1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مزار پر ایک تحریر کا معتدل نقد درکار ہے

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏نومبر 10، 2017۔

  1. ‏نومبر 10، 2017 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    [11/10, 12:49 PM] ‪+92 308 4031902‬: زیارتِ قبور باعثِ اجر و ثواب عمل اور تذکیرِ آخرت کا اہم ذریعہ ہے۔ ائمہِ حدیث و تفسیر کا اس امر پر اتفاق ہے کہ تمام مسلمانوں کو خواہ مرد ہو یا عورت زیارتِ قبور کی اجازت ہے جبکہ بعض فقہاء کے نزدیک حسبِ استطاعت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ انور کی زیارت واحب کے درجہ میں داخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرونِ اولیٰ سے اب تک اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے اور دین کی تبلیغ و اشاعت کرنے والے طبقات میں سے کسی نے درِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری کو اپنے لیے دنیوی و اخروی سعادت نہ سمجھا ہو۔ پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کوئی شخص متدین ہو، مبلغ ہو اور مسلم ہو لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جانے میں عار محسوس کرے۔ بلکہ ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے دین کی سمجھ بوجھ دی، اسے علم کی دولت سے نوازا، اسے عقلِ سلیم اور قلبِ منیر سے فیضیاب فرمایا ہو اور وہ محبوبِ کبریا کی بارگاہِ اقدس میں جانے سے ہچکچائے۔ تاہم گزشتہ چند دھائیوں سے بعض لوگوں نے دین کی خود ساختہ تشریح و تعبیر کا بیڑا اٹھایا ہے اور وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور، اولیاء وصالحین اور عامۃ الناس کی قبور کی زیارت کو بدعت، شرک اور ممنوع سمجھتے ہیں۔ حالانکہ زیارتِ قبور کے بارے میں ایسا عقیدہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی رو سے صراحتاً غلط اور باطل ہے۔ اس ضمن میں بھی لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ زیارتِ قبور پر جانے والوں نے زیارت کے مقاصد بدل لیے اور عبرت کی بجائے سیر و تفریح کا ذریعہ بنا لیا تو مخالفین بھی اپنی حد سے ایک قدم آگے بڑھے اور انہوں نے جواز کو بوجوہ عدمِ جواز میں بدلا اور بعد ازاں اس عمل کو حرام اور شرک تک پہنچا دیا۔ دیگر مستحب اعمال کی طرح زیارتِ قبور کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا اور نتیجتاً اس پر بھی بحث و مناظروں کا سلسلہ چل نکلا۔ دونوں طرف سے دلائل کے انبار لگ گئے اور کتب مرتب ہونا شروع ہو گئیں۔ چنانچہ اس وقت ’’توحید اور ردِ شرک‘‘ کے اہم موضوعات میں سے زیارتِ قبور بھی ایک مستقل موضوع بن گیا ہے۔ اس لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ اس موضوع پر بھی قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال و توازن کی راہ پر چلتے ہوئے نفسِ مسئلہ کو سمجھا جائے۔
    [11/10, 12:49 PM] ‪+92 308 4031902‬: زیارت کا لغوی معنی و مفہوم

    عربی لغت میں ہر لفظ کا مادہ کم از کم سہ حرفی ہوتا ہے جس سے باقی الفاظ مشتق اور اخذ ہوتے ہیں۔ عربی لغت کے اعتبار سے زیارت کا معنی دیکھیں تو یہ لفظ زَارَ، يَزُوْرُ، زَورًا سے بنا ہے۔ جس کے اندر ملنے، دیکھنے، نمایاں ہونے، رغبت اور جھکاؤ کے معانی پائے جاتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی ایک جگہ سے دوسری جگہ کسی کی ملاقات کے لئے جائے تو اس میں اس شخص یا مقام کی طرف رغبت، رحجان اور جھکاؤ بھی پایا جاتا ہے اور بوقت ملاقات رؤیت بھی ہوتی ہے اس لئے اس عمل کو زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ ائمہِ لغت نے زَور کے درج ذیل معانی بیان کئے ہیں :

    1. زَارَ، يَزُوْرُ، زَوْرًا، أي لَقِيَهُ بِزَوْرِهِ، أوْ قَصَدَ زَوْرَهُ أي وِجْهَتَهُ.

    ’’زَار َیزُوْرُ زَوْرًا کا معنی ہے : اس نے فلاں شخص سے ملاقات کی یا فلاں کی طرف جانے کا ارادہ کیا۔‘‘

    زبيدي، تاج العروس، 6 : 477

    2. زَارَ يَزُوْرُ زِيَارَة وَ زَوْرًا وَ زُوَارًا و زُوَارَةً وَمَزَارًا أتاهُ بِقَصْدِ اللقاء وُهُو مأخوذ من الزَوْرِ للصدر أو المَيْل.

    ’’زیارت کا معنی ہے کسی سے ملنے کے لئے آنا۔ یہ لفظ زَور سے نکلا ہے جس کا معنی ہے سینہ کی ہڈیوں کی ملنے کی جگہ یا میلان، رحجان اور رغبت۔‘‘

    بطرس بستانی، محيط المحيط : 384

    3۔ ’’محیط المحیط (ص : 384)‘‘ میں زیارت کا معنی یوں بھی لکھا ہے :

    الزِّيارة مصدر و إسم بمعني الذهاب إلي مکان للاجتماع بأهله کزيارة الأحبة وللتبرّک بما فيه من الآثار کزيارة الأماکن.

    ’’لفظ زیارۃ مصدر بھی ہے اور اسم بھی۔ جس کا معنی کسی جگہ اہالیان سے ملنے کے لئے جانا جیسے دوست احباب کی ملاقات یا دوسرا معنی کسی جگہ موجود آثار سے حصول برکت کے لئے جانا جیسے مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کے لئے جانا۔‘‘

    4. لغت کی معروف کتاب ’’المصباح المنیر‘‘ میں لکھا ہے :

    والزِّيارة في العرف قصد المزور! کرامًا له واستئناسا به.

    ’’عرفِ عام میں زیارت سے مراد کسی شخص کے ادب و احترام اور اس سے محبت کی بناء پر اس کی ملاقات کے لئے جانا۔‘‘

    فيومي، المصباح المنير في غريب شرح الکبير للرافعي، 1 : 260

    اسی سے مَزَار ہے۔ جس کا معنی ہے وہ جگہ جس کی زیارت کی جائے۔ ابنِ منظور افریقی لکھتے ہیں :

    وَالمَزَارُ موضع الزيارة.

    ’’مزار سے مراد زیارت کرنے کا مقام ہے۔‘‘

    ابن منظور إفريقي، لسان العرب، 4 : 333

    اسی سے زَائِر بھی ہے جس کا معنی ہے : زیارت کے لئے جانے والا شخص یا ملاقاتی۔
    [11/10, 12:52 PM] ‪+92 308 4031902‬: زیارتِ والدین

    ایک اسلامی معاشرے میں والدین کا مقام و مرتبہ اتنا اونچا اور بلند ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں اپنے شکر کے ساتھ ہی والدین کے شکر کا بھی حکم دیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

    أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُO

    ’’تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہےo‘‘

    لقمان، 31 : 14

    مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي کُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَ کُتِبَ بَرًّا.

    ’’جس شخص نے ہر جمعۃ المبارک کو اپنے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کی قبر کی زیارت کی تو اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اس کا نام نیکوکاروں میں لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘

    1. طبراني، المعجم الأوسط، 6 : 185
    2. بيهقي، شعب الإبمان، 6 : 201
    3. سيوطي، الدر المنثور، 5 : 267
    [11/10, 12:55 PM] ‪+92 308 4031902‬: بعداَز وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا معمول

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول

    حضرت کعب الاحبار کے قبولِ اسلام کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا :

    هل لک أن تسيرمعي إلي المدينة فنزور قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم وتتمتع بزيارته، فقلت نعم يا أمير المؤمنين.

    ’’کیا آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی زیارت اور فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھ مدینہ منورہ چلیں گے؟‘‘ تو انہوں نے کہا : ’’جی! امیر المؤمنین۔‘‘

    پھر جب حضرت کعب الاحبار اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سب سے پہلے بارگاہِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری دی اور سلام عرض کیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مدفن مبارک پر کھڑے ہوکر اُن کی خدمت میں سلام عرض کیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔

    1. واقدي، فتوح الشام، 1 : 244
    2. هيتمي، الجوهر المنظم : 27. 28

    2۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا معمول.

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کا معمول تھا کہ آپ اکثر روضہ مبارک پر حاضر ہوا کرتی تھیں۔ وہ فرماتی ہیں :

    کُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيْهِ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ أَبِي، فَاَضَعُ ثَوْبِي فَأَقُوْلُ إنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَ اﷲِ مَا دَخَلْتُ اِلَّا وَ أَنَا مَشْدُوْدَة عَلَيَ ثِيَابِي حَيَائً مِنْ عُمَرَ.

    ’’میں اس مکان میں جہاں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد گرامی مدفون ہیں جب داخل ہوتی تو یہ خیال کرکے اپنی چادر (جسے بطور برقع اوڑھتی وہ) اتار دیتی کہ یہ میرے شوہرِ نامدار اور والدِ گرامی ہی تو ہیں لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ دفن کر دیا گیا تو اللہ کی قسم میں عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر کپڑا لپیٹے کبھی داخل نہ ہوئی۔‘‘

    1. أحمد بن حنبل، المسند، 6 : 202
    2. حاکم، المستدرک، 3 : 61، رقم : 4402
    3. مقريزي، اِمتاعُ الاسماع، 14 : 607

    اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کا روضۂ اقدس پر حاضری کا ہمیشہ معمول تھا۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اہلِ مدینہ کو قحط سالی کے خاتمے کے لئے قبرِ انور پر حاضر ہو کر توسل کرنے کی تلقین فرمائی۔ امام دارِمی صحیح اِسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

    قُحِطَ أهل الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَي عائشۃ ، فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَاجْعَلُوْا مِنْهُ کِوًي إلَي السَّمَاءِ، حَتَّي لَا يَکُوْنَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ : فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّي نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْاِبِلُ حَتَّي تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ ’’عَامَ الْفَتْقِ‘‘.

    ’’ایک مرتبہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہوگئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے (اپنی دِگرگوں حالت کی) شکایت کی۔ آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس جاؤ اور اس سے ایک روشندان آسمان کی طرف کھولو تاکہ قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کی دیر تھی کہ اتنی زور دار بارش ہوئی جس کی وجہ سے خوب سبزہ اُگ آیا اور اُونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ (محسوس ہوتا تھا) جیسے وہ چربی سے پھٹ پڑیں گے۔ پس اُس سال کا نام ہی ’’عامُ الفتق (سبزہ و کشادگی کا سال)‘‘ رکھ دیا گیا۔‘‘

    1. دارمي، السنن، 1 : 56، رقم : 92
    2. ابن جوزي، الوفا بأحوال المصطفيٰ : 817. 818، رقم : 1534
    3. سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 128

    ثابت ہوا کہ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اہلِ مدینہ کو رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک کو وسیلہ بنانے کی ہدایت فرمائی، جس سے اُن پر طاری شدید قحط ختم ہو گیا، اور موسلا دھار بارش نے ہر طرف بہار کا سماں پیدا کر دیا۔ جہاں انسانوں کو غذا ملی وہاں جانوروں کو چارا ملا، اِس بارش نے اہلِ مدینہ کو اتنا پر بہار اور خوشحال بنا دیا کہ انہوں نے اس پورے سال کو ’عام الفتق (سبزہ اور کشادگی کا سال)‘ کے نام سے یاد کیا۔

    بعض لوگوں نے اس رِوایت پر اعتراضات کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی سند کمزور ہے لہٰذا یہ روایت بطورِ دلیل پیش نہیں کی جا سکتی لیکن مستند علماء نے اِسے قبول کیا ہے اور بہت سی ایسی اسناد سے استشہاد کیا ہے جو اس جیسی ہیں یا اس سے کم مضبوط ہیں۔ لہٰذا اس روایت کو بطورِ دلیل لیا جائے گا کیونکہ امام نسائی کا مسلک یہ ہے کہ جب تک تمام محدّثین ایک راوی کی حدیث کے ترک پر متفق نہ ہوں، اس کی حدیث ترک نہ کی جائے۔
    [11/10, 12:57 PM] ‪+92 308 4031902‬: صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی پیروی کے لزوم کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں :

    رأيهم لنا خير من رأينا لأنفسنا.

    ’’ہمارے لیے ان کی رائے ہمارے بارے میں ہماری اپنی رائے سے بہتر ہے۔‘‘

    ابن قيم، أعلام الموقعين عن ربّ العالمين، 2 : 186

    علامہ ابنِ تیمیہ نے اس روایت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جھوٹ ہے اور حضرت عائشۃ رضی اﷲ عنہا کی پوری زندگی میں روضۂ اقدس کی چھت میں اس طرح کا کوئی سوراخ موجود نہیں تھا۔ یہ اعتراض کمزور ہے کیونکہ امام دارمی اور ان کے بعد آنے والے اَئمہ و علماء اس طرح کی تفصیل متاخرین سے زیادہ بہتر جانتے تھے۔ مثال کے طور پر مدنی محدّث و مؤرخ امام علی بن احمد سمہودی نے علامہ ابنِ تیمیہ کے اعتراض کا ردّ اور امام دارمی کی تصدیق کرتے ہوئے ’’وفاء الوفاء (2 : 560)‘‘ میں لکھا ہے :

    ’’زین المراغی نے کہا : ’جان لیجئے کہ مدینہ کے لوگوں کی آج کے دن تک یہ سنت ہے کہ وہ قحط کے زمانہ میں روضۂ رسول کے گنبد کی تہہ میں قبلہ رُخ ایک کھڑکی کھولتے اگرچہ قبر مبارک اور آسمان کے درمیان چھت حائل رہتی۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے دور میں بھی مقصورہ شریف، جس نے روضہ مبارک کو گھیر رکھا ہے، کا باب المواجہ یعنی چہرۂ اقدس کی جانب کھلنے والا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور لوگ وہاں (دعا کے لیے) جمع ہوتے ہیں۔‘‘

    سمهودي، وفاء الوفاء، 2 : 560

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسُّل سے دعا کرنے کا معمول عثمانی ترکوں کے زمانے یعنی بیسویں صدی کے اوائل دور تک رائج رہا، وہ یوں کہ کہ جب قحط ہوتا اور بارش نہ ہوتی تو اہلِ مدینہ کسی کم عمر سید زادہ کو وضو کروا کر اوپر چڑھاتے اور وہ بچہ اس رسی کو کھینچتا جوقبرِ انور کے اوپر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے فرمان کے مطابق سوراخ کے ڈھکنے کو بند کرنے کے لئے لٹکائی ہوئی تھی۔ اس طرح جب قبرِ انور اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ نہ رہتا تو بارانِ رحمت کا نزول ہوتا۔
    [11/10, 12:57 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کا معمول

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب بھی سفر سے واپس لوٹتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس پر حاضری دیتے اور عرض کرتے :

    السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام عليک يا أبا بکر! السّلام عليک يا أبتاه!

    ’’اے اللہ کے (پیارے) رسول! آپ پر سلامتی ہو، اے ابوبکر! آپ پر سلامتی ہو، اے ابا جان! آپ پر سلامتی ہو۔‘‘

    1. عبدالرزاق، المصنف، 3 : 576، رقم : 6724
    2. ابن أبي شيبة، المصنف، 3 : 28، رقم : 11793
    3. بيهقي، السنن الکبريٰ، 5 : 245، رقم : 10051

    قاضی عیاض نے ’’الشفاء (2 : 671)‘‘ میں جو روایت نقل کی ہے اس میں ہے کہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو سو (100) سے زائد مرتبہ قبرِ انور پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا، اور مقریزی نے بھی ’’اِمتاع الاسماع (14 : 618)‘‘ میں یہی نقل کیا ہے۔ ابن الحاج مالکی نے ’’المدخل (1 : 261)‘‘ میں اِس کی تائید کی ہے۔ علاوہ ازیں ابنِ حجر مکی نے ’’الجوہر المنظم (ص : 28)‘‘ اور زرقانی نے ’’شرح المواہب اللدنیۃ (12 : 198)‘‘ میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔

    حضرت عبداﷲ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا کہ جب سفر سے واپس لوٹتے تو مسجدِ (نبوی) میں داخل ہوتے اور یوں سلام عرض کرتے :

    السّلام عليک يا رسول اﷲ! السّلام علي أبي بکر! السّلام علي أبي.

    ’’اے اللہ کے (پیارے) رسول! آپ پر سلام ہو، ابوبکر پر سلام ہو (اور) میرے والد پر بھی سلام ہو۔‘‘

    اس کے بعد حضرت عبداﷲ بن عمر دو رکعات نماز ادا فرماتے۔

    1. ابن إسحاق أزدي، فضل الصّلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم : 90. 91، رقم : 97 -98

    2. ابن حجر عسقلانی نے ’’المطالب العالیۃ (1 : 371، رقم : 1250)‘‘ میں عمر بن محمد کی اپنے والد سے نقل کردہ روایت بیان کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہیں۔

    4. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا معمول

    حضرت ابو اُمامہ بیان کرتے ہیں :

    رَأيتُ أنَس بن مَالِک أتي قَبْر النَّبي صلي الله عليه وآله وسلم فوقف فرفع يديه حتي ظننتُ أنه افتتح الصّلاة فسلّم علي النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم ثم انصرف.

    ’’میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر آتے دیکھا، انہوں نے (وہاں آ کر) توقف کیا، اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ شاید میں نے گمان کیا کہ وہ نماز ادا کرنے لگے ہیں۔ پھر انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں سلام عرض کیا، اور واپس چلے آئے۔‘‘

    1. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 491، رقم : 4164
    2. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 671
    3. مقريزي، اِمتاع الأسماع، 14 : 618

    اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم فقط بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام عرض کرنے کا شرف حاصل کرنے کے لئے بھی مسجدِ نبوی میں آتے تھے۔
    [11/10, 12:58 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خواب میں زیارت کا حکم

    عاشقِ مصطفیٰ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وِصال مبارک کے بعد یہ خیال کرکے شہرِ دلبر. . . مدینہ منورہ. . . سے شام چلے گئے کہ جب یہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی نہ رہے تو پھر اِس شہر میں کیا رہنا! حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس فتح کیا تو سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے خواب میں آئے اور فرمایا :

    ما هذه الجفوة، يا بلال؟ أما آن لک أن تزورني؟ يا بلال!.

    ’’اے بلال! یہ فرقت کیوں ہے؟ اے بلال! کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ تم ہم سے ملاقات کرو؟‘‘

    اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ اَشک بار ہو گئے۔ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کو حکم سمجھا اور مدینے کی طرف رختِ سفر باندھا، اُفتاں و خیزاں روضۂ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دی اور بے چین ہوکر غمِ فراق میں رونے اور اپنے چہرے کو روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ملنے لگے۔

    1. سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 39
    2. ابن حجر مکي، الجوهر المنظم : 27
    3. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 1 : 358
    4. ابن عساکر، تاريخ مدينة دمشق، 7 : 137
    5. شوکاني، نيل الأوطار، 5 : 180
    [11/10, 12:59 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضرت ابو ایوب اَنصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ

    حضرت داؤد بن صالح سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز خلیفہ مروان بن الحکم روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دیکھا کہ ایک آدمی حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور پر اپنا منہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے اسے کہا : کیا تو جانتا ہے کہ تو یہ کیا کر رہا ہے؟ جب مروان اس کی طرف بڑھا تو دیکھا کہ وہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے جواب دیا :

    نَعَمْ، جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ.

    ’’ہاں (میں جانتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں)، میں اﷲ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔‘‘

    1. أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422
    2. حاکم، المستدرک، 4 : 560، رقم : 8571
    3. طبراني، المعجم الکبير، 4 : 158، رقم : 3999

    امام احمد بن حنبل کی بیان کردہ روایت کی اِسناد صحیح ہیں۔ امام حاکم نے اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ذہبی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
    [11/10, 1:00 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا بارگاہِ نبوت میں سلام

    یزید بن ابی سعید المقبری بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ جب میں نے انہیں الوداع کہا تو انہوں نے فرمایا : مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے، پھر فرمایا :

    إذا أتيت المدينة ستري قبر النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم، فأقرئه منّي السّلام.

    ’’جب آپ مدینہ منورہ حاضر ہوں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک پر حاضری دے کر میری طرف سے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں) سلام (کا تحفہ و نذرانہ) پیش کر دیجئے گا۔‘‘

    1. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 492، رقم : 4166 -4167
    2. قاضي عياض، الشفاء، 2 : 670
    3. مقريزي، إِمتاع الأسماع، 14 : 618
    4. ابن حاج، المدخل، 1 : 261
    5. قسطلاني، المواهب اللدنية، 4 : 573

    ایک دوسری روایت میں ہے :

    کان عمر بن عبد العزيز يوجه بالبريد قاصدًا إلي المدينة ليقري عنه النبي صلي الله عليه وآله وسلم.

    ’’حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ آپ ایک قاصد کو شام سے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اپنی طرف سے درود و سلام کا ہدیہ پیش کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے۔‘‘

    1. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 491، 492، رقم : 4166
    2. ابن حاج، المدخل، 1 : 261

    حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس ایک صحابیہ آئی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فراق میں گھائل تھی۔ اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنے کی درخواست کی۔ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری کے وقت وہ عورت اِتنا روئی کہ اُس نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔

    1. قسطلاني، المواهب اللدنية، 4 : 581
    2. زرقاني، شرح المواهب اللدنية، 12 : 196

    درج بالا علمی تحقیق سے ثابت ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں اور بعد از وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لئے حاضری دیا کرتے تھے۔ اُن کا حاضری دینے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ آقا علیہ السلام کی حیات اور بعد از وصال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیوضات و برکات سے مستفید ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد جمیع امتِ مسلمہ کا بھی یہ معمول رہا ہے کہ وہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اطہر پر حاضری دینے کو اپنے لئے باعثِ سعادت و خوش بختی سمجھتی ہے۔
    [11/10, 1:03 PM] ‪+92 308 4031902‬: بحث القرآن

    قبرِ انور کی زیارت کی شرعی حیثیت پر اُمتِ مسلمہ کا اِجماع ہے۔ کئی ائمہِ احناف کے نزدیک واجب ہے جبکہ ائمہِ مالکیہ کے نزدیک قطعی طور پرواجب ہے۔ اُن کے علاوہ دیگر اہلِ سنت کے مکاتب و مذاہب بھی اُسے واجب قرار دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کا حکم یوں فرمایا ہے :

    وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًاO

    ’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

    النساء، 4 : 64
    [11/10, 1:06 PM] ‪+92 308 4031902‬: حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیه ( جو ديوبند أهل حديث حضرات كے محبوب مفسر و محدث هے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں :

    يُرشد تعالي العصاة والمُذنبين إذا وقع منهم الخطأ والعصيان أن يأتوا إلي الرسول صلي الله عليه وآله وسلم، فيستغفروا اﷲ عنده، ويسألوه أن يغفر لهم، فإنهم إذا فعلوا ذٰلک تاب اﷲ عليهم ورحمهم وغفر لهم، ولهذا قال : ﴿لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا﴾ وقد ذکر جماعة منهم الشيخ أبومنصور الصبّاغ في کتابه الشامل ’الحکاية المشهورة، عن العتبي، قال : کنتُ جالساً عند قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فجاء أعرابي فقال : السلام عليک يارسول اﷲ! سمعتُ اﷲ يقول : ﴿وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَّلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ جَآءُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا﴾ وقد جئتُکَ مستغفراً لذنبي مستشفعاً بکَ إلي ربي. ثم أنشأ يقول :

    يا خير من دفنت بالقاع أعظمه
    فطاب من طيبهن القاع و الأکم

    نفسي الفداء لقبر أنت ساکنه
    فيه العفاف وفيه الجود والکرم

    ثُم انصرف الأعرابيّ، فغلبتني عيني، فرأيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم في النوم، فقال : يا عتبي! الحق الأعرابيّ، فبشره أن اﷲ قد غفر له.

    ’’اللہ تعالیٰ نے عاصیوں اور خطاکاروں کو ہدایت فرمائی ہے کہ جب ان سے خطائیں اور گناہ سرزد ہوجائیں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرنا چاہئے اور خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی عرض کرنا چاہئے کہ آپ صلی اللہ علیک وسلم ہمارے لئے دعا فرمائیں جب وہ ایسا کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع فرمائے گا، انہیں بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اِسی لئے فرمایا گیا : لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا (تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے)۔ یہ روایت بہت سوں نے بیان کی ہے جن میں سے ابو منصور صباغ نے اپنی کتاب ’الحکایات المشہورۃ‘ میں لکھا ہے : عُتبی کا بیان ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا : ’’السّلام علیکَ یا رسول اﷲ! میں نے سنا ہے کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے : ’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اُن کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘ میں آپ صلی اﷲ علیک و سلم کی خدمت میں اپنے گناہوں پر استغفار کرتے ہوئے اور آپ کو اپنے رب کے سامنے اپنا سفارشی بناتے ہوئے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے :

    (اے مدفون لوگوں میں سب سے بہتر ہستی! جن کی وجہ سے میدان اور ٹیلے اچھے ہو گئے، میری جان قربان اس قبر پر جس میں آپ صلی اﷲ علیک وسلم رونق افروز ہیں، جس میں بخشش اور جود و کرم جلوہ افروز ہے۔ )

    پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے نیند آگئی، میں نے خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے فرما رہے تھے : عُتبی! اعرابی حق کہہ رہا ہے، پس تو جا اور اُسے خوش خبری سنا دے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔‘‘

    ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 1 : 519 - 520

    اعرابی کا مذکورہ بالا مشہور واقعہ درج ذیل کتب میں بھی بیان کیا گیا ہے :

    1. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 495، 496، رقم : 4178
    2. ابن قدامة، المغني، 3 : 298
    3. نووي، کتاب الأذکار : 92، 93
    4. سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 46. 47
    5. مقريزي، إمتاع الأسماع، 14 : 615
    [11/10, 1:08 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے زیارتِ روضۂ اَطہر کی ترغیب

    خود سید العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ارشاداتِ گرامی میں روضۂ اقدس کی زیارت کی ترغیب دی اور زائر کے لئے شفاعت کا وعدہ فرمایا :

    1. حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے روضۂ اَطہر کی زیارت کے حوالے سے اِرشاد فرمایا، جسے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما نے روایت کیا ہے :

    مَنْ زَارَ قَبْرِي، وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي.

    ’’جس نے میری قبر کی زیارت کی اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘

    1. دارقطني، السنن، 2 : 278
    2. حکيم ترمذي، نوادر الأصول، 2 : 67
    3. بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 490، رقم : 4159، 4160

    4۔ ذہبی نے ’’میزان الاعتدال (6 : 567)‘‘ میں کہا ہے کہ اسے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابنِ خزیمہ نے ’مختصر المختصر‘ میں نقل کیا ہے۔

    ایک دوسری روایت میں ’حلّت لہ شفاعتي‘ کے الفاظ بھی ہیں۔ امام نبہانی رحمۃ اللہ علیہ ’’شواہد الحق فی الاستغاثہ بسید الخلق (ص : 77)‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ائمہِ حدیث کی ایک جماعت نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

    امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی چند اِسناد بیان کرنے اور جرح و تعدیل کے بعد فرماتے ہیں :

    ’’مذکورہ حدیث حسن کا درجہ رکھتی ہے۔ جن احادیث میں زیارتِ قبرِ انور کی ترغیب دی گئی ہے ان کی تعداد دس سے بھی زیادہ ہے، اِن احادیث سے مذکورہ حدیث کو تقویت ملتی ہے اور اِسے حسن سے صحیح کا درجہ مل جاتاہے۔‘‘

    سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 3، 11

    عبد الحق اِشبیلی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ امام سیوطی نے ’’مناہل الصفا فی تخریج احادیث الشفا (ص : 71)‘‘ میں اسے صحیح کہا ہے۔ شیخ محمود سعید ممدوح ’’رفع المنارہ (ص : 318)‘‘ میں اس حدیث پر بڑی مفصل تحقیق کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور قواعدِ حدیث بھی اِسی رائے پردلالت کرتے ہیں۔

    اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کے زائر پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت متحقق اور لازم ہوگئی یعنی اللہ تعالیٰ سے زائر کی معافی و درگزر کی سفارش کرنا لازم ہو گیا۔
    [11/10, 1:09 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    مَنْ جَاءَ نِي زَائِرًا لَا يَعْمَلُهُ حَاجَةً إِلَّا زِيَارَتِي، کَانَ حَقًّا عَلَيُ أَنْ أَکُوْنَ لَهُ شَفِيْعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

    ’’جو بغیر کسی حاجت کے صرف میری زیارت کے لیے آیا اُس کا مجھ پر حق ہے کہ میں روزِ قیامت اُس کی شفاعت کروں۔‘‘

    1. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 225، رقم : 13149
    2. طبراني، المعجم الأوسط، 5 : 275، 276، رقم : 4543
    3. هيثمي، مجمع الزوائد، 4 : 2

    4۔ ذہبی نے ’’میزان الاعتدال (6 : 415)‘‘ میں اسے مرفوع کہا ہے۔

    ابن السکن نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’’السنن الصحاح ماثورۃ عن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کے خطبہ میں اس کتاب میں نقل کردہ روایات کو بالاجماعِ ائمہ حدیث کے نزدیک صحیح قرار دیا ہے۔ اِس حدیثِ مبارکہ کو اُنہوں نے ’’کتاب الحج‘‘ میں باب ثواب من زار قبر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی نقل کیا ہے
    [11/10, 1:10 PM] ‪+92 308 4031902‬: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ اقدس ہے :

    مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعَدَ وَفَاتِي، فَکَأَنَّمَا زَارَنِي فِيْ حَيَاتِي.

    ’’جس نے حج کیا پھر میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اُس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔‘‘

    1. دارقطني، السنن، 2 : 278
    2. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 310، رقم : 13497
    3. طبراني، المعجم الأوسط، 4 : 223، رقم : 3400

    4. خطیب تبریزی نے ’’مشکوٰۃ المصابیح (2 : 128، کتاب المناسک، رقم : 2756)‘‘ میں اسے مرفوع حدیث قرار دیا ہے۔

    جو لوگ اپنے باطل عقیدے کی بناء پر حدیث ’’لا تشدّ الرّحال‘‘ سے غلط استدلال کرتے ہوئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضری کی نیت سے جانے کے ساتھ ساتھ انبیاء و صالحین کے مزارات کی زیارت سے منع کرتے ہیں اور اسے (معاذ اللہ) سفر معصیت و گناہ اور شرک قرار دیتے ہیں وہ بلاشبہ صریح غلطی پر ہیں۔ صحیح عقیدہ وہی ہے جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روضۂ اقدس کی حاضری بلند درجہ باعث ثواب اعمال میں سے ہے۔ نیز قرونِ اولیٰ سے لے کر آج تک اہلِ اسلام کا یہ معمول ہے کہ وہ ذوق و شوق سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے جاتے ہیں اور اسے دنیاو ما فیہا سے بڑھ کر عظیم سعادت و خوش بختی سمجھتے ہیں۔

    اِستطاعت کے باوجود زیارت نہ کرنے پر وعید

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ اَقدس ہے :

    مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ وَ لَمْ يَزُرْنِي فَقَدْ جَفَانِي.

    ’’جس نے بیت اللہ کا حج کیا اور میری (قبرِ اَنور کی) زیارت نہ کی تو اس نے میرے ساتھ جفا کی۔‘‘

    1. سبکي، شفاء السقام في زيارة خيرالأنام : 21
    2. ابن حجر مکي، الجوهر المنظم : 28
    3. نبهاني، شواهد الحق في الاستغاثة بسيد الخلق : 82
    [11/10, 1:11 PM] ‪+92 308 4031902‬: علامہ ابن قدامہ حنبلی (م 620) نے فقہ حنبلی کی معروف کتاب ’’الکافی‘‘ اور ’’المغنی‘‘ میں لکھا ہے :

    ويستحبّ زيارة قبر النّبي صلي الله عليه وآله وسلم وصاحَبيه.

    ’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں صحابہ کرام (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہما) کی مبارک قبروں کی زیارت مستحب ہے۔‘‘

    1. ابن قدامة المقدسي، الکافي، 1 : 457
    2. ابن قدامة، المغني، 3 : 297

    علامہ ابن قدامہ نے اپنے مذکورہ قول کے ثبوت میں زیارتِ قبرِ انور کی ترغیب میں احادیثِ مبارکہ کا ذکر کیا ہے۔ زیارت قبر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے سفر ان کے نزدیک امر مباح اور جائز ہے۔

    ابن قدامه، المغني، 2 : 52

    4۔ عارفِ کامل حضرت ملا جامی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول کیا ہے کہ انہوں نے حج کے بعد محض زیارتِ قبر انور کے لیے الگ سفر اختیار کیا تاکہ اس سفر کا مقصد زیارت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کچھ نہ ہو۔

    ائمۂ احناف کے نزدیک روضۂ انور کی نیت سے سفر کرنا افضل عمل ہے۔

    ابن قدامه، المغني، 2 : 52

    5۔ علامہ طحطاوی نے لکھا ہے :

    الأولي في الزيارة تجريد النّية لزيارة قبره صلي الله عليه وآله وسلم.

    ’’زیارتِ قبر انور کے لیے بہتر یہ ہے کہ محض حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کی زیارت کی نیت کی جائے۔‘‘

    طحطاوي، حاشية علي مراقي الفلاح، 1 : 486
    [11/10, 1:15 PM] ‪+92 308 4031902‬: حافظ اِمام ابنِ قیم( جو امام ابن تيمية كے مشہور شاگرد اور ان كے ہم خيال هين ) نے اپنے شہرۂ آفاق ’’القصیدۃ النونیۃ‘‘ میں زیارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب بیان کئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں :

    فإذا أتينا المسجد النبوي
    صلينا التحية أولا ثنتان

    (جب ہم مسجدِ نبوی میں حاضر ہوں تو سب سے پہلے دو رکعت نمازِ تحیۃ المسجد ادا کریں۔)

    ثم انثنينا للزيارة نقصد القبر
    الشريف ولو علي الأجفان

    (پھر روضۂ اَنور کی زیارت کا قصد کریں، چاہے پلکوں پر چل کر ہی حاضری کا شرف کیوں نہ حاصل کرنا پڑے۔)

    فنقوم دون القبر وقفة خاضع
    متذلل في السر والإعلان

    (پھر باطناً و ظاہراً اِنتہائی عاجزی و اِنکساری کے ساتھ (حضوری کی تمام تر کیفیتوں میں ڈوب کر) قبرِ اَنور کے پاس کھڑے ہوں۔)

    فکأنه فی القبر حيّ ناطق
    فالواقفون نواکس الأذقان

    (یہ اِحساس دل میں جاگزیں رہے کہ حضورا اپنی قبرِ اَنور میں زندہ ہیں اور کلام فرماتے ہیں، پس (وہاں) کھڑے ہونے والوں کا سر (اَدباً و تعظیماً) جھکا رہے۔ )

    ملکتهم تلک المهابة فاعترت
    تلک القوآئم کثرة الرجفان

    (بارگاہِ نبوی میں یوں کھڑے ہوں کہ رُعبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پاؤں تھرتھر کانپ رہے ہوں۔)

    وتفجرت تلک العيون بمائها
    و لطالما غاضت علي الأزمان

    (اور آنکھیں بارگاہِ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اَشکِ مسلسل کا نذرانہ پیش کرتی رہیں، اور وہ طویل زمانوں کی مسافت طے کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کھو جائیں۔)

    و أتي المسلم بالسلام بهيبة
    و وقار ذي علم و ذي إيمان

    (پھر مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں وقار و اَدب کے ساتھ ہدیۂ سلام پیش کرتے ہوئے آئے جیسا کہ صاحبانِ ایمان اور صاحبانِ علم کا شیوہ ہے۔)

    لم يرفع الأصوات حول ضريحه
    کلا! و لم يسجد علي الأذقان

    (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ اَنور کے قریب آواز بھی بلند نہ کرے، خبردار! اور نہ ہی سجدہ ریز ہو۔)

    من أفضل الأعمال هاتيکالزيا
    رة وهي يوم الحشر في الميزان

    (یہی زیارت افضل اعمال میں سے ہے اور روزِ حشر اسے میزانِ حسنات میں رکھا جائے گا۔
    [11/10, 1:15 PM] ‪+92 308 4031902‬: شیخ عبد الحق محدّث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے ’’ما ثبت من السنۃ (ص : 114. 116)‘‘ میں زیارتِ قبرِ اَنور کے آداب بالتفصیل ذکر کئے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :

    ’’زائر کو چاہئے کہ گھر سے روانہ ہوتے وقت مدینہ منورہ کی جانب متوجہ ہو اور راستہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھے، کیونکہ اس راہ کے مسافر کے لئے فرض عبادات کے بعد درود شریف پڑھنا ہی افضل ترین عبادت ہے۔ جب زائر مدینہ منورہ کا کوئی درخت دیکھے یا اُسے حرم پاک نظر آئے تو بے اِنتہا درود شریف پڑھے، دِل میں اﷲ تعالیٰ سے دُعا مانگے کہ روضۂ انور کی زیارت بابرکت سے اُسے فائدہ ہو اور دُنیا و آخرت میں سعادت مندی حاصل ہو۔ اُسے چاہئے کہ زبان سے یہ کہے :

    اَللّٰهُمَّ! إِنَّ هذا حَرَمَ رَسُوْلِکَ، فَاجْعَلْهُ لِي وِقَايَةً مِّنَ النَّارِ وَ اَمَاناً مِّنَ الْعَذَابِ وَ سُوءِ الْحِسَابِ.

    ’’اے اللہ! یہ تیرے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حرم محترم ہے، اِسے میرے لئے آتشِ دوزخ سے پناہ گاہ بنا دے، عذابِ آخرت اور برے حساب سے محفوظ رکھنے والا اور جائے اَمن بنا دے۔‘‘

    ’’مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرنا، عمدہ کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور سہولت کے ساتھ جتنا ہو سکے صدقہ کرنا مستحب ہے۔ زائر مدینہ منورہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے :

    بِسْمِ اﷲِ وَ عَلٰي مِلَّةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّي مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَاناً نَّصِيْرًا.

    ’’اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور میں اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملت پر ہوں۔ اے اﷲ! مجھے مقامِ صداقت میں داخل فرما اور صداقت کے مقام پر مجھے نکال، اور مجھے اپنی جانب سے مددگار غلبہ و قوت عطا فرما۔‘‘

    جب وہ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازہ پر پہنچے تو اپنا داہنا پاؤں دروازہ میں رکھ کر یہ دُعا پڑھے :

    اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِی ذُنُوْبِيْ وَ افْتَحْ لِی أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَ فَضْلِکَ.

    ’’اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما دے اور مجھ پر اپنے فضل و کرم کے دروازے کھول دے۔‘‘

    ’’زائر جب روضۂ اَقدس کا رُخ کرے تو حتی المقدور کوشش کرے کہ تحیۃ المسجد (کے نوافل) مُصلیء نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ادا کرے۔ اگر ممکن نہ ہو تو روضۂ اقدس کے کسی حصہ میں یا مسجدِ نبوی میں کسی مقام پر نماز تحیۃ المسجد پڑھے اور پھر بقعۂ مبارک تک پہنچنے سے پہلے سجدۂ شکر ادا کرے (بعض علماء نماز و تلاوت کے علاوہ سجدہ شکر بجا لانے کے بارے میں مختلف الرائے ہیں). اس کے بعد قبولِ زیارت کی دُعا کے ساتھ مزید نعمتوں کے حصول کی بھی دُعا کرے۔ پھر روضۂ اقدس کے پاس اس طرح حاضری دے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک کی طرف منہ کرے اور قبلہ کی جانب پیٹھ کرکے کھڑا ہو۔ روضۂ مبارک کی جالی کو نہ چھوئے اور اِسے بوسہ بھی نہ دے، کیونکہ یہ دونوں کام اور اس کے علاوہ دوسری حرکتیں جاہلوں اور نا واقفوں کے طور طریق ہیں، اور سلف صالحین کا یہ طرزِ عمل کبھی نہیں رہا۔ نیز زائر کے لئے لازمی ہے کہ ادباً جالی سے چپک کر کھڑا نہ ہو بلکہ جالی سے تین یا چار ہاتھ پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں اِنتہائی خشوع و خضوع (و عاجزی اِنکساری) کے ساتھ پر سکون انداز میں پست آواز میں عرض کرے :

    اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا سَيِّدَ الْمُرْسَلِيْنَ! اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ! اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا قَائِدَ الغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ! اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ يَا مَنْ اَرْسَلَهُ اﷲُ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ! اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ وَ عَلٰي أَهْلِ بَيْتِکَ وَ أَزْوَاجِکَ وَ أَصْحَابِکَ أَجْمَعِيْنَ! اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُهَا النَّبِيُ وَ رَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه! أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اﷲُ وَ أَشْهَدُ أَنَّکَ عَبْدُه وَ رَسُوْلُه، وَ أَمِيْنُه وَ خَيْرَتُه مِنْ خَلْقِه، وَ أَشْهَدُ أَنَّکَ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ وَ أَدَّيْتَ الْأَمَانَةَ، وَ جَاهَدْتَ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَقَّ جِهَادِه وَ عَبَدْتَ رَبَّکَ حَتيّٰ أَتَاکَ الْيَقِيْنُ، فَجَزَاکَ اﷲُ عَنَّا يَا رَسُوْلَ اﷲِ أَفْضَلَ مَا جَزيٰ نَبِياًّ عَنْ أمَّتِه.

    اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰي آلِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلٰی آٰلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ، وَ بَارِکْ عَلٰی سَيِّدِنَا مَحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰي إِبْرَاهِيْمَ وَ عَلٰي آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّکَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ.

    اَللّٰهُمَّ! إِنَّکَ قُلْتَ وَ قَوْلُکَ الَحَقُّ : ﴿وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَّلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا﴾.

    ’’اے رسولوں کے سردار! آپ پر سلام ہو، اے سب انبیاء سے آخر میں آنے والے! آپ پر سلام ہو، اے درخشاں حسینوں کے قائد و رہبر! آپ پر سلام ہو، اے وہ رسول جسے اﷲ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا! آپ پر سلام ہو، آپ کے اہلِ بیت، اَزواجِ مطہرات اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم پر سلام ہو، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اﷲ کی رحمتیں، برکتیں نازل ہوتی رہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اﷲ کے بندے، اُس کے رسول، اُس کے امین اور اُس کی مخلوقات میں بہترین و برگزیدہ ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے رِسالت کی تبلیغ فرمائی، حقِ اَمانت ادا کیا، اﷲ کی راہ میں پوری طرح حقِ جہاد ادا فرمایا، اور آپ نے (اپنی شان کے لائق) مقامِ یقین (یعنی اِنشراحِ کامل نصیب ہونے یا لمحۂ وِصالِ حق) ملنے تک اپنے پروردگار کی عبادت کی۔ ہماری اِستدعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ کو وہ بہترین جزا مرحمت فرمائے جو کسی نبی کو اس کی اُمت کی طرف سے جزا دیتا ہے۔

    ’’اے اﷲ! ہمارے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اُن کی آل پر رحمتیں نازل فرما، جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کی آل کو نوازا۔ بے شک تو ہی لائقِ حمد (اور) بزرگ و برتر ہے۔ اے اللہ! ہمارے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر برکتیں نازل فرما جیسی کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر برکتیں نازل فرمائیں، یقیناً تو ہی لائقِ حمد (اور) بزرگ و برتر ہے۔

    ’’اے اﷲ! تو نے ہی فرمایا ہے اور تیرا یہ فرمان بالکل صحیح ہے : ’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لیے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اِس وسیلہ اور شفاعت کی بناء پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتے۔‘‘
    [11/10, 1:17 PM] ‪+92 308 4031902‬: بحث المصارد

    زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مصادِرِ علمیہ

    اَئمہ و علماء کرام نے زیارتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے شمار فضائل و برکات اور فوائد بیان کئے ہیں اور کتبِ فقہ، مناسکِ حج اور کتبِ مناقب و خصائص میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ اِن کتب میں مکمل یا جزوی طور پر اَبواب کی صورت میں زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَحکام، فضائل اور آداب جمع ہیں۔ جن سے قارئین مزید اِستفادہ کرسکتے ہیں۔ ہم ان کتب کو درج ذیل چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں :

    (1) کتبِ زیارت

    وہ اَئمہ و محدثین کرام جنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے فضائل و برکات بیان کئے، اس کے حق میں فتاویٰ دیئے اور اِس موضوع پر کتب لکھیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :

    علامہ تقی الدین سبکی نے زیارت کے موضوع پر جامع کتاب ’’شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام‘‘ تالیف کی ہے۔ابن عساکر نے ایک کتاب ’’اتحاف الزائر واطراف المقیم السائر فی زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ تالیف کی۔ابن حجر ہیتمی مکی نے اِس موضوع پر دو کتب ’’الجوھر المنظم فی زیارۃ القبر النبوی الشریف المکرم‘‘ اور ’’تحفۃ الزوار الی قبر النبی المختار‘‘ تالیف کی ہیں۔محمود سعید ممودح نے چار سو صفحات پر مشتمل ضخیم کتاب ’’رفع المِنارۃ لتخریج احادیث التوسل و الزیارۃ‘‘ رقم کی ہے۔شیخ محمد فقی نے دو سو صفحات پر مشتمل کتاب ’’التوسل و الزیارۃ‘‘ تالیف کی۔شیخ حسن عدوی مالکی نے ’’مشارق الانوار فی زیارۃ النبی المختار‘‘ لکھی۔احمد بن محمد حضراوی مکی نے چودہویں صدی ہجری کے اوائل میں ’’نفحات الرضا والقبول فی فضائل المدینۃ وزیارۃ سیدنا الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ لکھی۔عبد الحمید بن محمد علی مکی نے ’’الذخائر القدسیۃ فی زیارۃ خیر البریۃ‘‘ لکھی۔احمد انصاری متثاشی نے نہایت خوبصورت کتاب ’’الدرۃ الثمینۃ فیما الزار النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الی المدینۃ‘‘ لکھی ہے۔

    (2) کتبِ خصائص و مناقب

    اِن کتب میں زیارتِ روضۂ اَقدس کے موضوع پر اَبواب ہیں :

    ضیاء مقدسی، کتاب فضائل الاعمالاحمد بن حسین بیہقی، شعب الابمان، 3 : 488قاضی عیاض، الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰاحمد بن محمد قسطلانی، المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃمحمد بن یعقوب فیروز آبادی، الصلات و لبُشرفی الصلاۃ علی خیر البشرابن حجر ہیتمی مکی، الدر المنضود فی الصلاۃ والسلام علی صاحب المقام المحمودمحمد بن عبد الرحمٰن سخاوی، القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیعمحمد بن عبد الباقی زرقانی، شرح المواھب اللدنیۃشیخ عبدالحق محدث دہلوی، ما ثبت من السنۃحسین بن حسین حلیمی، المنہاج فی شعب الابمان
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیوخ سے درخواست ہے اس تحریر کا علمی جائزہ لیں اور انداز بیاں ناصحانہ رکھیں تاکہ بھیجنے والے بھائی کے شبھات بھی دور ہوں اور انداز سے دور نا ہو
     
  2. ‏نومبر 10، 2017 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

  3. ‏نومبر 11، 2017 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جس کے پاس وقت ہوا ، تفصیلی رد لکھ دے گا۔
    میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی چیز کی مشروعیت کے لیے بنیاد قرآن و حدیث ہوتے ہیں ، مزارات کی زیارت کی مشروعیت پر قرآن کریم کی ایک بھی ذکر نہیں کر پائے ۔ احادیث جتنی ذکر کی ہیں ، سب ضعیف ، بلکہ بعض موضوع اور من گھڑت ہیں۔ ( جن میں سے کئی ایک کی تفصیلی تحقیق اسی فورم پر موجود ہے )
    سوائے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کے ، کہ وہ جب مدینہ منورہ سفر سے واپس آتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر سلام عرض کرتے تھے ۔ مسنون طریقے سے سلام کہنے سے تو وہابی بھی منع نہیں کرتے ۔
    تحریر میں دوسری خامی یہ ہے کہ دلائل عمومی قبرستان کی زیارت کے دیے ہیں جس سے موت یاد آتی ہے ، اور استدلال اس سے مزاروں پر حاضری کا کیا گیا ہے ۔ جہاں جتنی موت یاد آتی ہے ، خود بریلوی حضرات کے بعض اہل علم اس کے گواہ ہیں ۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے اراردے سے مدینہ منورہ کا سفر کرنا ، یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے ، اور یہ چند دہائیوں کی بات نہیں ، بلکہ صدیوں سے یہ مسئلہ چلا آرہا ہے ، صاحب تحریر نے اپنے موقف والی کتابوں کا تذکرہ کیا ہے ، جبکہ دوسری طرف سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے مجموع الفتاوی میں گفتگو کی ہے ، ان کے شاگر ابن عبد الہادی نے علامہ سبکی کے رد میں الصارم المنکی لکھی ہے ، جبکہ ہندوستان میں علامہ لکھنوی اور مولانا شہسوانی کے درمیان اس پر طویل تحریری مناظرے ہوئے ہیں ۔
    اس کے علاوہ زیارت قبور ، مزارات پر ہونے والی بدعات و خرافات کے حوالے سے سلفی نقطہ نظر کی وضاحت پر مشتمل علامہ شوکانی ، علامہ البانی اور سعودی علماء کی درجنوں کتابیں ہیں ۔ کئی ایک کے اردو تراجم محدث لائبریری میں موجود ہیں۔
    محدث فورم پر اس حوالے سے کچھ تھریڈ:
    کیا اس طرح مزارات پر جانا ٹھیک ہے
    مزارات پر عرس اور میلے
    مزارات پر ہونے والی خرافات
    بریلوی حضرات کی سب سے بڑی دلیل یہی ہوتی ہے ، کہ ہم یہ سب کچھ تعظیم کی غرض سے کرتے ہیں ، شرک و بدعات اور خرافات کو ہم بھی برا ہی جانتے ہیں ، بتادیں ، کوئی مزار جو بریلویوں یا ان کے ہم مسلکوں کی تحویل میں ہو ، اور وہاں شرکیات و خرافات نہ ہوتی ہوں ؟!
    قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی کہتے یہ ہیں کہ ہم صرف سلام عرض کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کئی ایک لکھے ہوئے کاغذ دیکھے گئے ہیں ، جن میں حضور کی ذات کو صرف وسیلہ ہی نہیں ، بلکہ ڈائریکٹ ان کی ذات سے مانگا اور مدد کی اپیل کی گئی ہے ، جو خود بریلویوں کے نزدیک بھی شرک ہے ۔
    گویا تعظیم و توقیر سے متعلق بعض اختلافی جزئیات کی آڑ لے کر یہ شرک کے دروازے کھولنے پر مصر ہیں ۔
     
    Last edited: ‏نومبر 11، 2017
    • پسند پسند x 3
    • مفید مفید x 3
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 11، 2017 #4
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    قال خير من ضمه التراب سيد السادات رسول الله صلى الله عليه وسلم:
    "من زار قبري وجبت له شفاعتي"
    تخريج الحديث:

    رواه الدارقطني في سننه عن عبد الله بن عمر – رضي الله تعالى عنه – كتاب الحج ، رقم الحديث : 2669 . ( ينظر : سنن الدارقطني للإمام الحافظ علي بن عمر ( ت: 385 هـ) علق عليه وخرج أحاديثه : مجدي بن منصور بن سيد الشورى ، دار الكتب العلمية ، بيروت، ط / 2 ، 1424 هـ / 2003 م ، ص : 244) .
    وأما ما قاله معلق هذا الكتاب ( سنن الدارقطني ) مجدي بن منصور : إن الحديث ضعيف جدا . فذلك ناتج عن قلة اطلاعه على طرق هذا الحديث ، وجهله عن هذا الفن البديع الذي يتطلب سعة نظر ، ودقة فهم ، وتوفيقا من الله .
    أنظر إلى تخريج الإمام أحمد رضا خان المحدث البريلوي لهذا الحديث ، لتنجلي عنك الشكوك ، فإن الإمام يقول : رواه ابن خزيمة في صحيحه، وابن أبي الدنيا، والطبراني، والمحاملي ، والبزار، والعقيلي ، وابن عدي ، والدارقطني ، والبيهقي ، وأبو الشيخ، وابن عساكر ، وأبو طاهر السلفي ، وعبد الحق ، والذهبي ، وابن الجوزي ، كلهم عن عمر – رضي الله تعالى عنه – وصححه عبد الحق ، وحسنه الذهبي . قلت : وبعد الحسن فلا شك في صحته لكثرة الطرق ، ففي الباب عن بكر بن عبد الله، رواه أبو الحسن يحي بن الحسن في أخبار المدينة وعن عمر الفاروق ، وعن ابن عباس ، وعن أنس بن مالك، وعن أبي هريرة – رضي الله تعالى عنهم أجمعين . (ينظر : العطايا النبوية في الفتاوى الرضوية للإمام أحمد رضا خان المحدث البريلوي ، قام بترجمته وإخراجه : جماعة من العلماء ، نشره : مركز أهل السنة ، بركات رضا ، فور بندر ، غجرات (الهند) 1424 هـ / 2003 م ، 1 / 802) .

    @اسحاق سلفی
     
  5. ‏نومبر 11، 2017 #5
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    [11/11, 12:45 PM] Muhammad Sadeeq Raza: مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي
    ’’ جس نے میری قبر کی زیارت کی اسکے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی‘‘

    حدیث کی تحقیق

    علامہ ابوتُراب سیّد کامران قادی

    اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ۔ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ-الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلی الک واصحابک یا حبیب اللہ-

    امام أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينار البغدادي الدارقطني المتوفی۳۸۵ ھ، اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

    ثنا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ , نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ , نا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي»

    حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارﷺ نے فرمایا، ” جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔”

    1.[ دارقطني، السنن، 2 : 278]

    2.[ حکيم ترمذي، نوادر الأصول، 2 : 67]

    [بيهقي، شعب الإبمان، 3 : 490، رقم : 4159، 41604 ]

    امام ذہبی ذہبی نے ’’میزان الاعتدال (6 : 567)‘‘ میں کہا ہے کہ اسے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنھما نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابنِ خزیمہ نے ’مختصر المختصر‘ میں نقل کیا ہے۔

    ایک دوسری روایت میں ’حلّت لہ شفاعتي‘ کے الفاظ بھی ہیں۔ امام نبہانی رحمۃ اللہ علیہ ’’شواہد الحق فی الاستغاثہ بسید الخلق (ص : 77)‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ائمہِ حدیث کی ایک جماعت نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔امام سبکی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی چند اِسناد بیان کرنے اور جرح و تعدیل کے بعد فرماتے ہیں :

    ’’مذکورہ حدیث حسن کا درجہ رکھتی ہے۔ جن احادیث میں زیارتِ قبرِ انور کی ترغیب دی گئی ہے ان کی تعداد دس سے بھی زیادہ ہے، اِن احادیث سے مذکورہ حدیث کو تقویت ملتی ہے اور اِسے حسن سے صحیح کا درجہ مل جاتاہے۔‘‘ [سبکي، شفاء السقام في زيارة خير الأنام : 3، 11]

    عبد الحق اِشبیلی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ امام سیوطی نے ’’مناہل الصفا فی تخریج احادیث الشفا (ص : 71)‘‘ میں اسے صحیح کہا ہے۔ شیخ محمود سعید ممدوح ’’رفع المنارہ (ص : 318)‘‘ میں اس حدیث پر بڑی مفصل تحقیق کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور قواعدِ حدیث بھی اِسی رائے پردلالت کرتے ہیں۔

    اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے روضۂ اقدس کے زائر پر حضور نبی اکرم ﷺ کی شفاعت متحقق اور لازم ہوگئی یعنی اللہ تعالیٰ سے زائر کی معافی و درگزر کی سفارش کرنا لازم ہو گیا
    [11/11, 12:48 PM] Muhammad Sadeeq Raza: غير مقلدين نے اس حدیث مبارکہ کی سند پہ اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس روایت میں موسیٰ بن ھلال العبدی شیخ بصری ہیں، ابوحاتم نے کہا یہ مجہول ہیں، العقیلی نے کہا :ان کی حدیث کی متابعت نہیں کی جاتی ،ابن عدی نے کہا:مجھے امید ہے کہ ان کی حدیث میں کوئی خوف یا حرج نہیں ہے ،امام ذھبی نے کہا :میں کہتا ہوں کہ وہ صالح الحدیث ہیں اور ان کی حدیث “من زار قبری وجبت لہ شفاعتی”کو منکر قرار دیا گیا ہے؟؟

    الجواب:موسیٰ بن ھلال العبدی کو مجھول قرار دینے کا جواب:علامہ علی بن عبدالکافی تقی الدین سبکی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ المتوفی۷۴۶ھ لکھتے ہیں:

    رہا ابوحاتم کا یہ کہناکہ موسیٰ بن ھلال العبدی مجھول ہیں،تو انکے مجھول ہونے سےکوئی ضرر نہیں ہے، کیونکہ اس سے جہالۃالعین مراد ہوگی یاجہالۃ الوصف مراد ہو گی،اگر اس سے جہالۃ العین مراد ہے اور فن اصول حدیث میں غالب اصطلاح یہی ہے تو یہ جہالت مرتفع ہے ،کیونکہ موسیٰ بن ہلال العبدی سے حسب ذیل ائمہ نے حدیث روایت کی ہے:

    (۱)امام احمد بن حنبل (۲)محمد بن الجابر المحاربی(۳)محمد بن اسماعیل الاحمسی(۴)ابو امیہ محمد بن ابراھیم الطرطوسی(۵)عبید بن محمد بن الوراق(۶)الفضل بن سہل(۷)جعفر بن محمد البزوری۔

    اگر حدیث کے دو امام کسی شخص سے حدیث روایت کریں تو اس کی جہالت مرتفع ہوجاتی ہے تو جس شخص سے سات ائمہ حدیث،حدیث روایت کریں وہ کیسے مجھول العین رہے گا جب کہ امام ابن عدی نے ان کے متعلق کہا ہے :مجھے امید ہے کہ ان کی حدیث کی روایت میں کوئی خوف یا حرج نہیں ہے۔

    اور اگر اس سے مراد جہالت الوصف ہے تو وہ اس طرح مرتفع ہو جاتی ہے کہ امام احمد نے موسیٰ بن الھلال سے روایت کی ہے اور علامہ ابن جوزی نے امام احمد بن حنبل کے مشائخ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ثقہ ہیں کیوں کہ امام احمد صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں اور خود مخالفین نے یہ تصریح کی ہے کہ حدیث میں جرح و تعدیل کے علماء دو قسم کے ہیں،ایک وہ ہیں جو صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں:جیسے امام مالک ،شعبہ، یحیی بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی ،امام احمد بن حنبل ،اسی طرح امام بخاری اور ان کے امثال۔ (شفاء السقام ص ۹،۱۰)

    میں کہتا ہوں کہ علامہ شمس الدین الذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے ہرچندکہ”من زار قبری”کی روایت کو منکر کہا لیکن موسیٰ بن ہلال العبدی کی تعدیل اور توثیق کی ہے،وہ لکھتے ہیں:قلت: هو صالح الحديث.روى عنه أحمد، والفضل بن سهل الأعرج، وأبو أمية الطرسوسى، وأحمد بن أبي غرزة،وآخرون.

    [ ميزان الاعتدال في نقد الرجال جلد 4 ص 226[

    میں کہتا ہوں کہ وہ صالح الحدیث ہیں ،ان سے امام احمد، الفضل بن سہل الاعرج،ابوامیہ الطرطوسی،احمد بن غرزہ ،اور دوسروں نے حدیث کی روایت کی ہے۔

    اسی طرح أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ) نے بھی موسیٰ بن ھلال العبدی کی توثیق کی ہے ،وہ لکھتے ہیں: قلت هو صويلح الحديث روى عنه أحمد والفضل بن سهل الأعرج وأبو أمية الطرسوسي وأحمد بن أبي عرزة وآخرون“میں کہتا ہوں وہ روایتِ حدیث کی صلاحیت رکھتے ہیں ، ان سے امام احمد ،الفضل بن سہل الاعرج،ابوامیہ الطرطوسی،احمد بن غرزہ ،اور دوسروں نے حدیث کی روایت کی ہے۔

    [ لسان الميزان جلد 6 ص 135[

    تاہم حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب میں اس حدیث کا ذکر کیا ہے: وقال الطَّيَالِسِيُّ: حَدَّثَنَا سَوّار بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْجَرَّاحِ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، عَنْ عمر رضي الله عنه، قال: سمعت رسولَ الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، يَقُولُ: مَن زَار قَبري -أَوْ قَالَ: مَن زَارني- كنتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا. ومَن مَاتَ فِي أَحَدِ الحَرمين بَعثه اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الآمِنِين يومَ القيامة ۔

    [المطَالبُ العَاليَةُ بِزَوَائِدِ المسَانيد الثّمَانِيَةِ جلد 7 ص 155]

    آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری قبر کی زیارت کی یامیری زیارت کی ،میں اس کے حق میں شہادت دوں گایا اس کی شفاعت کروں گااور جو کسی ایک حرم میں فوت ہو گیا ،اللہ اسے قیامت کے دن امن یافتہ لوگوں میں سے اٹھائے گا۔

    موسیٰ بن ہلال العبدی کی روایت کی عدم متابعت کا جواب: علامہ علی بن عبدالکافی تقی الدین السبکی المتوفی ۷۴۶ھ لکھتے ہیں:رہا عقیلی کا یہ کہنا کہ اس حدیث کی روایت میں موسیٰ بن ہلال العبدی کی متابعت نہیں کی گئی ہے ،اور امام بیہقی کا یہ کہنا کہ خواہ انھوں نے عبیداللہ سے روایت کی ہو یا عبداللہ بن عمر سے ،بہرصورت یہ حدیث منکر ہے ،ان کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت نہیں کی ،تو اس کا جواب یہ ہے کہ مخالفین کو اس حدیث پر اس کے سوا اورکوئی اعتراض نہیں ملا کی موسیٰ بن ہلال کے سوا اور کسی نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔(الی قولہ)ہمیں موسیٰ بن ہلال کی اس روایت کے متعدد متابعات اور شواھد مل گئے ہیں،جن سے یہ واضح ہو گیا کہ اس حدیث کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ یہ حسن ہے اور حدیثِ حسن کی دو قسمیں ہیں ،ایک یہ کہ اس کی سند مستور ہو اور اس کی اہلیت متحقق نہ ہو،اور اس کا راوی غافل اور کثیر الخطاء نہ ہو اور اس کے فسق کا کوئی سبب ظاہر نہ ہو ،اس کے ساتھ اس کی حدیث کے متن کی مثل کسی دوسری سند سے مروی ہو اور موسی بن ہلال العبدی کا کم از کم یہی مرتبہ ہے اور ان کی روایت بھی اسی مرتبہ کی ہے ۔

    حدیثِ حسن کی دوسری قسم یہ ہے کہ اس کا راوی صدق اور امانت میں مشہور ہو اور حفظ میں کمی کی وجہ سے وہ حدیثِ صحیح کے راویوں کے برابر نہ پہنچا ہو،اس کے باوجود اس کا مرتبہ ان سے بلند ہو جن کی حدیث منکر قرار دی جاتی ہے ،اوریہ حدیث اس کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کی اوپر حسن کا اطلاق کیا جائے۔

    رہا یہ کہ یہ حدیث عبیداللہ سے مروی ہے اور اس کو عبداللہ کی روایت پر ترجیح ہے یا یہ حدیث دونوں سے مروی ہے ،یا برسبیل تنزل یہ صرف عبداللہ سے مروی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ یہ حدیث حسن ہے ،اور اگر بالفرض یہ حدیث ضعیف ہو تب بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ تعدد اسانید کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہے۔

    جو شخص آقا کریم ﷺ کی قبرِ انور کی زیارت کرے گا،اس کو آپ ﷺ کی بشارت ہے اور یہ اس کو متضمن ہے کہ اس کا خاتمہ اسلام پر ہو۔ (شفاء السقام ص ۱۰۔۱۴)

    [1]حدیث” من زارقبری” کا متابع اول:

    أبو بكر أحمد بن عمرو بن عبد الخالق بن خلاد بن عبيد الله العتكي المعروف بالبزار (المتوفى: 292هـ) نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَارَ قَبْرِي حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي». ] کشف الاستارعن زائد البزار:جلد۴ ص ۵۷]

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارﷺ نے فرمایا،”جس نے میری قبر کی زیارت کی ،اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔(حافظ نورالدین الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن ابراھیم الغفاری ضعیف ہے لیکن اسے اس سے ضرر نہیں کیوںکہ یہ حدیث متابعات میں سے ہے ،بہرحال اس حدیث سے عقیلی کا یہ کہنا غلط ہو گیا کہ اس حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے کیوںکہ امام دار قطنی نے اس حدیث کو موسیٰ بن ھلال العبدی سے روایت کیا ہے اور امام بزار نے اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن زید از والدازخودروایت کیا ہے،دارقطنی کی روایت میں “وجبت”کا لفظ ہےاور امام بزار کی روایت میں “حلت”کا لفظ ہے۔(شفاء السقام ص ۱۴۔وفاالوفاء جلد ۴ ص ۱۲۳۹)

    [2] حدیث’’من زار قبری” کا متابع ثانی:

    حافظ سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني (المتوفى: 360هـ)اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَبَّادِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاءَنِي زَائِرًا لَا يَعْلَمُهُ حَاجَةً إِلَّا زِيَارَتِي كَانَ حَقًّا عَلَيَّ أَنْ أَكُونَ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

    نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرﷺ نے فرمایا،” جو میری زیارت کو آئے سوا میری زیارت کے اور کسی حاجت کے لیے نہ آیا تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اُس کا شفیع بنوں۔”

    ] ”المعجم الکبیر” للطبراني، باب العین، الحدیث: ۱۳۱۴۹، ج۱۲، ص۲۲۵. [

    حافظ أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: 852هـ)

    نے بھی اس سے استدلال کیا ہے [ التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير جلد 2 ص 569[

    علامہ علي بن عبد الله بن أحمد الحسني الشافعي، نور الدين أبو الحسن السمهودي (المتوفى: 911هـ) نے بھی اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔] وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى جلد 4 ص [170

    [3] حدیث’’من زار قبری” کا متابع ثالث:

    أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينار البغدادي الدارقطني (المتوفى: 385هـ)اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ , نا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ , عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ وَفَاتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي».] ”سنن الدار قطني”، کتاب الحج، باب المواقیت، الحدیث: ۲۶۶۷، ج۲، ص۳۵۱.[

    رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج کیا اور بعد میری وفات (ظاہری)کے میری قبر کی زیارت کی تو ایسا ہے جیسے میری حیات میں زیارت سے مشرف ہوا۔”

    أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى: 458هـ)روایت کرتے ہیں: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ , إِمْلَاءً , أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ , ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ , ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ , ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , ثنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عُمَرَ , عَنِ اللَّيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي “] السنن الكبرى جلد 5 ص 403[

    رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج کیا اور بعد میری وفات(ظاہری) کے میری قبر کی زیارت کی تو ایسا ہے جیسے میری حیات میں زیارت سے مشرف ہوا۔”

    حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنا علي بن حجر وَحَدَّثنا عَبد اللَّهِ بْنُ مُحَمد البغوي، حَدَّثَنا أبو الربيع الزهراني، قَال: حَدَّثَنا علي، حَدَّثَنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَقَالَ أَبُو الربيع، حَدَّثَنا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ قَالا عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ، عنِ ابْنِ عُمَر، قَال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حياتي وصحبني

    ] الكامل في ضعفاء الرجال جلد 3 ص 272[

    عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، مَرْفُوعًا: ” مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي“

    ] شعب الإيمان جلد 6 ص 48[

    [4] حدیث’’من زار قبری” کا متابع رابع:

    حافظ أبو أحمد بن عدي الجرجاني (المتوفى: 365هـ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: حَدَّثَنَا على بن إسحاق، حَدَّثَنا مُحَمد بْنُ مُحَمد بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ شِبْلٍ، حَدَّثني جَدِّي، حَدَّثني مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ، عنِ ابْنِ عُمَر، قَال: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فلم يزرنى فقد جفانى

    ] الكامل في ضعفاء الرجال جلد 8 ص 248[

    رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حج کیا اور میری زیارت نہ کی، اُس نے مجھ پر جفا کی۔”

    [5] حدیث’’من زار قبری” کا متابع خامس:

    امام أبو داود سليمان بن داود بن الجارود الطيالسي البصرى (المتوفى: 204هـ)اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو الْجَرَّاحِ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زَارَ قَبْرِي» أَوْ قَالَ: «مَنْ زَارَنِي كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

    حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت ﷺ نے فرمایا،” جس نے میری قبر کی زیارت کی، ”یا یہ فرمایا،” جس نے میری زیارت کی قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا اور جو دوحرموں میں سے کسی ایک میں مرے گا اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن امن والوں میں اٹھائے گا۔”

    ] مسند أبي داود الطيالسي جلد 1 ص 66[

    [6] حدیث’’من زار قبری” کا متابع سادس:

    أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى بن حماد العقيلي المكي (المتوفى: 322هـ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

    حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَوَّارِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ قَزَعَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ آلِ الْخَطَّابِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: «مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ فِي جِوَارِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

    آل خطاب میں سے ایک شخص روایت کرتے ہیں کہ آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے قصدا میری زیارت کی ،وہ قیامت کے دن اللہ کی پناہ میں ہو گا۔]الضعفاء الكبير جلد 4 ص 361[

    [7] حدیث’’من زار قبری” کا متابع سابع:

    أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينار البغدادي الدارقطني (المتوفى: 385هـ)اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:

    حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ , وَالْقَاضِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ , وَابْنُ مَخْلَدٍ , قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ , نا وَكِيعٌ , نا خَالِدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , وَأَبُو عَوْنٍ ,عَنِ الشَّعْبِيِّ , وَالْأَسْوَدِ بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ هَارُونَ بْنِ أَبِي قَزَعَةَ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ حَاطِبٍ , عَنْ حَاطِبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَارَنِي بَعْدَ مَوْتِي فَكَأَنَّمَا زَارَنِي فِي حَيَاتِي , وَمَنْ مَاتَ بِأَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بُعِثَ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

    حضرتِ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرﷺ نے فرمایا،” جس نے میرے وصال (ظاہری)کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو دوحرموں (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) میں سے کسی ایک میں مرے گا قیامت کے دن امن والوں میں سے اٹھایا جائے گا۔”(سنن الدار قطنی ،کتاب الحج ،رقم ۲۶۶۸، ج۲، ص ۳۵۱)
    [11/11, 12:49 PM] Muhammad Sadeeq Raza: [8] حدیث’’من زار قبری” کا متابع ثامن:

    أبو جعفر محمد بن عمرو بن موسى بن حماد العقيلي المكي (المتوفى: 322هـ)اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ زَارَنِي فِي مَمَاتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي ، وَمَنْ زَارَنِي حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى قَبْرِي كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ قَالَ: شَفِيعًا“

    ]الضعفاء الكبير جلد 3 ص 457[

    [9] حدیث’’من زار قبری” کا متابع تاسع:

    أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ حَمْدَوَيِهِ الصَّفَّارُ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، بِالْمَدِينَةِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ الْكَعْبِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بُعِثَ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ زَارَنِي مُحْتَسِبًا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَ فِي جِوَارِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ “

    [شعب الإيمان جلد 6 ص 50[

    [10] حدیث’’من زار قبری” کا متابع عاشر:

    امام أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي الخراساني، أبو بكر البيهقي (المتوفى: 458هـ)اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، إِمْلَاءً، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قَرِيبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، وَهُوَ يَتِيمٌ لِبَنِي السُّدِّيِّ لَقِيتُهُ بِبَغْدَادَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مَا مِنْ عَبْدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي إِلَّا وَكَّلَ اللهُ بِهَا مَلَكًا يُبَلِّغُنِي، وَكَفَى أَمْرَ آخِرَتِهِ وَدُنْيَاهُ وَكُنْتُ لَهُ شَهِيدًا وَشَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ “]شعب الإيمان جلد 6 ص 50[

    [11] حدیث’’من زار قبری” کا متابع حادی عشر:

    امام مالك بن أنس بن مالك بن عامر الأصبحي المدني (المتوفى: 179هـ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقِفُ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ

    ] الموطأ جلد 2 ص 231[

    [12] حدیث’’من زار قبری” کا متابع ثانی عشر:

    أبو بكر عبد الرزاق بن همام بن نافع الحميري اليماني الصنعاني (المتوفى: 211هـ) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں: عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَتَاهُ»] المصنف جلد 3 ص 576
     
  6. ‏نومبر 11، 2017 #6
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

  7. ‏نومبر 11، 2017 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @سید طہ عارف بھائی! آپ کو میرے مراسلوں سے اندازہ و ہو گا کہ میں اگر کسی مسئلہ پر لکھتا ہوں تو کوشش ہوتی ہے کہ اصل عبارت کو کتابوں سے بحوالہ اور بمع ثبوت پیش کروں!
    یہ طریقہ وقت بھی زیادہ مانگتا ہے! ان شاء اللہ اس پر لکھنا شروع کرتا ہوں!
     
    Last edited: ‏نومبر 11، 2017
  8. ‏نومبر 11، 2017 #8
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    بس یہی کنفرم کرنا تھا کہ آپ نے دیکھ لیا ہے
     
  9. ‏نومبر 11، 2017 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ساری باتیں درست، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کو ان ''بعض فقہاء'' کے ''واجب'' کہنے پر ان کی دلیل کیا ہے؟ یاد رہے کہ یہ وجوب خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لیئے کہا ہے، تو دلیل بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لیئے خاص ہونی چاہیئے، اور دلیل وجوب کی ہونی درکار ہے، نہ کہ مستحب و جائز کی!
    اسی عبارت سے یہ بھی مستفاد ہے کہ دیگر کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت واجب نہیں!
    لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کی کے وجوب پر دلیل کہ قائم نہ ہونے کے سبب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کے واجب ہونے کا مؤقف مردود قرار پاتا ہے!
    میرے علم میں تو منکرین حدیث کےعلاوہ کسی نے ایسی بات نہیں کہی! نہ اہل الحدیث نے، نہ دیوبندیوں نے، نہ بریلویوں نے!
    کسی نے بھی ان قبور کی زیارت کو بدعت، شرک، و ممنوع قرار نہیں دیا!
    اہل سنت والجماعت زیارت قبور کو مسنون سمجھنے ہیں، لیکن ان قبور پر بنائے جانے والے مزار، اور وہاں منعقد کیئے جانے والوں میلو ں ٹھیلوں، اور وہاں کیئے جانے والے عرس و ڈھول تماشے، گانے بجانے، وغیرہ کو بدعت و حرام قرار دیتے ہیں، اور وہاں کیئے جاے والے شرکیہ اعمال جیسے ان مزار کا طواف اور وہاں کی جانے والی مردہ سے نداء و پکار اور دعا و منت و نذر وغیرہ کو شرک قرار دیتے ہیں! اور ان مزارات پر جانے کو ممنوع قرار دیتے ہیں!
    یہ آپ کی غلط فہمی ہے، اہل سنت نے کبھی بھی زیارت قبر کے جواز کا انکار نہیں کیا!
    انہوں نے ان مزارات کی پر جانے کا انکار کیا ہے، جہاں اوپر مذکور اعمال کیئے جاتے ہیں، اور ان اعمال کو حرام و شرک قرار دیا ہے!
    اب دیکھیں! ہم تو اس بات کا اقرار کیئے جا رہے ہیں کہ زیارت قبور بالاجماع نبی صلی اللہ علیہ سے مسنون ثابت ہے، اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں! اور آپ خود اسے متنازعہ باور کرانے پر بضد ہو!
    جبکہ متنازعہ زیارت قبور نہیں، بلکہ ''مزار و قبر پرستی'' ہے کہ جسے ہم حرام و شرک قرار دیتے ہیں، اور آپ زیارت قبور کے پردہ میں اسے متسحب و واجب قرار دینے کے خواہاں ہیں!
    ویسے آپ نے یہ تو ذکر کر دیا کہ زیارت کرنے والو نے زیارت کے مقاصد بدل لیے اور عبرت کی بجائے سیر و تفریح کا ذریعہ بنا لیا، مگر یہ ذکر نہ کیا کہ بہت سے لوگوں نے انن مزاراعت میں قبور کو جائے طواف اور قبلہ سجدہ بنا لیا!
    توحید و ردِشرک کے موضوعات میں زیارت قبور کے نام پر ''قبر و مزار پرستی'' ضرور ایک مستقل موضوع ہے، لیکن ''زیارت قبور'' بالاجماع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مسنون ثابت ہے!
    (جاری ہے)
     
    Last edited: ‏نومبر 11، 2017
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 3
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 11، 2017 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنن دارقطنی کی یہ روایت بالاسناد یوں ہے :
    ثنا القاضي المحاملي , نا عبيد الله بن محمد الوراق , نا موسى بن هلال العبدي , عن عبيد الله بن عمر , عن نافع , عن ابن عمر , قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من زار قبري وجبت له شفاعتي»
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    ”جو شخص میری قبر کی زیارت کرے گا، اس کے لیے میری سفارش واجب ہو جائے گی۔“ [سنن الدارقطني : 278/2، ح : 2669، شعب الإيمان للبيهقي : 490/3، ح : 5169، مسند البرار كشف الأستار : 57/2، ح 1197]
    تبصرہ : اس کی سند ”ضعیف“ ہے، اس کے بارے میں :
    ➊ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    فإن فى القلب منه، أنا أبرا من عهدته
    ”میرے دل میں اس کے بارے میں خلش ہے۔ میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔“ [لسان الميزان لابن حجر : 135/6]
    ◈ نیز اس روایت کو امام صاحب نے ”منکر“ بھی قرار دیا ہے۔ [أيضا]
    ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی ساری بحث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
    ومع ما تقدم من عبارة ابن خزيمة، وكشفه عن علة هذا الخبر، لا يحسن أن يقال : أخرجه ابن خزيمة فى صحيحه إلا مع البيان.
    ”امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی عبارت بیان ہو چکی سے، نیز انہوں نے اس روایت کی علت بھی بیان کر دی ہے، اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے یہ کہنا درست نہیں کہ اس روایت کو امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ ہاں ! وضاحت کر کے ایسا کہا جا سکتا ہے۔“ [ايضا]
    ◈ حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    وهو فى صحيح ابن خزيمة وأشار الي تضعيفه .
    یہ روایت صحیح ابن خزیمہ میں ہے، لیکن امام صاحب نے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔“ [المقاصد الحسنة فى بيان كثير من الأحاديث المشتهرة على الألسنة : 1125]
    ➋ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فيها لين ”اس میں کمزوری ہے۔“ [الضعفاء الكبير : 170/4]
    ➌ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فهو منكر ”یہ روایت منکر ہے۔“ [شعب الإيمان للبيهقي : 490/3]
    ➍ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔ [المجموع شرح المهذب : 272/8]
    ➎ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وهو حديث منكر ”یہ حدیث منکر ہے۔“ [تاريخ الإسلام : 212/11، وفي نسخة : 115/11]
    ➏ حافظ ابن عبدالہادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    وهو مع هذا حديث غير صحيح ولا ثابت، بل هو حديث منكر عند ائمة هذا الشان. ضعيف الاسناد عندهم، لايقوم بمثله حجة، ولا يعتمد علي مثله عند الاحتجاج الا الضعفاء في هذا العلم
    یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ ثابت۔ یہ تو فن حدیث کے ائمہ کے ہاں منکر اور ضعیف الاسناد روایت ہے۔ ایسی روایت دلیل بننے کے لائق نہیں ہوتی۔ علم حدیث میں ناپختہ کار لوگ ہی ایسی روایات کو اپنی دلیل بناتے ہیں۔“ [الصارم المنكي فى الرد على السبكي، ص : 30]
    ➐ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ولا يصح فى هذا الباب شیء . ”اس بارے میں کچھ بھی ثابت نہیں۔“ [التلخيص الحبير : 267/2]
    ◈ نیز فرماتے ہیں :
    وفيه ضعف ”اس روایت میں کمزوری ہے۔“ [اتحاف المهرة : 123/9-124]
    ↰ اس روایت کے راوی موسیٰ بن ہلال عبدی کی توثیق ثابت نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محدثین کرام نے اس کو ’’ مجہول“ اور اس کی بیان کردہ روایات کو ”منکر“ قرار دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :
    ➊ امام ابوحاتم رازی نے اسے ’’ مجہول“ قرار دیا ہے۔ [الجرح والتعديل لابن أبى حاتم : 166/8]
    ➋ امام دارقطنی نے اسے ’’ مجہول“ قرار دیا ہے۔ [لسان الميزان لابن حجر : 136/6]
    ➌ امام عقلیی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    لايصح حديثه، ولا يتابع عليه ”اس کی حدیث ضعیف اور منکر ہوتی ہے۔“ [الضعفاء الكبير : 170/4]
    ➍ اس کے بارے میں امام ابن عدی رحمہ اللہ کے قول وأرجوا أنه لا بأس به [الكامل فى ضعفاء الرجال : 351/6] ذکر کرتے ہوئے حافظ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    فالحق فيه أنه لم تثبت عدالته. ”حق بات یہ ہے کہ اس راوی کی عدالت ثابت نہیں ہوئی۔“ [بيان الوهم والابهام فى كتاب الاحكام : 322/4]
    ↰ حافظ ابن قطان رحمہ اللہ کی یہ بات بالکل درست ہے۔ امام ابن عدی رحمہ اللہ کے اس قول سے موسیٰ بن ہلال عبدی کی توثیق ثابت نہیں ہوئی، کیونکہ جعفر بن میمون نامی راوی کے بارے میں امام صاحب فرماتے ہیں :
    وأرجوا أنه لا باس به، ويكتب حديثه فى الضعفاء . ”مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی حدیث ضعیف راویوں میں لکھی جائے گی۔“ [لكامل : 138/2ء، وفي نسخة : 562]
    ↰ یعنی امام ابن عدی رحمہ اللہ ”ضعیف“ راویوں کے بارے میں بھی یہ الفاظ بول دیتے ہیں۔ ان کی مراد شاید یہ ہوتی ہے کہ یہ راوی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔
    ہماری بات کی تائید علامہ عبد الرحمن بن یحیی یمانی معلی رحمہ اللہ (1313۔ 1386ھ) کے ایک قول سے بھی ہوتی ہے۔ یوسف بن محمد بن منکدر کے بارے میں بھی امام ابن عدی رحمہ اللہ نے بالکل یہی الفاظ کہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے :
    ◈ علامہ یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    هذه الكلمة رأيت ابن عدي يطلقها فى مواضع تقتضي أن يكون مقصوده : أرجوا أنه لا يتعمد الكذب، وهذا منها، لأنه قالها بعد أن ساق أحاديث يوسف، وعامتها لم يتابع عليها.
    ”میں نے کئی ایسے مقامات پر امام ابن عدی کی طرف سے اس کلمے کا اطلاق دیکھا ہے، جہاں ان کے قول کا مقصود یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یوسف (بن محمد بن منکدر) کی بیان کردہ روایات ذکر کرنے کے بعد امام ابن عدی نے ایسا کہا ہے اور ان میں سے اکثر روایات منکر ہیں۔“ [التعليق على الفوائد المجموعة، ص : 51]
    ↰ ثابت ہوا کہ موسیٰ بن ہلال کو واضح طور پر کسی متقدم امام نے ”ثقہ“ قرار نہیں دیا۔ اس کی حدیث ”ضعیف“ اور ”منکر“ ہوتی ہے، جیسا کہ ائمہ کی تصریحات بیان ہو چکی ہیں۔ لہذا حافظ ذہبی رحمہ اللہ [ميزان الاعتدال : 225/4] کا اسے ’’ صالح الحدیث“ کہنا ان کا علمی تسامح ہے، یہ بات درست نہیں۔ ہم نقل کر چکے ہیں کہ خود حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”منکر“ بھی قرار دیا ہے۔ اس لئے حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے اس تسامح کو اس حدیث کی صحت کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ متقدمین ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس حدیث کو ”صحیح“ قرار نہیں دیا۔ اعتبار محدثین ہی کی بات کا ہے ۔
    (از افادات علامہ غلام مصطفٰے ظہیر امن پوری )
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں