1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسبوق کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از رانا ابوبکر, ‏فروری 24، 2013۔

Tags:
  1. ‏فروری 24، 2013 #1
    رانا ابوبکر

    رانا ابوبکر ناظم خاص رکن انتظامیہ
    جگہ:
    بورے والہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2011
    پیغامات:
    2,055
    موصول شکریہ جات:
    3,033
    تمغے کے پوائنٹ:
    432

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
     
  2. ‏فروری 24، 2013 #2
    رانا ابوبکر

    رانا ابوبکر ناظم خاص رکن انتظامیہ
    جگہ:
    بورے والہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2011
    پیغامات:
    2,055
    موصول شکریہ جات:
    3,033
    تمغے کے پوائنٹ:
    432

  3. ‏اگست 24، 2015 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,289
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    سوال :کیا امام کے لئے امامت کی نیت کرنا شرط ہے؟ اوراگرکوئی شخص مسجد میں داخل ہو اورکسی شخص کونماز پڑہتا ہواپائے توکیاوہ اس کے ساتہ شامل ہوجائے ؟اورکیا مسبوق کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے؟

    جواب :امامت کے لئے نیت شرط ھے , کیونکہ نبی ﷺ کا ارشادہے:

    " اعمال کا دارومدارنیتوں پرہے ,اورہرشخص کے لئے وہی ہے جواسنے نیت کی ہے "

    اگرکوئی شخص مسجد میں داخل ہواوراسکی جماعت چھوٹ گئی ہو اورکسی دوسرے شخص کو تنہانمازپڑھٹتے ہوئے پائے , تو اسکے ساتہ مقتدی بن کرنمازپڑھنے میں کوئی حرج نہیں , بلکہ یہی افضل ہے , جیساکہ ایک بار نبی r نے نمازختم ہوجانے کے بعد ایک شخص کو مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو فرمایا :

    "کیا کوئی شخص ہے جواس پرصدقہ کرے اوراسکے ساتہ نمازپڑھے"

    ایسا کرنے سے دونوں کوجماعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی, لیکن جونماز پڑھ چکاہے اسکے لئے یہ نماز نفل ہوگی-

    معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتہ عشاء کی نماز پڑھتے ,پھراپنی قوم کے پاس واپس جاکرانہیں دوبارہ یہی نمازپڑھاتے تھے , یہ نماز ان کے لئے نفل اورلوگوں کیلئے فرض ہوتی تھی , اورنبی ﷺ کو جب معلوم ہوا توآپ نے اسے برقراررکھا-

    اسی طرح جس کی جماعت چھوٹ گئی ہو وہ جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے مسبوق کی اقتدا میں نمازپڑھ سکتا ہے , اسمیں کوئی حرج نہیں , اورمسبوق کے سلام پھیرنے کے بعد وہ اپنی باقی نماز پوری کرلے , کیونکہ اس سلسلہ میں وارد حدیثیں عام ہیں – اوریہ حکم تمام نمازوں کو عام ہے , کیونکہ نبی r نے جب ابوذرt سے یہ ذکرکیا کہ آخری زمانہ میں ایسے امراء وحکام ہوں گے جونمازیں بے وقت پڑھیں گے توانہیں حکم دیتے ہوئے فرمایا :

    " تم نمازوقت پرپڑھ لیا کرنا , پھراگران کے ساتہ نمازمل جائے توان کے ساتہ بھی پڑھ لینا , یہ تمہارے لئے نفل ہوجائے گی, مگریہ نہ کہنا کہ میں نے تو نمازپڑھ لی ہے لہذا اب میں نہیں پڑھتا " واللہ ولی التوفیق-


    فتوی : شیخ ابن باز رحمہ اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 24، 2015 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,528
    موصول شکریہ جات:
    6,614
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وربرکاتہ!
    شیخ صاحب! مسبوق فجر کی دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا ،تو ایک بندہ اُس کے ساتھ مل گیا۔ کیا مسبوق جہر کرے گا؟
    جزاک اللہ خیرا!
     
  5. ‏اگست 24، 2015 #5
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,289
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    چونکہ فجر کی نماز جہری ہے ، اور مسبوق نے ایک رکعت پالی ہے، لہذا امام کے سلام پھیرنے کے بعد ایک رکعت کی ادائیگی کے وقت سورہ فاتحہ اور قرات(فاتحہ کے علاوہ دوسری سورت) جہرا کرے گا۔

    واللہ اعلم
     
  6. ‏اگست 24، 2015 #6
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,289
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    مقتدی كی قراءت

    فتوی نمبر:1752

    سوال : جس شخص کی مغرب اور عشاء کی پہلی دو کعتیں، اور فجر کی دو رکعتیں چھوٹ گئی ہيں، تو کیا وہ ان کی قضاء جہری کرے گا؟

    جواب : جس شخص کی مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعت چھوٹ گئی ہيں، تو جو رکعتیں وہ امام کے ساتھ پایا ہے، وہ رکعتیں [علماء کے صحیح قول کے مطابق] اس کے حق میں اس کی اپنی نماز کی ابتدا ہوگی، اس لئے کہ حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه ، نبي صلى الله عليه وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ بےشک آپ نے فرمایا: جب تم اقامت سنو تو نماز کے لئے سکون وقار کے ساتھـ چلو اور جلدی نہ کرو تو جس قدر نماز ملے اسے پڑھ لو اور جو چھوٹ جائے اسے مکمل کرلو اس حدیث کو محدثین کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے، سوائے امام ترمذی کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسبوق کو اپنی چھوٹی ہوئی ایک یا زائد رکعتوں کو امام کے سلام پھیرنے کے بعد مکمل لینے کا حکم دیا ہے، اور آپ نے اپنے اس حکم کے تعبیر "مکمل کرلینے" سے کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو نماز مسبوق نے اپنے امام کے ساتھ پڑھی ہے وہ اس کی نماز کا ابتدائی حصہ ہے، اور جو رکعتیں چھوٹ گئی ہیں، وہ اس کی نماز کا آخری حصہ ہے، اور اس بنیاد پر وہ اپنی مغرب کی نماز کی چھوٹی ہوئی دو رکعتوں کو سلام کے بعد ادا کرتے وقت پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ اور ضمِّ سورہ آواز سے پڑھے گا، اور دوسری رکعت میں صرف سورہ فاتحہ آہستہ پڑھے گا، اور عشاء کی دو رکعتیں جو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کررہا ہے، ان دونوں رکعتوں میں وہ صرف سورہ فاتحہ آہستہ پڑھے گا، اس لئے کہ یہ دو رکعتیں اس کے حق میں نماز کی آخری رکعتیں ہیں۔ اور فجر کی نماز کی جو رکعت چھوٹی ہے، اس کو ہر حال میں سورہ فاتحہ اور ضمِّ سورہ کے ساتھ بلند آواز سے ادا کرے گا، اس لئے کہ فجر کی نماز میں آہستگی سے تلاوت نہیں ہوتی ہے، اور یہ حکم اس حدیث کے مخالف نہیں ہے، جو حضرت ابو ہریرہ رضي الله عنه سے مروی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ: جب نماز کی اقامت ہو جائے تو تم میں کوئی اس کی طرف دوڑ کر نہ جائے اسے چاہئے کہ وہ سکون و وقار کے ساتھـ چلے تو جو ملے اسے پڑھ لے اور جو چھوٹ جائے اسے پورا کرلے،اس لئے کہ قضاء کے لغوی معنی ادا کرنے اور مکمل کرنے کے ہیں، چنانچہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں آیا ہے کہ: پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالی کا ذکر کروجس طرح تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ [آيت] ۔
    نیز الله تعالى كا فرمان ہے: پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ [آيت] ۔

    لہذا اس حدیث کی ان احادیث سے مطابقت ہوجاتی ہے، جن میں مکمل کرلینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور اس حدیث میں وراد لفظِ قضاء کا فقہی اصطلاح کے معنی مراد لینا درست نہیں ہے، اس لئے کہ یہ بعد میں چل کر وضع کردہ اصطلاح ہے، اس سے شرعی عبارتوں کی تفسیر نہیں کی جاسکتی ہے۔

    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

    صدر
    عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

    نائب صدر برائے کمیٹی
    عبدالرزاق عفیفی

    ممبر
    عبد اللہ بن قعود
     
  7. ‏اگست 24، 2015 #7
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,289
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    اس فتوی کو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔
     
  8. ‏اکتوبر 05، 2015 #8
    طلحہ غازی

    طلحہ غازی مبتدی
    جگہ:
    متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
    احباب میں بہت ہی کم علم سا بندہ ہوں ۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ "مسبوق" کے کیا معنی ہیں ؟
     
  9. ‏اکتوبر 05، 2015 #9
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,289
    موصول شکریہ جات:
    361
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
    مسبوق اس نماز ی کو کہتے ہیں جو تاخیرسے نماز میں شامل ہو۔ مسبوق کا لفظی معنی ہے پیچهے رہنے والا۔
     
  10. ‏اکتوبر 05، 2015 #10
    طلحہ غازی

    طلحہ غازی مبتدی
    جگہ:
    متحدہ عرب امارات
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 05، 2015
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    شکریہ بھائی جان
    اب تھوڑا سا کھول کر مجھے سمجھا دیں کہ اوپر جو تفصیل دی گئی ہے
    میں سمجھ نہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے ۔ یعنی اگر میں فجر کے لیے جاتاہوں اور میرا ایک رکعت رہ جاتی ہے تو بعد میں کیا میں اونچی آواز سے تلاوت کروں گا؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں