وہ اپنےکپڑےکوٹخنوں سےنیچےلٹکانےسےپرہیزکرے،اللہ تعالیٰ سےڈرےاورکپڑےکوٹخنوں سےنیچےنہ ہونےدےتاکہ ان احادیث پرعمل کرکےاللہ تعالیٰ کےغضب وعقاب سےمحفوظ رہ سکے۔والله ولي التوفيق_



    صفحہ 392


    محدث فتویٰ


    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    تکبر کے بغیر کپڑا نیچے لٹکانے کا حکم اور ۔۔۔۔۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    تکبر کی وجہ سے یا بغیر تکبر کے کپڑا لٹکانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی انسان اس کے لیے مجبور ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے' خواہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے گھر والے مجبور کریں یا یہ عادت بن چکی ہو؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال


    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    اس کا حکم یہ ہے کہ مردوں کے لیے ایسا کرنا حرام ہے'کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:
    ((مااسفل من الكعبين من الازار فهو في النار )) (صحيح البخاري ‘اللباس‘باب ما اسفل من الكعبين فغو في النار‘ ح: ٥٧٨٧ )

    تہ بند کاجو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم کی آگ میں جائے گا۔"
    اسےامام بخاری ؒ نے اپنی "صحیح " میں روایت کیا ہے اورامام مسلم ؒ نے اپنی "صحیح " میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :
    ((ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة‘ولا ينظر اليهم ّولا يزكيهم ّولهم عذاب اليم المسبل (ازاره) والمنان ‘والمنفق سلعته بالحلف الكاذب ))(صحيح مسلم‘ الايمان ‘باب غلظ تحريم اسبال الازار المن بالعطية___الخ‘ ح : ١-٦)

    "تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ کلام فرمائے گا'نہ ان کی طرف(نظر رحمت سے) دیکھے گا' نہ انہیں پاک کرےگا اورا ن کے لیے دردناک عذاب ہوگا (1) کپڑے کو لٹکانے والا (2)احسان جتلانے والا اور(3) جھوٹی قسم کے ساتھ اپنے سودے بیچنے والا۔"
    یہ دونوں حدیثیں اور ان کے ہم معنی دیگر احادیث عام ہیں اور یہ ہر اس شخص کئے لیے ہیں۔
    جو اپنے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے "خواہ تکبر کی وجہ سے یا بغیر تکبر کے کیونکہ نبی ﷺ نے ان احادیث کو عام اور مطلق بیان فرمایا ہے'انہیں مقید بیان نہیں فرمایا 'لہذا اگر کپڑا ازراہ تکبر لٹکایا گیا ہوتو گناہ زیادہ بڑا اور وعید زیادہ دشوار ہوگی کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:
    کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:
    ((من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة )) (صحيح البخاري ‘اللباس ‘باب من جر ازاره من غير خيلاء‘ ح :٥٧٨٤ وصحيح مسلم باب تحريم جر الثواب خيلاء_____‘ ح :٢-٨٥)

    جو شخص ازراہ تکبر کپڑا لٹکائے گا تو قیامت کے دن اس کی طرف ( نظر رحمت سے) دیکھے گا بھی نہیں۔"
    یہ گمان کرنا جائز نہیں ہے کہ کپڑا نیچے لٹکانا کی یہ وعید تکبر کے ساتھ مقید ہے' کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ بالا دونوں حدیثوں میں اسے تکبر کے ساتھ مقید نہیں کیا 'جیساکہ دوسری حدیث میں بھی اسے مقید نہیں کای جس میں آپ نے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا:
    ((اياك واسبال الازار فانها من المخيلة ) ( سنن ابي داود ‘للباسّ باب ماجاء في اسبال الازارّ ح: ٤-٨٤)

    "کپڑے کو نیچے لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر ہے۔"
    اسا حدیث میں آپ نے کپڑے کو نیچے لٹکانے کی تمام صورتوں کو تکبر قرار دیا ہے کیونکہ اکثر وبیشتر صورتوں میں یہ تکبر ہی کی وجہ سے ہوتا ہے اور جس کا مقصد تکبر نہ ہو تو یہ تکبر کا وسیلہ ضرور ہے اور وسائل کا حکم نتائج ہی کا ہوتا ہے اور پھر اس میں اسراف بجی ہے اور اس سے کپڑے بھی میلے اور ناپاک ہوجاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک نوجوان کا کپڑا زمین کو چھورہا ہے تو آپ نے فرمایا :
    ((ارفع ثوبك‘ فانه لثوبك ‘واتقي لربك)) (صحيح البخاري‘ فضائل اصحاب النبي صلي الله عليه وسلم باب قصة البيعة والاتفاق علي عثمان بن عفان ‘ ح: ٣٧--)

    "اپنے کپڑے کو اونچا رکھو اس سے کپڑا صاف رہے گا اور رب راضٰ ہوجائے گا۔"
    حجرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ عرض کیا تھا یارسول اللہ ! میرا تہہ بند لٹک جاتا ہے حالانکہ میں اسے اونچا اٹھائے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو نبی ﷺ نے فرمایا :
    ((لست ممن يصنعه خيلاء )) (صحيح البخاري ‘للباس ‘باب من جر ازاره من غير خيلاء ‘ ح: ٥٧٨٤ وسننن ابي داود‘ ح: ٤-٨٥)

    "آپ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو ازراہ تکبر ایسا کرتے ہیں۔" تو رسول اللہ ﷺ کی اس سے منراد یہ ہے کہ جو شخص اپنے لٹکے ہوئے کپڑوں کو اونچا اٹھالے تو وہ ان میں سے نہیں ہے' جو ازراہ تکبر اپنے کپڑے لٹکاتے ہیں' کیونکہ اس نے انہیں خود نہیں لٹکایا بلکہپ جب کپڑا لٹک جاتا تو وہ اسے اٹھا لیتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ نہ لٹکے اور بلا شبہ ایساشخص معذور ہے ۔ لیکن جو شخص قصڈ وارادہ سے اپنے کپڑے لٹکائے 'خواہ وہ پاجامہ ہو یا شلوار یا ازار یا قمیص' تو وہ اس وعید میں شامل ہے اور کپڑے لٹکانے کا سلسلہ میں معذور نہیں ہے' کیونکہ کپڑا لٹکانے کی یہ صحیح احادیث اپنے منطوق' معنی اور قصد کے اعتبار سے عام ہیں۔ لہذا ہر مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ کپڑے لٹکانے سے اجتناب کرےاللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنے کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکائے تاکہ صحیح احادیث پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے بچ جائے ۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب


    ج4ص259


    محدث فتویٰ
     
  4. ‏اگست 22، 2017 #74
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    دارالعلوم دیوبند کے ایک شمارے میں اس پر بحث کی گئی ہے.
     
  5. ‏اگست 22، 2017 #75
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    عمربھائی سارے بریلوی گئے اس فتوی کے تحت
     
  6. ‏اگست 22، 2017 #76
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

     
  7. ‏اگست 22، 2017 #77
    Israr Hussain Niyargar

    Israr Hussain Niyargar مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 16، 2017
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    بوهوت سے لوگ جو پےنٹ یا جینس پہننے ہے وہ نماز میں اپنا لباس ٹخنوں سے اوپر فالڈ کرتے ہے اور فالڈ لوڈ کریں یا سمیٹنے کے متالليك نبی نے فرمایا -
    Ibn Abbas r.a. riwayat karte hai ki RasoolALlah s.a.w. ne ne farmaya: ‘Mujhe hukam diya gaya hai ke main 7 haddiyo’n par sajda karu’n peshani aur Aap ne hath se naak ki taraf ishara kiya dono’n hatho’n, dono’n ghutno’n aur dono’n qadmo’n ke panjo’n par aur (ye ke ham namaz mein) apne kapdo’n aur balo’n ko ek‐khatta na karei’n.’
    (Bukhari: al Azan 812 – Muslim: al Salah 490).
     
  8. ‏اگست 22، 2017 #78
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,243
    موصول شکریہ جات:
    686
    تمغے کے پوائنٹ:
    213

    جزاک اللہ خیرا عمر بهائی

    مجهے اس فتوی کا آخری فقرہ پڑهکر دلی مسرت هوئی ۔ اللہ ہم سب کی بہتر رہ نمائی فرمائے ، صراط مستقیم پر قائم رکهے ۔ آمین
     
  9. ‏اگست 22، 2017 #79
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,180
    موصول شکریہ جات:
    1,056
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    میرے خیال سے انکا موقف الگ ہے. واللہ اعلم
     
  10. ‏اگست 23، 2017 #80
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    محترم اثر بھائی اس فتویٰ کو چیک کریں ۔ مجھے اس میں بعینہ وہی بات ملی ہے جو میں کہہ رہا تھا۔
    کیا نماز کی حالت میں ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنا جائز ہے؟


    موضوع: عبادات | نماز
    سوال پوچھنے والے کا نام: عمر عطاری مقام: انڈیا
    سوال نمبر 1205:
    کیا نماز کے دوران ٹخنوں سے اوپر پاجامہ موڑے رکھنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو دوسری احادیث پر عمل نہیں ہوتا۔ براہ مہربانی وضاحت سے جواب دیں۔

    جواب:
    اصل میں اس مسئلہ میں یہ ہے کہ غرور و تکبر کسی مخلوق کی طرف سے بھی ہو، معیوب اور شریعت کی نگاہ میں مردو و مغضوب ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا :

    وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍo
    (لقمان، 31 : 18)
    اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہےo
    حدیث پاک میں آتا ہے کہ

    قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم الا اخبرکم باهل الجنة کل ضعيف متضعف لو اقسم علی الله لابره، الا اخبرکم باهل النار کل عتل جواظ مستکبر.
    (بخاری و مسلم)
    کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ہر کمزور لوگوں کی نظروں میں اگر ہوا۔ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم اٹھا لے تو اللہ ضرور اس کی قسم پوری فرمائے، کیا میں تمہیں دوزخی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر درشت رو، سخت مزاج، مغرور و متکبر۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ بھر تکبر ہوا؟ جنت میں داخل نہ ہوگا۔

    ان الرجل يحب ان يکون ثوبه، حسنا و نعله حسنا قال الله تعالی جميل يحب الجمال الکبر بطر الحق و غمظ الناس.
    ایک شخص نے عرض کی، ہر آدمی اچھا کپڑا اور اچھا جوتا پسند کرتا ہے (تو کیا یہ تکبر ہے؟) فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے حسن کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر اللہ کے حضور اکڑنا اور اس کے حکم کو رد کرنا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے۔
    (مسلم شريف)
    اس لئے اسلام غرور و تکبر اور اس کی علامات سے منع کرتا ہے اور آدمی میں توضع و انکساری پیدا کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
    من تواضع لله رفعه الله فهو فی نفسه صغير و فی اعين الناس عظيم و من تکبر وضعه الله فهو فی اعين الناس صغير و فی نفسه کبير حتی فهو اهون عليهم من کلب او خنزير.
    (مشکوٰة، ص 434، بحواله بيهقی)
    جو اللہ کے آگے جھکتا ہے، اللہ اس کو بلند کرتا ہے، وہ اپنے خیال میں چھوٹا اور لوگوں کی نظر میں بڑا ہوتا ہے اور جو غرور کرتا ہے، اللہ اسے نیچا کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا اور اپنی نگاہ میں کتے اور خنزیر سے بھی ذلیل ہوتا ہے۔
    غرور و تکبر کی کئی صورتیں ہیں۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو معاذ اللہ گھٹیا سمجھنا، اپنی باتوں کو قانون سمجھنا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو رد کرنا، جیسا ہماری اسمبلیوں میں ہوتا ہے، ہمارے سیاستدان اور حکمران کرتے ہیں کہ اپنی باتوں کو قانون قرار دے کر ملک میں نافذ کرتے ہیں اور قرآن و سنت کی ہدایات کو مسترد کر دیتے ہیں۔ یہ غرور و تکبر کی بدترین صورت ہے۔ یہ خدا کی سیٹ پر بیٹھے خدائی کر رہے ہیں۔ خدا کا قانون معطل اور ان کا قانون جاری و ساری اور پھر بھی پکے مسلمان۔
    یونہی علم و عرفان کے مدعی، غریبوں سے نفرت، امیروں سے عقیدت۔ حالانکہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سب کے لیے رؤف سب کے لیے رحیم ہیں۔ ان کی نظر عنایت کیوں ایک طرف جھکی رہتی ہے؟ غریب سے دو انگلیوں سے مصافحہ اور امیر سے مصافحہ و معانقہ و قیام و طعام۔

    غرور و تکبر سے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا


    مغرور و متکبر لوگوں کی بد اعمالیوں اور بے اعمالیوں کی یہ ادنی سی مثال ہے، ورنہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے۔ غرور و تکبر کا اظہار، بیاہ شادی، ولادت، موت، دفتر، دکان، گھر، بازار ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

    لا يدخل النار احد فی قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان ولا يدخل الجنة احد فی قلبه مثقال حبة من خردل من کبر.
    (صحيح مسلم)
    کوئی ایسا شخص دوزخ میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوا اور جنت میں نہیں جائے گا، کوئی ایسا شخص جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی غرور و تکبر ہوا۔
    دوسرے موقع پر فرمایا :

    من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة.
    (بخاری و مسلم)
    جو شخص غرور و تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نگاہ کرم نہیں فرمائے گا۔
    نیز فرماتے ہیں :

    ما اسفل من الکعبين من الازار فی النار.
    (بخاری)
    غرور و تکبر سے چادر (یا شلوار، پینٹ، پاجامہ وغیرہ) کو جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے، جہنم میں ہوگا۔

    وضاحت مسئلہ


    ان ارشادات پر بار بار غور کریں جو شخص غرور و تکبر سے کپڑا گھسیٹے اسے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اس کی نمایاں مثال چوہدری، جاگیر دار ہیں، جو اعلیٰ قیمتی تہ بند (دھوبی) پہن کر زمین پر گھسیٹتے ہوئے مٹکتے چلتے ہیں۔ تاکہ لوگوں پر اپنا دولت مندی و امارت کا رعب ڈال سکیں۔ اسی چیز سے منع کرنا مقصود ہے کہ اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو گھٹیا نہ سمجھا جائے۔ اللہ کی نعمت کی بے قدری نہ کی جائے، اگر یہ وجوہات نہ ہوں تو ٹخنوں سے نیچے شلوار، دھوتی، پاجامہ یا پتلون وغیرہ کا ہونا ہرگز گناہ یا منع نہیں اور یہ اعلان خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جیساکہ خیلاء کے لفظ سے واضح ہے کہ غرور و تکبر سے چادر گھسیٹنا حرام ہے، اگر یہ بات نہ ہو تو حرام نہیں، جائز ہے۔
    قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة، فقال ابو بکر ان احد شقی ثوبيی يستخرجی الا ان اتعاهد ذالک منه، فقال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم انک لست تصنع ذلک خيلاء.
    (صحيح بخاری، 1 : 517، طبع کراچی)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے گھسیٹے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر نظرکرم نہیں فرمائے گا۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی، میرے کپڑے کا ایک کونہ، اگر پکڑ نہ رکھوں، نیچے لٹک جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، تم ایسا غرور و تکبر سے نہیں کرتے۔
    گویا جس بات سے دوسروں کو اس لیے منع فرمایا کہ اس میں غرور و تکبر ہے، اس کی اجازت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس لیے دی کہ ان میں غرور و تکبر نہیں۔ پس اصل ممانعت غرور و تکبر کی ہے۔ جن محکموں میں ملازمین کی وردی ہوتی ہے، ان کو قانوناً اسی طرح پہننا پڑتی ہے، جس کا مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے، اس پابندی میں اعلیٰ ترین آفیسرز سے لے کر ایک سپاہی یا اہل کار تک، سب شامل ہیں۔ نہ پتلون زمین پر گھسٹتی ہے نہ کوئی غرور و تکبر سے پہنی جاتی ہے۔ پس اس صورت میں پتلون، شلوار، پاجامہ یا چادر کا ٹخنوں سے نیچے ہونا ہرگز مکروہ، حرام یا ممنوع نہیں۔ زیادہ سے زیادہ بعض لوگوں نے ایسی صورت میں مکروہ تنزیہی کا قول کیا ہے، جو خلاف اولیٰ ہوتا ہے حرام نہیں۔ (مزید مطالعہ کے لیے شرح بخاری، شرح مشکوٰۃ للشیخ عبدالحق محدث دہلوی و فتاوی عالمگیری)
    پس آپ جس طرح نماز پڑھیں جائز ہے، شرعاً قدغن نہیں۔ جو شدت کرے ان سے حوالہ جات کا جواب پوچھیں، اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین
    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

    مفتی: عبدالقیوم ہزاروی
    تاریخ اشاعت: 2011-09-29



    بحوالہ:http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1205/کیا-نماز-کی-حالت-میں-ٹخنوں-سے-اوپر-شلوار-رکھنا-جائز-ہے/
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں