1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مروجہ نماز کا مکمل ثبوت قرآن سے ۔

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جون 01، 2015۔

  1. ‏جون 01، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    مروجہ نماز کا مکمل ثبوت قرآن سے ۔
    اس پیج کے ایڈمن کا تعلق چونکہ ایک خاص مکتبہ فکر (فکر پرویز)سے ہے جو تقریبا ہر وہ اسلامی عبادت جو مسلمانوں ادا کرتے ہیں کا نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ لغت کے ذریعے ان عبادات کو یکسر مفہوم ہی بدل دیتے ہیں حالانکہ ہر بات پر ھمیں درس قرآن دینے والے یا تو لغت کا سہارا لیتے ہیں یا تاریخ و تفسیر کا یا جب ضرورت پڑے احادیث سے بھی مستفید ہونے کا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔
    میں اس وقت صرف صلاۃ جسے عرف عام میں نماز کہتے ہیں کے ہر تقریبا اکثر اعمال کو قرآن سے ثابت کرنا چاہتا ہوں ۔
    اللہ نے جب قرآن اتارا تو ان تمام عبادات کا ذکر کیا جو اس نے انسان پر فرض کی تھیں کو قرآن میں ذکر بھی کر دیا۔ جن میں صلاۃ ۔ صیام ۔ حج زکوۃ۔وغیرہ ہیں ۔ اور صلاۃ چونکہ مسلمان پر ہر حال میں فرض ہے اسلیے اسکے تقریبا تمام ہی ارکان کا قرآن میں ذکر ہے ۔ جسکا میں ترتیب وار ثبوت قرآن سے دینا چاہوں گا۔
    اذان
    اذان ایک معروف ندا ہے جو دن میں پانچ وقت مسلمانوں کا یہ بتانے کے لیے دی جاتی ہے کہ صلاۃ یا نماز کا وقت ہے اس لیے اب مسجد کا رہ کریں ۔ اس ندا کا ذکر سورہ جمعہ کی ۹ نمبر آیت میں ہے
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ
    اے وہ لوگو جو ایمان لاءے جب تمھیں نماز جمعہ کے لیے بلایا جاے
    یہ ایک معروف بات ہے کہ جس طرح جمعہ کے لیے اذان دے کر مسلمانوں کا بلایا جاتا ہے اسی طرح ہر نماز کے لیے ہر مسجد سے اذان دی جاتی ہے۔
    وضو
    یہ بھی ایک عام مشاہدہ ہے کہ جب مسلمانوں تماز یا صلاۃ کے لیے جاتے ہیں تو وضو کر کے جاتے ہیں اور یہ حکم بھی قرآن ہی میں موجود ہے ۔
    سورہ المایدہ آیت نمبر 6
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ
    اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اپنے منھ کو، اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو،
    اس سے واضح حکم اور اسکی اطاعت ھمیں جب عام زندگی میں نظر آتی ہے تو پھر اس سے انکار ایک مجہول عقل ہی کر سکتی ہے
    اور اس طرح نماز میں قیام رکوع و سجود کا بھی ذکر ہے جو کہ صلاۃ کا لازمی حصہ ہیں ۔
    سورہ البقرہ آیت نمبر 238
    حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ ﴿٢٣٨﴾

    نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو
    'اب کیا اس حکم کو بھی کوی جھٹلا سکتا ہے کہ پہلے تو صلاۃ کا ذکر کیا اور پھر بتایا کہ اس میں باادب کھڑے رہا کرو۔ کیا یہ بھی عام مشاہدے کی چیز نہیں کہ جب مسلمان صلاۃ کے لیے جاتا ہے بلکل با ادب اور خاموش کھڑا رہتا ہے ۔
    اسی طرح رکوع سجود کا حکم بھی قرآن میں موجود ہے ۔
    وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ﴿٢٦﴾الحج
    کیا کوی اس بات کا انکار کر سکتا ہے کہ اللہ کے گھر میں قیام اور رکوع و سجود کیسے کیے جاتے ہیں اب کویی بیت اللہ کو چھوڑ کر ان الفاظ کو لغت کی کتابوں سے ثابت کرے تو ھم اسے منکر قرآن نہ کہیں تو کہیں ۔
    یہ وہ معروف باتیں ہیں قرآن نے واضح کر دی ہیں اور اس پر بغیر وقفے کے آج تک عمل ہے باقی اور اس صلاۃ میں کیا کیا کرنا ہے وہ اللہ کے نبی ﷺ کے احکامات میں موجود ہے ۔
    یہ تو ارکان نماز تھے جو قرآن سے ثابت ہیں لیکن اللہ نے اس پر بس نہیں کی بلکہ ان نمازوں کے اوقات اور انکے مروجہ نام تک قرآن میں موجود ہیں ۔
    سورہ النور آیت نمبر 58
    مِّن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ
    'کیا اب یہ کسی لغت یا تاریخ کی کتاب میں ڈھونڈنا پڑے گا کہ صلاۃ الفجر ۔ ظہیرہ ۔ اور صلاۃ العشا کس نماز کو کہتے ۔
    سورہ الاسرا آیت 78
    أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا ﴿٧٨﴾
    نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا ہے
    یہ تو فرض نمازوں کا ذکر اللہ نے معروف ترین نفل کا ذکر بھی قرآن میں کر دیا۔
    وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا ﴿٧٩﴾
    کیا اب بھی کوءی یہ کہ سکتا ہے قرآن میں مروجہ نماز یا اس متعلق ذکر ہے ہی نہیں کیا آذان ، وضو۔ قیام رکوع۔ سجود۔ کویی ایسا اعمال ہیں جسکے لیے کسی لغت کا سہارہ لیکر صلاۃ کو جھٹلایا جاءے ۔
    کیا فجر۔ ظہر ۔ عصر۔غروب آفتاب کی نماز ۔ عشاء کے الفاظ کسی لغت کے محتاج ہیں ۔ کیا یہ تمام کے تمام الفاظ ھمارے عام مشاہدے کی چیزیں نہیں ۔ اور کیا اس صلاۃ کو مسلماںو ں نے ایک بھی دن معطل کیا اپنے زندگیوں ۔
    میں ان تمام دوستوں سے جو عبادات سے جان چھڑانے کے عجیب و غریب معنی کرتے ہیں سے درخواست کروں گا۔ کہ اپنے عقاءد پر نظر ثانی کریں اور آنکھیں کھولیں اور مکمل طور پر اسلام میں داخل ہوں شکریہ
    (یاد رہے کہ پورے مضموں میں ایک بھی لفظ حدیث سے نہیں لیا۔ کہ حدیث آپ لوگوں کے نزدیک ایک عجمی سازش ہے ۔ نعوذباللہ من ذالک۔اور صرف اور صرف قرآن کی آیت سے پوری نماز کو ثابت کیا ہے ۔)
     
  2. ‏جون 01، 2015 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    آپ ابھی فارم میں نئے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔، شائد آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔

    والسلام
     
  3. ‏جون 01، 2015 #3
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    وعلیکم السلام، محترم کنعان صاحب آپ کو بھی غلط فہمی ہوئی ہے اور @طلحہ خان کے اسی ہائلائٹ کردہ جملے سے ہی۔۔۔۔۔
    میرا خیال ہے یہ انہوں نے (خود اپنا یا کسی اور کا) فیس بک کے کسی پیج پر لکھا ہوا مضمون کاپی کرکے یہاں پیسٹ کیا ہے۔
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 02، 2015 #4
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    کنعان بھائی کسی فیس بک پیج کے ایڈمن کی بات ہورہی ہے نہ کہ فورم کے ایڈمن کی
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں