1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ تقدیر

'ایمانیات' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏ستمبر 16، 2013۔

  1. ‏ستمبر 16، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    [​IMG]
    سوال : اﷲ تعالیٰ نے جب سب کچھ لکھ دیا ہے کہ انسان دْنیا میں جا کر یہ کام کے گا ۔ نیک بخت ہوگا یا بد بخت 'جنتی ہوگا یا جہنمی۔ تو ہمارا کیا قصور ہے جب کوئی کسی کے مقدر میںلکھا ہے تو اْسے پھر سزا کیوں دی جائے گی؟قرآن وسنت کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں۔

    جواب: مسئلئہ تقدیر اِن مسائل میں سے ہے جن کے متعلق بحث و تمحیص کرنا شرعاً منع ہے کیونکہ اِس کے متعلق بحث وتکرار سے اَجر کی محرومی 'بدعملی اور ضلالت کے سوا کچھ نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے :
    ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب پر اِس حالت میں نکلے کہ وہ مسئلئہ تقدیر پر بحث کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر اِس قدر غْصّے میں آگئے معلوم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پہ انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اِس کا حکم دیئے گئے ہو یا تم اِس کام کے لیے پیدا کیے گئے ہو؟ اﷲکے قرآن کی بعض کے سا تھ ٹکراتے ہو ؟ اِسی وجہ سے پہلی اْمتیں ہلاک ہوگئیں۔''(ابن ماجہ (۸۵) ۱/ ۲۳ مصنف عبدالرزاق (۶۰۳۲۷) ۱۱ / ۲۱۶' مسند احمد ۲ / ۱۷۸'۱۸۵'۱۹۵)
    اﷲ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے اندر کئی مقامات پر بیان کیا ہے کہ ہم نے خیر وشر دونوں کا راستہ دکھا دیا ہے اور انسان اختیار دیا ہے کہ جس راستے کو چا ہے اختیار کر لے ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    ''ہم نے اْس کو راستہ دکھادیا ہےخواہ وہ شکرگزار بنے یا نا شکرا۔''(الدھر : ۳)
    ایک اور مقام پر فرمایا:
    ''ہم نے اْسے دونوں راستے دکھا دیئے۔" (البلد : ۱۰)
    اِن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲتعالیٰ نے انسان کو خیروشرکے دونوں راستے دکھا دئیےہیں اور اْسے عقل وشعور دیا ہے کہ اپنے لیے اِن دونوں راستوں میں سے جو صحیح راستہ ہے اختیار کرلے۔ اگر انسان سیدھے یعنی خیروبرکت والے راستے کو ا ختیار کرے گا جہنم کے درد ناک عزاب سے اپنے آپ کو بچالے گا اور اگر راہِراست کو ترک کرکے ضلالت و گمراہی اور شیطانی راہ پرگامزن ہوگاتوجہنم کی آگ میںداخل ہوگا۔ اﷲتعالیٰ نے جو تقدیر لکھی ہے اْس نے اپنے عِلم کی بنیاد پر لکھی ہے کیونکہ اﷲتعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں وہ ہر شخص کے متعلق تمام معلومات رکھتا ہے۔ اْس کو معلوم ہے کہ انسان دنیا میں کیسے رہے گا ؟ کیا کرے گا؟ اْس کا انجام کیا ہوگا؟ اِس لیے اللہ نے اپنے عِلم کے ذریعے سب کچھ پہلے ہی لکھ دیا ہے کیونکہ اْس کا عِلم و اندازہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا اور تقدیر میں لکھی ہوئی اْس کی تمام باتیں ویسے ہی وقوع پذیر ہوں گی جس طرح اْس نے قلمبند کی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لیجئے کہ اﷲ کے کمالِ عِلم واحاطئہ کلی کا ذکر ہے۔ اِس میں یہ بات نہیں کہ انسان کو اْس نے اِن لکھی ہوئی باتوں پر مجبور کیا ہے۔
    اِس لیے یہ بات کہنا صحیح نہیں ہوگی کہ زانی و شرابی ،چور و ڈاکو وغیرہ جہنم میں کیوں جائیں گے؟ کیونکہ اْن کے مقدر میں ہی زنا کرنا ،شراب پینا ، چوری کرنا اور ڈاکے وغیرہ ڈالنا لکھا ہوا تھا۔ اِس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ ایک اْستاد جو اپنے شاگردوں کی ذہنی وعلمی صلاحیتوں اوراْنکےلکھنے پڑھنے سے دلچسپی وعدم دلچسپی سے اچھّی طرح واقف ہے اپنے عِلم کی بنا پر کسی ذہین و محنتی طالب عِلم کے بارے میں اپنی ڈائری میں لکھ دے کہ یہ طالب عِلم اپنی کلاس میں اوّل پوزیشن حاصل کرے گا اور کسی شریر اور غبی و کند ذہن طالب عِلم کے بارے میں لکھ دے کہ وہ امتحان میں ناکام ہوگا اور کند ذہن و لائق طالب عِلم دونوں کو کلاس میں برابر محنت کرائے اور اکٹھا اْنہیں سمجھائے لیکن جب امتحان ہو اور ذہین و لائق طالب عِلم اچھّے نمبر حاصل کر کے اوّل پوزیشن حاصل کرلے اور کند ذہن طالب عِلم ناکام ہو جائے تو کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ لائق طالب عِلم اِس لیے کامیاب ہوا کہ استاد نے پہلے ہی اپنی ڈائری میں اْس کے متعلق لکھ دیا تھا کہ وہ اوّل پوزیشن حاصل کرلے گا اور کند ذہن اِس لیے فیل ہوا کہ اْس کے متعلق اْستاد نے پہلے ہی لکھ دیا تھا کہ وہ فیل و ناکام ہوگا ۔ لہٰذا اِس بے چارے کا کیا قصور اور گناہ ہے؟ یقینا سمجھدارانسان یہ نہیں کہےگا کہ اِس میں اْستاد کا قصور ہے۔ اِس لیے کہ اِس میں اْستاد کی غلطی نہیں کیونکہ وہ دونوں کو برابر سمجھتا رہا کہ امتحان قریب ہیں، محنت کرلو ورنہ فیل ہو جاؤ گے۔ اْستاد کی ہدایت کے مطا بق لائق و ذہین طالب عِلم نے محنت کی اور نا لا ئق و شریر طالب عِلم اپنی بْری عادات میں مشغول رہا اور اپنا وقت کھیل کود اور شرارتوں میں صرف کردیا۔
    اِسی طرح اﷲ تعالیٰ جس کا عِلم بلاشبہ پوری کائنات سے ذیادہ اکمل و اتم ہے،اْس سے کوئی چیز مخفی و پوشیدہ نہیں، اْس نے کامل عِلم کی بنا ء پر ہر انسان کے دنیا میں آنے سے قبل ہی لکھ دیا ہے کہ یہ بدبخت ہوگا یا نیک بخت؟ جنتی ہوگا یا جہنمی؟ مگر اِن سے اختیارات اور عقل و شعور سلب نہیں کرتا البتہ اْن کی راہنمائی کرتے ہوئے اچھّے اور بْرے راستوں میں فرق اپنے انبیاء و رْسل بھیج کر کرتا رہا ہے اور سلسلئہ نبوت ختم ہو جانے کے بعد ورثعۃالانبیاء صالح علماء کے ذریعے کا ئنات میں اْنہیں ایمان و اعتقاد اور اعمالِ صالحہ کی دعوت دیتا ہے۔ کفروشرک، معصیت اور گناہ سے منع کرتا ہے۔ جہنم کے عذاب اور حساب و کتاب اور قیامت کی ہولناکیوں سے ڈرتا ہے۔اِن تمام احکامات کے باوجود جب کافر اپنے کفر اور طغیان پر اڑا رہتا ہے، فاسق اپنے فسق و فجور سے توبہ نہیں کرتا تو اْس کے اِن برْے اعمال پر اگر اﷲتعالیٰ اْس کو سزا دے تو اِس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔ یہ تو عین عدل و انصاف ہے اِس کے بر خلاف نیک و بد اور کافر و مومن سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا عین ظلم و نا انصافی ہے ۔
    http://www.islamicmsg.org/index.php...l/kitab-ul-aaqaid-wa-tareekh/21-masla-taqdeer
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 16، 2013 #2
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,245
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    السلام علیکم۔۔۔

    مسئلہ تقدیر پر صحابہ کرام کا عمل!
    جب صحابہ کرام نے تقدیر کی آیات واحایث سنیں تو ان کے اندر عمل کا نیا ولولہ اور نیا جذبہ پیدا ہوگیا اس بارے میں یہ حدیث ملاحظہ کیجئے۔۔۔​
    عن عباس رضی اللہ عنہ قال رجل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انعمل فیماجرت بہ المقادیروجف القلم او شئی ناتفنہ قال بل بما جرت بہ المقادیر وجف بہ القلم قال فغیم العمل قال اعمل فکل میسر لما خلق لہ (رواہ الطبرانی والبزار، بنحوہ الا انہ قال فی آخرہ، فقال القوم بعضھم لبعض فالجد اذا مجمع الزوائد صفحہ ٤٠٠ جلد ٤)۔۔۔

    یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ہم تقدیر کے موافق عمل کرتے ہیں یابغیر تقدیر اور بغیر لکھے عمل کو سرانجام دیتے ہیں اور اسکی اپنی طرف سے ابتداء کرتے ہیں کیا اللہ کے یہاں پہلے سے اس عمل کا ذکر یار ریکارڈ نہیں ہے۔۔۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!۔
    تم اللہ کے لکھے اور پہلے سے محفوظ ہوئے عمل کو ہی کرتے ہو یہ طبرانی کی روایت ہے اور اسکو بزار نے بھی روایت کیا ہے اسکے آخر میں ہے کہ صحابہ کرام نے یہ سن کر ایک دوسرے سے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اعمال کو مزید کوشش کرکے کرنا چاہئے۔۔۔ اسی مضمون کی ایک دوسری حدیث کچھ اسطرح ہے۔۔۔

    عن سراقۃ بن مالک بن حعشم رضی اللہ عنہ قال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئا قد فرغ منہ ام نستانف العمل قال بل العمل قد فرغ منہ فقال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فغیم العمل فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کل میسرلہ عملہ قال یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الآن الجد الآن الجد (رواہ الطبرانی مجمع الزوائد صفحہ ٤٠١)۔۔۔
    یعنی سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم جو عمل کرتے ہیں ان اعمال کو ہمارے کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی نے اپنے پاس لکھ کر ان سے فراغت حاصل کرلی ہے یا ہم ان اعمال کی اپنی طرف سے ابتداء کرتے ہیں اللہ تعالٰی ن ان کو نہ لکھا ہے نہ ہمارے کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے؟؟؟۔۔۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اعمال کو لوگوں کے کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی نے اپنے پاس لکھ کر ان سے فراغت حاصل کرلی ہے۔ سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہمیں ان اعمال کے کرنے کی کیا ضرورت ہے؟؟؟۔۔۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص کے لئے اسکے عمل کو آسان کردیا گیا ہے جو اس پر لکھا گیا ہے سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو ہم ہر عمل کو سخٹ محنت اور لگن سے کیا کریں گے اور سراقہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات دوبارہ کہی۔۔۔

    اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور حافظ ہمثمی نے مجمع الزوائد میں کہا کہ اسکے تمام راوی صحیح ہیں۔۔۔
    امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو شرح وتفسیر میں کہا ہے کہ اس واقع سے صحابہ کرام کی فقاہت کا بخوبی اندزہ ہوجاتا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ دین اسلام کے امور کی کتنی سمجھ رکھتے تھے جب ان صحابہ کرام کو تقدیر کی احادیث سے معلوم ہوا کہ مقاصد کے حصول کو اللہ تعالٰی نے اسباب سے جوڑ رکھا ہے اور ہر مقصد جس سبب سے تعلق رکھتا ہے اس مقصد کا حصول اس سبب کے حصول اور وجود پر موقوف ہوتا ہے پس انسان اپنے اس مقصد کے حصول کیلئے اس سبب کو ڈھونڈ کر حاصل کرے گا اور اس سبب کے حصول کیلئے دن رات انتھک محنت کریگا کہ اسکے وجود وحصول سے اس کا مقصد حاصل ہو۔۔۔
    واللہ اعلم۔۔۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 17، 2013 #3
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    جزاکم اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 27، 2016 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,134
    موصول شکریہ جات:
    8,179
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  5. ‏اگست 14، 2017 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,235
    موصول شکریہ جات:
    1,064
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    محترم شیخ!
    یہ کون ہیں؟
     
  6. ‏اگست 14، 2017 #6
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,056
    موصول شکریہ جات:
    313
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    یہ ڈاکٹر غلام مرتضی ٰ ملک ؒ ہیں ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں