1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمان کا تعارف : اسلام یا مسلک

'اتحاد امت' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏نومبر 25، 2016۔

  1. ‏نومبر 25، 2016 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    چھوٹی سی الجھن ہے !
    ایک محفل میں ایک حضرت نے میری ایک بات پر سوال کیا کہ
    "آپ کا مسلک کیا ہے؟"
    میں نے جواب دیا "کچھ نہیں"۔
    کہنے لگے "پھر بھی"۔
    میں نے کہا "الحمدللہ میں مسلم ہوں اور یہ نام اللہ کا دیا ہوا ہے۔
    طنزیہ فرمانے لگے کہ "کہیں بھی جانا ہو، بندے کا کوئی ایک راستہ ہوتا ہے۔"
    ادب سے عرض کی، "حضور میں پکی سڑک پر چلنا پسند کرتا ہوں، پگڈنڈیاں چھوڑ دیتا ہوں۔"
    اور یہ صرف ایک دفعہ کی بات نہیں، اکثر لوگ اچھے بھلے سمجھدار اور پڑھے لکھے بھی یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کہ دوسرا کسی مسلک کی پیروی نہیں کرتا۔

    تو میری ایک چھوٹی سی الجھن ہے، آپ مدد کر دیجئے۔ خطبہ حجۃالوداع اورتاریخی موقعے کا ذکر تو آپ سب نے یقینا” پڑھا ہوگا۔ کوئی لاکھ سوا لاکھ کا مجمع تھا۔ کوئی مجھے بتائے گا کہ اس وقت موجود صحابہ اور نو مسلم شیعہ تھے یا سنی؟
    میں جاننا چاہتا ہوں کہ
    1703 سے پہلے جب عبدالوہاب نجدی،
    1856 سے پہلے احمد رضا خان بریلوی،
    1866 سے پہلے دارلعلوم دیوبند،
    لگ بھگ 100 سال پہلے جب اہل حدیث اور سلفی تحریک جب وجود نہیں رکھتے تھے
    تو عام سادہ مسلمانوں کو کیا کہا جاتا تھا اور کیا ان سب تحریکوں، مدرسوں اور شخصیات نے خود یا اپنے ماننے والوں کی وجہ سے ایک مسلک اور فرقوں کا روپ نہیں دھارا ؟
    کیا ان سب نے مسلمانوں کو تقسیم کیا یا متحد کیا؟
    رنگ، نسل، زبان، علاقے اور برادری کی تقسیم کیا ابھی مسلمانوں کے لئے ناکافی تھی کہ مذہب کے اندر فرقے متعارف کروائے گئے؟
    کیا ہمارے قابل احترام اساتذہ، جن کو ہم آئمہ کرام کہتے ہیں، کیا ہم کو کبھی اپنی پوری زندگیوں میں ایک بار بھی حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اور جعفریہ میں بٹنے کا درس دے کر گئے؟
    تصوف کے نام پر جو سلسلے بنائے گئے اور راستے جدا کئے گئے ان کی تفصیل الگ ہے۔
    میری یہ بھی رہنمائی کوئی فرما دے کہ اگر یہ محض فقہی، فکری اور علمی مسالک ہیں تو مسجدیں کیوں الگ ہیں؟
    ڈاڑھی کا سائز، ٹوپی کا سٹائل، عمامے کا رنگ، جھنڈے کی شبیہ، نماز میں ہاتھ باندھنے کا طریقہ، اور مدرسے کا سلیبس کیوں الگ ہے؟
    تقسیم اتنی خوفناک ہے کہ عقائد، رسومات، تہوار، بچے اوربچیوں کے نام، زمانے کے امام، حتی کہ صحابہ کرام تک بانٹ رکھے ہیں۔ یہاں شہہ دماغوں نے کالا، سفید، نارنجی، ہرا ،پیلا اور بھورا سب رنگ اپنے ساتھ مخصوص کر رکھے ہیں۔ سارا زور اس بات پر کیوں ہے کہ کوئی ہمیں جس ‘حالت‘میں بھی دیکھے پہچان جائے کہ ہم ‘الگ‘ ہیں اور فلانے ہیں۔ جناب والا مجھ کم علم اور کم عقل کو یہ بھی سمجھا دیں کہ مدرسوں، فتووں کی کتابوں اور لوگوں کی باتوں سے نکلا ہوا مسلک اور فرقہ موروثی کیسے ہو تا ہے کہ پیدا ہونے والا بچہ بھی کسی ملٹی نیشنل پراڈکٹ کی طرح لیبل لگا کر آتا ہے کہ ان کے سامنے ماڈرن کارپوریٹ کلچر، مارکیٹنگ اور برانڈنگ تو ابھی کل کی بات لگتی ہے۔
    آج کے مقابلے میں تو اچھے دور تھے شائد وہ جب مناظرے اور چیلنج کیے جاتے تھے۔ اول اول بحث مباحثہ ہی تھا لیکن پھر بات آگے بڑھتی گئی۔ پہلے تو محض ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور تبرے بھیج کر کام چلا لیا جاتا تھا، پھر کفر کے فتوے مارکیٹ میں آئے۔ بات جنت اور دوزخ کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے تک چلی گئی۔ پھر چند "جدت پسندوں" نے سیدھا وہاں تک پہنچانے کا کام بھی اپنے ذمہ بہ احسن و خوبی لے لیا۔ ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور یہ "سائینسدان" گروہ در گروہ لوگوں جنت بلکہ اپنی طرف سے دوزخ کو روانہ کرنے لگے۔ میرے رسول ہادی و برحق نے تو منع کرنے کے لئے اور ہماری پستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل سے تقابلے میں ہمارے 73 فرقے کہے، ہم نے اس حدیث سے اپنے فرقے کے صحیح اور جنتی ہونے کا جواز گھڑ لیا، اور باقی سب کو ٹھکانے لگا دیا۔ اب ہوتے تو پتہ نہیں کیا کہتے،
    لیکن نصف صدی پہلے ابن انشاء نے لکھا تھا،
    "دائروں کی کئی اقسام ہیں۔ ایک دائرہ اسلام کا بھی ہے ۔ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا ۔ اب عرصہ ہوا داخلہ بند ہے صرف خارج کیا جاتا ہے ".
    اللہ رب العزت نے تو کہا "اُن لوگوں میں سے نہ ہونا جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے" (سورہ الروم)۔
    اور اللہ یہ بھی تو کہتا ہے کہ "جن لوگوں نے دین کو فرقے کر دیا اور گروہوں میں بٹ گئے،(اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دو تمہارا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا" (سورہ الانعام)۔
    یہ آیت بھی تو سب کو یاد ہی ہوگی کہ "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور تفرقے میں نہ پڑنا" (سورہ آل عمران)۔
    اور کیا اللہ نے اپنے تقسیم کو اپنے عذاب سے تشبیہ نہیں دی؟ جب فرمایا کہ "کہہ دو کہ وہ قدرت رکھتا ہے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کردے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزہ چکھادے۔ دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں" (سورہ الانعام)۔
    جو دین فرق مٹانے اور ایک لڑی میں پرونے آیا تھا،اس کو ہم نے بالکل الٹ بنا کر خانوں میں رکھ دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کوئی بھی فارم پر کرتے ہوئے جب میں مسلک کا خانے خالی چھوڑتا ہوں تو دوسرے کو اعتراض کیوں ہوتا ہے۔ جب کوئی تعارف کرواتا ہے تو اس کو صرف الحمدللہ میں مسلمان ہوں کہنے پر شرمندگی کیوں ہوتی ہے۔
    کیا ہماری نظروں سے یہ آیت نہیں گزری کہ "اس (اﷲ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ یہ رسولِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو جائیں اور تم بنی نوع انسان پر گواہ ہو جاؤ’’۔ (سورہ الحج)۔
    معاذاللہ،نعوذ باللہ ہم اور ہمارے تکبر کیا اتنے بڑے ہیں کہ ہم کو اسلام اور اللہ کے بیان میں کوئی کمی لگتی ہے اور ہم اللہ کے دیئے ہوئے نام یعنی صرف مسلم کے ساتھ شیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی، سلفی، اہل حدیث یا بریلوی لگا کر پورا کرتے ہیں۔ ہم نے سب امامین کو زمانے کا استاد تسلیم کیوں نہیں کیا؟
    اگر ایک ہی مسلے پر سپیشلسٹ ڈاکٹرز کا پینل اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے، اگر ایک ہی کیس میں سپریم کورٹ کے ججز اختلافی نوٹ لکھتے ہیں اور اگر ہی مظہر کائنات پر سائنسدان متنوع نظریات پیش کر سکتے ہیں تو ہم کبھی طب،قانون اور سائنس اور اس کے ماہرین پر انگلی نہیں اٹھاتے، ان کے پیچھے مسالک قائم نہیں کرتے اور ان کےمشترکہ نقائص نہیں نکالتے۔ بلکہ ایک طالب علم کی حیثیت سے سب کو مان کر اور پڑھ کر اپنے علم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ تو پھر ہمیں کس چیز نے کاٹا ہے کہ ہم در بدر، رنگ برنگی دکانوں پر پھرتے ہیں اور اصل تو دور کی بات،کیوں نقل کے دھوکے میں خالی رنگین پیکنگ اٹھائے لئے پھرتے ہیں!
    تو میری یہ چھوٹی سی الجھن ہے...
    منقول

    میری رائے میں تمام احباب کو یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ پھیلانی چاہئے تاکہ اسے پڑھ کر کچھ لوگ تو شعور پا جائیں۔(اشفاق احمد خاں)
    شیخ @عبدہ اس مضمون پر آپ کا تبصرہ درکار ہے

    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
  2. ‏نومبر 25، 2016 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    شیخ محترم کچه لوگوں کا خیال ہے جب کوئی مکتب فکر نیا نام اپناتا ہے تو وہ فرقہ بناتا ہے چاہے وہ نام باطل فرقوں سے ممیز ہونے کے لیے ہی نا اپنایا گیا ہے

    اور اس فرقہ واریت کا مقصد اپنی دکان چمکانا ہے اور اپنا برانڈ بیچنا ہے

    ان کے نزدیک دیوبندی اہل حدیث بریلوی تقسیم اپنی اپنی دکان چمکانے کے لیے کی گئی ہے

    اور یہ سوچ پهر علماء کی تمام تحقیقات پر اپلائے کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس مسئلہ میں فلاں کی رائے اسلئے ہے کہ وہ اپنی دکان چمکانا چاہتے

    اس بارے میں بهی رہنمائی کریں

    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
  3. ‏نومبر 25، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر کیا حکم لگائیں گے یہ اعتراض کرنے والے؟؟؟
     
  4. ‏نومبر 25، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    مزید خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے یا معشر الانصار وغیرہ کہ کر پکارا ہے
     
  5. ‏نومبر 25، 2016 #5
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اس طرح کے نام نہی مراد ہوتے مسلکی بنیادوں پر قائم شدہ نام کی بات کرتے ہیں جیسے دیوبندی بریلوی اہل حدیث سلفی وعلی هذا القیاس....
    میری جن صاحب سے بات ہوی ان کے پوائنٹس بیان کیے ہیں ورنہ کسی فرقہ سے تعلق نا رکهنے والے فرقہ میں اور بهی پوائنٹس ہوتے ہیں

    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
  6. ‏نومبر 26، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    شاید میں سمجھا نہیں پایا.
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا معشر الانصار کیوں کہا؟؟؟
    آخر امتیاز کی خاطر ہی نا؟؟؟
    اسی طرح جب باطل فرقوں نے جنم لیا تو امتیاز کی خاطر صحابہ نے اہلسنت کا لقب اختیار کیا.
     
  7. ‏نومبر 26، 2016 #7
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    707
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    میں اس رائے سے متفق ہوں ۔ ہر فرقہ نے اپنا ایک پرسپشن بنا لیا ہے اور وہ اس سے باہر نہیں نکلتا۔ چاہے وہ کتنا ہی کہے کہ وہ قران اور حدیث کے مطابق ہے لیکن جب اس پرسپشن یا عقیدے پر ضرب لگتی ہے تو ہر چیز کی تاویل موجو د ہوتی ہے ۔

    میری ناقص رائے تو یہی ہے کہ کوئی ایک فرقہ کے مسلمان ناجی نہیں ہیں بلکہ ہر فرقے میں سے مخلص لوگ ہی ناجی ہوں گے۔ ہمارا ایمان پر قائم رہنا صحابہ کرام سے زیادہ مشکل ہوگیا ہے ۔ ان کے سامنے دو راستے تھے۔ حق اور باطل اور دونوں واضح تھے۔ یہاں تو حق کے ہی بے شمار راستے ہیں اور ہر راستے کے داعی قران اور سنت کی دلیلیں لیکر اپنے راستے پر چلنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ایک عام آدمی کیسے فیصلے کرے کہ کون حق پر ہے اور کون نہیں۔
     
  8. ‏نومبر 26، 2016 #8
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    دیکھیں محترم @سید طہ عارف بھائی جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ اھل کتاب یہودی حق کو باطل سے گڈ مڈ کر دیتے تھے بالکل یہی کچھ ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے کیونکہ اسکی پیشن گوئی رسول اللہ ﷺ نے کی ہوئی ہے کہ تم انکی پیروی کرو گے
    پس موصوف نے اس مضمون میں زیادہ تر یہی حق کو باطل سے گڈ مغ کرنے کی کوشش کی ہوئی ہے
    اصل میں ہر جگہ کچھ باتوں سے رکنا ایک خٓص حد تک ضڑوری ہوتا ہے مگر اسی کو بعض لوگ بنیاد بنا کر ایک درست بات سے روکنا بھی ضروری کر دیتے ہیں مثلا
    ۱۔معصوم بے گناہوں کو مارنا دہشت گردی ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جس نے کسی ایک کو بھی مارا تو اسنے ساری دنیا کو مارا مگر دوسری طرف اللہ کے دشمنوں کو مارنا جہاد ہے پس یہ دونوں حکم اپنی اپنی حد میں ہیں مگر شیطان پہلے حکم کو ڈھال بنا کر دوسرے اللہ کے ہی حکم کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور جہاد کو بھی اسی انسان کو مارنے والی وعید کے تحت لے آتا ہے
    ۲۔اسی طرح جو قرآن و حدیث سے ہٹ کر کسی اور چیز کو پکڑے اور اس پہ فرقہ بنا لے تو اسکو فرقہ واریت کہا گیا ہے اور اسکی سختی سے ممانعت ہے تو اسکو بڑھا کر ہر بات کو ہی فرقہ واریت بنا دیا جاتا ہے حتی کہ کوئی توحید خٓلص کی بات بھی کر لے کہ جس کے لئے نبی مبعوث کیے گئے تو اسکو بھی فرقہ واریت کہ دیا جاتا ہے
    ۳۔لا اکراہ فی الدین ایک قرآنی حکم ہے مگر یہ کسی کو مسلمان بنانے کے بارے میں ہے کہ زبردستی کسی کو مسلمان بنا نہیں سکتے البتہ پوری دنیا پہ نظام کس کا چلے گا تو اس میں ایک انچ بھی کمرومائیز نہیں کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کا نظام یہاں شریعت میں جائز ہو لیکن شیطان ل اکراہ والے حکم میں ہی اتنی تلبیس کرتا ہے کہ جی کوئی اسلام کا نظام چاہتا ہے تو وہ نظام ہونا چاہے اور اگر کوئی جمہوریت کا نظام چاہتا ہے تو وہ ہونا چاہئے کیونکہ اسلام میں اکراہ نہیں ہے (بھئی اگر اسلام میں اکراہ نہیں اور یہ اکراہ نہ ہونا تمھیں اتنا ہی اچھا لگتا ہے تو تمھارے ہاں بھی تو اکراہ نہیں ہونی چاہئیے پھر تمھیں یہ ایم کیو ایم یا بی ایل اے یا ٹی ٹی پی یا جامعہ حفصہ والے معاملات میں بھی تو اکراہ سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ جو دوسرے کے لئے اچھی ہے وہ اپنے لئے بری کیسے ہو گئی یعنی اکراہ یا زبردستی نہ کرنا دوسروں کے لئے اچھا ہے اسلام والوں کے لئے اچھا ہے تو ایک ملک والوں کے لئے کیسے اچھا نہیں ہو گا پس ثابت ہوا کہ اس زبردستی کو سارے سیکولر وغیرہ بھی قبول کرتے ہیں)

    یہ تو تھے وہ ہھکنڈے جو یہ لوگ استعمال کرتے ہوئے تلبیس کرتے ہیں اور یہی وپر معاملے میں بھی کی گئی ہے آہستہ آہستہ جواب دوں گا ان شاءاللہ
     
  9. ‏نومبر 26، 2016 #9
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اوپر بیان کردہ مضمون میں صاحب مضمون کا اسکو بیان کرنے کے مقصد کے مندرجہ ذیل احتمالات ہو سکتے ہیں
    ۱۔انکی نظر میں صحیح مسلک تو قرآن و حدیث پہ چلنے والوں کا ہی ہے یعنی اہل سنت کا ہی ہے البتہ وہ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ جو داعی ہوتا ہے اسکی دعوت کے فروغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ معاشرے میں مشہور فرقوں کے نام کو استعمال نہ کرے تاکہ لوگ اسکو نیوٹرل انسان سمجھ کر اسکی بات زیادہ سنیں جیسا کہ محترم ڈاکٹر نائیک کرتے ہیں تو یہ بالکل درست ہے بلکہ بعض جگہوں اور لوگوں کے لئے عین مطلو ب ہے اس میں کوئی اخٹلاف نہیں

    ۲۔انکی نظر میں اگر صرف مسلمان کہلوانا ہی لازمی نہیں بلکہ کسی خاص مسلک کی پیروری نہ کرنا بھی لازمی ہے تو یہ نری جہالت ہے کیونکہ حق منہج بتانا تو لازمی ہے چاہے لوگ آپ کے ساتھ آئیں یا نہ آئیں یعنی لوگ اگر کسی خاص مشہور نام سے الرجک ہیں تو اسکو تو مصلحت کے لئے چھوڑا جا سکتا ہے لیکن اگر لوگ قرآن و سنت سے ہی الرجک ہیں یا توحید سے ہی الرجک ہیں تو پھر اسی کے اینٹی الرجی تو رسول اللہ ﷺ نے دی ہے نہ کہ جس سے الرجی ہو اسکو ہی خٹم کر دیا جائے

    ۳۔تیسری صورت مصنف کی جماعت المسلمین والی ہو سکتی ہے کہ جو ھو سماکم المسلمین والی آیت کو لے کر مسلمان کے علاوہ نام کو فرقہ واریت سمجھتے ہیں جو ایک بہت بڑی گمراہی ہے لیکن شاید مصنف ایسا نہیں کہنا چاہ رہے جیسا کہ طہ بھائی نے شاید ایک جگہ اس طرف اشارہ کیا ہے

    یہاں ایک اصولی بات یاد رکھ لیں کہ جہاں امتیاز کرنا ضڑوری ہو وہاں امتیاز کرنا کوئی گناہ یا فرقہ واریت یا جرم نہیں ہوتا
    (الا یہ کہ دعوت پہ حرف آ رہا ہو جیسا کہ اوپر وضاحت کی ہے اور دعوت پہ حرف آنے کی صورت میں صرف مشہور نام سے اجتناب کیا جائے گا قرآن و سنت و توحید کو اپنانے سے انکار بالکل نہیں کیا جائے گا)
    اس امتاز کے جائز ہونے کو میں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں کہ کس طرح اس میں ایک حق بات کو غلط طریقے سے نا حق بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ اوپر مثالوں میں جہد کو شہشت گردی وغیرہ بنایا گیا ہے
    مثال یہ ہے کہ فرض کریں کہ پنجاب گورنمٹ نے ایک جاب اناونس کی ہے کہ جو صرف پنجاب والوں کے لئے ہے اب کوئی سندھی اس پہ انٹرویو دینے آ جاتا ہے اور انٹرویو لینے والا اس سندھی سے پوچھتا ہے کہ کیا کون ہیں پنجابی ہیں یا سندھی ہیں یا بلوچی ہیں تو وہ کہتا ہے کہ جی یہ سب صوبائی فرقہ واریت ہے میں تو پاکستانی ہوں آپ لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں میں تقسیم نہیں ہونا چاہتا ہمیں قائداعظم (بقول عوام ورنہ ہمارا قائد اعظم محمد ﷺ ہیں) یہی سمجھا کر گئے ہیں کہ سندھی بلوچی پنجابی نہیں کہلوانا اس سے لڑائیاں ہوتی ہیں تو وہ انٹرویو لینے والا کہتا ہے کہ بھئی میں لڑائی کروانے کے لئے نہیں پوچھ رہا میں تو یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ آپ اس پوسٹ کے لئے مقرر کردہ معیار پہ پورا اترتے ہیں کہ نہیں تو وہ پھر اسی طرح تلبیس ابلیس سے کام لیتے ہوئے اس ضروری امتیاز کو فرقہ واریت والا امتیز ثابت کرنوانا چاہتا ہے تاکہ اسکا فائدہ ہو جائے
    یہی حال ان لوگوں کا ہوتا ہے کہ خود یا تو بدعات یا شرک میں ڈوبے ہوتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ لوگوں کو انکا علم ہو پس چاہتے ہیں کہ ہمیں صرف مسلمان ہی کہا جائے پس اس سے بڑی تلبیس کوئی نہیں ہو گی
    اس سلسلے میں میں ایک چیلنج کرتا ہوں کہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ امتیاز کرنے کا حق لوگوں سے چھیننا انکے ہاں بھی درست نہیں اگر نہیں تو پھر میرے نیچے چیلنج کا جواب دیں

    چیلنج:

    کیا ان میں سے کوئی قادیانی کو یہ حق دے گا کہ وہ اپنا تعارف نہ کروائے اور صرف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں اور وہ عقیدہ خٹم نبوت پہ مشتمل جملہ اپنے بیان حلفی میں شامل نہ کرے کہ جو وہ اپنے شناختی کارڈ بنوانے کے وقت یا دوسری جگہوں پہ دیتا ہے
    کیا کوئی انکے سامنے آئے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں مجھے اپنی بیٹی بہن کا رشتہ دے دو اور اس میں دنیاوی لحاظ سے کوئی عیب نہ ہو تو کیا یہ دے دیں گے
     
  10. ‏نومبر 26، 2016 #10
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    پهر فقہی مسالک کی طرف نسبت بهی کوئی بری بات نہی اسلئے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اخذ مسائل میں اس مکتبہ فکر کے اصولوں کو فالو کرتے جو کہ خود صحابہ کی فقہ پر ہی مبنی ہے...
    میرے نزدیک فقہی مسالک میں فرقہ واریت تب ہوتی ہے جب آپ اصول کو فروع کے مقام پر رکهیں گے یا فروع کو اصول کے مقام پر اور کسی مسئلے کو اس کے حق سے زیادہ یا کم اہمیت دیں گے پهر اپنے فهم کو حرف آخر سمجهیں گے اور دوسرے کی تفسیق اور تکفیر کریں

    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں