1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلمان کا تعارف : اسلام یا مسلک

'اتحاد امت' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏نومبر 25، 2016۔

  1. ‏نومبر 27، 2016 #11
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پیارے بھائی آپ کا اعتراض بالکل درست ہے اور عموما اہل حدیث لوگوں کو آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ کہتے ہیں کہ اپنے آپ کو شافعی حنفی مالکلہ حنبلی کہلانے کی بجائے اہل حدیث یا محمدی کہلواو
    تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ جو حنفی فقہ کی پیروی کرتا ہے اس سے اگر کوئی پوچھے تو وہ بھی کہے کہ میں اہل حدیث ہوں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حنفی فقہ کی پیروری ہی نہ کرے ورنہ اگر کوئی پیروری کرتا ہے تو پھر تو اسکو لازمی حنفی ہی کہلوانا پڑے گا ورنہ تو پھر لوگوں کو دھوکہ دینے والی بات ہو گی
    آج بھی کوئی حاصب علم اہل حدیث اس پہ اعتراض کبھی نہیں کرے گا کہ جو فقہ حنفی کی پیروری کرتا ہے اس سے جب پوچھا جائے کہ تمھارا مسلک کیا ہے تو وہ کہے کہ میرا مسلک اہل حدیث والا ہے کیونکہ یہ تو جھوٹ ہو گا وہ اپنی نسبت فقہ حنفی کی طرف ہی بتائے البتہ اہل حدیث یہ کہتے ہیں کہ وہ حنفی فقہ کی پیروری ہی ترک کر دے تاکہ پھر اسکی نسبت بھی محمدی ہو جائے امید ہے ان دو چیزوں کا فرق آپ کو سمجھ آ گیا ہو گا کہ اعتراض پیروری کرنے پہ ہوتا ہے کہ وہ نہ کی جائے لیکن اگر کی جا رہی ہو تو پھر اسکی طرف نسبت کرنے پہ نہیں ہوتا

    جی بات درست ہے کہ بنیادی اصول یعنی توحید و رسالت کے معاملوں میں تو ادھر ادھر ہلنا ممکن نہیں ہوتا پس جو ہلتا ہے اسکو منع کیا جاتا ہے یا پھر اسکو فرقہ ناجیہ سے الگ تصور کیا جاتا ہے یہ فرقہ واریت نہیں بلکہ عین مطلوب ہے اور یہ اگر فرقہ واریت ہے تو پھر ایسی فرقہ واریت تو تمام نبیوں نہ سکھائی ہے یعنی عین مطلوب ہے
    البتہ آپ کی بات ٹھیک ہے کہ ایسا فرقہ واریت والا رویہ اگر کچھ فروعی مسائل میں ہم دکھائیں اور لوگوں کو فرقہ ناجیہ سے ہی ان فروعی مسائل کی وجہ سے نکال دیں کہ جس میں صحابہ میں یا سلف صالحین میں اختلاف رہا ہے تو پھر اسکو واقعی فرقہ واریت کہ سکتے لیکن اس کے فرقہ واریت ہونے کے لئے بھی شرط یہ ہے کہ دوسرے نقطہ نظر والے کو گمراہ سمجھ کر فرقہ ناجیہ سے ہی نکال دیا جائے البتہ اگر فروعی مسائل میں دوسرے کو اجتہادی غلطی پہ سمجھتے ہوئے اسکو صحیح راستہ کی طرف لانے کی کوششیں اور دعوت کو جاری رکھا جائے تو اسکو کوئی فرقہ واریت نہیں کہے گا واللہ اعلم
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 27، 2016 #12
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    ایک ذمیندار کی بھینس چوری ہو گئی اسنے ایک بے گناہ مولوی کو پکڑ لیا اور کہنا شروع کر دیا کہ یہی چور ہے وہ بے گناہ بیچارہ کہنے لگا کہ میں چور نہیں ہوں مگر چونکہ ذمیندار کا اثرو رسوخ تھا اور لوگ اسکی بات کو زیادہ اہمیت دیتے تھے جبکہ مولوی کی اس جاہلانہ معاشرے میں کوئی سنتا ہی نہیں تھا تو سب لوگوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ یہی مولوی ہی چور ہے چنانچہ سب اسکو پکڑ کے تھانے لے گئے
    تھانےدار نے اس بے گناہ مولوی سے پوچھا کہ کیا تو نے بھینس چوری کی ہے تو اسنے کہا جی میں چور نہیں ہوں
    تھانے دار نے پھر زمیندار اور باقی لوگوں سے پوچھا کہ تمھارے پاس کیا دلیل ہے کہ اسنے چوری کی ہے تو پتا ہے انہوں نے کیا دلیل دی؟
    سوچیں ذرا
    ۔۔
    ۔۔
    ۔۔
    وہ کہنے لگے کہ جی دیکھیں یہ کہ رہا ہے کہ میں چور نہیں ہوں اور چور بھی کہتا ہوتا ہے کہ میں چور نہیں ہوں پس ہمیں یقین ہو گیا کہ یہی چور ہے کیونکہ چور ہی انکار کرتا ہے

    پس پیارے بھائی بالکل یہی بات اوپر بن سکتی ہے کہ چونکہ جو بھی کسی ایک فرقہ کو سختی سے پکڑ لیتا ہے تو جب بھی اسکے خلاف کوئی بات قرآن و حدیث سے آتی ہے تو وہ فرقہ پھر اسکی تاویل کر لیتا ہے پس جو فرقے بھی قرآن و حدیث پہ چلنے کا دعوی کر کے ایک علیحدہ فرقہ بنا لیتے ہیں پس وہ بھی لازمی قرآن و حدیث کے خلاف بات پہ تاویل کر لیتے ہوں گے اللہ معاف کرے ایسا نہیں ہے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے جو معتصم کو کہا تا کہ میرے پاس یا تو قرآن یا حدیث سے دلیل لاو میں مان جاو ںگا کوئی تاویل نہیں کروں گا تو انکو کیا کہیں گے
    پس جس طرح یہ ضروری نہیں کہ جو بھی کہے کہ میں چور نہیں ہوں تو لازمی چور نہیں ہوتا پس اسی طرح جو بھی کہے کہ میں ناجائز تاویل نہیں کرتا تو وہ لازمی تاویل کرنے والا نہیں ہوتا

    جی پیارے بھائی بالکل درست ہے کہ چاہے کوئی بریلوی ہو چاہے دیوبندی ہو یا اہل حدیث یا شیعہ ہو یا مرزائی ہو وہ نجات حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ اسکی اپنے فرقے سے نسبت صرف نام کی حد تک ہو اور وہ توحید اور رسالت کا اقرار کرتا ہو
    لیکن یہاں آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس میں مرزائی بھی آئیں گے یعنی جس طرح شیعہ جنت میں جا سکتا ہے تو پھر اسی طرح مرزائی بھی جنت میں جا سکتا ہے
    پس اگر شیعہ کو کافر کہنا مطلقا (یعنی ہر حال میں) غلط ہو گا تو پھر قادیانی کو بھی کافر کہنا مطلقا غلط ہو گا اگر آپ اسکو مانتے ہیں تو آپ کے اوپر کمنٹ درست ہو سکتے ہیں

    نہیں محترم بھائی اللہ تو قرآن میں کہتا ہے کہ فَإِنْ آمَنُواْ بِمِثْلِ ما آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهتدوا کہ جیسا یہ صحابہ ایمان لائے ہیں تم بھی اسی طرح ایمان لاو تو ہدایت والے ہو جاو گے پس انکے دور میں بھی اسلام اسی طرح مشکل ہی تھا اور آپ یہ کہ رہے ہیں کہ آج حق کے ہی بے شمار راستے ہیں تو یہ بہت بڑی گمراہی ہے کیونکہ اللہ کہتا ہے کہ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ
    یعنی سیدھا راستہ ایک ہی ہے باقی راستے فرقہ واریت ہیں وہ ایک سیدھا راستہ فرقہ واریت والہ نہیں ہے
    یہ میں صحابہ کی اندھی محبت میں بات نہیں کر رہا بلکہ اس پہ ٹھوس دلائل ہیں دیکھیں بھائی جس طرح آج سارے شیعہ مشرک وغیرہ آپکو دین محمدی کی پیروری کرنے کا دعوی کرنے والے ہی لگتے ہیں کیونکہ یہ سارے اپنی نسبت محمد ﷺ سے ہی جوڑتے ہیں تو اس وجہ سے آپ کو اشتباہ ہوتا ہے کہ یہ تو ایک ہی دین پہ دعوی کرنے والے اتنے سارے ہیں تو بھئی یہی معاملہ تو اس وقت بھی تھا وہاں بھی تو سارے دین ابراھیمی کا ہی دعوی کرنے والے تھے سارے لوگ ایک اللہ کو مانتے تھے سارے حج کرتے تھے روزہ رکھتے تھے مشرکین تو اپنی جگہ پہ جو نصاری اور یہودی تھے وہ بھی اپنے آپ کو اللہ والے کہلوتے تھے جیسا کہ وقالت الیھود عزیر ابن ﷲ وقالت النصاری المسیح ابن ﷲ وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ
    اسی طرح مشرکین سے جب پوچھا جاتا کہ یہ زندہ مردہ کون کرتا ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ کہتے کہ یہ اللہ کرتا ہے پس انکے لئے بھی فیصلہ کرنا کوئی آسان نہیں تھا
     
  3. ‏نومبر 27، 2016 #13
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بھائی یہی تو محل نزاع ہے کہ پکی سڑک کونسی ہے جو بھی فرقہ والا ہے وہ اپنے راستے کو پگڈنڈی تھوڑی کہتا ہے وہ تو اسکو پکی سڑک ہی کہتا ہے پس آپ نام اسکا خالی مسلمان ہی رکھ لیں مگر وہ کوئی متعین راستہ تو ہو گا اس متعین راستہ کی آپ پہلے نشاندہی کر دیں
    یہاں میں یہ بتا دوں کہ ایسے لوگ جنہوں نے ایسے مضامین لکھے ہوتے ہیں وہ کسی چیز کو متعین نہیں کرنے دیتے بلکل ایسے ہی جیسا کہ قبضہ گروپ والے چاہتے ہیں کہ کوئی بھی اپنی چار دیواری نہ لگائے کیونکہ اس طرح چیزوں کا تعین ہو جاتا ہے اور قبضہ گروپ کو قبضہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے پس میرا یہ تجربہ ہے کہ یہ موصوف بھی کبھی یہاں پکی سڑک کو متعین کرنے نہیں دیں گے یعنی دعوی تو یہ ہے کہ وہ پکی سڑک پہ چلنا چاہتے ہیں مگر دوسروں کو بھی تو اس سڑک کی نشاندہی کریں کہ اس سے مراد کون سی سڑک ہے خالی نام والی سڑک ہے یعنی بس نام مسلمان رکھ لو باقی چلو جیسے مرضی آئے تو پھر بیچارے مرزائیوں کا کیا قصور ہے وہ بھی تو نام مسلمان ہی رکھنا چاہتے ہیں وہ نمازیں بھی باقی عوام سے زیادہ پابندی سے پڑھتے ہیں شرک بھی ان عوام الناس کی طرح نہیں کرتے تو وہ بھی تو درست ہوئے پھر
    پس اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوال ہیں کہ جو طہ بھائی اس صاحب مضمون سے پوچھ کر بتائیں کہ انکی پکی سڑک سے مراد مندرجہ ذیل میں سے کون سی ہے
    ۱۔کیا پکی سڑک سے مراد ایسا راستہ کہ جو قرآن و حدیث کے دلائل سے مزین ہو کسی اور بات معاشرے کی بات کسی مام کی بات اگر اسکے خلاف ہو تو اسکو چھوڑ دیا جائے گا ہاں جہاں قرآن و حدیث میں اختلاف ہو تو سلف صالحین کی روشنی میں جہاں جائز اختلاف کی گنجائش ہو گی اس میں اختلاف کا حق سب کو دیا جائے گا تو ایسی پکی سڑک کی ہی ہم بات کرتے ہیں چاہے آپ اسکو سلفی کا نام دیں یا اہل حدیث کا نام دیں یا مسلمان یا اہل سنت کا نام دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں

    ۲۔کیا پکی سڑک سے مراد صرف نام مسلمان رکھ لینا ہے چوہے بت کو سجدہ کرتے رہیں یا سلمان رشدی کی طرح شیانی آیتیں ہی لکھتے رہیں پس نام مسلمان ہونا چاہئے
    تو ایسی سڑک پکی نہیں بلکہ ان اوھن البیوت لبیت العنکبوت کی طرح اس موصوف کی ساری باتیں بس الفاظی ہی ہیں اور مکڑی کے گھر کی طرح ہی نا پائیدار باتیں ہوں گی کوئی عقل مند اسکو پکی سڑک نہیں کہ سکتا

    دیکھیں طہ بھائی اسکو ل علم کو بتائیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں خالی عقائد و عبادات ہی نہیں بلکہ پورا نظام مملکت و معاشرت آ جاتا ہے یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اشتراکیت درست ہے یا سرمایہ داری نظام درست ہے جمہوریت درست ہے یا آمریت درست ہے سود درست ہے یا نہیں وغیرہ پس آپ اگر عقائد پہ اعتراض کر بھی دیں کہ اس میں سختی آپ کے عمل میں نہیں پائی جاتی ہو گی مگر سیاست میں سختی تو آپ کے عمل میں بھی پائی جاتی ہو گی
    پس آپ کے ہاں بھی کوئی پاکستان کی فوج میں جانا چاہئے تو اسکو پہلے یہ بتانا پڑے گا کہ وہ پاکستانی ہے یا غیر پاکستانی ہے اسکے نظریات ٹی ٹی پی کے بارے کیا ہیں
    فرض کریں کہ میں فوج میں جاتا ہوں اور آپ میرا انٹرویو لے رہے ہیں آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ بائی برتھ پاکستانی ہیں یا انڈیا والے تو میں کہتا ہوں کہ جی 1947 سے پہلے کیا لوگ پاکستانی یا ہندوستانی تھے ہم تو سب ایک تھے تو پھر آپ کیا جواب دیں گے یہی ناں کہ یہ ایسا ادارہ ہے کہ جسکو ایک پورے ملک کی حفاظت کرنی ہے اگر اس میں ایسے ہی لوگوں کو داخل کیا جاتا رہا تو وہ تو اس ملک کو تباہ کر دیں گے
    تو پھر بھائی یہ ملک کو بچانے والی بات تو معمولی بات ہے اللہ کے نظام کے پوری دنیا پہ غالب کرنا یہ تو خود قرآن و حدیث کا حکم ہے بھلا جس کے لئے رسول کو مبعوث کیا گیا ہو (ھوالذی ارسل رسولہ ۔۔۔۔۔ یعنی رسول کو بھیجنے کا مقصد بھی اس شریعت و نظام کو پوری دنیا پہ غالب کرنا تھا) تو اس حکم کے لئے لوگوں کو رکھنے پہ کوئی احتیاط نہیں کی جائے گی فمالکم کیف تحکمون
    پس صحابہ شیعہ سنی نہ ہوں کیونکہ اس وقت وہ گروہ ہی نہیں تھے مگر اب جب وہ گروہ بن گئے ہیں تو اب کو اس پہ قیاس کرنا نری جہالت ہے جیسا کہ پہلے پاکستان نہیں تھا مگر اب پاکستان بن گیا ہے اور کوئی اب اس متحد بریصغیر پہ قیاس کرتے ہوئے پاکستانی یا انڈیا کا ہونا چھپائے تو اسکو حوالات میں ہی رہنا ہو گا

    بھائی یہ بہت بڑی جہالت ہے کہ فرقے صرف اتحاد کو اختلاف میں بدلنے کے لئے بنے ہیں
    دیکھیں شیطان نے اللہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ
    ثم لآتينهم من بين أيديهم ومن خلفهم وعن أيمانهم وعن شمائلهم ولا تجد أكثرهم شاكرين

    یعنی شیطان ہر طرف سے مخٹلف ہتھکنڈوں سے ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بتایا ہوا ہے کہ بعد میں فتنے ہی فنتے ہوں گے اب ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کوئی کوئی گمراہ گروہ نیا فتنہ لوگوں کے سامنے لاتا ہے تو حاملین قرآن و سنت اسکا رد کرتے ہیں اور اس رد میں وہ کوئی نہ کوئی علامت بتاتے ہیں پس اس معاشرے میں ان گروہوں کے سامنے وہ علامت اس حق والے گروہ کی پہچان بن جاتی ہے اور حق والے گروہ کے ساتھ ایک نئی علامت کے طور پہ منسلک ہو جاتی ہے پس وہ حق والا گروہ بدلا نہیں بلکہ اس صورتحال میں اسکی پہچان مزید نکھر کر سامنے آئی
    پس جب علی کے بارے غلو کرنے والا ایک گروہ نکلا اور انہوں نے اپنے آپ کو شیعان علی کہنا شروع کیا تو حق والے گروہ نے انکے عقائد کا رد کیا کیونکہ وہ شیعان علی صحابہ کو منافق کہتے تھے پس اسکے مقابلے میں اہل السنۃ والجماعۃ کی علامت متعارف کروائی گئی کہ درست منہج سنت اور صحابہ کے عمل کو چمٹے رہنے کا ہے جو حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ تم میری اور خلفاء راشدہ کی سنت کو پکڑ کے رکھو
    اسی طرح جب اتباع میں اجتہادی غلطی کا معاملہ شروع ہوا لوگوں کو بتانے کے لئے یہ کہا گیا کہ درست منہج قرآن و حدیث کی اتباع کا ہے نہ کہ کسی امام کی تقلید کا ہے اسی طرح جب کوئی نجد کے امام محمد بن عبدالوھاب نے جب کچھ درست مسائل کی نشاندہی کی تو وہ درست مسائل کو انکے نام سے ہی منسوب کیا جانے لگا حالانکہ وہ مسائل انہوں نے اپنے پاس سے نہیں بتائے تھے بلکہ قرآن و حدیث سے ہی بتائے تھے اسی طرح بریلی میں ایک غلط امام نے شرک والے مسائل بتانے شروع کیے تو لوگوں نے ان مسائل کو اس شخصیت سے منسوب کر دیا پس لوگ اس شخصیت کی پیروری نہیں کرتے بلکہ اسکے عقائد کی پیروری کرتے ہیں جنکو وہ شخصیت رسول اللہ ﷺ سے منسوب کرتی ہے پس ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واقعی قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہیں یا نہیں
    اگر قرآن و حدیث سے ثابت شدہ ہیں تو ہمیں ان پہ عمل کرنا ضروری ہے اور لوگوں کو بھی صرف اسی کی دعوت دینی چاہئے چاہئے نام کوئی بھی رکھ لیں نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا
    نام سے فرق نہ پڑنے کی میں ایک مثال دیتا ہوں کہ جیسا کہ اوپر میں نے کہا کہ میں فوج میں جاتا ہوں اور وہ مجھے کہتے ہیں کہ آپ بائی برتھ پاکستانی ہیں یا انڈیا والے تو میں کہتا ہوں کہ پاکستان بننے سے پہلے تو ایسا نہیں پوچھا جاتا تھا پس مجھے پاکستانی اور انڈیا کا علیحدہ نام رکھنے پہ اعتراض ہوتا ہے البتہ میں ہوں پاکستان کا
    اب وہ کہتے ہیں کہ چلو اتنا بتا دوں کہ پیدا کون سے شہر میں پیدا ہوئے تو میں وہاں بتا دیتا ہوں کہ میں لاہور میں پیدا ہوا میرے ماں باپ داد سارے لاہور میں ہی پیدا ہوئے تھے پس اب ان فوجیوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ میں پاکستانی ہی ہوں اگرچہ میں نے نام نہیں بتایا
    پس اسی طرح کوئی اگر نام اہل حدیث یا اہل سنت نہیں بتانا چاہتا مگر ساتھ یہ بتاتا ہے کہ

    میں ایسا مسلمان ہوں کہ مجھے دعوت توحید سے پیار ہے اور میرا دل شرک و بدعت سے بیزار ہے اور قرآن و سنت پہ عمل کرنا میرا طریقہ کار ہے

    تو پھر شوق سے وہ اپنے آپ کو صرف مسلمان ہی کہتا رہے ہم اسکو اپنا بھائی ہی سمجھیں گے
    لیکن اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہے اور ساتھ یہ کہے کہ
    مجھے دعوت اسلامی سے پیار ہے تو پھر سوچنا پڑے گا
    جی رسول اللہ ﷺ نے جب صحابہ کو کاہن سے منع کیا تھا تو صحابہ نے کہا تھا کہ وہ تو کبھی سچی بات بھی بتا دیتے ہیں تو آپ نے کہا تھا کہ ہاں شیطان جن اوپر جا کر کبھی غیب کی بات معلوم کر لیتے ہیں اور وہ ان کاہن دوستوں کے کان میں ڈال دیتے ہیں اور وہ اس ایک سچی بات میں سو جھوٹ باتیں ملا کر لوگوں کو بتاتے ہین
    پس ایک سچی بات میں باقی سو جھوٹ ہیں یہاں بٹنے کا درس تو کسی نے نہیں دیا البتہ کوئی فروعی مسائل میں پیروری کرنے والا گمراہ نہیں ہوتا غلطی پہ ہو سکتا ہے واللہ اعلم


    جی آپ میری یہ الجھن دور کر دیں کہ اگر ساری سیاسی جماعتیں پاکستان کی ترقی کے لئے ہی ہیں تو پھر انکے جھنڈے انکے مسلم لیگ ہاوس بلاول ہاوس انصاف ہاوس وغیرہ علیحدہ کیوں ہیں انکے منشور سلیبس وغیرہ علیحدہ کیوں ہیں کیا انکے یہ سب علیحدہ ہونے کی وجہ سے ان سب کو پاکستان مخالف کہا جائے گا فتدبر

    البتہ ایک بات میں آپ کے ساتھ اتفاق ہو سکتا ہے کہ فروعی مسائل میں پیروری علیحدہ علیحدہ ضرور کر لیں مگر دوسرے کو گمراہ سمجھنا درست نہیں ہو گا یہ غلطی ہو گی تو لوگوں کی ہو گی

    جس طرح پاکستانی بچہ پاکستان کا لیبل لگا کر آتا ہے اور افغانی بچہ افغانستان کا لیبل لگا کر آتا ہے اور ہم اسکو اپنے ملک میں گوارا کرنے پہ تیار نہیں ہوتے باوجود اس کے کہ وہ مسلمان ہیں پھر ہمیں مسلک کے لیبلوں پہ اعتراض کرنا مناسب نہیں لگتا کس منہ سے ایسا اعتراض صرف انہیں پہ کرتے ہیں

    بھئی کفر کے فتوی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ناجائز اور دوسرے جائز
    نیچے تین مثالیں دیتا ہوں انکو سمجھ لیں ان شاءاللہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا
    ۱۔اب اس طرح تو کوئی یہ بھی کہ سکتا ہے کہ جی پہلے اچھے دور تھے کہ جب اپنے ہی ملک کی پارلیمنٹ کسی پہ کفر کے فتوے نہیں لگاتی تھی پھر بھٹو بدبخت کا دور آیا اور اسنے مولویوں کے بہکاوے میں آ کر بے چارے معصوم قادیانیوں کے لئے دوزخ کا سرٹیفیکیٹ بانٹ دیا انکو کافر نہ صرف کہا بلکہ سب سے اقرار بھی کروایا اور انکو مسلمانوں والی چیزیں استعمال کرنے سے بھی روک دیا بھلا اس سے بڑی تکفیر کوئی ہو سکتی ہے کہ کسی مسلمان کا دعوی کرنے والے کو مسلمانوں والی چیزوں مثلا مسجد نماز کے الفاظ کا استعمال ہی نہ کرنے دیا جائے حالانکہ وہ دعوی مسلمانی کا ہی کر رہا ہو فمالکم کیف تحکمون
    ۲۔ اسی طرح یاد رکھیں کہ کافر کا فتوی چھوٹا فتوی ہے خارجی ہونے کا فتوی بڑا ہے کیونکہ کافر کے فتوی سے آپ نے اسکو خالی جہنم بھیجنے کا ارادہ کیا اسکو قتل نہیں کریں گے کیونکہ کافر کو قتل نہیں کیا جاتا مگر خارجی کا فتوی س سے بھی بڑا ہے کیونکہ خارجی تو جہنم کا کتا بن جائے گا پس جہنمی تو وہ کافر ہی طرح ہو گیا ساتھ ساتھ اسکو قتل کرنے کی فضیلت نے اس فتوے کو مزید خطرناک کر دیا پس پھر فتووں سے ہی آپ کو اعتراض ہے تو وزیرستان میں ٹی ٹی پی پہ خارجیوں والا فتوی لگانے پہ کریں
    پس یاد رکھ لیں کہ کسی بندے کے کرتوت ہی اگر اس طرح کے ہوں کہ وہ فتوی لگانا ناگزیر ہو جائے تو اس میں فتوی لگانے والے پہ کوئی اعتراض کرنا جہالت ہو گی

    ۳۔ کچھ کہتے ہیں کہ صحابہ کو کافر کہنے والوں پہ کافر کا فتوی لگانا بھی بہت بڑی بات ہے میرا ان عقل کے اندھوں سے سوال ہے کہ وہ ان جاہلوں کو کافر کہنے سے منع کر رہے ہیں جو خود صحابہ کو کافر کہ رہے ہیں کیا وہ صحابہ سے بڑھ کر عزت والے ہیں نعوذ باللہ من ذالک
    اسی طرح کا ایک انٹرویو میں دیکھ رہا تھا ٹی وی پہ کہ جس میں اسی طرح کی ایک عالمہ عورت نے ایک سنی پہ الزام لگایا کہ تم ہم کو کافر کیوں کہتے ہو و اسنے کہا کہ ہم تم کو کافر نہیں کہیں گے اگر یہاں سب کے سامنے تم اقرار کروں کہ صحابہ کافر نہیں تھے وہ درست تھے تو ہم بھی تم کو کافر کہنا چھوڑ دیں گے تو پتا ہے اسنے کیا جواب دیا نیٹ پہ ویڈیو پڑی ہو گی اسنے کہا کہ دیکھو جی صحابہ کو تو عیسائی بھی نہیں مانتے کیا وہ واجب القتل ہیں یعنی وہ بات کفر سے ہٹا کر واجب القتل پہ لے گئی حالانکہ اس سنی نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ واجب القتل ہیں بس یہ کہا تھا کہ تم ابوبکر و عمر کو مسلمان کہ دو ہم تم کو مسلمان مان لیں گے ورنہ ہم تم کو کافر سمجھیں گے تو اس کے پاس چونکہ جواب نہیں تھا پس وہ اسکو دوسری طرف لے گئی
    پس نا حق تکفیر تو مسلمان کو خارجی بنا دیتی ہے جبکہ حق تکفیر بھی عوام کو تو بالکل نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس میں موانع تکفیر بہت نازک ہوتے ہیں علماء ہی موانع دیکھ کر فتوی دے سکتے ہیں واللہ اعلم البتہ اس وجہ سے آپ غلط گروہ کی گمراہی کو پوائنٹ اوٹ کرنا نہیں چھوڑ سکتے یہ دعوتی عمل لازمی ہے اور ان گمراہ گروہوں سے بچنا بھی لازمی ہے اور اپنی نسبت صحیح گروہ کی طرف کرنا بھی لازمی ہے چاہے کسی کی جائز تکفیر بھی نہ کی جائے

    یہاں وہی کاہنوں والی بات ہو گی کہ یہ ایک سچ بات ہے کہ اگر کوئی گمراہ گروہ آپ کو نظر آتا ہے تو اسکو مارنے کا اخٹیار آپ کو کسی نے نہیں دیا آپ نے اسکو دعوت دینی ہے مارنا تو جہاد میں کافر کو ہوتا ہے جو دعوت میں رکاوٹ بن رہا ہو واللہ اعلم پس اس ایک سچی بات میں باقی باتیں جھوٹی ملائی ہوئی ہیں


    تف ہے ایسے جاہل پہ کہ خود ہی رسول اللہ ﷺ کی حدیث ذکر کر رہے ہیں اور پھر خود ہی اس رسول ﷺ کی بات پہ اعتراض کر رہے ہیں اس سے بڑھ کر گستاخی رسول کیا ہو گی

    اس حدیث میں رسول ﷺ نے جب خود کہ دیا کہ کلھا فی النار الا واحد کہ صرف ایک فرقہ جتنی ہے باقی سارے جہنم میں ہوں گے تو پھر یہ لوگوں نے کیسے گھڑ لیا براہ راست رسول اللہ ﷺ کی بات پہ اعتراض کرنے کی جرات نہ ہوئی تو اسکو لوگوں کی اختراع قرار دے دیا اللہ ایسے شخص کو ہدایت دے امین

    اس طرح تو کوئی کہ سکتا ہے کہ پہلے جب پاکستان بن رہا تھا تو لوگوں کو پاکستان میں داخل کر کے پاکستانی بنایا جاتا تھا اور اب لوگوں کو غدار اور انڈیا کا ایجنٹ امریکہ کا ایجنٹ وغیرہ کہ کر ان کے شناختی کارڈ بھی ضبط کیے جاتے ہیں آپ نے دیکھا نہیں ابھی پچھلے دنوں لوگوں کے شناختی کارڈ ضبط کیے گئے
    اللہ کے نبی ﷺ کے دور میں بھی بہت سے لوگوں کو اسلام میں سے نکالا گیا تھا جیسا کہ مسلیمہ کذاب کا معاملہ ہے اور بہت سے معاملے ہیں پس جب ضرورت خاص ہو تو ایسا کرنا ان موصوف کے ہاں بھی منع نہیں ہو گا یہ صرف لفاظیاں ہیں

    اسی آخری آیت میں پہلے کہا ہوا ہے کہ پہلے ایک سیدھی رسی کو مضبوطی سے تھام لو یعنی قرآن و حدیث والے رستے کو پکڑ لو اور لوگوں کو اسی طرف بلاو کیونکہ باقی فرقے جہنمی ہوں گے پھر اس ایک سیدھی سڑک سے دھر ادھر نہیں ہونا پس اس ایک سڑک پہ رہنا اور اسی کو فرقہ بنا لینا تو عین مطلوب ہے اسکو کون فرقہ بندی کہ رہا ہے اسی پہ تو نبیوں نے تکلیفیں سہی ہیں

    ایک آیت لے کر اس سے اپنی مرضی کا حکم نکالنا بہت آسان ہوتا ہے اسی سے لوگ پھر حکم نکال سکتے ہیں کہ اے ایمان والو نماز کے قریب نہ جاو
    یہ آیت تو آپ کو نظر آ گئی مگر قل یا ایھا الکافرون والی آیت اور اسکا پس منظر آپکو نظر نہیں آیا
    یاایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی والی آیت بھی بھول گئے جب ایک فرقہ جنتی ہے اور باقی جہنمی ہیں تو کیا کسی جہنمی کے بارے میں یہ اوپر والی آیت نازل ہوئی ہے کہ جہنمی کے ساتھ اور مشرک کے ساتھ اور خارجی کے ساتھ بھی مل کر اسکو اپنا بھائی بنا کر رہو پھر نبیوں کا آنے کا مقصد ہی کیا تھا
    اسکو دنیا کے لحاظ سے بھی دیکھیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ پاکستانی ہونا ہمارا اتحاد کی نشانی ہے مگر جہاں پاکستانی ایم کیو ایم کی طرح یا ٹی ٹی پی یا بی ایل اے کی طرح پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہو وہاں ان سے اتحاد کا معاملہ نری جہالت ہو گی
    تو کیا خیال ہے اسلام کے اصول تمھاری عقل کی سوچ سے بھی کم تر ہیں کہ تم کو تو اپنے پاکستانیوں کو دوسست بنانے میں تامل ہو جو تمھارے لئے خطرناک ہو اور اسلام انکو پنا کر ہی رکھے چاہے وہ اسلام کی بنیادیوں کو ہی کھوکھلا کر دیں جیسا کہ صحابہ کو کافر کہ کر لوگ احادیث کو غیر متعبر کر دیتے ہیں کیونکہ جب صحابہ ہی غلط ہوئے تو احادیث ساری انہیں کے واسطہ سے پہنچی ہیں پس وہ بھی غیر معتبر ہو گئیں پس پھر غلام احمد پرویز ہی تمھارے قرآن کی تشریح کرے گا کیا یہی تو اسلام سے کروانا چاہتے ہو

    یعنی تمھارا یہ دوغلا رویہ ہے کہ پاکستان کے بارے اور رویہ اور اسلام کے بارے اور رویہ پاکستان کے فائدے کے لئے اسکے خلاف کام کرنے والے اپنے بھی تمھارے لئے غیر ہوتے ہیں مگر اسلام کے خلاف کام کرنے والے اسکی جڑیں کھوکھلی کرنے والے کوئی مسئلہ نہیں تمھارے لئے

    اسی دوغلے رویے کو اللہ نے بیان کیا ہے کہ مشرکین فرشتوں کو بیٹیاں بناتے تھے تو اللہ نے کہا کہ الکم البنین ولہ البنات یعنی تم اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لئے بیٹیاں بناتے ہو


    جی شرمندگی اس لئے ہوتی ہے کہ کوئی منافق نہ سمجھنے لگے کیونکہ اوپر مثال دی ہوئی ہے کہ
    سندھی کا کوٹہ چونکہ پنجاب میں نہیں پس وہ پنجابی ہونا بتانا نہیں چاہتا تاکہ لوگوں کو حقیقت کا علم نہ ہو جائے
    ہاں دعوت کی مصلحت کے لئے ایسا کرنا درست بلکہ مطلوب ہے جیسا کہ ڈاکٹر نائیک کرتے ہیں

    یہ نام رکھنے کے بارے میں بعد میں تفصیل سے لکھوں گا ان شاءللہ
    جی فروعی اختلافات میں ایسا ہی معاملہ ہے مگر اگر وہ برگیڈیئر ہی اگر علی قلی خان ہو تو وہاں اسکا اختلافی نوٹ آپکو صرف اختلافی نوٹ کیوں نظر نہیں آتا صرف اسی لئے ناں کہ اسکو بھی خالی اختلافی نوٹ تسلیم کر لیا تو پھر پوری فوج کا جو مقصد ہے کہ پاکستان کی حفاظت کرنا تو وہ مقصد ادھورا رہ جائے گا کیونکہ اس پہ کمرومائیز نہیں ہو سکتا
    پس یاد رکھیں جس طرح یہ خارجی قسم کے لوگ ہماری فوج کے لئے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور ہمیں انکے اختلافی نوٹ پسند نہیں آتے اسی طرح ہمیں سلام کے معاملے میں بھی بعض اختلافی نوٹ اختلافی نہیں لگتے بلکہ تخریبی نوٹ لگتے ہیں

    یہ چھوٹی سی الجھن نہیں بہت بڑی الجھن میں ڈالا ہے ان لوگوں کو جن کے دلوں میں مرض ہوتا ہے یا جو لا علم ہوتے ہیں اللہ سب کو ہدایت دے اور اس پہ قائم رکھے امین
     
    Last edited: ‏نومبر 27، 2016
  4. ‏نومبر 27، 2016 #14
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ
    بارک اللہ فی علمک
     
  5. ‏نومبر 27، 2016 #15
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    جزاک اللہ خیرا کثیرا
    بارک اللہ علمک و عملک
    اللہ زور قلم مزید بڑهائے


    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
  6. ‏نومبر 27، 2016 #16
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    السلام علیکم
    : بھائی کسی بھی کام کے پیچھے اللہ کا حکم اور اللہ کے نبی ص کی سنت ہونی ضروری ہے
    میں نے اپنے رستے کی دلیل تمہیں قران سے دی...
    اب جس طرح سلفی ہر چیز کی دلیل مانگتے ہیں, (جو کہ اچھی بات ہے) میں تم سے خود کو سلفی کہلوانے کی دلیل مانگتا ہوں
    چلو مان لیتا ہوں کہ یہ فرقہ واریت نہیں ہے
    لیکن یہ جو بھی ہے, اس کا اللہ نے قران میں کب حکم دیا؟
    رسول ص کی سنت میں کہاں ہے؟
    بخاری مسلم میں کہاں ہے؟
    اس کی صحت پہ بحث تو بعد میں ہوگی
    پہلے کوئی قوی یا ضعیف کوئی بھی روایت لاو
    بھائی بات یہ ہے کہ امتیاز صرف تقوی پے ہے
    اور تقوی کے لیے کسی برانڈ کی ضرورت نہیں
    اگر لوگ مجھے بریلوی سمجھیں
    جبکہ میں اپنے تئیں نہ تو بدعت کرتا ہوں, نہ شرک کرتا ہوں
    تو مجھے بتاو کہ غلط برانڈ مجھے جہنم میں لے جائے گا یا اگر میں سلفی ہوں اور جمہوری سلفی ہوں
    تو کیا اللہ کے سامنے یہ دلیل چل جائے گی؟
    میرے نزدیک یہ امتیاز صرف تکبر کی طرف لے جانے والا ہے
    اور اسی لیے اللہ نے منع کیا ہے
    یہ سوال کیے ہیں میرے ایک دوست نے آپ کے مضمون کے جواب میں
     
  7. ‏نومبر 27، 2016 #17
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    یہ بھی ٹھیک ہے اور اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی مد نظر رہنا چاہیے ۔
    جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ - قَالَ سُفْيَانُ: مَرَّةً فِي جَيْشٍ - فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ، رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ المُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا بَالُ دَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: «دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ»
    حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک جنگ میں تھے اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو مہاجرین میں سے ایک نے ایک انصاری کو مارا انصاری نے پکار کر کہا کہ اے جماعت انصار! اور مہاجرنے پکار کر کہا کہ اے جماعت مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مارا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑو یہ برا(بدبودار)کلمہ ہے۔۔الحدیث (بخاری)

    یعنی یہ صحیح نسبتیں بھی اگر منفی عصبیت کی طرف مائل ہوں تو پھر یہ صحیح نہیں۔اور ظاہر ہے بذات خود تو یہ اصل نہیں ہیں۔

    دور حاضر میں بھی اگر کوئی علاقائی نسبت کی مثال ہو یا مسلکی نسبت کی ۔۔منفی عصبیت ہی کی وجہ سے ان پر فرقہ واریت کا اطلاق ہوگا۔۔اگر کوئی بھائی یہ سمجھتا ہے کہ ایسا کہیں نہیں ہوتا ۔۔۔تو وہ ایک عجیب اور افسوس ناک غلط فہمی میں مبتلا ہے ۔۔پھر تو یوں لگے گا جیسے فرقہ واریت ۔۔۔یا صوبائیت قومیت پرستی ۔۔۔نہ کچھ ہوتی ہے نہ کہیں ہوتی ہے ۔

    بلکہ یہ اصل ہے ۔ داعی اور دعوت دین اصل ہے ۔۔۔ اور بعض جگہوں اور لوگوں کے لئے بعض نسبتیں بھی مصلحتاََغلط نہیں۔
    واللہ اعلم۔
     
  8. ‏نومبر 27، 2016 #18
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    707
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    عبدہ بھائی
    ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں اگر چہ موضوع سے ہٹ کر ہے ۔ آپ مشابہت والی حدیث ڈاکٹر ذاکر نائیک پر کیوں چسپاں نہیں کرتے۔ ان کو اس میں چھو ٹ کیوں ہے۔
     
  9. ‏نومبر 27، 2016 #19
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    یعنی اصل چیز جو فرقہ واریت کی طرف لے جاتی ہے وہ رویہ ہے.
     
  10. ‏نومبر 27، 2016 #20
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی مجھے آپ کی بات کی واضح تو سمجھ نہیں آئی شک لگ رہا ہے کہ شاید آپ کافروں سے مشابہت والی حدیث کا ڈاکٹر نائیک پہ چسپاں نہ کرنے کا کہ رہے ہوں
    اگر ایسا ہی ہے تو محترم بھائی مشابہت دو طرح کی ہوتی ہے ایک کسی مذھب یا فرقے سے منسلک مشابہت مثلا سر کو دھانپ کر رکھنا مسلمان مردوں کی مذھب سے منسلک بات ہے پس اس سے مشابہت مسلمانوں کے مذھب سے مشابہت ہو گی
    اسی طرح یہودیوں کے مذھب سے منسلک مشابہت یا ہندووں کے مذھب سے منسلک مشابھت ہوتی ہے ایسی مشابھت تو بہت خطرناک ہوتی ہے البتہ ایک دوسری مشابہت ہوتی ہے کہ جو کسی علاقے کے رسمو رواج کی وجہ سے مشابہت ہوتی ہے اس میں کافروں کی مشابہت کرنا بھی اگرچہ علماء کے ہاں درست نہیں ہے بلکہ خطرناک ہی کہی جاتی ہے البتہ اس میں کچھ لوگ اجتہادی طور پہ راہیں نکال لیتے ہیں
    پس میرے نزدیک بھی ایسا کرنا غلط ہی ہو گا چاہے وہ ڈاکٹر نائیک ہی کیوں نہ کرتے ہوں البتہ اس کا معاملہ ایسا نہیں ہو گا کہ ڈاکٹر صاحب کی تمام خدمات سے ہی صرف نظر کردیا جائے بلکہ اس معاملہ میں انکو غلط ہی سمجھا جائے گا اور انکی پیروری نہیں کی جائے گی البتہ باقی معاملات میں انکی قدر کی جائے گی جیسا کہ ابن حجر عشقلانی کا معاملہ ہے کہ تمام اہل حدیث مدارس میں انکی بلوغ المرام پڑھائی جاتی ہے اور انکی بخاری کی شرح فتح الباری کا سب کے ہاں بہت بڑا مقام ہے البتہ دوسری طرف تمام سلفیوں کے ہاں انکا اللہ کی صفات میں عقیدہ غلط تھا اور وہ تفویض کے قائل تھے واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں