1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرد کا قابل ستر حصہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏اگست 12، 2017۔

  1. ‏اگست 23، 2017 #81
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    سوال: کئی ایک احادیث مبارکہ میں ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے (اسبال) کی مذمت وارد ہوئی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شافعی نقطۂ نظر کیا ہے، کیا یہ حرام ہے؟ یا یہ حکم صرف اس کے لئے ہے جو یہ کام تکبر اور فخر کے لئے کرتا ہے؟ جزاکم اللہ

    جواب: الحمد لله رب العالمين ، وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعين، وبالله التوفيق

    شافعی مکتبۂ فکر کی معتمد رائے کے مطابق تکبر، غرور یا فخر کی نیت سے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا حرام ہے لیکن اگر یہ کام فخر و غرور کی نیت کے بغیر کیا جارہا ہے تو مکروہ ہے۔ مندرجہ ذیل مستند خوالہ جات اس مسئلے کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔
    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شرح صحیح مسلم میں اس حدیث کے بعد یہ تاثرات قلم بند کرتے ہیں:
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَیہ وَسَلَّمَ ‏ ‏قَالَ ‏ ‏لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَہ ‏ ‏خُيَلَاءَ ‏
    کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جواپناکپڑا غرور،تکبر و گھمنڈ کرتے ہوئے گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نظر نہیں فرمائےگا۔

    غرور اور تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز نہیں اور اگر یہ کام غرور کے بغیر کیاجائے تو مکروہ ہے۔احادیث کے ظاہری مفہوم سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ حرمت صرف تکبرکےباعث کپڑا لٹکانے کےلئے ہے،اسی لئے امام شافعی سے یہ نص ثابت ہے کہ انہوں نےان دونوں معاملات میں واضح فرق بیان کیا ہے۔اور اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورتوں کے لئے کپڑا ٹکنے سے نیچے لٹکانا جائز ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو شلواراور آستین کا کپڑا لمبا رکنےع کی اجازت مرہمت فرمائی۔ واللہ اعلم

    وہ حدیث ابن سعد کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں کہ اپنی شلور کو پنڈلی تک رکھنا بھی مستحب ہے:
    إِزَارَة الْمُؤْمِن إِلَى أَنْصَاف سَاقَيْہ لَا جُنَاح عَلَيْہ فِيمَا بَيْنہ وَبَيْن الْكَعْبَيْنِ مَا أَسْفَل مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّار
    مومن کی شلوار (کپڑا) نصف پنڈلی تک ہوتی ہے، پنڈلی اور ٹخنے کے درمیان رکھنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں، جو حصہ (ٹخنے سے) نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۔

    پس شلوار (کپڑے) کا نصف پنڈلی تک ہونا مستحب ہے اور اگر ٹخنوں تک بھی ہو تو بلا کراہت جائز ہے لیکن جو حصہ ٹخنوں سے نیچا آئے گا تو ایسا کرنا ممنوع ہے پس اگر یہ کام غرور کے لئے کیا تب تو ایسا کرنا ممنوع کے ساتھ ساتھ حرام بھی ہوگا اور اگر غرور کے بغیر کیا تو ناپسند اور ممنوع ہوگا۔

    امام نووی رحمۃ اللہ علیہ روضۃ الطالبین میں فرماتے ہیں: کپڑے کو غرور، تکبر یا فخر کی وجہ سےٹخنوں سے نیچےرکھنا حرام ہے،اور اگر ان وجوہات کے علاوہ ایسا کیا توبھی یہ مکروہ (ناپسند)عمل ہے۔اس عمل کو نماز یا غیرنمازدونوں طرح کی حالت میں کرنے سےمنع کیا گیا ہے۔شلواراور ازار دونوں ہی کپڑے کے حکم میں داخل ہیں۔
    امام السنہ اور حجتِ شافعیہ الخطیب الشیربانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی معرکہ آرا تصنیف المغنی المحتاج الی معرفۃ معانی الفتح المنھاج میں رقم طراز ہیں:
    کپڑوں کو کعبین (ٹخنوں) سے نیچے خیلاء (تکبر) کے لئے لٹکانا حرام ہے اور اس کے علاوہ یہ عمل مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔
    قرون وسطی میں امیر کبیر لوگ گھمنڈ اور تکبر کی غرض سے اپنے کپڑے ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نکلا کرتے تھے۔ اسی لئے اسلام نے اس عمل سے منع کردیا کیونکہ کسی انسان کو دوسرے انسان پر سوائے تقویٰ کے کسی چیز کی وجہ سے برتری نہیں اور کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ کون کس سے زیادہ راست باز ہے۔ کس کا اپنی خواہشات پر کتنا کنٹرول ہے۔ سب ہی کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ بے شک اسلام تکبراور اس سے متعلقہ ہر چیز سے روکتا ہے۔

    ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے اور اسے زمین کے ساتھ گھسیٹنے کی ممانعت کا قرآن کی اس آیت میں بھی ثبوت ملتا ہے:
    وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا۔
    اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے۔ (سورۃ الاسراء 37)
    اور فرمایا:
    وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
    لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پر اکڑ کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ (سورۂ لقمان 18)
    ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ (صحیح مسلم)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی تعریف کچھ ان الفاظ میں فرمائی: سچی بات کو جھٹلانا اور لوگوں کو نیچا سمجھنا۔ (رواہ بخاری و مسلم)
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو جہنیوں کے اوصاف نہ بتلاؤں؟ ہر تند خو ، اکڑ کر چلنے والا اور متکبر۔(رواہ بخاری و مسلم عن حارثہ بن وھب)
    صحیح بخاری میں امام بخاری نے ایک باب باندھا اور اس کا نام “باب من جر إزاره من غير خيلاء” یعنی “اگر کسی کا کپڑا یوں ہی لٹک جائے تکبر کی نیت نہ ہو”،رکھا۔

    اس باب میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں:
    ‏عَنْ النَّبِيِّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْہ وَسَلَّمَ ‏ ‏قَالَ ‏ ‏مَنْ جَرَّ ثَوْبَہ ‏ ‏خُيَلَاءَ ‏ ‏لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ إِلَيْہ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ‏ ‏أَبُو بَكْرٍ ‏ ‏يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْہ فَقَالَ النَّبِيُّ ‏ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْہ وَسَلَّمَ ‏ ‏لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُہ ‏ ‏خُيَلَاءَ ‏
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے تہبند کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طورسے اس کا خیال رکھا کروں؟ آپ نے فرمایا تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں ۔
    اسی باب میں امام بخاری ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور حدیث نقل کرتے ہیں:

    ‏ ‏
    فقام يجر ثوبہ مستعجلا حتى أتى المسجد

    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے۔

    اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی ایسی صحیح احادیث وارد ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے کپڑے ٹخنے سے اونچے کرکے پنڈلی تک کرنے کا حکم صادر فرمایا جبکہ ہمارا ایمان ہے کہ وہ اس طرح تکبر کی وجہ سے قطعاً نہیں کیا کرتے تھے۔ شافعی مکتبہ فکر ان تمام روایات کو جمع کرکے اس طرح تطبیق کرتا ہے کہ غرور و تکبر کے بغیر کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکانا ناپسندیدہ عمل ہے اور اگر غرور اور گھمنڈ میں کیا جائے تو قطعاً حرام ہے۔
    https://darulhasana.wordpress.com/2010/10/05/garmentbelowtheankle/
    @عمر اثری
    @اشماریہ

    ہیڈنگ والی حدیث کی تحقیق بھی درکار ہے یہ پہلی دفعہ اس موضوع پر پڑھی ہے۔
     
  2. ‏اگست 23، 2017 #82
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,227
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    باطل تاویلات کی گئی ہیں. زبردستی جواز پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے
     
  3. ‏اگست 23، 2017 #83
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,227
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    کونسی ہیڈنگ والی؟؟؟
     
  4. ‏اگست 23، 2017 #84
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    @عمر اثری
    @اشماریہ

    اللہ کے کرم سے یہ حدیث بھی مل گئی ہے ۔
    2- بَابُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنْ غَيْرِ خُيَلاَءَ:​

    باب: اگر کسی کا کپڑا یوں ہی لٹک جائے تکبر کی نیت نہ ہو تو گنہگار نہ ہو گا۔​
    حدثني محمد، ‏‏‏‏‏‏اخبرنا عبد الاعلى، ‏‏‏‏‏‏عن يونس، ‏‏‏‏‏‏عن الحسن، ‏‏‏‏‏‏عن ابي بكرة رضي الله عنه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ خسفت الشمس ونحن عند النبي صلى الله عليه وسلم فقام يجر ثوبه مستعجلا حتى اتى المسجد وثاب الناس فصلى ركعتين فجلي عنها، ‏‏‏‏‏‏ثم اقبل علينا، ‏‏‏‏‏‏وقال:‏‏‏‏ "إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله، ‏‏‏‏‏‏فإذا رايتم منها شيئا فصلوا وادعوا الله حتى يكشفها".​

    مجھ سے بیکندی محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سورج گرہن ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن ختم ہو گیا، تب آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لیے جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔
     
  5. ‏اگست 23، 2017 #85
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    مجھے مل گئی ہے ۔ چیک کریں۔
     
  6. ‏اگست 23، 2017 #86
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,227
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    یہی حدیث بخاری میں 1040 نمبر پر موجود ہے جسمیں صراحت ہے کہ آپ ﷺ چادر گھسیٹتے ہوئے گئے تھے:
    فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ
    مزید نسائی (1502) میں بھی الفاظ ہیں کہ چادر گھسیٹتے ہوئے گئے تھے:
    فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مِنَ الْعَجَلَةِ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 23، 2017 #87
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    میں نے جو حدیث پوسٹ کی ہے وہ بخاری سے ہی کی ہے۔
     
  8. ‏اگست 23، 2017 #88
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,227
    موصول شکریہ جات:
    1,060
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    جی جانتا ہوں. میں نے بھی بخاری سے ہی حدیث نقل کی ہے جسمیں وضاحت ہے کہ وہ چادر تھی.
    مزید یہ کہ جلدی یا خوف کی حالت میں کسی کا ازار ٹخنے سے نیچے آگیا تو اسمیں کوئی حرج نہیں. کیونکہ وہ بے خیالی میں آیا.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 23، 2017 #89
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    امام بخاری نے تو باب میں بے خیالی اور جلدی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی چادر کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا۔ بہرحال یہ ایک نئی چیز ملی تھی اسلئے آپ کے گوش گذار کردی۔ہم دونوں اس پر مزید بحث کرنے پر متفق ہوچکے ہیں۔
     
  10. ‏اگست 23، 2017 #90
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    574
    موصول شکریہ جات:
    103
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    تصحیح:
    ہم دونوں اس پر مزید بحث نہ کرنے پر متفق ہوچکے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں