1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تحکیم / کیا تشریع عام کفر اکبر ہے؟؟؟

'کفر اصغر' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏اپریل 05، 2012۔

  1. ‏اپریل 05، 2012 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​



    تشریع عام کفر اکبر ہے اس قول کی طرف شیخ محمد ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ اور شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ گئے ہیں۔

    انکی دلیل :
    قرآن و سنت میں ایسے حکمران کے کافر (کفر اکبر) ہونے کی کوئی خاص دلیل نہیں ہے اور ان علماء نے بھی صرف تعلیل بیان کی ہے دلیل نہیں ۔ اسے لئے جب شیخ صالح الفوزان نے کتاب التوحید میں شیخ محمد بن ابراہیم کا قول نقل کیا اس کے ساتھ دلیل بیان نہیں کی ۔ نہ شیخ محمد ابراہیم ؒنے اور نہ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے دلیل بیان کی ۔

    شیخ محمد ابراہیم اورشیخ صالح الفوزان کی تعلیل یہ ہے کہ ایسا حکمران جو پوری شریعت کے قوانین کو چھوڑ کر اپنے یا کسی اور کے قوانین کو نافذ کرتا ہے اور اپنے ما تحت سب پرلاگو کر دیتا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اس نے ان قوانین کو اللہ تعالی کے فیصلے سے افضل اور بہتر سمجھا ہے یا اس کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قوانین اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے سے اچھے ہیں ۔

    جواب:
    ان جلیل القدر واجب الاحترام فاضل علماء کی یہ تعلیل درست نہیں ہے مندرجہ ذیل وجوہات ملاحظہ فرمائیں:

    ۱۔تکفیر کے اہم ضوابط میں سے ایک ضابطہ یہ ہے کہ کافر صرف وہ ہے جس کے کفر پر کوئی دلیل موجود ہو قرآن سے یا سنت سے یا اجماع سے ۔ اور اس مسئلے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔

    ۲۔ لازم سے کسی کے کافر ہونے کا استدلال کرنا بھی درست نہیں کیونکہ لازم کا بھی بعض اوقات ثبوت نہیں ہوتا ،یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ حکمران ایسا کرنے کے باوجود بھی ان قوانین کو شریعت کے قوانین سے افضل نہ سمجھتا ہو۔
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    ‘‘یہ لازم نہیں ہے کہ اگر کوئی کہنے والا کچھ ایسا کہے جس سے اللہ تعالی کے اسماء و صفات کی تعطیل مقصود ہو، کہ اس کے عقیدہ میں تعطیل ہے، بلکہ ایسا شخص اسماء وصفات کو ثابت کرنے کاعقیدہ رکھتا ہے لیکن اسے اس لازم کا علم ہی نہیں۔’’(فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر16 صفحہ نمبر461)
    ۳۔ اس لازم کے مسئلہ میں شک ہے کہ اس کا ایسا عقیدہ ہے کہ نہیں ؟ اور جب شک ہوتا ہے تو شک کی بنیاد پر دلیل قائم نہیں ہوسکتی اور شریعت کی حدیں بھی ساقط ہو جاتی ہیں اوریہ تو تکفیر کا مسئلہ ہے جو حدود و تعزیرات سے زیادہ سنگین ہے۔اور اس مشہور قاعدہ کے بھی خلاف ہے ۔ کہ جب احتمال وارد ہوتا ہے تو استدلال باطل ہو جاتا ہے۔

    ۴۔یہ لازم مشہور شرعی قاعدہ کے خلاف ہے
    ’’جس کا اسلام یقین سے ثابت ہو جائے اسےمحض شک کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے خارج نہیں کیا جا سکتا‘‘ ۔ (فتاوی ابن تیمیہ جلد نمبر12صفحہ نمبر466)

    ۵۔ عقیدہ کا تعلق دل سے ہوتا ہے یعنی کسی شخص کا یہ عقیدہ ہے کہ اس نے فلاں چیز کو فلاں سے بہتر سمجھا ہے تو اسکا دل سے تعلق ہے اور دل کے احوال تو صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے جب تک کہ وہ شخص اپنی زبان سے اقرار نہیں کرتا کہ اس نے غیر اللہ کے فیصلہ کو اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلے سے افضل سمجھا ہے اس پر کفر اکبر کا فتوی لگانا درست نہیں۔ اور اس مسئلہ کی دلیل حضرت اسامہ بن زید(رضی اللہ عنہ) کا مشہور قصہ صحیح بخاری اور مسلم میں ضروری ہے ۔جب انہوں نے ایک کافر کو کلمہ طیبہ پڑھنے کے بعد قتل کر دیا ، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) پر شدید غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا :
    کیا تو نے اس کا سینہ کھول کے دیکھا تھا کہ اس نے صرف زبان سے کلمہ پڑھا تھا؟۔۔۔۔۔۔(بخاری،ح6872، 4269،مسلم،273)

    ۶۔اس لازم کے طریقے سے ایسے حکمران پر کفر اکبر کا فتوی لگانے سے دوسری لازم بات نکلتی ہے جس کے کفراکبر نہ ہونے کا اهل السنة والجماعة کااجماع ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص ،جو گھر کا سربراہ ہے اپنے گھر میں شراب خانہ کھول لیتا ہے اور اپنے ماتحت گھر والوں کو یہ کاروبار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اور یہ شخص کسی کی نصیحت سننے کے لئے تیار بھی نہیں ہے تو ایسا شخص کافر (کفر اکبر) نہیں ہے بلکہ کافر (کفراصغر) اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔
    علامہ ابن عبدالبر(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
    ’’اہل السنة والجماعة ، (اہل فقہ اوراہل اثر دونوں کا) اتفاق ہے کسی شخص کو اس کا گناہ اسلام سے خارج نہیں کرتا ہے چاہے یہ گناہ کتنا بڑا کیوں نہ ہو۔‘‘
    (التمہید جلد نمبر16صفحہ نمبر315)
    (نوٹ: ظاہر ہے کفر اورشرک اکبر کے علاوہ گناہ مقصود ہیں)
    ۷۔ یہ لازم بات درست نہیں ہے اسی لیے علامہ محمد بن صالح العثیمین (رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا۔
    ملاحظہ فرمائیں:
    ان کا پہلا قول ،وہ فرماتے ہیں :
    ’’کیونکہ جس نے ایسا قانون نافذ کیا ،جو اسلامی شریعت کے خلاف ہے تو اس شخص نے صرف اس لئے ایسا کیا کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ قانون جو اس نے نافذ کیا ،اسلام سے بہتر ہے اور لوگوں کے لئے زیادہ فائدہ مند ہے‘‘(فتاوی ابن العثیمین جلد نمبر 2صفحہ نمبر143)

    ان کا دوسرا قول کہ جس میں انہوں نے اپنے پہلے قول سے رجوع کیا ،وہ فرماتے ہیں:

    ’’اگر کوئی حکمران قانون نافذ کرے اور اسے دستور بنا دے جس پر لوگ چلتے رہیں اور اس کایہ عقیدہ ہے کہ وہ اس میں ظالم ہے اور حق تو قرآن وسنت میں ہے تو ہم ایسے شخص کو کافر نہیں کہہ سکتے کافر تو صرف وہ ہے جو غیر اللہ کے فیصلے کو بہتر سمجھے یا اللہ تعالی کے فیصلے کے برابر سمجھے۔‘‘

    یہ فتوی( التحذیر فی مسئلہ التکفیر) کیسٹ میں موجود ہے اور اس فتوی کی تاریخ 22/03/1420ھ ہےجیسا کہ اس کیسٹ کےشروع میں بیان کیا گیاہے اورکتابی شکل میں بھی مارکیٹ میں موجود ہے
    اقتباس:
    از مسئلہ تحکیم اور تکفیریوں کی تلبیسات کا علمی محاکمہ


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ علماء کا احترام ہر حال میں کرنا واجب ہے مگر یہ احترام جب تقلید کی شکل اختیار کرے تو اجتناب لازم ہے۔
    الشیخ محمد رح اور الشیخ صالح الفوزان کے علماء سلف ہیں مگر بشر ہیں۔ اور الحمد اللہ مجتہد بھی ۔۔ تو ان کی اس اجتہادی خطا ، جو کہ سلف صالحین کے منہج سے مناسبت نہیں رکھتی، کو بطور منہج لینا اور اس کی ترویج کرنا جائز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی حال تو مقلدین کا ہے جو آجکل مسئلہ تکفیر کو لیکر اختیار کیا گیا اور سلفیوں کو ان شیوخ کے نام پر گمراہ کیا گیا ۔۔۔
    (ذاتی تبصرہ)

    ان ھذہ تذکرۃ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا​
     
  2. ‏اپریل 05، 2012 #2
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیرا عبداللہ بھائی۔۔۔
     
  3. ‏اپریل 07، 2012 #3
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    یار کچھ خوف خدا کرو اور سورہ الشوری کھول کر پڑھ لو::

    اور حدیث عدی بن حاتم بھی دیکھ لینا کتب احادیث میں . . . . جس میں حلال و حرام میں اطاعت ہی کو عبادت لغیر اللہ شمار کیا گیا ہے . . . اس سے پہلے سورہ التوبہ کی ایت :اتخذوا احبارھم و رحبانھم . . . کی تشریح بھی متقدمین کی تفاسیر میں اور حدیث عدی بن حاتم اس کی وضاحت میں . . .

    اتنے روشن سورج کی طرح کے دلائل کے باوجود ایسے مواقف اختیار کرنا جن سے سوائے لادینی نظاموں کو تقویت ملنے کے کچھ حاصل نہ ہوتا ہو. . . اور انگریز کے قوانین کے لیے ، ان کے مستقل نفاذ کے حق میں عذر تراشنا. . . اور پھر انہیں سلف کا منہج قرار دینا ....ا للہ سے ڈرنا چاہیے اس بات پر !

    اور اگر ابن تیمیۃ سلف کی کیتیگری میں آتے ہیں تو ان کا بیان بھی تشریع عام بارے دیکھ لینا. . . . شیخ الفوزان کی کتاب التوحید میں موجود ہے . . جسے اردو ترجمے میں حزف کر دیا گیا ہے . . .اور اسی بیان پر شیخ الفوزان نے تشریع عام کو کفر اکبر شمار کیا ہے . . نہ کہ اپنے گھر سے اس بات کو براآمد فرمایا ہے . . جیسا کہ اکثر سلف سلف کی رٹ لگانے والے حضرات کا "نیک " گمان ہے !!!

    حد والی بات ہی ہے کہ غیر اللہ کی مستقل اطاعت کرنے کو تو اللہ رسول اور سلف سبھی شرک اور کفر قرار دے رہے ہیں اور ادھر ، اطاعت کروانے کے بارے میں بھی کفر اصغر اور اکبر ہونے کا سوال کیا جا رہا ہے . . . !
     
  4. ‏اپریل 07، 2012 #4
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    جناب ، حوالے نہ دیں پیش کریں پھر آگے بات ہوگی. شکریہ. . . .
    قصہ مختصر١:: غصہ سے نیلا پیلا اور پھوپھاں کی بجائے زرا الشیخ محمد بن ابراہیم اور الشیخ صالح الفوزان کے علاوہ کسی اور سے تشریع عام کاثبوت پیش کریں ، تاکہ ہم بھی سورج کی طرح روشن دلائل دیکھ لیں. . .

    اسکا جواب آپ کے نام مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی زبانی::::

    شیخ صفی الرحمن مبارکپوری (رحمۃ اللہ علیہ) م ١٤٢٧ھ
    (برصغیر کے مشہور اہل حدیث عالم دین اور سیرت نبوی پر لکھی گئی شہرۂ آفاق کتاب "الرحیق المختوم" کے مصنف)

    "مودودی صاحب کا ایک نظریہ جس پر وہ بڑی پُختگی کے ساتھہ جمے اور حقیقت یہ ہے کے اسی نظریہ کی بنیاد پر انہوں نے اپنی ایک الگ جماعت کی بنیاد رکھی اور اس نظریہ کو اتنی قوت سے پیش کیا کے بڑے بڑے علماء ان سے متاثر ہوگئے اور انہوں نے بھی اسکو قبول کر لیا۔ اگرچہ ان کی جماعت میں داخل نہیں ہوئے مگر متاثر ہوئے اور اسکو قبول کیا۔ میرے سامنے وہ چیز آئی تو میں بھی کچھہ دنوں تک الجھا رہا لیکن اسکے بعد اللہ تعالٰی نے اس مسئلے کو ایسا صاف کھول دیا کہ کسی قسم کا شک و شبہہ باقی نہیں رہا اور ابھی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا تو آپ کو بھی ان شاءاللہ کوئی شک و شبہہ باقی نہیں رہے گا، اتنا صاف اللہ تعالٰی نے اس کو کھول دیا۔
    مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ کسی کی مستقل اطاعت کی جائے تو یہی اس کی عبادت ہے۔ مسلمان اللہ تعالٰی کی مستقل اطاعت کرتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اس لئے کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ گویا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت جو ہے وہ اللہ تعالٰی کی اطاعت کی ماتحتی میں ہے لہذا آپ کی جب اطاعت کی جائے گی تو اللہ تعالٰی کی اطاعت ہو گی اور یہ عبادت اللہ کی عبادت بنے گی۔ اب وہاں سے انہوں نے ایک دوسرا مسئلہ نکالا کہ اگر کوئی حکومت اللہ تعالٰی کے قانون کی بالا دستی کے بغیر حکومت کر رہی ہو تو اس حکومت کی اطاعت کرنا، یہ اس کی عبادت کرنا ہے اور یہ شرک ہے اور یہیں سے شرک فی الحاکمیت کا نظریہ انہوں نے لیا اور اس کو بڑی قوت کے ساتھہ پیش کیا اور آج تک اس میں بہت سارے لوگ مشغول ہیں۔ اب میں اس کی حقیقت آپ کے سامنے (پیش کرتا ہوں) یعنی سو، دو سو، چار سو، چھہ سو اور کہیں کہیں آٹھہ سو صفحات تک کی کتابیں جو ہیں اس مسئلہ پر لوگوں نے لکھہ ماری ہیں۔ مسئلہ اس قدر الجھا دیا ہے اور اتنی لمبی لمبی بحث کہ اندازہ کرنا مشکل ہو جائے گا، اس لئے میں آپ کے سامنے چند لفظوں مین بہت دو ٹوک طریقے سے اس معاملے کو پیش کرتا ہوں۔
    اطاعت عبادت ہے؟ یا عبادت کچھہ اور چیز ہے اور اطاعت کچھہ اور چیز ہے؟ اسکو آپ سمجھئے! اسکو سمجھنے کے لئے میں آپ کے سامنے ایک یا دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔ میرے سامنے ایک نو جوان آیا جما عت اسلامی کا، باتیں کرنے لگا۔ میں بھی ان سے بات کر رہا تھا۔ اب وہ آیا اپنی دعوت کی طرف کہ صاحب ہماری یہ دعوت ہے، میں نے کہا ہاں میں جانتا ہوں۔ وہ چاہتا تھا کہ میں بھی اسکو قبول کر لوں۔ تو میں نے بولا دیکھو تمہاری یہ دعوت جو ہے صحیح نہیں ہے۔ کہا کیسے صحیح نہیں ہے؟ میں نے کہا کہ اگر یہ بیان تمہارا صحیح ہے کہ کوئی شخص کسی حکومت کی اطاعت کرے اور وہ حکومت اللہ کے قانون کی بالا دستی کے تحت نہ چل رہی ہو تو یہ اطاعت عبادت ہو جائے گی، اگر یہ بات صحیح ہے تو مہر بانی کر کے باہر چلے جاؤ اور کسی مسلمان کو دیکھو کہ وہ سڑک پر با ئیں کنارے سے (ہندوستان میں ہر چیز بائیں کنارے سے چلتی ہے سڑک پر) تو اگر وہ سڑک پر بائیں کنارے سے سائیکل چلا رہا ہو تو اسے کہو کہ بھائی تم ادھر سائیکل مت چلاؤ، اس کنارے میں سائیکل چلانا شرک ہے۔
    اب وہ بڑے زور سے بلبلایا کہا کہ مولانا یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ میں نے کہا میں وہی بات کر رہا ہوں جو تم نے کہی ہے۔ جو بات تم نے کہی ہے میں اسکا نتیجہ بتا رہا ہوں۔ کہا کیسے؟ میں نے کہا یہ حکومت ہندوستان جو ہے اس کی جو حکومت ہے وہ اللہ کے قانون کی بالا دستی کے بغیر ہے یا اللہ کے قانون کی بالا دستی کے تحت ہے؟ کہا کہ نہیں، اللہ کہ قانون کو تسلیم کیے بغیر حکومت کر رہی ہے۔ تو میں نے کہا اس کے جو قوانین ہونگے ان کی اطاعت کرنا شرک ہوگا یا نہیں ہوگا؟ کہا ہوگا۔ تو میں نے کہا اسی کے قانون کا ایک حصہ ہے کہ سائیکل سڑک کے بائیں کنارے چلائی جائیں۔ لہذا اگر کوئی بائیں کنارے سے سائیکل چلاتا ہے اس حکومت کی اطاعت کرتا ہے اور اسی اطاعت کو آپ عبادت کہتے ہیں۔ اور غیر اللہ کی عبادت کو شرک مانتے ہیں لہذا یہ شرک ہوا۔ اب وہ ایک دم پریشان ہو گیا۔ اس نے کہا کہ صاحب آپ ہی بتائیے کے پھر صحیح کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ دیکھو اطاعت دوسری چیز ہے اور عبادت دوسری چیز ہے۔
    ایسا ہو سکتا ہے کہ کبھی ایک ہی عمل اطاعت بھی ہو اور عبادت بھی ہو لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے ایک عمل اطاعت ہو عبادت نہ ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے ایک عمل عبادت ہو اور اطاعت نہ ہو، یہ سب کچھہ ممکن ہے۔ کہا کیسے ہے؟ میں نے کہا آپ سنیں میں بتاتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس آئے انہوں نے پوچھا کہ ﴿ مَا تَعْبُدُونَ ﴾، (تم لوگ کس چیز کی عبادت کرتے ہو؟) قوم نے کہا ( قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ ) (الشعراء: ٧٠-٧١)( کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور انکے لیے مجاور بن کر بیٹھہ جاتے ہیں)۔
    اب یہ بتائیے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم جن بتوں کی عبادت کر رہی تھی کیا وہ ان بتوں کی اطاعت بھی کر رہی تھی؟ وہ بت تو اس لائق سرے سے تھے ہی نہیں کہ کسی بات کا حکم دے سکیں یا کسی بات سے روک سکیں۔ تو یہ قوم جو عبادت کر رہی تھی وہ عبادت تو ہوئی لیکن اطاعت نہیں ہوگی یہاں پر۔ ماننا پڑے گا کہ ہاں بات ٹھیک ہے کہ وہ لوگ اطاعت تو نہیں کر رہے تھے مگر عبادت کر رہے تھے۔ مانا کہ اچھا اور آگے آؤ ذرا سا۔
    عیسائیوں کے متعلق اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کئی جگہ تبصرہ کیا ہے۔ قیامت کے روز پوچھے گا اللہ تعالٰی عیسٰی (علیہ السلام) سے کہ ﴿ أَأَنتَ قُلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـهَيْنِ ﴾ (المائدة: ١١٦) اے عیسٰی (کیا تم نے یہ کہا تھا کہ لوگوں مجھہ کو اور میری ماں کو معبود بنا لو؟) تو عیسٰی (علیہ السلام) فوراً اسکی نفی کریں گے۔ کہیں گے ہم نہیں جانتے۔ جب تک میں زندہ تھا میں انکی دیکھہ بھال کرتا رہا، جب تو نے مجھہ کو اٹھا لیا تو پھر تو انکا نگران تھا میں کچھہ نہیں جانتا کہ انہوں نے کیا کیا۔ اس طرح سے وہ اپنی براءت کریں گے۔ اچھا اسی قرآن میں یہ بتایا گیا ہے عیسائیوں کے تعلق سے اور عیسٰی (علیہ السلام) کی جوعبادت کرتے تھے کہ یہ لوگ ایسے شخص کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان دے سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ وہ عیسٰی (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے اور عیسٰی (علیہ السلام) نفع نقصان نہیں دے سکتے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ عیسٰی (علیہ السلام) کی عبادت جو وہ کر رہے تھے تو کیا انکی اطاعت بھی کر رہے تھے؟ میں نے ان سے پوچھا: عبادت تو ثابت ہوئی، قرآن نے بھی انکے اس عمل کو عبادت ہی کہا ہے، تو کیا عیسائی جو انکی عبادت کرتے ہیں یا کر رہے تھے تو انکی اطاعت بھی کر رہے تھے؟ اطاعت تو نہیں کر رہے تھے۔ عیسٰی (علیہ السلام) نے کبھی حکم نہیں دیا کے میری عبادت کرو، بلکہ اسے منع کیا ہے۔ تو وہ انکی معصیت کر رہے تھے۔ اطاعت کے بجائے نافرمانی کر رہے تھے اور وہ عبادت تھی۔ تو عبادت کے لئے ضروری نہیں ہے کے جسکی عبادت کی جائے اسکی اطاعت بھی کی جائے۔ بغیر اطاعت کے بھی عبادت ہو سکتی ہے اور نافرمانی کے صورت میں بھی عبادت ہو سکتی ہے۔ اسکو عبادت نہیں کہیں گے۔
    یہ مسئلہ ہے، بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ اب صاف ہونے کے بعد آپکو کیا جاننا چاہئیے؟ کسی کے حکم کو ماننا اور بجا لانا یہ اسکی اطاعت ہے۔ اور کسی کے تقرب کے لئے یعنی اسکی رضا کے لئے اور اسباب سے بالاتر ہو کر کے اسکی رضا کی جو صورت ہوتی ہے اس رضا کے لئے کوئی کام کرنا یہ اسکی عبادت ہے۔ تو وہ لوگ عیسٰی (علیہ السلام) کی رضا کے لئے کام کرتے تھے لہذا یہ ان کے عبادت تھی، اور انکی فرمانبرداری نہیں کرتے تھے لہذا اطاعت نہیں تھی۔ ہم نماز پڑھتے ہیں تو اس سےاللہ تعالٰی کی رضا چاہتے ہیں اور اسکا تقرب چاہتے ہیں، اس معنی میں یہ نماز عبادت ہے۔ اور اللہ نے جو حکم دیا ہے اسکو بجا لا رہے ہیں، اس معنی میں یہ اسکی اطاعت ہے۔ اطاعت دوسرے معنی میں ہے عبادت دوسرے معنی میں ہے۔نماز ایک کام ہے مگر اس میں دونوں چیزیں جمع ہیں، اطاعت بھی ہے اور عبادت بھی ہے۔
    اب مولانا مودودی نے چونکہ یہ نقطہ نکالا تھا کہ کسی کی مستقل اطاعت کرنا ہی عبادت ہے لہذا وہ کہتے تھے کہ بندہ اگر اللہ تعالٰی کی اطاعت میں زندگی گزارتا ہے تو ساری زندگی اسکی عبادت ہو جائےگی۔ تو انکے نقطہ نظر سے تو ظاہری بات ہے یہ عبادت ہو جائے گی۔ لیکن ظاہر بات ہے یہ قرآن کا جو نقطہ نظر ہے اسکے اعتبار سے یہ ساری زندگی یہ عبادت نہیں ہو گی۔ اطاعت البتہ ہو گی، اگر اللہ تعالٰی کا حکم وہ بجا لایا ہے تو ساری زندگی اس نے اطاعت کی ہے، اور یہ کار ثواب ہے اور اسکا اسکو ثواب ملے گا۔ لیکن اسکو عبادت نہیں کہیں گے۔ صحیح معنی یہی ہے
    شیخ کی اردو تقریر کے آخر میں موجود سوال وجواب کی نشست سے لیا گیا

    ذاتی تبصرہ
    باقی اگر پھر بھی تسلی نا ہو تو اپنی ذات پر ہی غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اس اطاعت میں آپ بھی آتے ہیں......اور آپ کے پیر و مرشد حامد کمال صاحب بھی اور آپ کے ولی وقت الشیخ ابو بصیر طرطوسی بھی ،.،.،.،.،.،.،. یہ کونسا کفر ہے؟؟؟ کفر اکبر یا کفر اصغر یا موحد پن؟؟
     
  5. ‏اپریل 17، 2012 #5
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    میرے بھائی !

    اس موضوع پر میں نے مستقل بھی لکھا ہے لیکن یہاں متعلقہ باتیں ہی پیش کرتا ہوں:

    پہلی تو بات یہ ہے ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہاں ہم جس چیز پر بات کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟

    قوانین کسی بھی معاشرے کے لیے ::کیا کرنا ہے:: اور ::کیا نہیں کرنا:: کے مجموعے کا نام ہوتا ہے، شریعت اسے حلال و حرام کا نام دیتی ہے کہ کن کن امور کی اجازت ہے اور کیا کیا منع ہیں۔


    تشریع عام:: یعنی عام قانون سازی ۔ ۔ ۔ اسے ہی شریعت سازی کہا جاتا ہے۔

    اوردوسری بات یہ کہ یہاں پر شیخ محمد بن ابراہیم اور شیخ الفوزان کے حوالے سے ہم قانون سازی کی ایسی قسم پر بات کر رہے ہیں جس میں قران و سنت کو یکسر پس پشت ڈال کر لوگوں کی مرضیوں اور خواہشات کو قانون بنایا جاتا ہو۔


    ان باتوں کے اعادے کے بعد اب سورۃ الشوری کی یہ ایت ملاحظہ کریں جو بغیر کسی تشریح کے اپنے مدلول میں نہایت واضح اور صریح ہے ۔

    أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
    کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
    الشوریٰ ::13

    چنانچہ شریعت سازاللہ رب العزت ہے، جو اس کام کو اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کو فارغ خطی دے دے گا، اس کے اللہ کے ساتھ شریک ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے؟؟

    بالکل اسی سیاق میں سورہ توبہ کی ایت اتی ہے کہ عیسائیوں میں حلال و حرام نافذ کرنے کے اختیارات خدائی ہدایت کی بجائے راہبوں اور درویشوں کے ہاتھ میں تھے،جسے اللہ رب العزت نے ::رب بنانا:: قرار دیا ہے !

    اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
    انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو الله کے سوا خدا بنا لیا ہے اور مسیح مریم کے بیٹےکو بھی حالانکہ انہیں حکم یہی ہوا تھا کہ ایک الله کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے.
    التوبہ::
    ٣١

    چنانچہ یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ قوانین سازی میں اللہ رب العزت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات ہی کو استعمال کرنا، اور انہیں لوگوں پر نافذ کرنا، اللہ کے ساتھ شریک بننا ہے۔

    قانون سازی میں اللہ کے اختیار کو جب بندے اپنے ہاتھ میں لیں تو یہ اس باب میں شرک سب سے اوپر کا درجہ ہے . اپ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ کیا اب اپ پر اس کا شرک ہونا واضح ہوا؟؟

    والسلام
     
  6. ‏مئی 12، 2012 #6
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    لاحولاولاقوۃ الا باللہ۔،۔،۔،
    اسے کہتے ہیں قرآن کی آیات کی خود ساختہ تشریحات کا بھیانک انجام۔۔۔

    زرا مجھے ان آیات کی یہ تفسیر احادیث کی روشنی میں سلف صالحین سے ثابت تو کر دیں مفکر اسلام صاحب؟؟؟؟

    چلیں اگر بالفرض آپ کی تشریح کو مان لیا جائے تو پھر دنیا میں صرف کافر ہی بچتے ہیں سوائے انبیاء کے۔،۔،۔
    وہ کیوں؟

    باربروسا نے لکھا::
    زرا اب پھر آپ اس آیت کی تفسیر اپنے اوپر بیان کردہ فہم کی روشنی میں پیش فرما دیں::

    أَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ ۥ هَوَٮٰهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيۡهِ وَڪِيلاً (٤٣)
    ترجمہ:
    کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو (۴۳)

    کیا یہ مشرک ہے؟؟
    ویسے آپکا فارمولا لگانے سے تو جواب مشرک ہی آتا ہے۔،۔،۔،۔

    پھر مزید لکھا:::
    اللہ کی پناہ!
    پھر اس واقع کے مطابق حکم پیش فرما دیں، تاکہ گمراہی واضح ہو جائے۔

    ایک شخص جانتا ہے شراب کی خرید و فروخت حرام ہے مگر وہ اپنے گھر میں اس حرام کاروبار کو شروع کرتا ہے بلکہ وہ زبردستی تمام گھر والوں کو جان سے مار دینے کی دحمکی دے اس حرام کام میں ساتھ شریک کرتا ہے۔،۔،۔،اور اب اس کو یہ کبیرہ گناہ کرتے کئی سال گزر گئے ہیں۔،۔،۔،کیا اسکا اپنے گھر پر اس حرام کاروبار کو جاری رکھنا اور گھر والوں پر نافذ کرنا ۔،۔،۔،۔،۔، اس کے کفر اکبر پر دلیل بن جائے گا؟؟؟
    یا ایک کوئی شخص اپنے بیوی سے زبردستی زنا کا دھندا کرواتا ہے اور وہ کئی سال سے ایسا کرتا چلا آرہا ہے ، تو کیا وہ بھی مرتدہو چکا، کیونکہ اسنے اللہ کے حکم کے زنا سے دور رہو کی مخالفت کی اور اس کے متصادم حکم جاری کیا اور اپنی امارت (گھر) میں نافذ بھی کیا؟؟؟؟

    ہاں اب زرا اوپر بیان کردہ خودساختہ تشریح والا فارمولہ لگائیں اور جواب بتائیں؟؟
    ادھر ادھر بھاگنے سے گریز کی پیشگی درخواست۔۔۔۔
     
  7. ‏مئی 14، 2012 #7
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    الفاظ سے کھیلنے کی اچھی کوشش ہے !

    ڈاکٹر صاحب میں نے اپنی تشریح کہاں کہاں کری جناب؟؟ یہ ذرا پوائنٹ آوٹ تو کریں اور وہ کہاں کہاں سلف کے خلاف ہے؟؟

    کیا اب سلف سے یہ بھی دکھانا پرے گا کہ قانون سازی اللہ کا حق ہے؟؟


    میں نے یہ جو لکھا کہ ::

    :: قانون سازی اللہ کے حق ہے اور جو کوئی اس حق کو اپنے ہاتھ میں لے کر اللہ کو فارغ خطی دے دے گا وہ اس کے ساتھ شریک بنتا ہے ::
    کیا اس سے آپ کو کوئی اختلاف ہے؟؟ نظر تو یہی آرہا ہے کہ اپ اللہ کے اس حق میں شریک بننے والوں کی حمایت کر رہے ہیں . .. .

    اس کا تعلق
    اس سے
    کیا ہے؟؟

    بات تو ہو رہی ہے قانون سازی کی، اللہ کے حق تشریع کی، اور اس میں شرک کی، تو اس ایت کا تعلق ؟؟
    اچھا اب الجبرے کے اس سوال کی طرف اتے ہیں جو اپ نے مجھ پر کرم فرمائی کرتے ہوئے خصوصی طور پر زنبیل سلیمانی سے حآضر کیا ہے.


    اگر ہاں ، تو ان پر بھی یہی اللہ کے حق کو ہاتھ میں لینے کی دفعہ لاگو ہو گی ، اور اگر نہیں تو نہیں .


    پچھلے مراسلے میں کو سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن اب کے رنگ ڈھنگ دیکھتے ہوئے ،میں یہ پوچھنے میں پر مجبور ہوں کہ
    والسلام
     
  8. ‏مئی 16، 2012 #8
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم۔۔۔۔۔۔۔

    آپ نے میرے بارے بہت سی کذب بیانی کی، کوئی افسوس نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الحمد اللہ فورم پر موجود احباب جانتے ہیں ، میں اللہ کی حاکمیت کا قائل اور داعی ہوں، مجھے مزید اس بارے صفائی کی ضرورت نہیں ۔۔۔

    بات تحکیم بغیر ما انزال اللہ کے مسئلے پر، تشریع عام کی بنیاد پر تکفیر معین کے حکم لگانے پر ہو رہی ہے بروسا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات گھمانے کی ضرورت نہیں ، سب واضح ہے
    اور میں نے اوپر پیش کردہ آیت آپ کے اس "تشریع عام" کے شرک ہونے کے جواز میں دے تھی جو آپ نے اوپر خود ساختہ تشریحات پیش کی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چلیں ٹھیک ، یہ گھی اب سیدھی انگلی سے نہیں نکلے گا، ان شاء اللہ میں انگلی ٹیڑھی کر لیتا ہوں کیوں کے مقصد گھی نکالنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دے دیں تاکہ گفتگو کو الجھانے کے لئے آپ کو توانائی مزید صرف نہ کرنی پڑے اور مسئلہ منطقی انجام تک پہنچ جائے۔۔

    کیا آپ کی نظر میں تشریع عام کفر اکبر ہے، باوجود کے فاعل تحکیم بغیر ما انزال اللہ کے حلال، جائز ، بہتر ہونے کا عقیدہ نہ بھی رکھتا ہو؟؟؟؟؟؟؟

    ادھر بھاگنے ، صلواتیں سنانے کی بجائے ، صرف ہاں یا نہ میں جواب درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. ‏مئی 16، 2012 #9
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    جناب آپ کے سوالات کے جوابات کے بعد میں نے بھی ایک سوال کیا تھا::
    اس کا جواب تو دیا ہوتا. . . . تاکہ مجھے، جوا اس فورم پر کم از کم آپ سے "نیا" ہی ہے، تسلی ہوجاتی.

    دوسری بات ::
    مجھے اپ کے سوال کا جواب دینے میں کوئی تامل ہرگز نہیں ہے، اس سے پہلے میں صعرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ اپ "تشریع عام" کس کو کہہ رہے ہیں اور قانون سازی کو کس کا حق تسلیم کرتے ہیں.

    کذب بیانی کی کوشش میں نے بالکل نہیں کی ، البتہ ہر بری محسوس ہوئی بات کے لیے معذرت خؤاہ ہوں . امید ہے درگزر کریں گے.

    والسلام
     
  10. ‏مئی 16، 2012 #10
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اللہ آپ کی سکھم بصیرت دور فرمائے ، میں نے جواب دیا مگر ۔۔۔۔۔۔۔
    الحمد اللہ میں شریعت اور قانون سازی کو صرف و صرف اللہ کا حق سمجھتا ہوں۔


    اللہ خوب جانتا ہے ۔ معذرت کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ کیوں کہ ابھی گفتگو جاری ہے۔
    الزامی سوال۔،۔،۔،۔، میں نےکہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادھر ادھر بھاگنے ، صلواتیں سنانے کی بجائے ، صرف ہاں یا نہ میں جواب درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔

    چلیں آپ سمجھیں مجھے تشریع عام کی تعریف نہیں آتی،،،،،،،،،،،،، آپ تعریف بھی کر دیں اور میرے ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دے دیں تاکہ گفتگو کو الجھانے کے لئے آپ کو توانائی مزید صرف نہ کرنی پڑے اور مسئلہ منطقی انجام تک پہنچ جائے۔۔

    کیا آپ کی نظر میں تشریع عام کفر اکبر ہے، باوجود کے فاعل تحکیم بغیر ما انزال اللہ کے حلال، جائز ، بہتر ہونے کا عقیدہ نہ بھی رکھتا ہو؟؟؟؟؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں