1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسعود احمد بی ایس سی کے فرقہ جماعت المسلمین سے متعلق سوال

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از amateen777, ‏مئی 21، 2019۔

  1. ‏مئی 21، 2019 #1
    amateen777

    amateen777 رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 02، 2015
    پیغامات:
    65
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    @اسحاق سلفی
    فرقہ جماعت المسلمین اس حدیث سے اسلام سے نکل جانا مراد لیتا ہے۔
    من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه!!!
    اسکے رد میں قرآن وسنت یا سلف کے اقوال سے کچھ مل جائے تو بہتر ہے یا معاصر علماء کا کلام۔

    ایک اور حدیث ہے جس میں ایسے ہی الفاظ آئے ہیں!
    من تولى غير مواليه فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه
    (صحيح الجامع)
    جلدی اسکا جواب ملے تو بہتر ہے کیونکہ کل اس فرقہ کے آدمی سے بات ہونے والی ہے۔ وہ اہلحدیث لڑکوں کو کنفیوز کر رہا ہے۔
     
  2. ‏مئی 21، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,243
    موصول شکریہ جات:
    2,370
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ حدیث سنن الترمذی سے مکمل پیش ہے :

    حدثنا محمد بن إسماعيل، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ابان بن يزيد، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن زيد بن سلام، ان ابا سلام حدثه، ‏‏‏‏‏‏ان الحارث الاشعري حدثه، ‏‏‏‏‏‏ان النبي صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ " إن الله امر يحيى بن زكريا بخمس كلمات ان يعمل بها، ‏‏‏‏‏‏ويامر بني إسرائيل، ‏‏‏‏‏‏ان يعملوا بها، ‏‏‏‏‏‏وإنه كاد ان يبطئ بها، ‏‏‏‏‏‏فقال عيسى:‏‏‏‏ إن الله امرك بخمس كلمات لتعمل بها وتامر بني إسرائيل، ‏‏‏‏‏‏ان يعملوا بها، ‏‏‏‏‏‏فإما ان تامرهم وإما ان آمرهم، ‏‏‏‏‏‏فقال يحيى:‏‏‏‏ اخشى إن سبقتني بها ان يخسف بي او اعذب، ‏‏‏‏‏‏فجمع الناس في بيت المقدس فامتلا المسجد وقعدوا على الشرف، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إن الله امرني بخمس كلمات ان اعمل بهن وآمركم ان تعملوا بهن، ‏‏‏‏‏‏اولهن:‏‏‏‏ ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا، ‏‏‏‏‏‏وإن مثل من اشرك بالله كمثل رجل اشترى عبدا من خالص ماله بذهب او ورق، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ هذه داري، ‏‏‏‏‏‏وهذا عملي فاعمل واد إلي، ‏‏‏‏‏‏فكان يعمل ويؤدي إلى غير سيده، ‏‏‏‏‏‏فايكم يرضى ان يكون عبده كذلك، ‏‏‏‏‏‏وإن الله امركم بالصلاة فإذا صليتم فلا تلتفتوا، ‏‏‏‏‏‏فإن الله ينصب وجهه لوجه عبده في صلاته ما لم يلتفت، ‏‏‏‏‏‏وآمركم بالصيام، ‏‏‏‏‏‏فإن مثل ذلك كمثل رجل في عصابة، ‏‏‏‏‏‏معه صرة فيها مسك، ‏‏‏‏‏‏فكلهم يعجب، ‏‏‏‏‏‏او يعجبه ريحها، ‏‏‏‏‏‏وإن ريح الصائم اطيب عند الله من ريح المسك، ‏‏‏‏‏‏وآمركم بالصدقة فإن مثل ذلك كمثل رجل اسره العدو، ‏‏‏‏‏‏فاوثقوا يده إلى عنقه وقدموه ليضربوا عنقه، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ انا افديه منكم بالقليل والكثير ففدى نفسه منهم، ‏‏‏‏‏‏وآمركم ان تذكروا الله، ‏‏‏‏‏‏فإن مثل ذلك كمثل رجل خرج العدو في اثره سراعا حتى إذا اتى على حصن حصين فاحرز نفسه منهم، ‏‏‏‏‏‏كذلك العبد لا يحرز نفسه من الشيطان إلا بذكر الله، ‏‏‏‏‏‏قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ وانا آمركم بخمس الله امرني بهن:‏‏‏‏ السمع، ‏‏‏‏‏‏والطاعة، ‏‏‏‏‏‏والجهاد، ‏‏‏‏‏‏والهجرة، ‏‏‏‏‏‏والجماعة، ‏‏‏‏‏‏فإنه من فارق الجماعة قيد شبر فقد خلع ربقة الإسلام من عنقه إلا ان يرجع، ‏‏‏‏‏‏ومن ادعى دعوى الجاهلية فإنه من جثا جهنم، ‏‏‏‏‏‏فقال رجل:‏‏‏‏ يا رسول الله، ‏‏‏‏‏‏وإن صلى وصام؟ قال:‏‏‏‏ وإن صلى وصام، ‏‏‏‏‏‏فادعوا بدعوى الله الذي سماكم المسلمين المؤمنين عباد الله "، ‏‏‏‏‏‏قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن صحيح غريب، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ محمد بن إسماعيل الحارث الاشعري له صحبة وله غير هذا الحديث.
    سیدنا حارث اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو پانچ باتوں کا حکم دیا کہ وہ خود ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں۔ قریب تھا کہ وہ اس حکم کی تعمیل میں سستی و تاخیر کریں عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ تم خود ان پر عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی حکم دو کہ وہ بھی اس پر عمل کریں، یا تو تم ان کو حکم دو یا پھر میں ان کو حکم دیتا ہوں۔ یحییٰ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ اگر آپ نے ان امور پر مجھ سے سبقت کی تو میں زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں یا عذاب میں مبتلا نہ کر دیا جاؤں، پھر انہوں نے لوگوں کو بیت المقدس میں جمع کیا، مسجد لوگوں سے بھر گئی۔ لوگ کنگوروں پر بھی جا بیٹھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ نے ہمیں پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں خود بھی ان پر عمل کروں اور تمہیں حکم دوں کہ تم بھی ان پر عمل کرو۔ پہلی چیز یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور اس شخص کی مثال جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس آدمی کی ہے جس نے ایک غلام خالص اپنے مال سے سونا یا چاندی دے کر خریدا، اور (اس سے) کہا: یہ میرا گھر ہے اور یہ میرا پیشہ (روز گار) ہے تو تم کام کرو اور منافع مجھے دو، سو وہ کام کرتا ہے اور نفع اپنے مالک کے سوا کسی اور کو دیتا ہے، تو بھلا کون شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ اس کا غلام اس قسم کا ہو، ۲- اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز کا حکم دیا ہے تو جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر نہ دیکھو۔ کیونکہ اللہ اپنا چہرہ نماز پڑھتے ہوئے بندے کے چہرے کی طرف رکھتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے، ۳- اور تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اور اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے۔ اس کے ساتھ ایک تھیلی ہے جس میں مشک ہے اور ہر ایک کو اس کی خوشبو بھاتی ہے۔ اور روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے، ۴- اور تمہیں صدقہ و زکاۃ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے گردن سے ملا کر باندھ دیئے ہیں، اور اسے لے کر چلے تاکہ اس کی گردن اڑا دیں تو اس (قیدی) نے کہا کہ میرے پاس تھوڑا زیادہ جو کچھ مال ہے میں تمہیں فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لینا چاہتا ہوں، پھر انہیں فدیہ دے کر اپنے کو آزاد کرا لیا ۱؎، ۵- اور اس نے حکم دیا ہے کہ تم اللہ کا ذکر کرو۔ اس کی مثال اس آدمی کی مثال ہے جس کا پیچھا دشمن تیزی سے کرے اور وہ ایک مضبوط قلعہ میں پہنچ کر اپنی جان کو ان (دشمنوں) سے بچا لے۔ ایسے ہی بندہ (انسان) اپنے کو شیطان (کے شر) سے اللہ کے ذکر کے بغیر نہیں بچا سکتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی تمہیں ان پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا حکم مجھے اللہ نے دیا ہے (۱) بات سننا (۲) (سننے کے بعد) اطاعت کرنا (۳) جہاد کرنا (۴) ہجرت کرنا (۵) جماعت کے ساتھ رہنا کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔ مگر یہ کہ پھر اسلام میں واپس آ جائے۔ اور جس نے جاہلیت کا نعرہ لگایا تو وہ جہنم کے ایندھنوں میں سے ایک ایندھن ہے۔ (یہ سن کر) ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔ اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ تو تم اللہ کے بندو! اس اللہ کے پکار کی دعوت دو ،جس نے تمہارا نام مسلم و مومن رکھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حارث اشعری صحابی ہیں اور اس حدیث کے علاوہ بھی ان سے حدیثیں مروی ہیں۔
    سنن الترمذی (2863 ) و (أخرجہ النسائي في الکبری) (التحفة: ۳۲۷۴)، و مسند احمد (۴/۲۰۲)
    قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (3694) ، التعليق الرغيب (1 / 189 - 190) ، صحيح الجامع (1724)
    صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2863
    وضاحت: ۱؎ : جاہلیت کی پکار : یعنی جاہلیت کا نعرہ اور اس کی پکار جو خانہ جنگی کی پکار ہے اس سے بچو اور اللہ کی توحید اور اس کی تعلیمات کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔
    (۱)۔۔اس میں پہلا حکم (سمع و طاعت ،یعنی سننا اور ماننا )اس کے متعلق تحفۃ الاحوذی میں لکھا ہے :
    (السمع والطاعة) أي للأمير في غير المعصية ،’’ یعنی سمع و طاعت ،یعنی سننے اور ماننے سے مراد حاکم وقت کی بات جو خلاف شرع نہ ہو ،
    یاد رہے :یہاں موجودہ مذہبی تنظیموں کے امیر ہرگز مراد نہیں ، ۔۔۔۔۔۔۔۔

    (۲) ۔۔دوسری بات جس کا حکم ہے وہ ہے جہاد ۔۔اور تمام صحیح العقیدہ مسلمان جانتے ہیں کہ جہاد صرف اعلاء کلمۃ اللہ کیلئے ہوتا (اعلاء کلمۃالفرقۃ )کیلئے نہیں ہوتا
    یا پھر دفاع اسلام و مسلمین کیلئے ہوتا ہے ۔۔۔حزبی دفاع کیلئے نہیں ہوتا۔۔۔

    (۳)ہجرت سے مراد بھی اس وقت مکہ سے مدینہ کی طرف ۔۔دار الکفر سے دار السلام ۔۔اور دارالبدع سے دار السنہ کی طرف اور معصیت کے دیار سے فرمانبرداروں کے دیس کی جانے کو ہجرت کہا جاتا ہے ۔جب کہ پاکستان میں کاروائی ڈالنے کے بعد افغانستان و ایران جانے کا نام ہجرت نہیں۔۔۔

    (والهجرة) أي الانتقال من مكة إلى المدينة قبل فتح مكة ومن دار الكفر إلى دار الإسلام ومن دار البدعة إلى دار السنة ومن المعصية إلى التوبة لقوله صلى الله عليه وسلم المهاجر من هجر ما نهى الله عنه (
    تحفۃ الاحوذی
    (۴ )۔۔اور جماعت سے مراد صحابہ کرام و تابعین اور دیگر سلف صالحین ہیں ،مطلب یہ ہے کہ ان کے منہج و طریقہ اور سیرت کو اپنایا جائے

    (والجماعة) قال الطيبي المراد بالجماعة الصحابة ومن بعدهم من التابعين وتابعي التابعين من السلف الصالحين أي آمركم بالتمسك بهديهم وسيرتهم ‘‘
    تحفۃ الاحوذی)

    ۔۔(قيد شبر) بكسر القاف وسكون التحتية أي قدره وأصله القود من القود وهو المماثلة والقصاص والمعنى من فارق ما عليه الجماعة بترك السنة واتباع البدعة ونزع اليد عن الطاعة ولو كان بشيء يسير يقدر في الشاهد بقدر شبر

    جو جماعت (یعنی سنت اور راہ صحابہ ،اور خلیفہ اسلام کی اطاعت ) سے ایک بالشت بھی ہٹا (علیحدہ ہوا) اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے باہر نکال پھینکا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ۔۔جاہلیت کا نعرہ ۔۔لگانے سے مراد ’’ راہ سنت و جماعت صحابہ کو چھوڑ نا اور اطاعت خلیفہ سے نکل کر اسکے مقابل لوگوں کو اکسانا ہے ،جو جاہلیت کا طریقہ ہے
    جیسا دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ جو اطاعت (سنت اور اطاعت خلیفہ ) سے نکلا ،روز محشر اس کے پاس کوئی دلیل (نجات ) نہیں ہوگی ،
    اور اس حال میں فوت ہوا کہ خلیفہ وقت کی بیعت نہیں کی ہوئی تھی ،وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔

    (ومن ادعى دعوى الجاهلية) قال الطيبي عطف على الجملة التي وقعت مفسرة لضمير الشأن للإيذان بأن التمسك بالجماعة وعدم الخروج عن زمرتهم من شأن المؤمنين والخروج من زمرتهم من هجيرى الجاهلية كما قال صلى الله عليه وسلم من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة ولا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية
    تحفۃالاحوذی ‘‘
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور آخری بات بہت لائق توجہ ہے :اس حدیث میں واضح ہے کہ
    (سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمِينَ الْمُؤْمِنِينَ عِبَادَ اللَّهِ ‏ ) کہ تمہارا نام مسلم و مومن اور عباد اللہ یعنی اللہ کے بندے رکھا ہے ۔
    اس کے مقابل کچھ جاہل کہتے ہیں کہ اللہ نے تمہارا نام صرف مسلم رکھا ہے ۔۔
     
  3. ‏مئی 21، 2019 #3
    عبد الخبیر السلفی

    عبد الخبیر السلفی رکن
    جگہ:
    بدایوں
    شمولیت:
    ‏اگست 28، 2018
    پیغامات:
    88
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے کہ جس شخص نے مسلمانوں کی جماعت سے ہٹ کر کوئی دوسری راہ اختیار کی سنت کو ترک کرکے یا بدعت کو اختیار کرکے یا امام وقت کی نا فرمانی کرکے اس نے سخت گناہ کا ارتکاب کیا اس کی تفصیل فتح الباری، تحفةالاحوذى اور عون المعبود وغيرها میں موجود ہے اس مفہوم کی احادیث سے متعلق لوگ إفراط و تفریط میں ہیں مثلاً اس کی خلاف ورزی سے مطلقاً اسلام سے خروج سمجھنا یہ خارجیت ہے جیسا کہ نو پیدہ جماعت المسلمین کا کہنا ہے یا اس کو بہت آسان سمجھتے ہوئے گناہ بھی نا سمجھنا مرجیت ہے اور حق ان دونوں کے درمیان ہے اور وہ یہ کہ اگر مسلمانوں کی جماعت سے ہٹ کر جو کام کیا گیا ہے وہ کفر و شرک ہے تو ایسی جماعت سے مخالفت یقیناً اسلام سے خروج کا سبب ہے لیکن مخالفت محض مباح اور مستحبات وغیرہ میں ہے تو یہ گناہ کا باعث تو ہو سکتی ہے اسلام سے خروج کا سبب نہیں اور فقد خلع ربقة الإسلام یا اس جیسے الفاظ ان کے مقصود پر دلالت کرنے کے لئے کافی نہیں اسی سے ملتا جلتا ایک لفظ اور احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا فمن رغب عن سنتی فلیس منا اگر کل کو کوئی جماعت المسلمینی کہنے لگے کہ نبی کریم کی سنت کا چھوڑنا (جو فرض واجب نہیں ہے) بھی اسلام سے خروج کا سبب ہے تو آج کی پوزیشن میں شاید ہی کوئی ان کے معیار پر کھرا اتر سکے گا؟ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت أبو زر رضی اللہ عنہ جو زیرِ بحث روایت کے راوی ہیں انہوں نے بھی حدیث کا یہ مفہوم نہیں سمجھا جو جماعت المسلمین سمجھ رہی ہے ان کے بعض تفرددات کی وجہ سے حضرت عثمان نے انہیں مدینہ سے دور بس جانے کو کہا تھا، پھر جماعت المسلمین سے پوچھا جائے گا حدیث میں موجود جماعت سے مراد کون سی جماعت ہے کیونکہ مسلمانوں کی ہر جماعت دوسری جماعت کے مقابلے کچھ تفرددات رکھتی ہے اگر وہ اپنی جماعت کا نام بتلاتے ہیں تو ان کا وجود تو خود مسلم جماعت سے کٹ کر بیسویں صدی عیسوی میں آیا ہے اس سے پہلے تو ان کا وجود ہی نہیں ہے ہر شخص جانتا ہے اس جماعت کے بانی مبانی مسعود بی ایس سی صاحب ہیں محض جماعت المسلمین نام رکھنے سے کوئی سارے مسلمانوں کا ٹھیکیدار نہیں بن جاتا.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں