1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تراویح اور سعودی علماء

'فضائل روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جولائی 30، 2011۔

  1. ‏جولائی 30، 2011 #11
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    وتر کی ادائیگی کا طریقہ
    نمازِ وترکی اَدائیگی کے مختلف طریقے احادیث سے ثابت ہیں۔ ان میں سے دو طریقے زیادہ واضح ہیں :
    ایک تو یہ کہ ایک وتر سے لے نو تک جتنے وتر پڑھنے ہوں، اُنہیں اکٹھا پڑھ لیا جائے اور اس صورت میں تین وتروں کے علاوہ باقی صورتوں میں دو تشہد کئے جائیں، ایک آخری رکعت پر اور ایک آخری سے پہلی پر۔
    اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دو دو رکعات پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور آخر میں صرف ایک ہی رکعت پڑھ لی جائے۔ اس کے علاوہ بھی نمازِ وتر کی کئی صورتیں احادیث سے ملتی ہیں جن کی تفصیل امام ابن حزمؒ کی کتاب المُحلّٰی میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
     
  2. ‏جولائی 30، 2011 #12
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    تین وتروں کی ادائیگی کا طریقہ
    تین وتروں کی ادائیگی دیگر وتروں کے مقابلہ میں ذرا مختلف ہے اور وہ اس لئے کہ ان کے بارے میں آنحضرتﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’ ولا تشبھوا بصلاۃ المغرب‘‘ (دارقطنی:۲؍۲۴، بیہقی :۳؍۳۱، حاکم:۱؍۳۰۴)
    ’’وتروں کو نماز مغرب کے مشابہ نہ بناؤ۔‘‘
    فقہاے احناف نے اس کی تیسری صورت بھی ذکر کی ہے اور وہ یہ کہ دوسری اور تیسری رکعت پرتشہد کیاجائے اور یہ نمازِ مغرب کے ساتھ اس لئے مشابہت نہیں کریں گے کہ آخری رکعت میں مغرب کے برخلاف امام اونچی آواز میں تلاوت کرتا ہے۔ واللہ اعلم
     
  3. ‏جولائی 30، 2011 #13
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    وتروں میں قراء ت
    وتروں میں کوئی بھی سورت پڑھی جاسکتی ہے، البتہ آنحضرتﷺ کا عام معمول یہ تھا کہ نمازِ وتر کی پہلی رکعت میں آپﷺ’ سبح اسم ربک الأعلیٰ‘ اور دوسری میں ’قل یٰأیھا الکٰفرون‘ اور تیسری میں ’قل ھو اﷲ أحد‘ پڑھا کرتے تھے۔ (ابن ماجہ:۱۱۷۱، ترمذی…)
     
  4. ‏جولائی 30، 2011 #14
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    وتروں میں قنوت
    یہاں قنوت سے مراد وہ دعا ہے جو دورانِ نماز آخری رکعت میں رکوع سے پہلے یا بعد میں کی جاتی ہے۔ آنحضرتﷺ سے دو طرح کی دعاے قنوت ثابت ہے۔ ایک تو نمازِ وتر کی آخری رکعت میں اور دوسری فرض نمازوں کی آخری رکعت میں۔ فرض نمازوں میں کی جانے والی دُعا کو قنوتِ نازلہ کہا جاتاہے اور یہ دُعا آنحضرتﷺ کسی حادثہ، مصیبت یا جہاد کے موقع پر یا مجاہدین کی مدد کے لئے کیا کرتے تھے اور یہ دعا آپؐ سے رکوع کے بعد مروی ہے۔ (بخاری:۱۰۰۲)
    جبکہ قنوتِ وتر آپ نے بالعموم رکوع سے پہلے ہی کی ہے۔ (صحیح ابوداود:۱۲۶۶، ابن ما جہ:۱۱۸۲)
    اور اس میں بے جا سختی کرنا غیر مناسب ہے، بالخصوص اس لئے بھی کہ خود کئی ایک صحابہؓ سے قنوتِ وتر رکوع کے بعد بھی منقول ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
     
  5. ‏جولائی 30، 2011 #15
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    قنوتِ وتر کی دعائیں
    حضرت حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ نے مجھے قنوتِ وتر کے لئے یہ کلمات سکھائے تھے :
    ’’ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِيْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَعَافِنِيْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لِيْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَإِنَّکَ تَقْضِيْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ إِنَّہٗ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلاَ یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ‘‘ (ابوداود :۱۴۲۵، ترمذی :۴۶۴، بیہقی:۲؍۲۰۹)
    حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ اپنی نمازِ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
    ’’ اَللّٰھُمَّ إِنِيْ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لاَ أُحْصِيْ ثَنَائً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلیٰ نَفْسِکَ‘‘ (ابوداود:۱۴۲۷، ترمذی:۳۵۶۶)
     
  6. ‏جولائی 30، 2011 #16
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    وتروں سے سلام کے بعد
    حضرت اُبی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ وتروں سے سلام پھیر کر تین بار یہ پڑھتے:
    ’’ سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسِ‘‘ (ابوداود:۱۴۳۰)
    ’’پاک ہے بادشاہ ، نہایت پاک ہے۔‘‘
     
  7. ‏جولائی 30، 2011 #17
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا کلیم بھائی جان
    بہت ہی عمدہ
     
  8. ‏جولائی 30، 2011 #18
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاک اللہ واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ کلیم حیدر بھائی جان ، اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق دے۔آمین
     
  9. ‏جولائی 30، 2011 #19
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    پوسٹ کا عنوان ہے [LINK=http://www.kitabosunnat.com/forum/%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D9%88%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D8%B1%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%86-78/%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81-%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AD-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B3%D8%B9%D9%88%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1-1918/#post11038]’’مسئلہ تراویح اور سعودی علماء ‘‘[/LINK] کلیم حیدر بھائی جان آپ نے اس پوسٹ میں بادلائل یہ بات تو ثابت کردی کہ مع تین وترگیارہ رکعات تراویح سنت ﷺ ہے ، لیکن ایک بات میرے ذہن میں باربار جنم لیتی ہے کہ جب سعوی علماء کا فتوی آٹھ رکعات کے سنت ہونے پر ہے تو پھر حرمین شریفین میں بیس رکعات کیوں ہوتی ہیں ۔؟
    ٹھیک ہے کہ دو امام ہیں ایک دس پڑھا کر چلا جاتا ہے اور پھر دوسرا آجاتا ہے ۔تو کیا پہلا امام باقی دس تراویح دوسرے امام کے پیچھے نہیں پڑھتا یایوں کہیں کہ دوسرا امام کیا پیچھے تراویح نہیں پڑھ رہاہوتا ؟ جب پہلا امام دس مکمل کرتا ہے تو پھر پیچھے والا امام آگے مصلے پر آجاتا ہے اور پہلا والا پیچھے چلا جاتا ہے ۔ کیا ایسے ہے یا مختلف ؟ ذرا حقیقت سے مطلع کریں ؟؟
    اگر امام صرف دس پڑھا کر چلا جاتا ہے تو پھر سنت تو آٹھ ہیں وہ دس تراویح کس دلیل پر پڑھاتا ہے ۔؟؟
    جب سعودی کونسل کا فتوی اور سعودی علماء کا فتوی آٹھ کےسنت ہونے پر ہے تو پھر حرمین شریفین میں ابھی تک 20 رکعات کیوں پڑھنے کی اجازت ہے ؟؟ ٹھیک ہے وہاں دو امام ہیں لیکن تراویح تو 20 رکعات ہی ہوتی ہیں ۔
    یہ چند باتیں تھی برائے مہربانی دلائل سے روشنی ڈالیں ۔
    نوٹ
    کوئی بھائی یہ نہ سوچے کہ مجھے دلائل میں کوئی شک ہے میں دلائل کی روشنی میں آٹھ تراویح کو ہی سنت سمجھتا ہوں اور اس پر عمل کرتا ہوں لیکن ذہن میں اشکال تھا اس کو دور کرنے کے لیے یہ پوسٹ کی ہے۔
     
  10. ‏جولائی 30، 2011 #20
    کاشف اکرم وارثی

    کاشف اکرم وارثی مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 28، 2011
    پیغامات:
    10
    موصول شکریہ جات:
    68
    تمغے کے پوائنٹ:
    15

    جزاک اللہ خیرا کلیم بھائی جان

    جی میں بھی گڈ مسلم بھائی کی بات سے متفق ھوں

    اگرچہ پوری پوسٹ بھت معیاری اور مفصل ھے لیکن مندرجہ بالا سوال جوں کا توں ھے۔

    میں نے کویت میں اکثر دیکھا ھے کہ امام صاحب ایک دو تراویح پڑھا کر نماذیوں سے پوچھتے ھیں کہ سورۃ اور لمبی کروں یا اور چھوٹی۔ کیا ایسا کرنا درست ھے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں