1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ رویت ہلال سے متعلق محدث العصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا فیصلہ

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن لاہوری, ‏جولائی 20، 2013۔

  1. ‏اگست 26، 2013 #11
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    کچھ حصہ دھاگہ سے کوٹ کیا گیا ھے اس پر اگر صاحب تھریڈ یا کوئی بھی صاحب علم جسے اس پر اتفاق ہو تو اسے ثابت بھی کر کے دکھائے کہ یہ کیسے ممکن ھے، آسانی کے لئے ایک نقشہ اٹیچ کر رہا ہوں تاکہ سمجھانے میں آسانی ہو۔ وہی حصہ لے جو ثابت کرنے پر کوشش کر سکتا ھے اس کے علاوہ فضول کی بحث سے اجتناب برتیں۔

    [​IMG]

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 26، 2013 #12
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    اس مسئلے کی بہترین وضاحت فضیلۃ الشیخ کیلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اسلام کا نظام فلکیات میں کی ہے جسکو انتظامیہ نے اس تھریڈ سے الگ کر دیا۔۔
    اسکو یہاں منسلک کیا جائے۔۔۔
    شاکر
     
  3. ‏اگست 27، 2013 #13
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

  4. ‏اگست 27، 2013 #14
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    جزاک اللہ خیر شاکر بھائی۔
    پر میرا ارادہ خاص وہی پیج کا پوسٹ کرنا تھا جو میں نے کئے ہیں دوسرے تھریڈ میں۔۔
    لیکن سمجھنے والے کیلئے یہ بھی کافی ہے اس کتب کے صفحہ 65 سے مطالعہ کریں۔۔
     
  5. ‏اگست 27، 2013 #15
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 27، 2013 #16
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310


    جزاک اللہ خیر ۔۔
    لیکن یہ آپ کو وحدت رٕوٴیت اور اختلاف مطالع والے تھریڈ میں پوسٹ کرنا تھا یہاں امام البانی کے موقف پر ہی رہا جاتا تو بہتر تھا اسی وجہ سے انتظامیہ نے اس کو الگ کیا۔۔
     
  7. ‏اگست 27، 2013 #17
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    یہ کتاب اختلاف مطالع کے حق میں پیش کی گئی لحاظہ ضروری تھا کہ دوسرے موقف کے حق میں بھی علمی و تحقیقی مواد پیش کیا جائے۔۔۔
    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 27، 2013 #18
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

  9. ‏اگست 28، 2013 #19
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    چونکہ میں نے اس کتاب کا دوبارہ سے مطالعہ کرنا شروع کیا ہے اسلئے دوران مطالعہ جو بھی اشکالات پیش آئیں گے وہ لکھوں گا۔۔۔

    حضرت شیخ عبد الرحمن کیلانی رحمہ اللہ کتاب کے صفحہ نمبر ۷۵ پر فرماتے ہیں:

    [​IMG]
    شیخ رحمہ اللہ حدیث کریب میں مذکور لفظ "شام" سے مراد "شہر دمشق" لی ہے اور پھر دمشق اور مدینہ النبی یا دمشق اور مکہ مکرمہ میں مطلع کا اختلاف اور اس کی حدود وغیرہ ذکر کی ہیں۔​
    جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ حدیث کریب میں "الشام" کا لفظ آیا ہے اور یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ اسلامی سلطنت میں شام کی سرحدیں موجودہ شام (سوریا) (اللہ اس کی حفاظت فرمائے اور اسلام کو وہاں فتح عطاء فرمائے) سے کئی گناہ وسیع تھیں۔ اسلامی سلطنت کے شام میں موجودہ دور کے کئی ممالک جیسے لبنان، اردن، فلسطین اور اسرائیل (اللہ یہود اور ان ساتھیوں کو غارت کرے اور اسلام کو وہاں فتح عطاء فرمائے) وغیرہ بھی شامل تھے۔ تفصیل کیلئے یہاں دیکھئے:​
    الشام أو سوريا التاريخية، أو سورية الطبيعية (من اليونانية: Σύρια؛ واللاتينية: Syria؛ نقحرة: سيريا)، هو اسم تاريخي لجزء من المشرق العربي يمتد على الساحل الشرقي للبحر الأبيض المتوسط إلى حدود بلاد الرافدين. تشكّل هذه المنطقة اليوم بالمفهوم الحديث كل من: سورية ولبنان والأردن وفلسطين التاريخية (الضفة الغربية وقطاع غزة والأراضي التي اُنشئت عليها إسرائيل في حرب 1948)، بالإضافة إلى مناطق حدودية مجاورة،[1] تشمل المناطق السورية التي ضُمت إلى تركيا أبّان الانتداب الفرنسي على سورية، وقسمًا من سيناء والموصل، وعند البعض فإن المنطقة تتسع لتشمل قبرص وكامل سيناء والعراق.[2]
    معلوم ہوا کہ سلطنت اسلامیہ میں شام سے مراد "بلاد الشام" یا "ملک شام" ہے جس کی سرحدیں اردن، لبنان، اسرائیل اور عراق کے شہر موصل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ شیخ رحمہ اللہ نے پھر شام سے مراد دمشق کیوں لیا؟ اگر ایسا ہی تھا تو کریب نے شام کی بجائے دمشق کا لفظ کیوں نہیں بولا، پھر یہ کہ اگر شام سے مراد دمشق ہے تو پھر "اہل شام" سے مراد بھی "اہل دمشق" ہی ہونا چاہئے۔۔۔​
    یہ اشکال میں نے بلا وجہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی یہ کوئی معمولی سی بات ہے بلکہ شام سے صرف دمشق مراد لینے سے کتنا بڑا فرق پڑ جاتا ہے اس کی وضاحت میں اگلی پوسٹ میں کرونگا ان شاء اللہ۔۔۔​
     
  10. ‏اگست 28، 2013 #20
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    بھائی مجھے تو آپ کے اشکال کی سمجھ کچھ خاص نہیں آئی۔
    البتہ جو سمجھ آیا وہ یہ کہ آپ کی نظر میں شام اور دمشق دو الگ ملک ہیں۔
    اگر ایسا ہے تو بھائی یہ آپ کی غلظ فہمی ہے۔۔
    یہ دیکھیں۔۔
    جمہوریہ شام کا دارالحکومت اور دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک۔ اسے الشام بھی کہا جاتا ہے۔ سطح سمندر سے 2260 فٹ کی بلندی پر آباد ہے۔، اس کے چاروں طرف باغات اور مرغزار ہیں۔ جن کے گرد پہاڑیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ زمانہ قدیم میں یہ شہر علی الترتیب آرمینی ، آشوری ، اور اہل فارس کے زیر تسلط رہا۔ 333 ق م میں اسے سکندر اعظم نے تسخیر کیا اور 62 ق م میں یہ رومی سلطنت کا صوبائی مرکز بنا۔

    635ء خلافت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں اس شہر پر اسلامی پرچم لہرایا۔ 661ء تا 741ء خلافت امویہ کا صدر مقام رہا۔ عباسیوں نے برسراقتدار آنے کے بعد بغداد کو دارالخلافہ بنایا لیکن دمشق کی اہمیت پھر بھی باقی رہی۔ صلیبی جنگوں کے دوران یہ شہر کافی عرصہ میدان کارزار بنا رہا۔ 1260ء میں ہلاکو خان نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ایک سو سال بعد اسے امیر تیمور نے فتح کیا۔ 1516ء میں عثمانی ترک اس پر قابض ہوئے ۔ جب شام فرانس کی تولیت میں دیا گیا تو شہر حلب (Aleppo) کے ساتھ دمشق بھی ملک کا دارالحکومت رہا۔ 1946ء میں آزاد شام کا دارالحکومت بنا۔
    متجر للشرقيات في دمشق القديمة
    http://ur.wikipedia.org/wiki/دمشق
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں