1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تحکیم اور تکفیریوں کی تلبیسات کا علمی محاکمہ

'توحید حاکمیت' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏جنوری 25، 2012۔

  1. ‏دسمبر 14، 2013 #41
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی کیا یہ کتاب آپ کے پاس ہے، اور کیا آپ یہ کتاب میرے ساتھ شئیر کر سکتے ہیں؟ کیونکہ مجھے علمی موضوعات پر کتابیں پڑھنے کا شوق ہے۔ میں طرفین کے موقف کو سننے کا قائل ہوں، محض جذبات میں آ کر ایک فریق کی بات سن کر فیصلہ کرنا درست نہیں۔ اسی لیے مجھے جس سے بھی اختلاف ہو جائے وہ میں بیان کرتا ہوں۔

    بھائی امیر حمزہ صاحب کا کام اہل بدعت اور قبوریوں کے متعلق بہت زبردست تھا، میں ان کی کتابیں بہت شوق سے پڑھی ہیں اور ان سے اقتباس بھی ٹائپ کیے ہیں، الحمدللہ، لیکن یہ ماننے کی بات ہے کہ انہوں نے اب جب سے اتحاد مسلمین کے تحت اپنی دعوت کا طریقہ کار بدلہ ہے، اب ان کی باتیں دل کو نہیں لگتیں، اور دین کی دعوت کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا بلکہ نقصان پہنچا ہے۔

    باقی اوپر جو باتیں ہیں ،میں نے یہ باتیں پہلے کیں تھی جب میرا مطالعہ کچھ کمزور تھا، اب مزید مطالعہ کرنے سے کئی باتوں کا پتہ چلا ہے۔ الحمدللہ
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 14، 2013 #42
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے کفر پر ٹھوس دلائل کے پس منظر میں
    (اگرچہ تکفیر نہ کرنے والے علماء بھی ٹھیک ہیں)

    محترم عبدل بھائی انتہائی معذرت کے ساتھ اپنے امیر محترم کے ایک بھائی حامد کمال الدین (جو پہلے کچھ زیادہ متشدد ہو گئے تھے اب ٹھیک ہو گئے ہیں) کی کتاب سے ایک بات لکھتا ہوں
    سبحان اللہ بغیر ما انزل اللہ کو عباد اور بلاد پر (بطور شرع اور قانون) نافذ کر دینے والے کو کافر جاننا ہی تکفیری ہونا ہے تو پھر ہم دیکھیں گے کہ بڑے بڑے ائمہ سنت صاف تکفیری نکلتے ہیں

    محترم بھائیو محترم ڈاکٹر مرتضی بھائی نے شروع میں تحکیم بغیر ما انزل اللہ کو شرک لکھا ہے مگر نیچے خوارج کی تعریف میں اسی کو گناہ کبیرہ لکھا ہے
    اصل میں وہ اوپر جس کو شرک کہنا چاہ رہے ہیں وہ دل کا عقیدہ ہے جسکی وضاحت انھوں نے نیچے جا کر کی ہے میں نے یہ وضاحت اس لئے لکھی ہے تاکہ پڑھنے والوں کو غلط فہمی نہ ہو


    میرا پہلا اعتراض

    محترم ڈاکٹر صاحب نے نیچے وضاحت میں تشریع عام کے مرتکب کو کافر سمجھنے والے علماء کے ایک گروہ کا ذکر کچھ ایسے کیاہے




    مگر اوپر خوارج کی تعریف میں لکھا ہے



    اب آپ اللہ کو گواہ بنا کر بتائیں محترم ڈاکٹر صاحب ہمارے امیرِ محترم کے بھائی کے الفاظ میں دوبارہ نقل کرتا ہوں اور انصاف کی اپیل کرتا ہوں


    سبحان اللہ بغیر ما انزل اللہ کو عباد اور بلاد پر (بطور شرع اور قانون) نافذ کر دینے والے کو کافر جاننا ہی تکفیری ہونا ہے تو پھر ہم دیکھیں گے کہ بڑے بڑے ائمہ سنت صاف تکفیری نکلتے ہیں
    یوسف ثانی
    محمد علی جواد
     
  3. ‏دسمبر 14، 2013 #43
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی کتابی صورت میں تو ہو گی مگر شئیر کرنے والی سافٹ کاپی نہیں شاہد نیٹ پر مل جائے
    آپ کی دوسری بات پر عرض ہے کہ محترم بھائی ایک سچے مسلمان کو واقعی آپ جیسا ہونا چاہئے جیسا اللہ نے فرمایا کہ
    الذین یستمعون القول فیتبعون احسن اولئک الذین ھداھم اللہ واولئک ھم اولو الالباب (یعنی عقل والے بات ہر ایک کی سن لیتے ہیں مگر اتباع حق بات کی کرتے ہیں)
    اللہ ہم سب کو ایسا ہی بنائے امین
     
  4. ‏دسمبر 14، 2013 #44
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی آپ کو مل جائے تو میرے ساتھ شئیر کر دینا۔
     
  5. ‏دسمبر 19، 2013 #45
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    دوسرا اعتراض




    ۔یہ لازم مشہور شرعی قاعدہ کے خلاف ہے
    ''جس کا اسلام یقین سے ثابت ہو جائے اسےمحض شک کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا'' (فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر12صفحہ نمبر466)


    میرا اعتراض
    محترم بھائی اوپر والی باتیں اس وقت ٹھیک ہیں جب آپ کا ان سے معاملہ نہ پڑے مگر معاملہ پڑنے پر اوپر ساری باتیں غیر متعلق ٹہرتی ہیں
    مثلا میں نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہے اور ایک مرد کا رشتہ آیا ہے جو بظاہر دیانتدار، غریبوں کا خیال رکھنے والا دیندار، نمازی ہے البتہ بریلوی ہے اب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق تو مجھے فورا ہاں کر دینی چاہئے کیونکہ شک تو میں کر نہیں سکتا تو میں کیا کروں گا- لازمی بات ہے کہ میں اس سے عقیدہ پوچھوں گا اب اگر وہ ٹال مٹول سے کام لے اور جواب نہ دے تو پھر آپ کا کیا حکم ہے کہ میں شک نہ کروں- اصل میں تو اس کا اقرار لازمی چاہئے
    اسی طرح کفر بواح کے مرتکب حکمران کی اطاعت لازمی نہیں مگر ظالم فاسق کی اطاعت لازمی ہے تو پھر ہمیں اس کے فیصلے کے لئے اس سے کفر بواح کا انکار کروانا لازمی ہے
    مثلا مجھے شک ہے کہ ایک قصائی مردار کا گوشت بیچتا ہے میں اسکے پاس جب جا کر پوچھتا ہوں کہ تم مردار کا گوشت بیچتے ہو تو وہ انکار کی بجائے ٹال جاتا ہے اور جواب ہی نہیں دیتا تو پھر مھی میں کیا لوگوں کو کہوں گا کہ اس سے گوشت خریدو یہ صرف شک ہے
    محترم بھائی انتہائی معذرت کہ میرا دل کسی دوسرے کو ایسی غلط دلیل سے قائل نہیں کرنا چاہتا کہ جس میں میں آگے لا جواب ہو جاؤں پس اسامہ رضی اللہ عنہ کے معاملے میں تکفیریوں نے ہمیں غالبا مرجیءۃ العصر کتاب میں لاجواب کیا ہوا ہے-لیکن محترم بھائی الحمد للہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ دوسرے میرے بھائی جن تکفیریوں سے پاکستان میں جہاد جائز نہ ہونا نہیں منوا سکے وہ میں نے دلائل سے منوا لیا ہے کیونکہ میں انکی جائز دلیل رد نہیں کرتا تو وہ بھی میری جائز دلیل رد نہیں کرتے پس اسامہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ قیاس مع الفارق کا ہے کیونکہ اس میں ایسا تعامل نہیں تھا جس پر ٹال مٹول کرتا تو جب اس کا کوئی عمل ابھی خلاف قول سامنے ہی نہیں آیا تھا تو پھر تو لازمی ہمیں اسکے وقل پر ہی اعتبار کرنا تھا اگر آپ اسامہ کے واقعے پر اسکو قیاس کرنا چاہتے ہیں تو پھر اسامہ رضی اللہ عنہ کے واقعے کو تھوڑا سا تبدیل کریں کہ مقتول منہ سے اسلام کا اقرار کر رہا تھا اور عملی طور پر باقی صحابہ کو شہید بھی ساتھ ساتھ کیے جا رہا تھا تو پھر اسامہ رضی اللہ عنہ کا رد عمل کیا ہوتا کیا اس وقت اسامہ رضی اللہ عنہ اسکے قول پر یقین کرتے-
    محترم بھائی پس اسلام میں اوپر کے پس منظر میں قول یا عمل کو دیکھنے کے لئے مندرجہ ذیل صورتیں ہیں
    1-اگلے انسان کا صرف قول موجود ہو اور عمل نہ ہو مگر ہمیں کوئی اس سے معاملہ نہ پڑا ہو جس سے اقرار بھی لازمی آتا ہو جیسے اسامہ رضی اللہ عنہ والا واقعہ
    2-اگلے انسان کا صرف قول موجود ہو اور عمل نہ ہو مگر ہمیں کوئی معاملہ پڑ گیا ہو جس سے قول یا عمل کو دیکھنا لازمی آتا ہو جیسے اسامہ رضی اللہ عنہ کا دوسرا فرضی واقعہ یا قصایہ والا واقعہ
    اصلاح کی درخواست ہے
    خضر حیات
    محمد علی جواد
     
  6. ‏دسمبر 25، 2013 #46
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    تیسرا اعتراض

    محترم بھائی اوپر رجوع والے قول میں لکھا ہے
    حکمران قانون نافذ کرے اور اسے دستور بنا دے مگر اسکا یہ عقیدہ ہو کہ وہ اس دستور نافذ کرنے میں ظالم ہے تو وہ کافر نہیں ہو گا
    اب محترم بھائی آپ دیکھیں کہ کچھ شیوخ مثلا امین اللہ حفظہ اللہ نے جن کو تحکیم کی وجہ سے کافر کہا ہے وہ قانون نافذ کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا کرنے میں ظالم ہیں
    پس محترم بھائی میں آپ سے زبردستی حکمرانوں کی تکفیر نہیں کروانا چاہتا کیوں کہ یہ خارجی سوچ ہے اور میں اس کے سخت خلاف ہوں اسی لئے میں ایسے حکمرانوں کا معاملہ اصلی کافروں والا قطعی نہیں سمجھتا جیسا کہ اصلی کافر مثلا ہندو یا مرزئی وغیرہ ہیں
    مگر میری جماعت کے جن شیوخ کے پاس انکی تکفیر کے ٹھوس دلائل ہیں انکو تکفیر سے منع کرنے کو بھی شاہد خارجی سوچ کہ سکتے ہیں
    اللہ ہمیں حق پر چلنے کی توفیق دے امین
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں