1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مرزا قادیانی پر سب سے پہلا متفقہ فتویٰ تکفیر علماء لدھیانہ کے فتویٰ(۱۳۰۱ھ) کا مختصر تحقیقی جائزہ

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏جنوری 03، 2019۔

  1. ‏جنوری 03، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    مرزا قادیانی پر سب سے پہلا متفقہ فتویٰ تکفیر
    علماء لدھیانہ کے فتویٰ(۱۳۰۱ھ) کا مختصر تحقیقی جائزہ
    (انجنیئر صالح حسن)


    مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مختلف دعاویٰ مہدویت، مسیحیت اور نبوت وغیرہ سے قبل ایک مسلمان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اسی دوران اس نے اپنی پہلی کتاب" براہینِ احمدیہ" کی تالیف کا کام شروع کیا ۔
    رفیق دلاوری دیوبندی لکھتے ہیں:
    "حسبِ بیان صاحبزادہ میاں مرزا بشیر احمد ان کے والد مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۷۸ء میں براہین کی تیاریوں میں مصروف ہوئے۔ ۱۸۷۹ء میں اس کا مسودہ شروع کیا ۔۱۸۸۰ء میں پہلا اور دوسرا حصہ شائع کیا (جن میں سے پہلا حصہ ایک اشتہار کو قرار دے لیا)۱۸۸۲ء میں تیسرا اور ۱۸۸۴ء میں چوتھا حصہ شائع کیا۔( سیرۃ المہدی ج2ص51)" (رئیس قادیان ج1ص139)
    مصنف تاریخ احمدیت لکھتے ہیں:
    "براہین ِاحمدیہ" کے پہلے دو حصے ۱۸۸۰ء میں ، تیسرا حصہ ۱۸۸۲ء میں اور چوتھا حصہ ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔"
    "(تاریخ احمدیت ج1ص191)
    براہینِ احمدیہ کے اصل مخاطب ہندو، عیسائی اور آریہ وغیرہ غیر مسلم تھے ۔
    ابو الحسن علی ندوی دیوبندی لکھتے ہیں:
    " یہ دور مذہبی مناظروں کا دور تھا اور اہلِ علم کے طبقے میں سب سے بڑا ذوق، مقابلۂ مذاہب اور فِرق کا پایا جاتا تھا۔۔ مرزا صاحب کی حوصلہ مند طبیعت اور دوربین نگاہ نے اس میدان کو اپنی سرگرمیوں کے لیئے انتخاب کیا۔ انہوں نے ایک بہت بڑی ضخیم کتاب کی تصنیف کا بیڑا اٹھایا۔ جس میں اسلام کی صداقت ، قرآن کے اعجاز اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو بدلائل عقلی ثابت کیا جائے گا ارو بیک وقت مسیحت، سناتن دھرم ، آریہ سماج اور برہمو سماج کی تردید ہو گی۔ انہوں نے اس کتاب کا نام براہینِ احمدیہ تجویز کیا۔"(قادیانیت، مطالعہ و جائزہ ص 38،37)
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ براہینِ احمدیہ کے شائع ہوتے ہی علماء نےمرزا کی تکفیر کا فتویٰ شائع کر دیا تھا، ان میں لدھیانہ کے بعض مولوی حضرات کا نام لیا جاتا ہے۔
    محمد یوسف لدھیانوی دیوبندی لکھتے ہیں:
    "اکابر دیوبند کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تعاقب سب ے پہلے کیا اور ۱۳۰۱ھ میں جب مرزا قادیانی نے مجددیت کے پردے میں اپنے الہامات "وحی الہٰی" کی حیثیت سے براہینِ احمدیہ میں شائع کیا تو دھیانہ کےعلماء( مولانا محمد، مولانا عبداللہ ، مولانا اسمٰعیل رحمہم اللہ ) نے جو حضرات دیوبند کے منتسبین میں سے تھے ، فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ شخص مسلمان نہیں بلکہ اپنے عقائد و نظریات کے اعتبار سے زندیق اور خارج از اسلام ہے۔" (تحفہ قادیانیت ج1ص135،134)
    مسلکی تعصب اور لدھیانوی خاندان سے محبت کا دم بھرنے کے لیئے لدھیانوی صاحب نے رائی کا پہاڑ بنا دیا ہے حالانکہ حقیقت اس سے کافی مختلف ہے۔ لدھیانوی صاحب کے مطابق علماء لدھیانہ نے مرزا کی تکفیر 1301ھ (مطابق 1884ء) میں کی تھی ۔ ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ ۱۸۸۴ءتک مرزا کی کتاب براہینِ احمدیہ (چار حصے)ہی منظر عام پرآئی تھی۔ اس وقت تک مرزا نے دبے لفظوں میں صرف مجددیت کا دعویٰ ہی کیا تھا۔بلکہ رفیق دلاوری دیوبندی کے مطابق براہین احمدیہ میں مرزا نے کوئی نئی تحقیق پیش نہیں کی بلکہ علماء سلف کے اقوال ہی پیش کیئے ہیں لکھتے ہیں:
    "اور پھر جہاں تک خاکسار راقم الحروف کی تحقیق کو دخل ہے مرزا صاحب نے اس کتاب میں اپنی کاوش طبع سےشاید ایک حرف بھی نہیں لکھا بلکہ جو کچھ زیب رقم فرمایا ہے وہ یا تو علماء سلف کی کتابوں سے اخذ کیا ہے یا علماء معاصرین کے سامنے کاسہ گدائی پھرا کر ان کی علمی تحقیقات حاصل کر لی گئی ہیں۔"(رئیس قادیان ج1ص110)
    اب سوال یہ ہے کہ اگر اس کتاب میں مرزا نے محض علماء سلف کی تحقیقات ہی پیش کی ہیں تو کیا یہ عبارات واقعتاً قابلِ تکفیر تھیں؟
    ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں:
    "۱۸۹۰ء تک مرزا صاحب کا دعویٰ: مرزا صاحب نے اس وقت تک صرف مجّدد و مامور ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔"(قادیانیت، مطالعہ و جائزہ ص55)
    لدھیانوی صاحب اور ان کے ہمنوا ۱۸۸۴ء میں مرز اکی تکفیر ثابت کر رہے ہیں جبکہ ابھی مرزا نے نہ مہدویت، نہ مسیحیت اور نہ ہی نبوت کا دعویٰ کیا تھا بلکہ یہ دعاویٰ ۱۸۸۴ء کے چھ سال بعد ۱۸۹۱ء میں سامنے آتے ہیں جب مرزا کے رسائل "فتح السلام" اور "توضیح المرام" شائع ہوئے ۔پھر یہ تکفیر کس بنیاد پر کی جا رہی تھی؟

    تکفیر کا واقعہ :
    تکفیر کا یہ واقعہ ۱۸۸۴ء کا بتایا جاتا ہے جب مرزا قادیانی پہلی بار لدھیانہ پہنچا۔ قادیانی مؤرخ عبدالقادر لکھتا ہے:
    حضرت اقدس ۱۸۸۹ء کے شروع میں لودھیانہ تشریف لے گئے اور ایک اشتہار کے ذریعے احباب میں اعلان فرمایا کہ تاریخ ہذا سے جو ۴مارچ ۱۸۸۹ء ہے ۲۵مارچ تک یہ عاجز لودھیانہ میں مقیم ہے۔ "(حیاتِ طیبہ ص72)
    یعنی مصنف حیات طیبہ کے نزدیک مرزا نے پہلی بار مارچ ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ کا سفر کیا تھا۔ لیکن مصنف تاریخ احمدیت نے ۱۸۸۴ء میں بھی مرزا کا لدھیانہ کا سفر لکھا ہے۔ مصنف حیات طیبہ کا ۱۸۸۹ء میں پہلا سفر لدھیانہ بتاتا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ۱۸۸۴ء میں مرزا اگر لدھیانہ گیا تھا تو یہ قیام بہت قلیل تھا جیسا کہ بعض جگہ مذکور ہے اس کے علاوہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پہلے سفر(۱۸۸۴ء) کے دوران کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا ۔ اگر کوئی فتویٰ تکفیر اس وقت جاری کیا جاتا تو مرزا کو اس کا ضرور علم ہو جاتا لیکن اس کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔
    مؤرخ دیوبند رفیق دلاوری صاحب لکھتے ہیں:
    "جس روز قادیانی صاحب لدھیانہ میں قدوم فرما ہوئے ، مولوی محمد، مولوی عبداللہ اور مولوی اسمٰعیل صاحبان نے کتاب براہین کا نظر غائر سے مطالعہ کیا۔ اس میں کلمات کفر یہ کی بڑی کثرت اور فراوانی پائی۔ اس کے بعد شہر میں اعلان کر دیا کہ یہ شخص مجّدد نہیں بلکہ زندیق اور خارج از اسلام ہے اور فتوے چھپوا کر گردو نواع کے شہروں میں روانہ کیئے کہ یہ شخص مرتد ہے۔"(رئیس قادیان ص371)
    مولوی محمد لدھیانوی لکھتے ہیں:
    "جس روز قادیانی شہر لدھیانہ میں وارد ہوا تھا راقم الحروف اعنی محمد، مولوی عبداللہ صاحب و مولوی اسمٰعیل صاحب نے براہین کو دیکھا تو اس میں کلمات کفریہ انبار در انبار پائے اور لوگوں کو قبل از دوپہر اطلاع کر دی گئی کہ یہ شخص مجّدد نہین زندیق و ملحد ہے
    ؎ برعکس نہند نام زنگی کافور
    اور گردو نواع کے شہروں میں فتوے لکھ کر روانہ کیئے گئے کہ یہ شخص مرتد ہے۔ اس کی کتاب کو کوئی نہ خریدے۔"
    (فتاویٰ قادریہ ص3)
    مرزا صاحب لدھیانہ پہنچے ہیں اور چند گھنٹوں میں ان تین مولویوں نے براہین احمدیہ کی چار جلدیں پڑھ ڈالی ، اس میں سے کفریہ کلمات و عبارات بھی تلاش کر لیئے اور اس پر غور و خوض کے بعد فتویٰ تکفیر بھی مرتب کر دیا۔ اور چھپوا کر ارد گرد شہروں میں بھی پہنچا دیا اور یہ ساری کارروائی دوپہر سے قبل مکمل ہو گئی۔
    یہ عبارت ہی بتا رہی ہے اس بیان میں کس قدر سچائی ہے۔ یہ واقعہ "فتاویٰ قادریہ" کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے ، لیکن اس کے نام سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کیونکہ یہ وہ مزعومہ فتویٰ تکفیر نہیں ہے بلکہ ایک الگ کتاب ہے جو ۱۸۸۴ء کے سترہ (17) سال بعد ۱۳۱۹ھ مطابق ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی(دیکھئے فتاویٰ ختم نبوت ج2ص8)۔اصل فتویٰ جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہیں موجود نہیں نہ ہی آج تک کوئی شخص وہ فتویٰ مکمل متن کے ساتھ پیش کر سکا ہے ۔
    اس عبارت سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ مرزا کی تکفیر کی بحث شروع ہوئی تھی لیکن کیا مرزا کی تکفیر پر علماء متفق ہو گئے تھے؟
    مولوی محمد لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں:
    "اس موقع پر اکثر علماء نے تکفیر کی رائے کو تسلیم نہ کیا ۔ بلکہ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے ہماری تحریر کی تردید میں ایک طومار لکھ کر ہمارے پاس روانہ کیا اور قادیانی کو مرد صالح قرار دیا۔"(فتاویٰ قادریہ ص3)
    دلاوری صاحب لکھتے ہیں:
    "جن حضرات نے فتویٰ تکفیر سے اختلاف کیا ان میں حضرت مولانا رشید احمد صاحب چشتی گنگوہی جو ان دنوں علماء حنفیہ میں انتہائی ممتاز حیثیت رکھتےتھے ۔۔ سب سے پیش پیش تھے۔انہوں نے علماء لدھیانہ کے فتویٰ تکفیر کی مخالفت میں ایک مقالہ لکھ کر قادیانی صاحب کو ایک مرد صالح قرار دیا۔"(رئیس قادیان ج2ص372)
    اس کے بعد دونوں اطراف (لدھیانوی، گنگوہی) تحریروں کا تبادلہ ہوا لیکن بات کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی چونکہ دونوں طرف احناف تھے اس لیئے یہ معاملہ مولانا یعقوب نانوتوی صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کے سامنے پیش کیا گیا اور انہیں اس معاملہ میں حکم بنایا گیا۔
    چنانچہ مولوی محمد لدھیانوی لکھتے ہیں:
    " پھر اس تحریر کو ہم تینوں(مولوی محمد، عبداللہ ، اسماعیل لدھیانوی) ساتھ لے کر جلسہ دستار بندی مدرسہ دیوبند بتاریخ ۱۲ جمادی الاول ۱۳۰۱ھ میں پہنچے۔ دوسرے روز مولوی رشید احمد صاحب ملاقات کے واسطے تشریف لائے۔ بعد ازاں مولوی محمد یعقوب صاحب بھی براہ مہمان نوازی ملنے کو آئے۔ راقم الحروف نے کچھ حال قادیانی کا بطوراجمال زبانی بیان کیا۔ مولانا محمد یعقوب صاحب نے فرمایا کہ اگر بطور ظلیت آنحضرت ﷺ کا ورود الہامات اس پر ہوتا ہو تو کیا عجب ہے؟ میں نے کہا اگر اہل کتاب یہود و نصاریٰ یہ اعتراض کریں کہ جیسا کہ قادیانی پر بسبب ظلیت آیات قرآنی نازل ہو رہی ہیں، ایسا ہی تمھارے پیشواخود مستقل پیغمبر نہیں تھے بلکہ بسبب اتباع ابراہیم علیہ السلام کے ان پر قرآن بطور الہام نازل ہوا ہو گا تو پھر آپ کیا جواب دو گے؟ مولوی صاحب نے لاجواب ہو کریہ فرمایا میں اس شخص کو اپنی تحقیق میں غیر مقلد جانتا ہوں۔"(فتاویٰ قادریہ ص 15)
    گنگوہی صاحب سے لدھیانوی علماء نے ایک تحریر تھما کر دوبارہ جواب طلب کیا تو۔۔
    "مولوی صاحب (گنگوہی) نے تحریر کو واپس دے کر فرمایا ہمارے سب کے مولانا محمد یعقوب بڑے ہیں۔ اس باب میں جو ارشاد کریں مجھ کو منظور ہے۔"(فتاویٰ قادریہ ص16)
    اس کے بعد یعقوب نانوتوی صاحب سےعلماء لدھیانہ نے تحریری فتویٰ طلب کیا ، لکھتے ہیں:
    "چنانچہ مولانا (یعقوب) صاحب نے حسب وعدہ ایک فتویٰ اپنے ہاتھ سے لکھ کر ہمارے پاس ڈاک میں ارسال فرمایا جس کا مضمون یہ تھا کہ "یہ شخص (مرزا) میری دانست میں غیر مقلد معلوم ہوتا ہے اور اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا،معلوم نہیں کہ اس کو کس روح کی اویسیت ہے۔"(فتاویٰ قادریہ ص 17)
    اس ساری تفصیل سے یہ پتا چلتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تکفیر کے مسئلہ پر احناف کے دو گروہوں میں اختلاف ہوا تھا جن میں ایک طرف لدھیانہ والے (مولوی محمد، عبداللہ اور اسماعیل لدھیانوی ) جو تکفیر کے قائل تھے اور دوسری طرف مولوی رشید احمد گنگوہی اور ان کے ہمنوا مولوی حکیم مسعود احمد بن مولوی رشید احمد گنگوہی،مولوی محمود حسن دیوبندی ، مولوی شاہ دین لدھیانوی ، مولوی عبدالقاادر لدھیانوی وغیرہ تھے جو تکفیر کے خلاف تھے۔ اس مسئلہ میں دونوں طرف سے دلائل پیش کیئے گئے ۔ اس کے بعد مولوی یعقوب صاحب نانوتوی صدر مدرس دارالعلوم دیوبند کو حکم مقرر کیا گیا جنہوں نے ۱۸۸۴ء کے مرزا کو غیر مقلد (مسلمان) قرار دیا۔ اس لیئے اس بحث کا حتمی فیصلہ وہی تھا جو حکم یعنی مولوی یعقوب صاحب نے سنایا۔
     
  2. ‏جنوری 03، 2019 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    ۱۸۸۴ء میں مرزا کی تکفیر پر علماء اسلام کا اتفاق نہیں ہوا :
    مولوی محمد لدھیانوی صاحب لکھتے ہیں:
    "اس موقع پر اکثر علماء نے تکفیر کی رائے کو تسلیم نہ کیا ۔"(فتاویٰ قادریہ ص 3)
    مؤرخ دیوبند رفیق دلاوری صاحب کی شہادت سنیں۔ مرز اکی دوسری شادی کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
    "یہ با ت سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا صاحب ایسے وقت میں جبکہ علمائے امت نے ہنوذ مرزا صاحب کے کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر نہیں کیا تھا اور مرزا صاحب بھی اب تک اپنے نہ ماننے والوں کافر قرار نہیں دیتے تھے، کسی مسلمان کو (برات کے) ساتھ نہ لے گئے ہوں۔"(رئیس قادیان ج1ص154)
    مرزا صاحب کہ یہ نکاح نصرت جہاں بیگم کے ساتھ نومبر ۱۸۸۴ء (۱۳۰۲ھ) میں ہو ا تھا۔ (تاریخ احمدیت ج1ص243)
    اگر ۱۳۰۱ھ میں کوئی فتویٰ تکفیر جاری ہوا ہوتا ، تو ۱۳۰۲ھ میں دلاوری صاحب اس کا انکار نہیں کرتے۔
    ۱۸۸۴ء میں مرزا کی تکفیر پر علماء احناف کا اتفاق نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ علماء ادھیانہ کے پاس تکفیر کی کوئی قطعی دلیل موجود نہیں تھی۔ جس وقت لدھیانہ میں مرزا قادیانی کے استقبا ل کی تیاریاں چل رہی تھیں ایک جلسہ منعقد تھا جس میں لدھیانہ کے مولوی مرزا کی تعریفیں کررہے تھے، مولوی عبداللہ لدھیانوی بھی موجود تھے ۔
    رفیق دلاوری صاحب لکھتے ہیں:
    "شاہزادہ صفدر بیگ کے مکان پر مدرسہ اسلامیہ کے اہتمام کے متعلق ایک جلسہ تھا۔ اس میں منشی احمد جان ، مولوی شاہ دین اور مولوی عبدالقادر صاحبان نے بیان کیا کہ کل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی لدھیانہ تشریف لائیں گے اور ان کی مدح و ستائش میں حد درجہ مبالغہ کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص ان پر ایمان لائے گا وہ گویا اول المسلمین ہو گا۔یہ سن کر ایک اور عالم دین مولوی عبداللہ صاحب کھڑے ہوگئے اور کہا ۔۔مرزائے قادیان جس کو تم اس درجہ بڑھا چڑھا رہے ہو ، وہ انتہا درجہ کا ملحد و زندیق شخص ہے۔۔ جلسہ برخاست ہونے کے بعد مولوی عبداللہ کے بھائی مولوی محمد صاحب نے اپنے بھائی سے کہا کہ جب تک کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو کسی شخص کے خلاف زبان طعن نہ کھولنی چاہئیے۔"(رئیسِ قادیان ج2ص2،1)
    اس اقتباس سے سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء لدھیانہ کی اکثریت مرزا قادیانی کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔ مرزا کو مجّدد تسلیم کرتے ہوئے عوام کو بھی مرزا کی مجّددیت تسلیم کرنے کی ترغیب یہ کہ کر دلائی جا رہی تھی کہ ایسا کرنا گویا اول االمسلمین ہونا ہے۔ مجمع میں صرف ایک شخص مولوی عبداللہ نے اس بات سے اختلاف کیا جنہیں ان کے ہی بھائی مولوی محمد لدھیانوی نے یہ کہ کر خاموش کروا نے کی کوشش کی " کہ جب تک کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو کسی شخص کے خلاف زبان طعن نہ کھولنی چاہئیے۔" حالانکہ براہین کی چار جلدیں چھپ کر شائع ہو چکی تھیں۔ پھر اگلے ہی دن ان مولویوں نے دوپہر سے قبل پوری براہین کی چار چلد یں پڑھ ڈالی اور کفریہ کلمات بھی نکال کے فتوے شائع کر دیئے گئے۔ سبحان اللہ
     
  3. ‏جنوری 03، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    براہین احمدیہ اور مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ:
    ہم نے اوپر ثابت کر دیا ہے کہ "براہینِ احمدیہ" کی تصنیف کے بعد مرزا قادیانی کی تکفیر پر علماء کا اتفاق نہیں ہو سکا بلکہ اس وقت تک مرزا ایک مسلمان کی حیثیت سے ہی جانا جاتا تھا۔ بعض مخالفین کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مولانا بٹالویؒ نے "براہینِ احمدیہ" پر ریویو لکھا تھا۔ ان لوگوں کو مولانا بٹالویؒ کی قادیانیت کی تردید میں سالوں کی جدہ جہد اور مرزا قادیانی کے ساتھ مسلسل تحریری اور تقریری مناظرے اور عدالتی کارروائیاں نظر نہیں آتی، اگر نظر آتا ہے تو صرف "براہین احمدیہ" کا ریویو۔
    مرز قادیانی نے جس وقت براہین لکھی اس وقت تک کسی نے اس کی تکفیر نہیں کی تھی جس کی تفصیل گزر چکی ہے خود حنفی علماء کی اکثریت مرزا کے اقوال کی تاویل کیا کرتے تھے اور تکفیر سے منع کرتے ۔
    خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں:
    "ہم اس (مرزا قادیانی) کے ساتھ حسن ظن رکھتے اور اس کے بعض ناشائستہ اقوال کو تاویل کر کے محمل حسن پر حمل کر کرتے رہے۔"(عقائد علماء دیوبند اور حسام الحرمین ص ۲۶۸)
    عاشق الہٰی میرٹھی لکھتے ہیں:
    "مرزا غلام احمد قادیانی جس زمانہ میں براہین احمدیہ لکھ رہے تھے اور ان کے فضل و کمال کا اخبارات میں چرچہ و شہرہ تھا حالانکہ اس وقت تک ان کو حضرت امام ربانی (رشید احمد گنگوہی) سے عقیدت بھی تھی اس طرف کے جانے والوں سے دریافت کیا کرتے تھے کہ حضرت مولانا (گنگوہی) اچھی طرح ہیں؟ اور دہلی سے گنگوہ کتنے فاصلہ پر ہے؟ اور راستہ کیسا ہے؟ غرض حاضری کا خیال بھی معلوم ہوتا تھا ۔ اسی زمانہ میں حضرت امام ربانی نے ایک مرتبہ یوں ارشاد فرمایا تھا کہ کام تو یہ شخص اچھا کر رہا ہے مگر پیر کی ضرورت ہے ورنہ گمراہی کا احتمال ہے۔"(تذکرۃ الرشیدج2ص228)
    یہ تو براہین احمدیہ کی تصنیف اشاعت کا دور تھا اس کے بہت بعد یعنی ۱۸۹۱ء میں جب مرزا نے "فتح الاسلام " لکھ کر مثیل ِ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تب بھی گنگوہی صاحب تکفیر سے روکتے رہے۔ اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:
    "تکفیر نہیں چاہیئے کہ وہ مادّل ہے اور معذور ہے۔فقط"(مکاتیبِ رشیدیہ ، مکتوب:138،ص 119)
    اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں:
    "حضرت گنگوہی شروع میں نرم تھے، مرزا کی طرف سے تاویلیں کرتے تھے۔"(مجالس حکیم الامت ص 279)
    یعقوب ناناتوی صاحب جو مرزا کو غیر مقلد (مسلمان) قرار دیتے تھے ان کا ایک واقعہ بھی سنتے جائیں:
    تھانوی صاحب فرماتے ہیں:
    "جس وقت قادیانی کے بارہ میں بعض علماء پنجاب مولانا محمد یعقوب صاحب سے اس کے اقوال نقل کر کے گفتگو کر رہے تھے تو مولانا ان کی تاویلیں فرما رہے تھے۔ جب انہوں نے زیادہ اصرار کیا توبطور ظرافت فرمایا ارے میاں!جہاں ہندوستان میں پانچ کروڑ مسلمان ہیں ایک وہ بھی سہی ان علماء نے کہا کہ نہیں حضرت تکفیر ہی میں مصلحت ہے۔ اس وقت مولانا کو جوش ہوا ۔ فرمایا جب مسلمان ہی کی تکفیر کرنا ہے تو اچھا تمہاری ہی کیوں نہ کی جائے جو تم ایک مسلمان کی تکفیر کے درپے ہو رہے ہو۔" (ملفوظات حکیم الامت ج19ص96)
    یعنی جس وقت یہ علماءپنجاب( لدھیانہ) مرزا کی تکفیر کے لیئے یعقوب نانوتوی سے بحث کر رہے تھے تو مولوی یعقوب اس کے اقوال کی تاویلیں کرتے رہے اور بار بار اسے مسلمان کہتے رہے لیکن جب انہوں نے تکفیر کے لیئے زیادہ اصرار کیا تو ان علماء لدھیانہ کی تکفیر کے ہی درپے ہو گئے۔
    ان اکابر حنفی د دیوبندی علماء کے مقابلے میں بیچارے ایک مولوی عبداللہ لدھیانوی کی تکفیر مرزا کی کوشش ناکام رہی۔ اس لیئے اس کی کوئی حیثیت نہ حنفی علماء کے نزدیک تھی نہ ہی خود مرزا قادیانی کے نزدیک تھی بلکہ اس کو تو شاید اس کا علم بھی نہیں تھا نہ کوئی فتویٰ تکفیر اس زمانہ ۱۸۸۴ء میں اس تک پہنچا حالانکہ وہ خود متعدد بار لدھیانہ آیا اور لوگوں سے بیعت لیتا رہا ۔
     
  4. ‏جنوری 03، 2019 #4
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    علماء لدھیانہ کا فتویٰ کب شائع ہوا؟
    ۱۸۸۴ء میں علماء لدھیانہ کا کوئی فتویٰ شائع نہیں ہوا نہ ہی اس وقت تک مرزا قادیانی کی تکفیر پر علماء کا اتفاق ہوا۔
    مولوی محمد لدھیانوی لکھتے ہیں:
    "اس موقع پر اکثر علماء نے تکفیر کی رائے کو تسلیم نہ کیا۔"(فتاویٰ قادریہ ص3)
    اللہ وسایا دیوبندی لکھتے ہیں:
    "علماء لدھیانہ نے سب سے پہلے مرزا قادیانی کے خلاف ۱۸۸۳ء میں آواز بلند کی۔ اس کی پوری تفصیل فتاویٰ قادریہ میں مرتب شدہ موجود ہے۔لیکن یہ فتویٰ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا۔"( احتسابِ قادیانیّت ج10 ص 449)
    معلوم ہوا کہ ۱۸۸۴ء (۱۳۰۱ھ) میں علماء لدھیانہ کا کوئی فتویٰ منظر عام پر نہیں آسکا بلکہ یہ فتویٰ سب سے پہلے ۱۹۰۱ء (۱۳۱۹ھ) میں شائع ہوا۔

    براہین احمدیہ کی مخالفت اہل حدیث نے بھی کی:
    اگرچہ براہین میں مرزا صاحب کا دعویٰ صرف دبے لفظوں میں مجّدد ہونے کا تھا لیکن علماء اہلحدیث کی طرف سے اس کی مخالفت بھی کی گئی۔
    تاریخ احمدیت کا مصنف لکھتا ہے:
    "حضرت اقدس نے ڈیڑھ سو مسلمان دوالتمندوں اور رئیسوں کوبراہین احمدیہ کا پہلا حصہ بھجوا دیا تھا۔"
    (تاریخ احمدیت ج۱1ص 187)
    انہی میں سرخیل اہل حدیث نواب صدیق حسن خان بھوپالی رحمہ اللہ بھی شامل تھے۔
    پیر سراج الحق نعمانی لکھتے ہے:
    "حضرت اقدس علیہ السلام نے براہین احمدیہ لکھی تو ایک جلد نواب صاحب کے پاس بھی بھیج دی نواب صاحب نے کتاب چاک کر کے واپس بھیج دی ۔ اور کہا کہ ہم کو ایسی کتابوں کی کوئی ضرورت نہیں۔۔"
    (تذکرۃ المہدی حصہ اول،ص 200)
    دوست محمد شاہد لکھتے ہیں:
    "ان حضرات میں سب سے سے زیادہ ناروا طرز عمل نواب صدیق حسن خاں صاحب نے دکھایا۔ نواب صاحب موصوف اہل حدیث فرقہ کے مشہور عالم تھے۔۔ انہوں نے براہین احمدیہ کا پیکٹ وصول کرنے کے بعد اسے چاک کر کے آپ کو واپس کر دیا۔(حافظ حامد علی صاحب کا بیان ہے کہ) جب کتاب واپس آئی تو اس وقت حضرت اقدس(مرزا قادیانی) اپنے مکان میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ کتاب کی یہ حالت دیکھ کر کہ وہ پھٹی ہوئی ہے اور نہایت بری طرح اس کو خراب کیا گیا ہے۔ حضور کا چہرہ مبارک متغیر اور غصہ سے سرخ ہو گیا۔عمر بھر میں حضور کو ایسے غصہ کی حالت میں نہیں دیکھا گیا" (تاریخ احمدیت ج1ص188)
    نواب صاحب کے علاوہ بعض علماء اہلحدیث امرتسر اور غزنوی علماء اہلحدیث نے بھی براہین احمدیہ کی مخالفت کی ۔
    مصنف تاریخ احمدیت لکھتے ہیں:
    "امرتسر کے بعض علماء کے نزدیک حضور کے الہامات غیر ممکن، غیر صحیح اور ناقابلِ تسلیم تھے۔"
    (تاریخ احمدیت ج1ص180)
    ابولحسن علی ندوی دیوبندی لکھتے ہیں:
    "امرتسر کے اہل حدیث علماء اور غزنوی حضرات میں سے بھی چند صاحبوں نے (براہین احمدیہ میں موجود) ان الہامات کی مخالفت کی اور اس کو مستبعد قرار دیا۔" (قادیانیت، مطالعہ و جائزہ ص51)
    علماء امرتسر میں مولانا احمد اللہ امرتسری ، امام عبدالجبار غزنوی ، مولانا عبدالحق غزنوی وغیرہ کے نام سر فہرست ہیں۔
    مرزا لکھتا ہے:" کمال افسوس ہے جو میں نے سنا ہے اسلام کے بدنام کرنے والے غزنوی گروہ جو امرتسر میں رہتے ہیں۔" (روحانی خزائن ج11ص342)
    ڈاکٹر بہاء الدین لکھتے ہیں:
    "مولانا احمد اللہ ان علماء میں سے ہیں جنہوں نے مرزا صاحب کی ابتدائی تحریروں سے ہی ان کے آئیندہ عزائم کو بھانپ لیا تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں:
    شہاب الدین نامی ایک شخص نے ۔۔ آکر بیان کیا کہ مولوی غلام علی صاحب امرتسری اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے صاحبان اس قسم کے الہاموں سے جو رسولوں سے مشابہ ہے باصرار تمام انکار کر رہے ہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض صاحبان مجانین (پاگلوں) کے خیالات سے اس کو منسوب کرتے ہیں۔" (براہین احمدیہ ج۴ص۴۵۴،۵۴۴)
    اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا احمد اللہ ان علمائے کبار میں سے ہیں جو تحریک ختم نبوت کے ابتدائی کارکنوں میں سے تھے" (تحریک ختم نبوت ج3ص 402،401)
    ان کے دستخط متفقہ فتویٰ تکفیر پر موجود ہیں۔(دیکھئے علمائے اسلام کا اوّلین متفقہ فتوی ٰص101)
    مولانا اسحاق بھٹی لکھتے ہیں:
    "یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مولانا عبدالحق غزنوی رحمہ ا للہ پوری امت میں تنہا وہ شخص ہیں جن کے ساتھ مرزا صاحب کا مباہلہ ہوا ۔ ان کے علاوہ متعدد علماء کے ساتھ مباہلے کی بات چیت اور اشتہار بازی تو ہوئی مگر عملاً کسی کے ساتھ مباہلہ نہیں ہوا ۔گویامرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ مباہلے اور پھر اس میں کامیابی کی سعادت پوری امت میں صرف ایک اہل حدیث عالم دین مولانا عبدالحق غزنوی کو حاصل ہوئی۔" (اہلِ حدیث کی اوّلیات ص112)
    یہ مباہلہ امرتسر کی عید گاہ میں ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء کو ہوا تھا۔(سیرۃ المہدی حصہ دوم ص 92، تاریخ مرزا)
    اس کا آخری نتیجہ یہ رہا کہ مرزا قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ ء کو مولانا عبدالحق غزنوی کی زندگی میں ہلاک ہوا جبکہ عبدالحق غزنوی اس کے کافی عرصہ بعد ۱۶ مئی ۱۹۱۸ء کو فوت ہوئے۔(تاریخ مرزا)
     
  5. ‏جنوری 03، 2019 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    براہینِ احمدیہ پر حنفی علماء کے ریویو:
    براہین احمدیہ پر بعض حنفی علماء نے ریویو لکھے اور اس کی تعریفیں کیں۔ ان کے نام یہ ہیں:
    1) صوفی احمد جان حنفی لدھیانوی ( حیاتِ طیبہ ص 65،64، تاریخ احمدیت ج1ص 173،172)
    2) مولوی محمد شریف بنگلوری ایڈیٹر اخبار "منشور محمدی" (تاریخ احمدیت ج1ص175،174)
    اس کے علاوہ متعدد غیر اہلحدیث و حنفی علماء نے اس کتاب اوراس کے مصنف کی تعریفیں کر رکھی ہیں جن میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور خواجہ غلام فرید چاچڑواں وغیرہ بھی شامل ہیں۔
    یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ شیخ الاسلام محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ نے "براہین" کا ریویو جون، جولائی اور اگست ۱۸۸۴ء کے "اشاعۃ السنۃ" میں شائع کیئے جبکہ حنفی علماء اپریل ، مئی ۱۸۸۴ء میں مرزا کو" مرد صالح " اور "غیر مقلد" مسلمان کی سند دے چکے تھے۔
    اس کے علاوہ شیخ الاسلام بٹالویؒ نے مرزا کے دعویٰ مسیحیت، مہدویت اور نبوت سامنے آنے پر مرزا قادیانی کے اس بٹالوی ریویو سے استدلال کو باطل قرار دیا ۔
    مرزا نے مولانا بٹالویؒ کو مخالطب کر کے کہا:
    "درحقیقت ان رسالوں (فتح الاسلام، توضیح المرام،) میں کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ بلا کم و بیش یہ وہی دعویٰ ہے جس کا "براہین احمدیہ" میں بھی ذکر گزر چکا ہے اور جس کی آں مکرم اپنے رسالہ "اشاعۃ السنۃ" میں امکانی طور پر تصدیق بھی کر چکے ہیں۔"(ماہنامہ اشاععتۃ السنۃ جلد ۱۲، نمبر۱۲، ص ۳۶۴)
    حضرت شیخ اسلام بٹالویؒ نے جواب میں لکھا:
    "جو امکان میں ریویو" براہین احمدیہ" میں ظاہر کر چکا ہوں اس کا اب بھی قائل ہوں لیکن آپ نےاس امر ممکن سے جس کا میں نے امکان تجویز کیا تھا بڑھ کران رسائل میں دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا آپ کے لیئے اس ریویو کی عبارات کافی و مفید نہ ہوں گی۔ آپ ان عبارات کو میرے سامنے پیش کیئے بغیر ان سے اشتہاد کریں گے تو آپ نقصان اٹھائیں گے، بہتر ہے کہ آپ میری کلام مجھے دکھا کر شائع کریں۔"(اشاعۃ السنۃ جلد ۱۲، نمبر۱۲، ص ۳۶۶)
    آپ نے یہ بھی لکھا :
    "میرے ریویو میں ایک حرف بھی آپ کےاس دعویٰ جدید کا مصدق نہیں ہے، نہ آپ نے براہین احمدیہ میں یہ دعویٰ (مسیح موعود ہونا) صراحتا یا اشارتاً کیا اور نہ میں نے اس کی تصدیق و تائید میں کوئی کلمہ لکھا۔"(اشاعۃ السنۃ ج۱۲، نمبر۱۲، ص ۳۸۶ بحوالہ تحریک ختم نبوت)
     
  6. ‏جنوری 03، 2019 #6
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    اوّلین فتوائے تکفیر:
    فتنہ قادیانیت کے تعاقب اور سرکوبی میں جماعت اہل حدیث کی مساعی اور خدمات ناقابلِ فراموش ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت سے جس سے مخالفین بھی نظریں نہیں چرا سکتے۔ انہی خدمات میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی کی تکفیر سے متعلق وہ فتویٰ ہے جسے شیخ الاسلام محمد حسین بٹالوی ؒ نے اپنے استاذ شیخ الکل سیّد نزیر حسین دہلوی ؒ سے استفتاء کے بعد حاصل کیا اور دستخط کروائے۔ اس کے بعد پورے ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۲۰۰ معروف و ممتاز علماء کے سامنے یہ فتویٰ پیش کر کے ان کی تصدیقات حاصل کی گئیں اور انہوں نے دستخط و مہریں ثبت فرمائیں۔
    یہ سب سے پہلا فتویٰ تکفیر ہے جو (۱۸۹۱ء-۱۸۹۲ء میں) شائع ہوا۔ اس طرح بانی تکفیر اور اوّل المکفّرین شیخ الاسلام محمد حسین بٹالویؒ اور ان کے استاذ شیخ الکل سیّد نزیر حسین محّدث دہلویؒ ہیں۔
    مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ سب سے پہلے اس کی تکفیر کرنے والے اہل حدیث کے سرکردہ رکن شیخ الاسلام محمد حسین بٹالوی ہیں۔اس کو ثابت کرنے کے لیئے ہم مرزا ئیوں کی بعض کتب سے عبارات پیش کرتے ہیں جس سے قارئین پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔
    مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مکفّرین کے متعلق لکھتے ہیں :
    " موحدین ااوّل المکفّرین ہیں اور مقلدین ان کی اتباع سے ہیں۔" (روحانی خزائن ج4ص379)
    موحّدین سے مراد اہل حدیث ہیں۔پیر سراج الحق نعمانی لکھتے ہیں:
    "جو اہل حدیث یا موّحد کہلاتے ہیں۔۔"(تذکرۃ المہدی حصہ دوم ، ص 296)
    یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد و نظریات کا جائزہ لے کر سب سے پہلے اہل حدیث نے ہی مرزا کو کافر قرار دیا جس کے بعد مقلدین احناف نے ان کی پیروی کی۔اسی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئےمرزا صاحب لکھتے ہیں:
    "چونکہ علماء پنجاب اور اور ہندوستان کی طرف سے فتنہ تکفیر و تکذیب حد سے گزر گیا ، اس تکفیر کا بوجھ نزیر حسین دہلوی کی گردن پر ہے ، مگر تاہم دوسرے مولویوں کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے اس نازک امر تکفیر میں اپنی عقل اور تفتیش سے کام نہیں لیا بلکہ نزیر حسین کے دجالانہ فتوے کو دیکھ کر جو محمد حسین بٹالوی نے تیار کیا تھا، بغیر تحقیق و تنقیح کے ایمان لے آئے۔" (روحانی خزائن ج11ص45)
    اسی فتویٰ تکفیر کے متعلق لکھتے ہیں:
    'نزیر حسین دہلوی نے ( علیہ ما یستحقہ) تکفیر کی بنیاد ڈالی، محمد حسین بٹالوی نے کفار مکہ کی طرح یہ خدمت اپنے ذمہ لے کر تمام مشاہیر اور غیر مشاہیر سے کفر کے فتوے اس پر لکھوائے"( روحانی خزائن ج12ص 75، سراج منیر)
    مزید لکھتے ہیں:
    " شیخ محمد حسین صاحب رسالہ اشاعۃ السنۃ جو بانی مبانی تکفیر ہے اور جس کی گردن پر نزیر حسین دہلوی کے بعد تمام مکفّروں کے گناہ کا بوجھ ہے ۔" ( روحانی خزائن ج12ص 80، سراج منیر)
    مرزا صاحب لکھتے ہیں:
    "مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دجال رکھا او میرے پر کفر کا فتویٰ لکھوا کر صدہا پنجاب و ہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہو و نصاریٰ سے بدتر قرار دیا۔"
    (روحانی خزائن ج22ص 453، حقیقۃ الوحی)
    "یاد کرو وہ زمانہ جب ایک مولوی تجھ پر کفر کا فتویٰ لگائے گا اور اپنے کسی حامی کا جس کا اثر لوگوں پر پڑ سکے، کہے گا میرے لیئے اس فتنہ کی آگ بھڑکا۔۔۔ مولوی ابو سعید صاحب محمد حسین نے یہ فتویٰ تکفیر لکھا اور نزیر حسین دہلوی کو کہا کہ سب سے پہلے اس پر مہر لگا دے اور میرے کفر کی نسبت فتویٰ دیدے اور تمام مسلمانوں میں میرا کافر ہونا شائع کر دے۔ مولوی محمد حسین ۔ ۔ جو اوّل المکفّرین بانی تکفیر کے وہی تھے اور اس آگ کو اپنی شہرت کی وجہ سے پورے ملک میں سلگانے والے میاں نزیر حسین صاحب دہلوی تھے۔"( روحانی خزائن ج17 ص215، تحفہ گولڑویہ)
    مرزا صاحب نے لکھا :
    "نزیر حسین دہلوی جو ظالم طبع اور تکفیر کا بانی ہے۔"( روحانی خزائن ج18 ص238)
    مرزاصاحب مزید لکھتے ہیں :
    "دوسرا فتنہ حقیقت میں محمد حسین بٹالوی کی طرف سے ہوا جس نے مسلمانوں کے خیالات کو اس عاجز کی نسبت بھڑکتی ہوئی آگ کے حکم میں کر دیا۔"(روحانی خزائن ج12ص 57، سراج منیر)
    لکھتے ہیں:"اس فتنہ اندازی کے اصل بانی ایک شیخ صاحب محمد حسین نام ہیں جو بٹالہ ضلع گوداسپور میں رہتے ہیں ۔۔ شیخ صاحب کی فطرت کو تدبر اور غور اور حسن ظن کا حصہ قسام ازل سے بہت ہی کم ملا ہے۔ اسی وجہ سے پہلے سب استفتاء کا کاغذ ہاتھ میں لے کر ہر یک طرف یہی صاحب دوڑے۔ چنانچہ سب سے پہلے کافر اور مرتد ٹھہرانے میں میاں نزیر حسین صاحب دہلوی نے قلم اٹھائی اور بٹالوی صاحب کے استفتاء کو اپنی کفر کی شہادت سے مزین کیا۔"
    (روحانی خزائن ج5ص 30،31)
    ایک جگہ لکھتے ہیں :
    "غرض بانی استفتا ء بطالوی صاحب اور اوّل المکفرین میاں نزیر حسین صاحب ہیں اور باقی سب ان کے پیرو ہیں ۔ جو اکثر بٹالوی صاحب کی دلجوئی اور دہلوی صاحب کے حق استادی کی رعایت سے ان کے قدم پر قدم رکھتے گئے۔"
    (آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن ج5ص 31)
    مرزا صاحب لکھتے ہیں:
    "اور یاد کروہ زمانہ اجب ایک مکفر تجھ سے مکر کرے گا ، جو تیرے ایمان سے انکاری ہے اور کہے گا اے ہامان! میرے لیئے آگ بھڑکا (یعنی تکفیر کی آگ بھڑکا ۔ ہامان سے مراد نزیر حسین دہلوی ہے) میں چاہتا ہوں کہ موسیٰ کے خدا پر اطلاع پاؤں۔"
    حاشیہ پر مرزا صاحب لکھتے ہیں" فرعون سے مراد محمد حسین (بٹالوی)ہے۔"
    ( روحانی خزائن ج12ص130، استفتا)
    مرزاصاحب نے لکھا :
    "اور یاد کر وہ وقت جب تیرے پر ایک شخص سراسر مکر سے تکفیر کا فتویٰ دے گا۔(یہ ایک پیشگوئی ہے جس میں ا یک بدقسمت مولوی کی نسبت خبر دی گئی ہے کہ ایک زمانہ آتا ہے جب کہ وہ مسیح موعود کی نسب تکفیر کا کاغذ طیّار کرے گا) اور پھر فرمایا کہ وہ اپنے بزرگ ہامان کو کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ تیرا اثر لوگوں پر بہت ہے اور تو اپنے فتویٰ سے لوگوں کو افروختہ کر سکتا ہے۔ سو تو سب سے پہلے اس کفر نامہ پر مہر لگا تا سب علماء بھڑک اٹھیں اور تیری مہرکو دیکھ کر وہ بھی مہریں لگا دیں اور تا کہ میں دیکھوں کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے یا نہیں کیونکہ میں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں(تب اس نے مہر لگا دی) ابو لہب ہلاک ہو گیا اوراس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے۔(ایک وہ ہاتھ جس کے ساتھ تکفیر نامہ کو پکڑا اور دوسرا وہ ہاتھ جس کے ساتھ مہر لگائی یا تکفیر نامہ لکھا) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خد ا کی طرف سے ہے ۔ جب وہ ہامان تکفیر نامہ پر مہر لگا دے تو بڑا فتنہ ہو گا۔۔اوراس الہام میں خدا تعالیٰ نے استفتاء لکھنے والے کا نام فرعون رکھا اور فتویٰ دینے والے کا نام جس نے اوّل فتویٰ دیا ہامان۔" (روحانی خزائن ج17ص 64۔65، ضمیمہ گولڑویہ )
    ایک اور جگہ اسی الہام کا ذکر کرتے ہیں :
    " اور یاد کرو وہ زمانہ جبکہ ایک شخص تجھ سے مکر کرے گا کہ جو تیری تکفیر کا بانی ہو گا اور اقرار کے بعد منکر ہو جائے گا(یعنی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی) اور وہ اپنے رفیق کو کہے گا (یعنی مولوی نزیر حسین صاحب دہلوی کو ) کہ اے ہامان میرے لیئے آگ بھڑکا یعنی کافر بنانے کے لیئے فتویٰ دے۔"(روحانی خزائن ج18ص 530م نزول المسیح)
    "جس طرح یہودیوں کے علماء نےحضرت عیسیٰ پر فتویٰ تکفیر کا لگایا اور ایک فاضل یہوی نے وہ استفتا تیار کیا اور وسرے فاضلوں نے اس پر فتویٰ دیا ۔ یہاں تک کہ بیت المقدس کے صدہا عالم فاضل جو اکثر اہل حدیث تھے، انہوں نے حضرت عیسیٰ پر تکفیر کی مہریں لگا دیں۔ یہی معاملہ مجھ سے ہوا ۔"(روحانی خزائن ج19ص 53، کشتی نوح)
    شیخ الکل سیّد نزیر حسین دہلویؒ کی وفات کے بعد مرزا صاحب لکھتے ہیں :
    " اس جگہ ابو لہب سے مراد ایک دہلوی مولوی ہے جو فوت ہو چکا ہے اور یہ پشگوئی ۲۵ برس کی ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ زمانہ میں شائع ہو چکی ہے جبکہ میری نسبت تکفیر کا فتویٰ بھی ان مولویں کی طرف سے نکلا تھا۔ تکفیر کے فتویٰ کا بانی بھی وہی دہلی کا مولوی تھا۔۔"(حقیقۃ الوحی ص 84، حاشیہ)
    دوسری جگہ لکھتے ہیں:
    " تمام ولویوں کے شیخ المشائخ اس دنیا کو چھوڑ وہی میری نسبت سب سے پہلے فتویٰ دینے والے تھے جنہوں نے میرے کُٖر کا فتویٰ دیا تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے استاد تھے۔"(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن ج22ص 258)
    مرزا صاحب لکھتے ہیں :"اس بے چارے (محمد حسین بٹالوی) نے میری بدخواہی کے لیئے اپنا آرام حرام کر دیا۔ بٹالہ سے بنارس تک اپنا قابلِ شرم استفتا ءلے کر میرے کفر کی نسبت مہریں لگواتا پھرا۔"(روحانی خزائن ج14ص435)
    ایک جگہ لکھتے ہیں:"مولوی محمد حسین جو بارہ برس کے بعد اوّل المکفّرین بنے، بانی تکفیر کے وہی تھے۔"
    (تذکرہ ص69، حاشیہ)
    مرزا صاحب نے کہا:"مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اوّل المکفّرین" (ملفوظات ج3ص301)
    مرزا صاحب لکھتے ہیں: " یہ (محمد حسین بٹالوی ) وہ پہلا شخص ہے جس نے مجھے کافر قرار دیا۔"
    (انجام اتہم، روحانی خزائن ج11ص241)
    مرزا قاددیانی کےصاحبزادہ مرزا بشیر الدین لکھتے ہیں:
    "مگر جب مولویوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود( مرزا قادیانی) اس طرح مولویوں کے رعب میں آنے والے نہیں اور لوگوں پر آپ کی باتوں کا اثر ہوتا جاتا ہے تو سب سے پہلے مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک استفتاء تیار کیا۔اور اس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق علماء سے فتویٰ کفر کا طالب ہوا۔چنانچہ سب سے پہلے اس نے اپنے استاد مولوی سید نزیر حسین صاحب دہلوی سے فتویٰ کفر حاصل کیا۔ چونکہ مولوی نزیر حسین (دہلوی) تمام ہندوستان میں مشہور و معروف مولوی تھے ۔ اور اہل حدیث کے تو گویا امام تھے اور شیخ الکل کہلاتے تھے۔ اس لیئے ان کے فتویٰ دینے سے اور پھر مولوی محمد حسین جیسا مشہور مستفتی تھا ۔ باقی اکثر مولویوں نے بڑے جوش و خروش سے اس کفر نامے پر اپنی مہریں ثبت کرنی شروع کیں۔ اور قریباً دو سو مولویوں کی تصدیق سے یہ فتویٰ ۱۸۹۲ء میں شائع ہوا۔"
    (سیرۃ المہدی ، حصہ اول ص251،250)
    مرزا بشیر ایک جگہ لکھتے ہیں:
    "مولوی محمد حسین بٹالوی ۔۔ یہ سب سے پہلا شخص تھا جو کفر کا استفتاء لے کر ملک میں ادھر اُدھر بھاگا۔"
    (سیرۃ المہدی ، حصہ اول 96)
    لکھتے ہیں : "اوّل المکّفرین مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی"(سیرۃ المہدی حصہ اول، 42)
    پیر سراج الحق نعمانی لکھتے ہیں:
    "اور سب سے بڑا بت حضرت اقدس( مرزا قادیانی ) کا پہلا مکفر اوّل مکذب اگیتا ایذا رساں مولوی محمد حسین بٹالوی ہے۔" (تذکرۃ المہدی حصہ اول ، ص 210)
    پیر سراج الحق نے لکھا :"فتویٰ کفر اس (محمد حسین بٹالوی ) سے شروع ہوا۔"(تذکرۃ المہدی حصہ اول ،ص 212)
    مصنف تاریخ احمدیت لکھتے ہیں:
    " انہوں (محمد حسین بٹالوی) نے اوّل المکفرین بن کر ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک طوفانی دورہ کیا اور "فح الاسلام" اور "توضیح المرام" کی بعض عبارتوں میں قطع و برید کا سہارا لے کر ایک استفتاء تیار کیا۔ علماء سے آپ (مرزا قادیانی)کے کفر و ارتداد کے فتوے حاصل کیئے اور پھر اسے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ جلد ۱۳ نمبر ۱۲ میں شائع کر دیا۔" ( تاریخ احمدیت ج1ص387)
    آخر میں دیوبندی مکتبِ فکر کے "شاہین ختم نبوت " اللہ وسایا دیوبندی کی شہادت ملاحظہ ہو، لکھتے ہیں:
    "لیکن یہ فتویٰ(علماء لدھیانہ) ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا۔"(احتساب قادیانیّت ج10ص449)
    آگے چل کر لکھتے ہیں"اس دوران میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے علماء سے فتویٰ لے کر ۱۸۹۱ء میں اپنے رسالہ اشاعت السنہ میں شائع کرنا شروع کر دیا تھا۔"سب سے پہلے فتویٰ شائع مولانا محمد حسین بٹالویؒ کا ہوا۔" (احتساب قادیانیّت ج10ص449)
    قارئین کرام ان قادیانی و غیر قادیانی تصریحات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مرزا غلامہ احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ کفر جماعت اہل ِحدیث نے مرتب کیا اور ۲۰۰ علماء کی تصدیقات سے ۱۸۹۲ء میں سب سے پہلے شائع کیا۔ جبکہ علماء لدھیانہ کا فتویٰ بقول مولانا اللہ وسایا ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا۔
    یاد رہے جسے مولانا اللہ وسایا علماء لدھیانہ کا فتویٰ بتلا رہے ہیں ، وہ دراصل فتاویٰ قادریہ نامی کتاب ہے جو ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی البتہ اصل فتویٰ کی دستاویز آج تک کوئی پیش نہیں کر سکا۔

    صالح حسن
    ۱۰ جوالائی ۲۰۱۶ء
     
  7. ‏جنوری 06، 2019 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  8. ‏جنوری 07، 2019 #8
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں