1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسافر کا مقیم کی جماعت کروانا

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏اکتوبر 21، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 21، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,274
    موصول شکریہ جات:
    357
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    جس طرح مسافر مقیم کے پیچھے نماز ادا کرسکتا ہے اسی طرح وہ مقیم کی جماعت بھی کرواسکتا ہے ۔ یہ بات دلائل سے واضح ہے مگر کچھ لوگوں نے اس مسئلہ میں شدت برتی ہے اور ناسمجھی کی بنیاد پر مسافر کا مقیم کی جماعت کروانا غلط قرار دیا ہے ۔ پہلے دلائل دیکھیں جن سے مسافر کا مقیم کی جماعت کروانا ثابت ہوتا ہے پھر وارد ہونے والے اعتراض کا جواب بھی دیتاہوں۔
    اس مسئلہ کو جاننے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا نبی ﷺ نے کسی مسلمان کو خواہ مسافر ہو یا مقیم ،چھوٹا ہو یا بڑا ، بیمار ہو یا صحت مند امامت کرنے سے منع کیا ہے ؟
    جب قرآن وحدیث میں اس کا جواب ڈھونڈتے ہیں تو پتہ چلتا ہے نبی ﷺ کا ایسا کوئی فرمان نہیں کہ اس قسم کے کسی مسلمان کو امامت کرنے سے روکا ہو۔ امامت کے لئے متفقہ شروط ہیں کہ جو مسلمان ہو، تمیز رکھنے والاہو(خواہ نابالغ ہی کیوں نہ ہو)، قوم اسے پسند کرتی ہو وہ مسلمان امامت کراسکتا ہے البتہ جو امامت کے زیادہ مستحق ہیں ان کا ذکر مندرجہ ذیل حدیث میں ہے ۔

    ابو مسعود (عقبہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
    يَؤُمُّ القومَ أقرؤُهم لكتابِ اللهِ . فإن كانوا في القراءةِ سواءً . فأعلمُهم بالسُّنَّةِ . فإن كانوا في السُّنَّةِ سواءً . فأقدمُهم هجرةً . فإن كانوا في الهجرةِ سواءً ، فأقدمُهم سِلْمًا . ولا يَؤُمنَّ الرجلُ الرجلَ في سلطانِه . ولا يقعدُ في بيتِه على تَكرِمتِه إلا بإذنِه قال الأشجُّ في روايتِه ( مكان سِلمًا ) سِنًّا .(صحيح مسلم:673)
    ترجمہ : لوگوں کی امامت وہ کرے جسے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) سب سے زیادہ یاد ہو، اور سب سے اچھا پڑھتا ہو اور اگر قرآن پڑھنے میں سب برابر ہوں تو جس نے ان میں سے سب پہلے ہجرت کی ہے وہ امامت کرے، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو اسلام لانے میں پہلے ہو وہ امامت کرے، اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت وحکمرانی ہو، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھو، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے دے ۔ اشج نے کہا کہ "سلما" کی جگہ اس کی روایت میں سنا (عمر) کا لفظ آیاہے ۔

    اس حدیث کی رو سے سب سے پہلے امامت کا مستحق سب سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا۔
    اس کے بعد جسے سنت کا زیادہ علم ہو۔
    اس کے بعد جنہوں نے پہلے ہجرت کی ہو۔
    اس کے بعد جو پہلے مسلمان ہوا ہوبعض روایت کے اعتبار سے جن کی عمر زیادہ ہو۔
    ان صفات کے حامل ،لوگوں کی امامت کراسکتے ہیں خواہ وہ مقیم ہو یا مسافر ۔ گویا اصلا امامت کرانے میں تمام مسلمان شامل ہیں اگر کوئی مسافرکا مقیم کی امامت سے انکار کرے اس کے ذمہ شرع سے دلیل دینی لازم ہے ۔
    فتح مکہ کے موقع سے نبی ﷺ نے مکہ میں انیس دن قیام کیاتھا ان دنوں میں آپ نے قصر نماز پڑھی یعنی آپ نے بحیثیت مسافر لوگوں کی امامت کرائی اور اہل مکہ آپ کے پیچھے مکمل نماز پڑھتے ۔

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے :
    أقام النبيُّ صلى الله عليه وسلم تسعةَ عشرَ يَقْصُرُ ، فنحن إذا سافَرْنا تسعةَ عشرَ قصَرْنا ، وإن زَدْنا أَتْمَمْنا .(صحيح البخاري:1080)
    ترجمہ: نبی ﷺ (فتح مکہ کے موقع سے ) انیس دن قیام کیا اور ان دنوں میں آپ نے قصر کیا تو جب ہم انیس دن کے لئے سفر کرتے تو ان دنوں میں قصر کرتے اور اگر اس سے زیادہ کا سفر کرتے تو مکمل (نماز) پڑھتے ۔
    اس بات کی دلیل کہ نبی ﷺ قصر پڑھتے اور اپنے پیچھے نماز پڑھنے والے اہل مکہ کو اتمام کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
    عن عمرانَ بنَ حصينٍ قال : غزوتُ مع رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم وشهدتُ معه الفتحَ ، فأقام بمكةَ ثمانيَ عشرةً لا يُصلِّي إلا ركعتيْنِ ، يقول : يا أهلَ البلدِ صلُّوا أربعًا فإنَّا قومٌ سَفْرٌ(ترمذی)
    ترجمہ: عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ عزوہ کیا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ میں شامل ہواپس آپ ﷺ نے مکہ میں اٹھارہ دن قیام کیا ان دنوں دو دو رکعت نماز ادا کرتے رہے (یعنی قصرکرتے رہے) اور فرماتے : اے شہروالو! تم لوگ چار رکعت ادا کرو ، ہم لوگ مسافر ہیں۔
    ٭ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں ترمذی نے اس حدیث کو شواہد کی وجہ سے حسن قرار دیا ہے ۔ (التلخیص الحبیر:2/552)
    ٭ ابن حجر نے خود بھی اسے مشکوۃ کے مقدمہ میں حسن کہا ہے ۔ (تخريج مشكاة المصابيح:2/87)

    صحابہ کرام بھی نبی ﷺ کی اس سنت پہ چلتے جیساکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب مسافر کی حیثیت سے نماز پڑھاتے تو دو رکعت پڑھتے اور اہل مکہ کو اپنی نماز مکمل کرنے کا حکم دیتے ۔ اثر ملاحظہ ہو۔
    وعن عمر أنه كان إذا قدم مكة صلى بهم ركعتين ، ثم قال : يا أهل مكة أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر . (رواه مالك في الموطأ ) .
    ترجمہ: اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب مکہ آتے تو ان کو دو رکعتیں پڑھاتے پھر کہتے اے اہل مکہ ! تم اپنی نماز مکمل پڑھو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔
    ٭ امام شوکانی رحمہ اس کے متعلق لکھتے ہیں"وأثر عمر رجال إسناده أئمة ثقات " یعنی عمر رضى اللہ تعالى كے اثر كى سند كے رجال ثقہ ہيں ملاحظہ کریں (نيل الاوطار :3 / 177)۔
    ٭ امام نووی رحمہ اللہ اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (المجموع:8/92)
    ٭ محمد امین شنقیطی نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے ۔ (أضواء البيان:5/281)
    ٭ علامہ عینی نے کہا کہ یہ اثر پانچ صحیح طرق سے مروی ہے ۔ ( نخب الافكار:6/355)
    ٭ علامہ ابن تیمیہ نے اسے صحیح کہا ہے ۔( مجموع الفتاوى:24/125 )

    ایک اعتراض کا جواب :
    زائروالی ایک روایت کی بنیاد پر بعض اہل علم یہ کہتے ہیں کہ مسافر مقیم کی امامت نہیں کراسکتا۔ روایت اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں ۔
    عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا، فَلا يُصَلِّيَنَّ بِهِمْ ۔(صحيح النسائي:786)
    ترجمہ: مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی کسی قوم کی زیارت کے لئے جائے تو وہ انہیں ہرگز نماز نہ پڑھائے۔
    اس روایت میں زائر(مہمان) کو مقیم کی جماعت کرانے سے منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گھروالا ہی امامت کا زیادہ مستحق ہے تاہم اگر بستی والے اجازت دیدیں تو زائر بھی امامت کراسکتے ہیں۔ چنانچہ سب سے اوپر صحیح مسلم کی روایت میں اس بات کا ذکر موجود ہے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے "ولا يَؤُمنَّ الرجلُ الرجلَ في سلطانِه . ولا يقعدُ في بيتِه على تَكرِمتِه إلا بإذنِه " یعنی اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت وحکمرانی ہو، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ پر بیٹھو، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دے دے ۔گویا اجازت ملنے پہ زائر مقیم کی امامت کراسکتا ہے ۔
    یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے بحیثیت زائرومہمان گھروالوں کی امامت بھی کرائی ہے، صحیح بخاری کی حدیث ہے حضرت عتبان بن مالك رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں:
    أن النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم أتاه في منزلِه، فقال :
    كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان كے گھر تشريف لائے اور فرمانے لگے:أين تُحِبُّ أن أصليَ لك من بيتِك . قال : فأشَرْتُ له إلى مكانٍ، فكبَّر النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، وصفَفْنا خلفَه، فصلَّى ركعتين .(صحيح البخاري:424)
    ترجمہ: آپ اپنے گھر كى كونسى جگہ پسند كرتے ہيں ميں وہاں نماز پڑھتا ہوں، چنانچہ ميں نے ايك جگہ كى طرف اشارہ كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تكبير كہى اور ہم نے ان كے پيچھے صف بنائى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں دو ركعت نماز پڑھائى۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسافر مقیم کی امامت کراسکتا ہے اور جس حدیث میں زائر کی امامت ممنوع ہے وہ بغیراجازت کی امامت ہے یعنی زائر بغیر اجازت جماعت نہ کرائے ، اجازت مل جائے تو امامت کراسکتا ہے ۔

    واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں