1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ رویت ہلال سے متعلق محدث العصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا فیصلہ

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن لاہوری, ‏جولائی 20، 2013۔

  1. ‏اگست 28، 2013 #21
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم بھائی آپ نے بالکل درست فرمایا آپ کو واقعتا میرے اشکال کی سمجھ نہیں آئی اس لئے آپ نے دوبارہ ایک غلط فہمی کی بنیاد میرا اشکال رفع کرنے کی کوشیش کی ہے۔
    جی نہیں! آپ کو غلط سمجھ آئی ہے۔۔۔ یہ میرا اشکال قطعا نہیں ہے۔
    ایسا ہر گز نہیں ہے محترم بلکہ یہاں تو آپ شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔۔۔

    اشکال یہ ہے کہ روایت میں لفظ "الشام" سے مراد دمشق کیوں لی گئی؟ شام ایک ملک کا نام تھا جس کی سرحدیں موجودہ شام (سوریا) سے کئی گناہ وسیع تھیں اور اس میں بے شمار شہر تھے دمشق کے علاوہ بھی تو پھر "الشام" سے مراد "دمشق" کیوں لیا گیا؟ اور اگر "الشام" سے مراد "دمشق" ہی ہے تو پھر "اہل الشام" سے مراد بھی "اہل دمشق" ہوگا؟

    یہ ہے میرا اشکال۔۔۔ میری دیگر احباب سے گزارش ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھائی میرے اشکال کو صحیح طرح سمجھ سکا ہے تو اس کی وضاحت کر دے۔۔۔ورنہ اس طرح تو میری ہر پوسٹ پر غلط فہمی کی بنیاد پر اعتراض ہی ہوتے رہیں گے۔۔۔

    شکریہ۔۔۔
     
  2. ‏اگست 28، 2013 #22
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    جیسا کہ میں نے ذکر کیا اسلامی سلطنت میں شام کی سرحدیں آج سے کئی گناہ وسیع تھیں۔ معلوم ہونا چاہیئے کہ شام کو انگریزی میں "Levant" کہتے ہیں یعنی "ملک شام" جس میں آج کے کئی عرب ممالک بھی شامل تھے۔ یہ ہے ملک شام کا نقشہ:


    [​IMG]
    اس بنا پر میرا سوال یہ تھا کہ شام سے مراد تو شام یعنی levant ہوتا ہے تو پھر دمشق کیوں مراد لیا گیا؟​
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 28، 2013 #23
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    محترم کیفیت اللہ صاحب
    یہ پڑھ کر تو ہماری کیفیت ہی بدل گئی
    میرے والد محترم نور اللہ مرقدہ نے رویت ہلال سے متعلق کئی صفحات پر محیط ایک بسیط مضمون لکھا ہے انشاء اللہ جیسے ہی کمپوژنگ کے مراحل سے گزرجاؤں گا پیش خدمت کردوں گا
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 28، 2013 #24
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    ابتسامہ۔۔۔
    معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔ اپنے موقف پر نہیں بلکہ نام غلط لکھنے پر۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 29، 2013 #25
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم


    [​IMG]
    ملک شام، بلد الشام کا انگلش نام syria، عربی میں السوریہ ھے، شہر دمشق اس کا دارالخلافہ ھے۔ لال رنگ کی لائن سے اسے ظاہر کیا ھے۔​
    مشرقی بحر روم:Levant​

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 29، 2013 #26
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم کنعان بھائی آپ کو پھر سے غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔ شہر دمشق ہمیشہ سے ملک شام کا دار الخلافہ رہا ہے۔۔۔ اس کا انکار میں نے کب کیا ہے۔۔۔ لیکن جو نقشہ آپ نے پیش کیا ہے یہ موجودہ شام یعنی سوریہ کا نقشہ ہے جبکہ اسلامی سلطنت میں ملک شام اس سے بہت زیادہ بڑا تھا۔۔۔ درج ذیل کو غور سے پڑھئے۔۔۔
    الشام أو سوريا التاريخية، أو سورية الطبيعية (من اليونانية: Σύρια؛ واللاتينية: Syria؛ نقحرة: سيريا)، هو اسم تاريخي لجزء من المشرق العربي يمتد على الساحل الشرقي للبحر الأبيض المتوسط إلى حدود بلاد الرافدين. تشكّل هذه المنطقة اليوم بالمفهوم الحديث كل من: سورية ولبنان والأردن وفلسطين التاريخية (الضفة الغربية وقطاع غزة والأراضي التي اُنشئت عليها إسرائيل في حرب 1948)، بالإضافة إلى مناطق حدودية مجاورة،[1] تشمل المناطق السورية التي ضُمت إلى تركيا أبّان الانتداب الفرنسي على سورية، وقسمًا من سيناء والموصل، وعند البعض فإن المنطقة تتسع لتشمل قبرص وكامل سيناء والعراق.[2]
    یعنی الشام یا تاریخی سوریہ درج ذیل علاقوں پر مشتمل تھا:
    سورية (موجودہ شام یعنی سوریہ) ولبنان والأردن وفلسطين التاريخية (الضفة الغربية وقطاع غزة والأراضي التي اُنشئت عليها إسرائيل في حرب 1948)، بالإضافة إلى مناطق حدودية مجاورة،[1] تشمل المناطق السورية التي ضُمت إلى تركيا أبّان الانتداب الفرنسي على سورية، وقسمًا من سيناء والموصل، وعند البعض فإن المنطقة تتسع لتشمل قبرص وكامل سيناء والعراق

    معلوم ہوا کہ الشام یا تاریخی سوریہ موجودہ سوریہ سے کئی گناہ وسیع اور اس میں ارد گرد کے کئی ممالک بھی شامل تھے۔۔۔ میں نے نقشہ پیش کیا تھا وہ levant یعنی الشام یا تاریخی سوریہ کا نقشہ تھا۔۔۔ جبکہ آپ نے جو نقشہ پیش کیا ہے وہ موجودہ سوریہ کا ہے ۔۔۔ یہ وضاحت میں بار بار کر چکا ہوں کہ روایت کریب میں مذکور الشام سے مراد اس دور کا شام ہے جس دور میں کریب اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کیساتھ یہ واقعہ پیش آیا یعنی جس دور میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملک شام کے حاکم تھے یا گورنر تھے۔۔۔

    محترم بھائی آپ سے ایک چھوٹی سی گزارش ہے کہ خدارا میری پوسٹ کو صرف رد کرنے کی نیت سے نہ پڑھا کریں بلکہ غیر جانبدار ہو کر پڑھا کریں اور غور سے پڑھا کریں ورنہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے۔۔۔ اکثر اوقات میں بھی وہی بات کر رہا ہوتا ہوں جو آپ کر رہے ہوتے ہیں لیکن غلط فہمی کی بنیاد پر ہم دونوں اپنا وقت ضائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔
    شکریہ۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏اگست 29، 2013 #27
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے اس اشکال سے کیا فرق پڑھتا ہے؟؟
     
  8. ‏ستمبر 01، 2013 #28
    GuJrAnWaLiAn

    GuJrAnWaLiAn رکن
    جگہ:
    برطانیہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 13، 2011
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    288
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    جو میں سمجھا ہوں
    اگر اشکال درست ہے تو اس سے فرق یہ پڑتا ہے کے جس حدیث سے الگ مطلع کی دلیل لی جا رہی ہے ان کی دلیل لینا ثابت نہیں ہوتا کیوں کے اس وقت شام کافی بڑا تھا اور اس کی سرحدیں مدینہ کے قریب تھیں۔۔
     
  9. ‏ستمبر 01، 2013 #29
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    وہ خود وضاحت کریں تو بہتر ہے کیونکہ پہلے وہ ناراض ہو رہے ہیں کہ میری بات کو کوئی سمجھتا نہیں۔۔
     
  10. ‏ستمبر 02، 2013 #30
    عبدالرحمن لاہوری

    عبدالرحمن لاہوری رکن
    جگہ:
    لاهور
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2011
    پیغامات:
    126
    موصول شکریہ جات:
    456
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    محترم وقاص بھائی میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنے کی تکلیف دے رہا ہوں مگر کیا کروں آج کل میری مصروفیات کچھ ایسی ہیں کہ میں فورم اور مطالعہ کیلئے زیادہ ٹائم نہیں نکال پا رہا۔ دراصل کچھ کاروباری مصروفیات ہیں اور پھر میں اس ماہ کے آخر میں حج کو بھی جا رہا ہوں ان شاء اللہ۔ اسلئے آپ سے گزارش ہے کہ تھوڑا انتظار کر لیجئے میں کچھ نہ کچھ وضاحت ضرور کر کے جاوں گا ان شاء اللہ۔۔۔
    شکریہ۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں