1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ فلسطین بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں(١)

'تاریخ اقوام عالم' میں موضوعات آغاز کردہ از اعتصام, ‏دسمبر 24، 2012۔

  1. ‏دسمبر 24، 2012 #1
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    مسئلہ فلسطین بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں(١)



    اسلام ٹائمز: موجودہ فلسطین تین حصوں میں تقسیم ہے، پہلا حصہ مقبوضہ فلسطین کا ہے کہ جس کی آبادی تقریباً گیارہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، غاصب صیھونی حکومت نے برطانیہ کی سازش سے ایک غیر منطقی اور غیر قانونی بالفور نامی معاہدے کے ذریعے 1948ء میں اس حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ دوسرا حصہ 5650 مربع کلومیٹر پر مشتمل بیت المقدس کا علاقہ ہے کہ جس کی آبادی تقریباً پندرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تیسرا حصہ 350 مربع کلو میٹر پر مشتمل غزہ کی پٹی کا علاقہ ہے کہ جس کی آبادی کوئی تیرہ لاکھ کے قریب ہے۔ تقریباً 5 سے 6 ملین کے قریب فلسطینی غاصب اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کے بعد بے گھر ہو کر ہمسایہ ممالک شام اور لبنان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

    تحریر: سید حسن بخاری

    حضرت ابا عبداللہ علیہ السلام کی جانسوز شہادت کے ایام کی مناسبت سے تسلیت عرض ہے، اور اسی طرح حرمت والے اس مہینے یعنی محرم الحرام میں سرزمین فلسطین پر بہنے والے بے گناہ لہو پر بھی تسلیت پیش کرتے ہیں۔ 61ھجری میں کربلا کی سرزمین پر ہونے والا یہ واقعہ جو کہ دنیا کے حریت پسندوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ ہے، زمان و مکان کے قید سے مبرا ہے۔ آج بھی اس طرح کے واقعات دنیا کے مختلف حصوں میں دھرائے جا رہے ہیں۔ سرزمین فلسطین جو اپنی تاریخ میں کئی کربلاوں کی شاہد ہے 1434 ھجری میں ایک بار پھر لہو میں نہلا دی گئی۔ 61ھجری کی کربلا اور 1434 ھجری کی اس کربلا میں جھاں اور بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں، وہاں ان دونوں واقعوں کا بہت درد آور، دلسوز اور انسانی تاریخ کے بدترین ظلم و ستم سے بھرا ہونا بھی ان کا ایک اشتراک ہے۔

    اس تحریر میں فلسطین کے مسئلے کو بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں جانچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آیا بین الاقوامی قوانین میں فلسطین کے اس مسئلے کا کوئی قانونی حل موجود بھی ہے یا نہیں؟ آیا آج تک اس مسئلے کے قانونی حل کے لئے کوئی کوشش کی گئی ہے اور اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ آیا اقوام متحدہ کی پیشرفت کا باعث بنے گا؟ آیا اقوام متحدہ کی موجودہ قرارداد اس مسئلے کے حل میں کسی قسم کی پیشرفت کا باعث بنے گی یا نہیں؟

    موجودہ فلسطین:
    موجودہ فلسطین تین حصوں میں تقسیم ہے، پہلا حصہ مقبوضہ فلسطین کا ہے کہ جس کی آبادی تقریباً گیارہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، غاصب صیھونی حکومت نے برطانیہ کی سازش سے ایک غیر منطقی اور غیر قانونی بالفور نامی معاہدے کے ذریعے 1948ء میں اس حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ دوسرا حصہ 5650 مربع کلومیٹر پر مشتمل بیت المقدس کا علاقہ ہے کہ جس کی آبادی تقریباً پندرہ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تیسرا حصہ 350 مربع کلو میٹر پر مشتمل غزہ کی پٹی کا علاقہ ہے کہ جس کی آبادی کوئی تیرہ لاکھ کے قریب ہے۔ تقریباً 5 سے 6 ملین کے قریب فلسطینی غاصب اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کے بعد بے گھر ہو کر ہمسایہ ممالک شام اور لبنان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
    بین الاقوامی قراردادیں، معاہدے اور فلسطین:
    بین الاقوامی قوانین دو طرح سے وجود میں آتے ہیں، پہلی صورت یہ کہ کچھ بنیادی اصولوں کی تمام ممالک رعایت کرتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں ایک عرف کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، اور دوسری صورت مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے درمیاں ہونے والے وہ معاہدات ہیں، جن کی پابندی دوسرے ممالک اپنے لئے لازمی قرار دے لیتے ہیں۔ فلسطین پر 1948ء میں غاصب صیھونی حکومت کے قبضے سے لے کر آج تک غاصب اسرائیل نے کبھی بھی اپنے آپ کو ان بین الاقوامی تسلیم شدہ اصولوں یا معاہدوں کا پابند نہیں پایا اور اس سے بڑھ کر افسوس ناک بات یہ کہ ان اصولوں اور معاہدوں پر ناظر ادارہ اقوام متحدہ بھی غاصب اسرائیل کو ان اصولوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ یہاں اسرائیل کی چند بین الاقوامی قانون شکنیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی طرف سے 1948ء میں فلسطین کی غیر منصفانہ اور ناعادلانہ تقسیم کی ایک قرار داد کے ذریعے فلسطین کے ایک حصے کو یہودی ملک کے نام پر تسلیم کر لیا گیا۔ (البتہ فلسطینوں نے کبھی بھی اس غیر منصفانہ قرارداد کو تسلیم نہیں کیا) اس قرارداد کے وقت فلسطین میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی تعداد پچاس لاکھ ظاہر کی گئی اور یہودیوں کی تعداد 49 لاکھ کے قریب ظاہر کی گئی۔ صیہونوں نے زیر تسلط آنے والے حصے می موجود فلسطینیوں کا وحشیانہ انداز میں قتل عام کیا اور تقریباً دس لاکھ فلسطینیوں کو گھر چھوڑ کر نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس وقت کے اپنے خصوصی ایلچی برنادوت کی تجویز پر 11دسمبر 1948ء کو اپنی قرارداد نمبر 194 پیش کی، جس میں یوں کہا گیا کہ ملک بدر ہونے والے ایسے افراد جو اپنے گھروں کو واپس جانا اور اپنے ہمسائیوں کے ساتھ پرامن زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں، جلد سے جلد ان کی واپسی کا انتظام کیا جائے اور جو افراد وطن واپسی کے متمنی نہیں ہیں، ان کے مالی اور جانی نقصان کا تخمینہ لگا کر نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ مگر غاصب اسرائیل نے اس قرارداد کو ماننے سے انکار کر دیا اقوام متحدہ کی امن کمیٹی بھی اسرائیل کو اس قرارداد پر عمل کرنے پر راضی نہ کر سکی، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کانٹ برنادوت کو صیھونی گروہ کے کارندوں نے قتل کر دیا۔

    یاد رہے کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر تقریباً ایک کروڑ بنگلہ دیشی شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، مگر جونہی جنگ ختم ہوئی یہ لوگ اپنے وطن واپس لوٹ گئے، مگر ادھر فلسطین میں گھر کے اصل باسیوں کا گھر لوٹنا غاصب حکومت کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے خواب ہی رہا۔ اقوام متحدہ کی اس غیر منصفانہ قرار داد کے مطابق سرزمین فلسطین کی 57 فیصد خاک غاصب حکومت کے قبضے میں چلی گئی، مگر غاصب حکومت نے اس پر اکتفا نہ کیا اور 1949ء تک فلسطین کے 80 فیصد علاقے پر اپنا قبضہ جما لیا۔ غاصب حکومت نے فلسطینیوں کے گھروں اور دکانوں کو تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا،

    صرف سال 1948ء میں 7800 کے قریب دکانیں، دفاتر اور فیکٹریاں تباہ کر دی گئیں۔ جبکہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹ ایکٹ کے پیرا گراف2 آرٹیکل 17 کے مطابق کسی شخص کو بھی اس کے مال سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا غاصب حکومت کا یہ عمل صریحاً عالمی قوانین کے خلاف تھا۔ اقوام متحدہ نے 29نومبر 1947ء کی قرارداد نمبر 181 کے ذریعے فلسطینیوں کی جائیداد اور اموال کو غاصب حکومت کے مقابلے میں تحفظ فراہم کیا گیا، مگر غاصب حکومت نے اس قرارداد کی بھی اعتنا نہ کرتے ہوئے 1967ء میں بیت المقدس میں داخل ہوتے ہی فلسطینیوں کی جائیدادوں اور اموال پر قبضہ کر لیا، جس کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی امن کونسل نے مذمت بھی کی، مگر بے سود۔
    1967ء میں غاصب اسرائیل نے چند ہمسایہ ممالک پر فوجی چڑھائی کرکے ان ممالک کے کچھ علاقے قبضے میں لے لئے، اقوام متحدہ نے اپنی قرارداد نمبر242 کے تحت غاصب اسرائیل کو یہ علاقے چھوڑنے کا کہا، مگر غاصب حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور مصر و شام کے کچھ علاقے آج تک غاصب اسرائیل کے زیر تسلط ہیں۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں