1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مریض کو نماز کب معاف ہے؟؟

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از islamkingdom_urdu, ‏ستمبر 06، 2018۔

  1. ‏ستمبر 06، 2018 #1
    islamkingdom_urdu

    islamkingdom_urdu مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2018
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    7

    مریض کی نماز

    مریض پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق نماز ادا کرے اگر وہ صحت مند کی طرح ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ صحت مند کی طرح نماز پڑھے اور اگر صحت مند کی طرح ادا کرنےکی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی طاقت کے مطابق ادا کرے۔

    پس مریض پر قیام واجب ہے اگر وہ قیام کی طاقت رکھتا ہے۔اگرقیام کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل اور اسکا چہرہ قبلہ رخ ہونا چاہیے۔
    اگر پہلو پر بھی ادا کرنے کی قدرت نہ ہو تو اپنی پیٹھ پر ٹیک لگا کر ادا کرےاور اس صورت میں اسکی ٹانگیں قبلہ رخ ہونی چاہیےاگر اس میں اسکے لیے آسانی ہو تو،وگرنہ اپنی حالت کے مطابق ادا کرے۔
    اور اس پر دلیل سورۃ التغابن کی سولہویں آیت ہے جسکا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔اور آپ ﷺ کا قول ہے جو آپ نے عمران بن حصین رضي الله عنه کو فرمایا " کھڑے ہو کر نماز پڑھ اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت بھی نہیں تو پہلو کے بل نماز پڑھو "۔[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

    مریض کی نماز کے احکام

    1۔ جب مریض بیٹھ کر نماز پڑھے اور سجدے کی طاقت رکھتا ہو تو اس پر سجدہ واجب ہے۔
    2۔ اورجب بیٹھ کر نماز پڑھے اور سجدے سے عاجز ہوتو اپنے جسم کے ساتھ رکوع اور سجود کا اشارہ کرےاور اسکا سجدہ اسکے رکوع سے زیادہ پست ہو۔اگر بدن کے ساتھ اشارہ مشکل ہو تو اپنے سر کے ساتھ کرے۔اسی طرح پیٹھ پر نماز کی صورت میں بھی اپنے سر کے ساتھ اشارہ کرے۔
    3۔ جب مریض پر ہر نماز کےلیے پاکی حاصل کرنا مشکل ہو یا تمام نمازوں کو انکے اوقات میں ادا کرنا مشکل ہو تو اسکے لیے ظہر اور عصر کی نمازاور مغرب اور عشاء کی نماز کو آسانی کے مطابق پہلے وقت میں یا دوسرے وقت میں جمع کرناجائز ہے۔
    4۔ جب تک مریض کی عقل باقی ہو اس سے نماز کبھی بھی ساقط نہیں ھوتی پس مریض کے لئے مرض کا بہانہ بناتے ہوئے نماز میں سستی کرنا مناسب نہیں اور نماز کی ادائیگی کی بقدر استطاعت کوشش کرے۔
    5۔ اگر بیمارکئی دن تک بےہوش رہا تو افاقہ ہونے کی صورت میں اپنی طاقت کے مطابق نماز ادا کرے۔ اور اس پر بیہوشی والے دنوں کی نمازوں کی قضا نہیں ہے۔لیکن اگر بیہوشی کے دن کم ہوں یعنی وہ ایک دن یا دو دن بیہوش رہا تو اس صورت میں بیہوشی والے دنوں کی نمازوں کی قضا واجب ہے۔​
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 06، 2018
  2. ‏ستمبر 06، 2018 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562


    مریض پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق نماز ادا کرے اگر وہ صحت مند کی طرح ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ صحت مند کی طرح نماز پڑھے اور اگر صحت مند کی طرح ادا کرنےکی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی طاقت کے مطابق ادا کرے۔

    پس مریض پر قیام واجب ہے اگر وہ قیام کی طاقت رکھتا ہے۔اگرقیام کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل اور اسکا چہرہ قبلہ رخ ہونا چاہیے۔

    اگر پہلو پر بھی ادا کرنے کی قدرت نہ ہو تو اپنی پیٹھ پر ٹیک لگا کر ادا کرےاور اس صورت میں اسکی ٹانگیں قبلہ رخ ہونی چاہیےاگر اس میں اسکے لیے آسانی ہو تو،وگرنہ اپنی حالت کے مطابق ادا کرے۔

    اور اس پر دلیل سورۃ التغابن کی سولہویں آیت ہے جسکا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔اور آپ ﷺ کا قول ہے جو آپ نے عمران بن حصین رضي الله عنه کو فرمایا " کھڑے ہو کر نماز پڑھ اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت بھی نہیں تو پہلو کے بل نماز پڑھو "۔[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

    مریض کی نماز کے احکام

    1۔ جب مریض بیٹھ کر نماز پڑھے اور سجدے کی طاقت رکھتا ہو تو اس پر سجدہ واجب ہے۔

    2۔ اورجب بیٹھ کر نماز پڑھے اور سجدے سے عاجز ہوتو اپنے جسم کے ساتھ رکوع اور سجود کا اشارہ کرےاور اسکا سجدہ اسکے رکوع سے زیادہ پست ہو۔اگر بدن کے ساتھ اشارہ مشکل ہو تو اپنے سر کے ساتھ کرے۔اسی طرح پیٹھ پر نماز کی صورت میں بھی اپنے سر کے ساتھ اشارہ کرے۔

    3۔ جب مریض پر ہر نماز کےلیے پاکی حاصل کرنا مشکل ہو یا تمام نمازوں کو انکے اوقات میں ادا کرنا مشکل ہو تو اسکے لیے ظہر اور عصر کی نمازاور مغرب اور عشاء کی نماز کو آسانی کے مطابق پہلے وقت میں یا دوسرے وقت میں جمع کرناجائز ہے۔

    4۔ جب تک مریض کی عقل باقی ہو اس سے نماز کبھی بھی ساقط نہیں ھوتی پس مریض کے لئے مرض کا بہانہ بناتے ہوئے نماز میں سستی کرنا مناسب نہیں اور نماز کی ادائیگی کی بقدر استطاعت کوشش کرے۔

    5۔ اگر بیمارکئی دن تک بےہوش رہا تو افاقہ ہونے کی صورت میں اپنی طاقت کے مطابق نماز ادا کرے۔ اور اس پر بے ہوشی والے دنوں کی نمازوں کی قضا نہیں ہے۔لیکن اگر بیہوشی کے دن کم ہوں یعنی وہ ایک دن یا دو دن بے ہوش رہا تو اس صورت میں بیہوشی والے دنوں کی نمازوں کی قضا واجب ہے۔​
     
  3. ‏ستمبر 06، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں