1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تراویح اور سعودی علماء

'فضائل روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جولائی 30، 2011۔

  1. ‏جولائی 30، 2011 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    مسئلہ تراویح اور سعودی علماء

    ڈاکٹر حافظ محمد اسحق زاہد
    1۔صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓسے پوچھا :
    رمضان میں رسول اللہﷺ کی نماز کیسے تھی ؟تو اُنہوں نے جواباًکہا :
    ’’ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرۃ رکعۃ‘‘ (صحیح بخاری: ۲۰۱۳)
    ’’رسو ل اللہﷺ رمضان میں اوردیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ ‘‘
    2۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے، اگلی رات آئی تو ہم جمع ہوگئے، اور ہمیں امید تھی کہ آپؐ گھر سے باہر نکلیں گے لیکن ہم صبح تک انتظار کرتے رہ گئے۔ پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں بات کی تو آپؐ نے فرمایا: مجھے خطرہ تھا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردیا جائے۔ ‘‘ (صحیح ابن خزیمہ :۱۰۷۰،ابن حبان۲۴۰۱، ابویعلی ۳؍۳۳۶، صحیح بخاری ۲۰۱۲ )
    3۔امام مالک نے سائب بن یزید سے روایت کیا ہے کہ ’’حضرت عمر ؓ نے اُبی بن کعبؓ اور تمیم داری ؓ کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا۔‘‘ (موطأ: ۱؍۷۳،مصنف ابن ابی شیبہ ۲؍۳۹۱)
    ان احادیث سے معلوم ہوا کہ
     
  2. ‏جولائی 30، 2011 #2
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    تراویح ہی ماہِ رمضان میں تہجد ہے
    حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپؐ نے اس دوران ہمیں قیام نہیں کرایا،یہاں تک کہ صرف سات روزے باقی رہ گئے، چنانچہ آپؐ نے ۲۳ کی را ت کو ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اتنی لمبی قراء ت کی کہ ایک تہائی رات گزرگئی، پھر چوبیسویں رات کو آپﷺ نے قیام نہیں پڑھایا، پھر پچیسویں رات کو آپؐ نے قیام پڑھایا،یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، پھر چھبیسویں رات گذر گئی اور آپ ؐنے قیام نہیں پڑھایا، پھر ستائیسویں رات کو آپؐ نے اتنا لمبا قیام پڑھایا کہ ہمیں سحری فوت ہوجانے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔‘‘(سنن ترمذی:۸۰۶حسن صحیح،سنن ابی داود:۱۳۷۵،ابن خزیمہ: ۲۲۰۶)
     
  3. ‏جولائی 30، 2011 #3
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    کیا حضرت عمرؓنے بیس تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا؟
    ہم نے موطأ اور مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے سائب بن یزید کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اُبی بن کعب ؓ اور تمیم داری ؓ کوگیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ امام مالکؒ نے جہاں یہ اثر روایت کیا ہے، ا س کے فوراً بعد ایک دوسرا اثر بھی لائے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں کہ یزید بن رومان کا کہنا ہے کہ لوگ عہد ِعمرؓ میں ۲۳ رکعات رمضان میں پڑھا کرتے تھے۔ (موطا:۱؍۷۳) لیکن یہ دوسرا اثر منقطع یعنی ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راوی یزید بن رومان نے عہد ِعمرؓ کو پایا ہی نہیں، اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو تب بھی پہلا اثر راجح ہوگا کیونکہ اس میں یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے دو صحابیوں کوگیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا، جبکہ دوسرے اثر میں یہ ہے کہ لوگ عہد ِعمرؓ میں ۲۳ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ توجس کام کا عمرؓنے حکم دیا، وہی راجح ہوگا، کیونکہ وہ سنت کے مطابق ہے۔
     
  4. ‏جولائی 30، 2011 #4
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    خلاصۂ کلام
    گزشتہ مختصر بحث سے معلوم ہوا کہ نمازِ تراویح کے سلسلے میں رسول اکرمﷺ کی صحیح سنت گیارہ رکعات ہے، اور حضرت عمرؓ نے بھی اسی سنت کو زندہ کیا اور گیارہ رکعات کا التزام کیا۔ جہاں تک کچھ ائمہ کرام کا یہ موقف ہے کہ نمازِ تراویح گیارہ سے زیادہ رکعات بھی پڑھی جاسکتی ہے، تو یہ اس بنا پر نہیں کہ زیادہ رکعات سنت ِنبویؐ سے ثابت ہیں، بلکہ محض اس بنا پر کہ چونکہ یہ نماز نفل ہے، اور نفل میں کمی بیشی ہوسکتی ہے،اس لئے گیارہ سے زیادہ بیس یا اس سے بھی زیادہ رکعات پڑھی جاسکتی ہیں، اور ہمارا خیال ہے کہ کم از کم اتنی بات پر تو سب کا اتفاق ہے، اختلاف صرف اس چیز میں ہے کہ سنت اور افضل کیا ہے؟ تو جب یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی کہ آپﷺ گیارہ رکعات ہی پڑھا کرتے تھے اور رات کی جو نفل نماز عام دنوں میں آپؐ پڑھا کرتے تھے، وہی نماز رمضان میں تراویح کہلاتی ہے، تو یقینی طور پر نمازِ تراویح کے مسئلے میں سنت ِرسولﷺ گیارہ رکعات ہی ہے، باقی نفل سمجھ کر کوئی شخص اگر گیارہ سے زیادہ پڑھتا ہے تو اس پر کوئی نکیر نہیں ہونی چاہئے،البتہ اسے سنت تصور نہیں کیا جاسکتا،اور اسی موقف کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒنے اور سعودی علما نے بھی اختیار کیا ہے۔
    مسئلہ تراویح اور سعودی علما
    سعودی علما کا مسئلہ تراویح میں بالکل وہی موقف ہے جسے ہم نے مندرجہ بالا سطور میں ذکر کیا ہے، جیسا کہ ان کی تصریحات حسب ِذیل ہیں:
     
  5. ‏جولائی 30، 2011 #5
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    1۔ شیخ ابن بازؒ
    ’’والأفضل ما کان النبيﷺ یفعلہ غالبًا وھو أن یقوم بثمان رکعات یسلم من کل رکعتین، ویوتر بثلاث مع الخشوع والطمأنینۃ وترتیل القراء ۃ، لما ثبت فی الصحیحین من عائشۃ رضی اﷲ عنھا قالت: کان رسول اﷲ ﷺ لا یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرۃ رکعۃ…‘‘
    (فتاوٰی اللجنۃ الدائمۃ ۷؍۲۱۲)
     
  6. ‏جولائی 30، 2011 #6
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    سعودی عرب کی فتویٰ کونسل کا فتویٰ
    ’’صلاۃ التراویح سنۃ سَنَّھا رسول اﷲ ﷺ، وقد دلَّت الأدلۃ علی أنہ ﷺ ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدی عشرۃ رکعۃ‘‘ (فتاوٰی اللجنۃ الدائمۃ : ۷؍۱۹۴)
    اس فتوے پر چار سعودی علما کے دستخط ہیں:
    شیخ عبداللہ بن قعود، شیخ عبداللہ بن غدیان، شیخ عبدالرزاق عفیفی، شیخ ابن باز
     
  7. ‏جولائی 30، 2011 #7
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    3۔شیخ محمد بن صالح عثیمین ؒ
    ’’واختلف السلف الصالح في عدد الرکعات في صلاۃ التراویح والوتر معہا، فقیل: إحدی وأربعون رکعۃ، وقیل: تسع وثلاثون، وقیل: تسع وعشرون، وقیل ثلاث وعشرون، وقیل: تسع عشرۃ، وقیل: ثلاث عشـرۃ، وقیل: إحدٰی عشرۃ، وقیل: غیر ذلک، وأرجح ھذہ الأقوال أنہا إحدی عشرۃ أوثلاث عشرۃ لما في الصحیحین عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا… وعن ابن عباس رضی اﷲ عنہما قال: کانت صلاۃ النبي ﷺ ثلاث عشرۃ رکعۃ، یعنی من اللیل (رواہ البخاري) وفي الموطأ عن السائب بن یزید رضی اﷲ عنہ قال: أمر عمر بن الخطاب رضی اﷲ عنہ أبي بن کعب وتمیم الداري أن یقوما للناس بـإحدی عشرۃ رکعۃ‘‘ (مجالس شہر رمضان: ص۱۹)
    سعودی علماء کے مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوا کہ
     
  8. ‏جولائی 30، 2011 #8
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نوٹ:
    شیخ ابن عثیمین ؒنے جو تیرہ رکعات کا ذکر کیا ہے، دراصل ان میں دو رکعات وہ ہیں جنہیں آپﷺ نے ایک دو مرتبہ وتر کے بعد پڑھا تھا، اور علما کا کہنا ہے کہ چونکہ آپﷺرات کے آخری حصے میں وتر پڑھتے تھے اور اس کے بعد فجر کی اذان ہوجاتی تھی، تو شاید آپؐ نے فجر کی دو سنتیں پڑھی تھیں، جنہیں ابن عباس ؓ نے رات کی نماز میں شامل سمجھا، یا پھر آپﷺ نے وتر کے بعد یہ دو رکعات اس لئے پڑھی تھیں کہ وتر کے بعد بھی نفل نماز پڑھنے کا جواز باقی رہے۔ واللہ اعلم!

     
  9. ‏جولائی 30، 2011 #9
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نماز ِوتر اور دعائے قنوت

    نمازِ وتر
    نمازِ تراویح (یا نمازِ تہجد) کے بعد سب سے آخری نفل نماز ’وتر‘ کہلاتی ہے۔ نمازِ وتر کے بارے میں خود آنحضرتﷺنے فرمایا:
    ’’ أوتروا قبل أن تصبحوا ‘‘ (صحیح مسلم:۷۵۴)’’صبح (فجر طلوع) ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔‘‘
    ایک روایت میں ہے کہ ’’وتر (کا وقت) نماز عشاء کے بعد سے طلوعِ فجر تک ہے۔‘‘ (صحیح ابن ما جہ:۵۹۸)
     
  10. ‏جولائی 30، 2011 #10
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    نمازِ وتر کی رکعات
    نمازِ وتر طاق عدد کی نماز ہے اور یہ ایک یا تین یا پانچ یا سات یا نو تک پڑھی جاسکتی ہے کیونکہ احادیث میںایک وتر سے لے کر نو تک کا ثبوت ملتا ہے۔مثلاً
    حضرت ابوایوب انصاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
    ’’ الوتر حق علیٰ کل مسلم فمن أحب أن یوتر بخمس فلیفعل ومن أحب أن یوتر بثلاث فلیفعل ومن أحب أن یوتر بواحدۃ فلیفعل‘‘ (صحیح ابوداود للالبانیؒ :۱۲۶۰)
    حضرت اُمّ سلمہؓ سے مروی ہے کہ
    ’’اللہ کے رسولؐ جب پانچ یا سات وتر پڑھتے تو ان کے درمیان سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیںکرتے تھے۔‘‘(صحیح ابن ماجہ:۹۸۰)
    حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ
    ’’اللہ کے رسولؐ جب پانچ وتر پڑھتے تو ان میں صرف آخری رکعت پربیٹھتے۔‘‘ (صحیح مسلم:۲۳۷)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں